فکرِِ انقلاب جلد دوم کا دیوبند میں ممتاز علما کے ہاتھوں اجرا

نئی دہلی:علمائے دارالعلوم دیوبندنے دین کے ہرمحاذپرکام کیاہے،اسلام کی حفاظت اورصیانت کے لئے یہاں کے علمائے کرام،فضلائے عظام اوراکابرواساطین ملت نے جس محنت،لگن،مشقت اوردلچسپی ودلجمعی ساتھ کام کیاہے تاریخ اس کوکبھی فراموش نہیں کرسکتی۔دارالعلوم دیوبندکاماضی نہایت ہی شاندارہے،اس کاحال بھی الحمدللہ بساغنیمت ہے لیکن اس کے مستقبل کواگرماضی کے مطابق بناناچاہتے ہوتوہم سب کومتحدہوکر،متفق ہوکر،ایک ہوکرایک کام کرناہوگاوہ کام یہ ہے کہ دارالعلوم کودشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھاجائے،دارالعلوم کی عظمت رفتہ کوواپس لایاجائے،دارالعلوم کے پیغام اوراصول ہشتگانہ پرعمل کیاجائے،دارالعلوم کی روح اوردارالعلوم کے مقاصدپرنظررکھی جائے تب ہی ہم اپنے اس عملی ورثہ اوروراثت کے فیض کواپنی نسلوں تک پہنچانے کامثبت کام کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ان خیالات کااظہارآل انڈیاتنظیم علمائے حق کے صدرمحترم مولانامحمداعجازعرفی قاسمی نے12 جنوری 2022 کو جامعہ دارالتعلیم و الصنعۃ دیوبند کے احاطے میں پندرہ روزہ فکرِ انقلاب کے خصوصی شمارہ ’’اکابردارالعلوم دیوبند‘‘ جلد دوم کے اجراکے موقع پرعلمائے کرام اورصحافیوں سے کیا۔مولانانے کہاکہ آل انڈیاتنظیم علمائے حق کی یہ اولین کوشش اورخواہش رہی ہے کہ اپنے اکابراوربزرگوں کے نقوش قدم کومٹنے نہ دیاجائے،ان کے اسباق کوخودبھی یادکیاجائے اوران اسباق کی نورانیت سے نئی نسلوں کوبھی فیض پہنچایاجائے،اسی لئے تنظیم کے پلیٹ فارم سے اب تک درجنوں اکابر،سیکڑوں بلکہ ہزاروں علمائے کرام کے بارے میں معیاری مضامین ومقالات پرمشتمل خصوصی شمارے شائع کئے ہیں اورپوری دنیامیں ان کاپیغام پہنچایاگیا،اسی سلسلہ کی مبارک لڑی اورشاندارکڑی آج کایہ شمارہ ہے جس کاآپ حضرات کے ذریعہ اجراہورہاہے،یہ اکابرعلمائے دارالعلوم دیوبندکی دوسری جلدہے اوران شاء اللہ تعالیٰ یہ سلسلہ آپ کی دعائوں سے آئندہ بھی جاری رہے گا۔
دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ مولانا اعجاز عرفی صاحب سے میری قدیم شناسائی ہے۔ وہ علمائے دیوبند کے عاشقِ زار اور ان کے افکار و نظریات کے زبردست دلدادہ ہیں۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند کی خدمات کو جس طرح علمی و ادبی حلقوں تک پہونچایا ہے، وہ اس قحط الرجال میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عرفی صاحب کی نشست و برخاست دیوبند کی عظمت و رفعت کے لیے وقف ہے۔ اب نئی نسل کی ذمے داری ہے کہ وہ ان کے تیار کردہ نقوش سے استفادہ کرے اور اپنے اکابر سے بھرپور وابستہ ہو کر تابناک کارنامے انجام دے۔ ماہ نامہ ترجمانِ دیوبند کے مدیر مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ مولانا اعجاز عرفی صاحب اس زمانے میں تحریک و فعالیت کا ایک جلی عنوان ہیں۔ علمائے دیوبند سے دنیا کو متعارف کرانا انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ لوگوں کی توجہ پڑھنے لکھنے سے تقریباً ختم ہو چکی ہے، مولانا عرفی صاحب کی کوششیں اندھیرے میں منارہ? نور کی مانند ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی روش پر چل کر ہی کامرانی کے زینے طے کر سکتے ہیں۔ مولانا سالم اشرف قاسمی مہتمم دارالعلوم اشرفیہ دیوبند نے کہا کہ علمائے دیوبند شناسی بھی ایک بڑی جلیل خدمت ہے۔ آج دیوبند کا نام جہاں کہیں بھی لیا جاتا ہے اس کا سہرا علمائے دیوبند کے سر بندھتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ اکابر تو چلے جاتے ہیں اور چند برسوں کے بعد ان کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ مولانا اعجاز عرفی صاحب کا یہ بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے دنیا سے چلے جانے والوں کو مرنے نہیں دیا، بلکہ کتابوں کے روشن اوراق میں انہیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ مشہور مصنف اور مجود مولانا قاری ابوالحسن اعظمی نے کہا کہ مولانا عرفی صاحب کی خدمات پر رشک کیا جانا چاہیے۔اخیر میں تقریب کے روح رواں مولانا اعجاز عرفی نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے انعقاد پر مجھے بڑی مسرت ہے۔ میں ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اسے کامیابی تک پہونچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ قاری ابوالحسن اعظمی صاحب کی پرسوز دعا پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر دیوبند کی دیگر سرکردہ شخصیات بھی موجود رہیں۔