فکشن کے نظام میں وقت کا تصور-پروفیسرابوبکرعباد

شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی، دہلی

وقت کانہ تو کوئی ٹھوس جسم ہے نہ ظاہری شکل،نہ اس کے آغاز اور انجام کی خبر ہے اور نہ ہی اس کی عمر کا اب تک کوئی صحیح تعین ہوسکاہے۔چاہے تو یوں کہہ لیں کہ یہ کوئی مجسم نہیں مجرد شے ہے۔ بالکل انسانی جذبات و احساسات کی طرح مجرد۔ سو، وقت کودیکھنے ، جاننے یا سمجھنے کے لیے ہم بہر طور خارجی وسائل کے محتاج ہیں۔ یایوں کہہ لیں کہ وقت اپنے اظہار کے لیے دوسری اشیا مثلاً سورج چاند کی گردش اوروقت کے پیمائشی آلات و اصطلاحات کا حاجت مندہے ،جیسے جذبات و احساسات کو دیکھنے ، جاننے اور سمجھنے کے لیے ہم ٹھوس اور واضح چیزوں کے محتاج ہیں۔مثلاً محبت کو مسکراہٹ، خوشی کو آنکھوں کی چمک،نفرت کو ناک چڑھانے ،غصے کو دانت پیسنے اور فکر کو بھویں سکیڑنے سے ہم دیکھ، جان اور سمجھ سکتے ہیں۔یا پھر ان تمام جذبات و احساسات کی شناخت جسمانی حرکتوں کے علاوہ ہم گفتگو کے مختلف لہجوں سے کرتے ہیں۔ سو وقت کو بھی ہم تغیراحوال یا تبدیلی ِحالات سے ہی دیکھ، جان یا محسوس کر سکتے ہیں۔
’وقت‘کے تعلق سے سائنس جو بھی کہے ،لیکن کیا ایسا نہیں لگتا کہ خود وقت میں نہ تو کوئی حرکت ہوتی ہے ، نہ کوئی تبدیلی اور نہ ہی اس میں سورج ،چاند، پانی اور ہواکی مانند کسی طرح کی گردش، روانی یاکسی طرح کا بہاؤ ہے۔یہ تو ایک ٹھہری ہوئی ، شے ،ایک تصور یا محض خلا ، یا صرف خیال ہے۔وقت نہیں گزتا عمریں گزرتی ہیں،وقت گردش نہیں کرتا سیارے گردش کرتے ہیں،جن کی پیمائش کے لیے ہم نے سکنڈ، منٹ، گھنٹے ، دن رات، ہفتے ، مہینے ، سال ،صدی وغیرہ کی یونٹس اختراع کیں۔وقت برا نہیں ہوتا ۔سیاسی، سماجی اور معاشی نظام برا ہوتا ہے ،اور اس کے نتیجے میں انسانی اور معاشرتی حالات برے ہوتے۔ وقت اچھا بھی نہیں ہوتا ، یہ توآپ کی خواہشات و ضروریات کی تکمیل اور جسمانی اور روحانی تسکین کا احساس ہوتا ہے جسے آپ اچھے وقت سے تعبیر کرتے ہیں ۔’وقت‘کی کوئی متعین رفتار بھی نہیں ہوتی کہ :انتظار کرنے والوں کے لیے وقت انتہائی سست روہوتا ہے ، دہشت زدہ لوگوں کے لیے بے حد تیز رفتار،غم کی کیفیت میں وقت کاعرصہ اتناطویل ہوتا ہے کہ کاٹے نہیں کٹتا،اور خوشی کی حالت میں وقت کا وقفہ ایسامختصرکہ اس کے گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ البتہ محبت کرنے والوں کے لیے وقت کی تمام حد بندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ وقت کے جو لمحات آپ کے لیے بہت اچھے ہوتے ہیں ٹھیک وہی لمحات بعض لوگوں کے لیے بے حد برے ہوتے ہیں۔ اور کیا یہ بھی درست نہیں ہے کہ جس لمحے سورج ہمارے ملک میں ضیا پاشیاں کر کے دن کا اعلان کررہا ہوتا ہے ٹھیک اسی لمحے کسی اور ملک میںرات کی تاریکی سایہ فگن ہورہی ہوتی ہے؟ تو پھر یہ صفات’ وقت ‘کی کہاں؟نظام شمسی ، انسانی فہم، یا دوسری اشیا ، یا حالات کی ہوئیں ۔ اسی طرح یہ کیا ضرور ہے کہ وقت ماضی سے مستقبل کا سفر کر رہا ہے؟کیا عجب کہ حال سے ماضی کا سفر کررہا ہو ،یا’وقت‘ ایک دائرے میں گھوم رہا ہو۔یہ تو ہم نے جاندار کی آگے بڑھتی عمروں اور نباتات وجمادات کی نشو ونما سے قیاس کیا ہے ۔چونکہ ہم بوڑھاپے سے جوانی اور جوانی سے ، بچپن کی طرف نہیں لوٹ سکتے ، کوئی پیڑ پیچھے جاکر پودا اور پھر اکھوا نہیں بن سکتا ،اس سے یہ نتیجہ نکالا گیاکہ وقت پیچھے نہیں، آگے کی طرف بڑھ رہاہے ۔وقت کہاں آگے کی طرف بڑھ رہا ہے ؟ وقت توٹھہرا ہوا ہے،آگے تو حیوانات، نباتات اور جمادات کی عمریں اپنے فطری نظام قانون کے تحت بڑھ رہی ہیں۔بالکل ویسے ہی جیسے تیز رفتار ٹرین کی کھڑکی سے لگ کر باہر کا منظر دیکھیے تو پیڑ پودے بھاگتے اور آس پاس کے کھیت گردش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جب کہ وہ سب تو ٹھہرے ہوئے ہوتے ہیں، اپنی اپنی جگہ ساکت و جامدہوتے ہیں،بھاگتی تو صرف ٹرین ہے اور اس میں بیٹھا ہوابھاگتے ناچتے مناظر دیکھنے والاشخص۔توثابت یہ ہوا کہ ’وقت‘ کے تصور میں اتنی لچک ہے کہ ’وقت‘ کے فلسفیانہ ،مذہبی اور سائنسی تصور کی طرح ’وقت‘کا ادبی تصور بھی تشکیل دیا جانا ممکن ہے اوراس حوالے سے اس پر گفتگو کی بہر طور گنجائش موجود ہے ۔
تخلیق کاروں سے بھی کہا جاتا ہے کہ سائنس کے تمام فرمودات پر ایمان لائیے ،جیسے سائنسی ایجادات پر یقین کرتے ہیں۔ لیکن ہمارا دعویٰ تو یہ ہے کہ بیشترسائنسی ایجادات دراصل ہمارے شاعروادیب کے تخیلات وتصورات اور ان کے خواب وخیال کی مادی تعبیریں ہیں ۔ یقین نہ آئے توتمام ملکوں کی قدیم داستانیں، تمثیلیں ،شاعری اوربعد کے سائنسی ،جاسوسی اور اسراری ادب پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ تب شاید آپ کو یقین کی اس منزل پر پہنچنے میں دیر نہ لگے کہ پہلے ادب نئی نئی دنیاؤں کی تعمیر وتخریب اور انسانی آسائش ومسرت اور حصول قدرت و تسخیر کے خواب بُنتا، دیکھتااور دکھاتاہے اوربعد میں سائنس ان خوابوں کو عملی تعبیروںکی شکل میں ڈھالتی ہے۔
وقت کے بارے میں سائنسدانوں کے ایک بڑے طبقے خاص طورسے نیوٹن کا نظریہ ہے کہ یہ ماضی سے مستقبل کی طرف رواں ہے۔بدھ ازم اورہندوازم میں اسے کال چکر یا پہیے کی طرح سے ایک دائرے میں گھومتا ہوا بتایا گیا ہے۔قران میں وقت کا تصوراس لحاظ سے بے حد دلچسپ اور فکر انگیزہے کہ قران وقت کے زمانی تصور کے بجائے وقت کے یونیورسل تصور کا نظریہ پیش کرتا ہے۔یا یوں کہیے کہ یہ ماضی کو ماضی نہیں، حال کی صورت دیکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ مثلاًقران میں جگہ جگہ یوں مخاطب کیاگیا ہے :اور یاد کرو عیسیٰ ابن مریم کو۔۔۔ موسیٰ کے حوالے سے کہتا ہے اور یادکرو جب سمندر کوہم نے پھاڑ دیا۔۔۔ ، ’اور اس وقت کو یادکرو جب ہم نے تمھیں فرعون کے لوگوں سے رہائی دی۔۔ ‘ ، یہاں تک کہ بنی نوع انسان کی تخلیق سے بھی پہلے کے واقعے کو بھی اس طرح زمانۂ حال کا حصہ بناتا ہے:’’ایک جگہ مذکور ہے :’ اور جب انھیں ہماری آیتیں سنائی جاتیں ،تو کہتے پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔۔‘۔گویا قران عہد عتیق یا ماضی بعید کو قدیم واقعات کی طرح نہیں ، بلکہ زندہ اور موجود حقیقت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ مذہبی نقطۂ نظر سے الگ اس لحاظ سے قران کا مطالعہ اہم اور دلچسپ ہے کہ اس میں مختلف مذاہب ،انبیاء ورسل، مختلف اقوام، قدیم تہذیبوں،مختلف ممالک اور دنیا کے اہم واقعات،کا بیان ،پھر رحم دل اور جابر بادشاہوں کا ذکر،خود سر جاہلوں اور باوقار عالموں کے تذکرے ، جنگ و امن کے مناظر،حسن و عشق کے ذکر ،حیرت انگیز قصے ، خیر وشر کے معرکے، انسانی نفسیات ،ماضی کی بیتی باتیں،حال کی شہادتیں اور مستقبل کی ان دیکھی دنیا ؤںکی عکاسی تشبیہات و استعارات اور تمثیل وعلامات کے سہارے بے حد خوبصورت ادبی انداز اور تخلیقی پیرایے میں موجود ہے۔ اس طور کہ ان میں تحیر، تجسس، مسرت اور بصیرت ؛سبھی طرح کے لٹریری عناصر شامل ہیں۔ان کے علاوہ بہتر معاشرے کی تشکیل ، خوبصورت دنیا کی تعمیر،اچھائی کی تلقین ،اخلاق کی تطہیر، جذبات کاکیتھارسس (تزکیہ)، زندگی کانقطۂ نظر یا کہیے فلسفۂ حیات بھی ہے ۔تو کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ فکشن ، یا کہیے افسانوی ادب کا پورا فکری نظام اور فنی اسٹرکچر بھی بالکل اس آسمانی کتاب جیسا ہی ہے؟
بہر حال ادب میں بھی سائنس ،مذاہب اور فلسفے کی طرح وقت کو دیکھنے ، سمجھنے اور برتنے کااپنا ایک طریقۂ کار ہے۔یہ تسلیم کہ اردوشاعری میں وقت کے برتاؤ میں کوئی نیاپن اور تصور میں کوئی خاص تنوع نہیں ہے۔ سوائے علامہ اقبال کے جنھوں نے اپنی شاعری میں وقت کا ایک اہم اور مستقل نظریہ پیش کیاہے، جو سائنس اور مذہب سے قطعاًمختلف نہیں ہے ۔ مگر یقین کیجیے کہ افسانوی ادب میں’ وقت‘ کو مختلف رنگوں میں دیکھا، برتا اور متعدد تجربات سے گزارا گیاہے۔ سو، پیش نظرمضمون میں بحث صرف افسانوی ادب کے تعلق سے ہی مقصود ہے۔
ادب کی دو اصناف ایسی ہیں جن میں’ وقت‘ کاتصور زمینی وقت سے بے حد مختلف ہے۔ ان اصناف کوہماری تنقید نے کبھی سراہا،کبھی رد کیا،کبھی جھوٹ اور لغو قرار دیااور بالآخر انھیں اپنے زمانے کی سماجی صداقت اور معاشرتی عقائد کا بیان ہونے کے باعث حقیقت کی سند دی اور انھیں ادبی روایت کی مہتم بالشان اصناف قرار دیا ۔یعنی:ایک داستان،جس میں ایک ہی انسانی زندگی میں’ وقت کا گزران ‘ مہینوں اور برسوں میں نہیں بسا اوقات صدیوں کی صورت میں ہوتا ہے۔دوسری جاتک کتھائیں جن میں(discourse time)یعنی متن کا عرصہ توگھنٹوں اور منٹوں کا ہوتا ہے لیکن بیانِ قصہ کا وقت (story time)صدیوں بلکہ لاکھوں برس کاہوتا ہے ۔ناولوں میں بھی وقت صدیوں کو محیط ہوتا ہے جیسے ’آگ کا دریا‘۔ لیکن اس میں یہ منطقی جواز موجود ہے کہ یہ وقت ایک ہی انسانی زندگی میں نہیں گزرتا ،بلکہ ہر زمانے میں کردار بدلتے رہتے ہیں۔ ویسے بالعموم ناول ایک انسانی زندگی، ایک عہد یا ایک سے زیادہ ادوار پر ہی مشتمل ہوتے ہیں۔ افسانے میں وقت کا احاطہ ناول کے مقابلے میںکم ہوتا ہے۔ اور’ وقت‘ کا سب سے کم عرصہ حکایت میں ہوتا ہے ۔اور شاید یہ کہنا غلط نہ ہوکہ حکایت میںstory time، ,discourse time اور narrating time یعنی حکایت میں بیان ہوئے عرصے ،اس کے متن کا وقفہ اور حکایت بیان کرنے کا وقت تقریباً برابر ہوتا ہے۔
قدیم داستانوں میں’وقت ‘لازمی طور پر ماضی سے شروع ہوکربالعموم ماضی میں ہی ختم ہوتا ہے ۔ زمانۂ حال اور مستقبل داستان کے بیانیے میں شامل نہیں ہوتے۔ بعض صورتوں میں داستان کے آغاز اور انجام کا وقت تو چند لمحوں کی صور ت زمانۂ حال کا ہوتا ہے( مثلا ً’باغ و بہار‘میں)بقیہ صدیوں کو محیط وقت ماضی کا ہوتا ہے۔ کلاسیکی ناولوں میں بھی وقت بالعمو م ماضی سے شروع ہوکر سیدھے خطوط پر چلتاہے ۔ٹریجڈی یا المیہ ناول میں ’وقت‘ بہرطور خوش وقتی سے شروع ہوکر برے وقت پر ختم ہوتا ہے ۔ اسی طرح طربیہ ناول میں بھی ’وقت‘ کاایک طویل عرصہ ہوتا ہے ۔ ان میں المیہ کی طرح وقت کے آغاز کا اچھا ہونا کوئی لازمی شرط نہیں ہے ، البتہ وقت کا اختتام لازمی طور پر خوشیوں سے لبریز اور مسرت بھرا ہوتا ہے ۔ ان سبھی میں ’وقت‘ کسی عہد، کسی فکر ، کسی زندگی یا تاریخ کے کئی یا محض ایک حصے پرہی مشتمل ہوتا ہے۔اس کے برعکس جاسوسی اور اسراری ناولوں میں بالعموم ’وقت‘ کا سفر یو شیپ‘(U shape)میں ہوتا ہے ۔یعنی ’وقت‘ حال سے شروع ہوکر ماضی کی طرف سفر کرتا ہوا پھر حال میں اسی جگہ لوٹ آتا ہے ، جہاں سے وہ شروع ہوا تھا۔اور کبھی ’وقت‘ کا سفر ماضی قریب سے ماضی بعید کی طرف،اور پھر ماضی بعید سے ماضی قریب ہوتا ہوا حال میں آکر ختم ہوتا ہے ۔ وقت کا یہ انوکھا سفر دراصل ناول کے مرکزی ناخوشگوار یا انہونی حادثے یا واقعے کے اسباب معلوم کرنے اور اسرار سے پردہ اٹھانے کے لیے ہوتا ہے ۔اس کی عمدہ مثالیں ابن صفی اور اگاتھا کرسٹی کے جاسوسی ناول اور ڈسکوری اور ہسٹری چینل پر پیش کیے گئے بہت سے ڈِڈیکٹیو، کریمنل اور تاریخی ڈسکورس یا narrative ہیں۔
جدید ادبی فکشن یا یوں کہیے ترقی پسند تحریک کے آخری زمانے سے اب تک لکھے جارہے متعدد ناولوں اور افسانوں میں وقت کے سفر کی کوئی سمت ،کوئی ترتیب، یاکوئی منزل متعین نہیں رہی اور نہ ہی وقت کے آغاز اور اختتام کے حتمی نشان ، (exact starting point)کااظہار ہوتا ہے۔ ایسی تخلیقات میں ’وقت‘ عمودی یا افقی سفر کے بجائے ایک دائرے کی شکل میں گردش کرتا ہے۔ مثلاً غلام عباس کے افسانے ’آنندی‘ میں’ وقت‘ حال سے شروع ہوکرایک زمانی عرصہ طے کرتا ہوا پھر وہیں آپہنچتا ہے جہاں ، یا جس جگہ سے شروع ہوا تھا۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں پہنچنے کے بعد وقت ٹھہرتا یا ختم نہیں ہوتا بلکہ پھر اسی دائرے میں ایک بار اور اپنا سفر شروع کردیتا ہے ۔یعنی کہانی تو ختم ہوجاتی ہے، مگر کہانی میں ’وقت‘ نہیں ختم ہوتا۔ گبرئیل گارسیا مارکیز کے ناول ’One hundred years of solitude‘ میں بھی’وقت‘ ایک دائرے میں گھومتا اور سیال کی شکل میں بہتا نظر آتا ہے ۔ ’آنندی ‘ میں کہانی کا آغاز بلدیہ کے جلسے سے ہوتا ہے جس میں یہ بحث ہورہی ہوتی ہے کہ طوائفوں کو شہر سے نکال کر کہیں دور بسایا جائے ۔ چنانچے انھیں شہر سے دور بسایا جاتا ہے ۔لیکن رفتہ رفتہ ان طوائفوں کے غیر آباد علاقے کے گردپھر ایک نیا شہر بس جاتا ہے ۔کہانی کا اختتام یوں ہوتا ہے کہ اس نئے شہر میں بھی بلدیہ کا اجلاس ہورہا ہے جس میں یہ تجویز پاس ہوتی ہے کہ طوائفوں کا شہر کے بیچ رہنا اخلاقی اعتبار سے درست نہیں سو، انھیں شہر سے دور بسایا جائے ۔ ’One hundred years of solitude‘ میں شہر ایک ہی ہوتا ہے لیکن بوئنڈیا خاندان کی بعد والی نسلیں بھی انھی حالات سے گزرتی ہوئی وہیں آپہنچتی ہیںجن حالات سے خاندان کے پہلے افرادگزرتے ہیں ۔
کچھ کہانیوں میں وقت آگے اور پیچھے ایک ساتھ سفر کرتا ہے۔ ایک ہی وقت میں مخالف سمتوں میں گزرتی ہوئی دو ٹرینوں کی مانند۔ مثلاًممتاز شیریں کا افسانہ ’آئینہ جس ‘ میں واقعات بیک وقت زمانۂ حال میں بھی آگے بڑھ رہا ہے اور ماضی میں بھی۔لیکن اس کی سب سے اچھی مثال 1921میں لکھی ہوئی ،ایف۔اسکاٹ فٹز جیرلڈ کی بے حد عمدہ کہانیThe curious case of Benjamin Buttonہے۔جس میں پیدائش کے وقت مرکزی کردارکی عمر تقریباً ستر برس ہوتی ہے ۔اور جوں جوں وقت آگے بڑھتا ہے ، وہ اپنی عمر کی منزلوں میں پیچھے کی طرف لوٹتا ہے۔وہ بوڑھا سے جوان، جوان سے نوجوان، نوجوان سے لڑکا،لڑکا سے بچہ ، بچہ سے شیر خوار اور بالآخر شیر خوار ی کی عمر میں آکر ایک دن مر جاتا ہے۔ اس کے پیدا ہونے کے دس بارہ برس بعدسات آٹھ سالہ ڈیزی نام کی ایک لڑکی اس سے محبت کرنے لگ جاتی ہے۔یوں جانیے  کہ اس وقت ڈیزی کی عمر سات آٹھ سال اور بنجامن کی پیچھے کی طرف لوٹتی ہوئی عمر ساٹھ سے زیادہ تھی۔اور کہانی کے آخر میں بنجامن اپنی اسی محبوبہ کی گود میں،جواَب ستر سال کی بوڑھی ہوچکی ہے بنجامن بالکل نو مولود بچے کی طرح دم توڑدیتا ہے۔ یعنی بنجامن کی زندگی کا ’وقت‘ باقی تمام لوگوں کے زمانی’وقت‘ کے مخالف سمت میں سفر کرتا ہے۔یعنی زمانۂ حال سے زمانۂ ماضی کی طرف۔ یوں اس کہانی میں ’وقت‘ بیک وقت دو متضادسمتوں ؛حال سے مستقبل ،اور حال سے ماضی کی جانب سفر کرتا ہے۔ 2008میں اسی نام سے اس کہانی پر بے حد خوبصورت فلم بھی بنائی گئی تھی جس نے متعدد انعامات حاصل کیے۔
کبھی ناول یا افسانے کے بیانیے میں’ وقت ‘ماضی سے حال ،یا حال سے ماضی کی طرف سفر کرنے کے بجائے حدودِ وقت کے درمیانی حصے سے شروع ہوتا ہے ۔جیسے عبد اللہ حسین کے ناول ’’قید‘‘ کی ابتدا ’وقت‘ کے بالکل درمیان میں وہاں سے ہوتی ہے، جہاں ناول کا کردار اپنے باپ شاہ صاحب کے کمرے میں جھانکتا ہے۔ ناول کا آغاز راوی کے اس جملے سے ہوتا ہے’’یہ منظر اس نے آج سے انیس سال پہلے بھی دیکھا تھا۔۔۔‘‘۔ کرشن چندر کے ناول ’شکست ‘ کا آغازبھی ناول کے ہیرو کی موت سے ایک دن پہلے سے ہوتا ہوا ماضی کی جانب اس کی انقلابی تحریک، جوانی اور بچپن تک جا پہنچتا ہے۔ بعض میں درمیانی وقفے سے شروع ہوکرآگے کی طرف بڑھتا اور پھر پیچھے کی جانب آجاتا ہے۔بعض میں اس کے برعکس ہوتا ہے یعنی درمیان سے شروع ہوکرپیچھے کی جانب جاتا اور پھر جس وقت سے شروع ہوا تھا اس سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے، یا جیسے قرۃ العین حیدر کے افسانے ’روشنی کی رفتار‘ میں۔جس میں ’وقت‘کا سفر حال سے ماضی بعید،ماضی بعید سے اس کے مستقبل یعنی حال ،اورپھر حال سے مستقبل کا سفر شروع ہوتا ہے۔سائنسی فکشن سے قطع نظر اردوکے ادبی یا سنجیدہ فکشن میں زمانی وقت سے کروڑوں میل دور ہر طرح کی پیمائش سے آزاد مستقبل کے وقت میں پہچنے کا ذکر ذرا کم ہواہے، لیکن ہوا ہے ۔’وقت‘ کے اس نوع کا سفر ایک تو اردو کے پہلے ہی ناول ’توبۃ النصوح‘میں ہے ، جب’ نصوح ‘عالم بالا میں حشرونشر اورروز جزا کا مشاہدہ کرتا اور بالآخر واپس اپنی دنیا میں آجاتاہے، جہاں سے اس کی قلب ماہیت ہوتی ہے۔ دوسرا ابھی حال ہی میں پاکستان سے شائع ہونے ناول’مابین‘ میں وقت اور مکان دونوں ہی ہماری اس دنیا کے نہیں لاکھوں برس بعد قائم ہونے والی جنت کے ہیں۔البتہ انگریزی اور اردو کے سائنس فکشن ’وقت‘ کے سائنسی ، مذہبی اور فلسفیانہ تصور کی توڑ پھوڑاور اس کی ترمیم و تنسیخ سے بھرے پڑے ہیں۔ اس حوالے سے اردومیں انور سراج کے ’نیلی دنیا‘ ، کالی دنیا‘ ،’خوفناک جزیرے‘ اور اظہار اثر کے متعدد افسانے موجود ہیں۔
فکشن میں بعض مرتبہ ’خارجی وقت‘ اور ’ داخلی و قت‘ ایک ساتھ سفر کرتے ہیں۔لیکن دونوں کی رفتار میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔یوں کہ’ خارجی وقت‘نظام شمسی کا پابند ہوتا ہے، اور’ داخلی وقت‘ زمانی وقت سے آزاد ،ادبی تصور ِوقت کا ماتحت ۔ مثلاً’’چیخوف کامشہور طویل مختصر افسانہ Steppe، کرشن چندر کا’’حسن اور حیوان‘‘ اور حسن عسکری کا’’چائے کی پیالی‘‘ اسی نوعیت کے افسانے ہیں جن میں زمانی وقت یا کہیے discourse time کچھ منٹوں میں ایک فاصلہ طے کرنے کا ہے، مگر فکشن کاوقت یا story timeبرسوں کو محیط ہے ۔کبھی فکشن میں اتحاد زمان و مکاں کو ضروری قرار دیا جاتا تھا۔ فکشن کے کردار کاایک خاص وقت میں ایک ہی مقام پر ہونا لازمی تھا، لیکن شعور کی رو (stream of consciousness)کی دریافت کے بعد لازمیت کا یہ بندھن ٹوٹ چکا ہے۔ اب فکشن میں کرادار ایک ہی مقام پر رہتے ہوئے بیک وقت کئی زمانوں ،ماضی، حال اورمستقبل ( یعنی وقت کے تینوں زمانوں میں بیک وقت ) میں ہو سکتا ہے۔ اسی طرح وہ ایک ہی وقت میں، یا وقت کے ایک ہی لمحے میں رہتے ہوئے بیک وقت متعدد مقامات پربھی موجود ہوسکتا ہے ۔ یعنی’ وقت ‘ منٹوں ، گھنٹو ، دنوں، مہینوں اور برسوں کی یونٹ میں نہیں گزرتا بلکہ وہ اپنی مکمل اور محیط شکل میں موجودہوتا ہے اور اس کے رفتار کی کوئی سمت متعین نہیں ہوتی ۔ مثلاً ’’یولی سس‘‘ کا ہیرو دوران ناول میں تو ڈبلن میں مقیم ہے لیکن ڈبلن کی گلیوں میں چلتے چلتے اس کا ذہن ماضی کی طرف چلا جاتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ مقام بھی بدل جاتا ہے۔ وقت ماضی حال اور مستقبل سب کچھ ہو سکتا ہے۔
فکشن میں وقت کا بہاؤ سائنس کے برخلاف حال سے مستقبل کی طرف ، یا بعض مذاہب اور فلسفے کی ماننددائری شکل کے برخلاف نہ تو گزرتا ہے ،نہ اس کی کوئی سمت ہوتی ہے، بلکہ ’وقت‘پوری طرح معلق ہوتا ہے ۔ اورزمانۂ ماضی،حال اور مستقبل سب ایک لمحے میں سمٹ آتا ہے ،یا کہیے وقت کے تمام زمانوں کا ادغام ہوجاتا ہے ، یا یوں کہہ لیجیے کہ وقت ٹھہر جاتا ہے ۔ اسلامی روایت میں اس کی عمدہ مثال وہ ہے جب حضورﷺ سفر معراج پر تشریف لے گئے تھے۔روایت یہ ہے کہ وہ گھر سے نکل کر مسجد اقصیٰ گئے ، وہاں تمام انبیاء کی امامت فرمائی ،پھر وہاں سے براق کے ذریعے ساتوں آسمان کی سیر کی ، خدائے قادر مطلق سے ہم کلام ہوئے اور جب واپس آکر مکان کے اندر تشریف لے جارہے تھے تو دیکھا کہ ؛ جاتے وقت دروازہ کھولنے کی وجہ سے جو کنڈی ہلی تھی وہ اب تک ہل رہی تھی اورجس بسترسے اٹھ کرتشریف لے گئے تھے وہ ابھی تک گرم تھا۔
فکشن میں اس کی مثال جیمس جوائس کا ناول ’یولیسس ‘ ہے اور اردو میں شعور کی رو میں لکھے ہوئے متعدد ناول اور افسانے ہیں۔مثلااحمد علی کاافسانہ ’برف کی سل‘ ، محمد منشا یادکا ’تماشہ‘ اورکئی دوسرے افسانے ہیں۔
یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ فکشن میں ’وقت‘ کی رفتار، سمت ،ترتیب اور وقفہ جو بھی ہو ،کہانی بہرصورت آگے کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے۔
سو، کہنے کی اجازت دیجیے کہ جس طرح سائنس، مذہب اور فلسفے کا ’وقت‘ کااپنااپنا تصور ہے ویسے ہی افسانوی ادب کا بھی ’وقت ‘ کا اپنا ایک تصور ہے۔یہ تو ممکن ہے کہ علامہ اقبال کے نظریہ ٔوقت سے لے کر موجودہ دور میں افسانے کے قاری کی فہم تک وقت کے سیال یا ساکن ہونے ، یا اس کی رفتار میں ندی جیسے بہاؤ یا تصویر کے سے ٹھہراؤ ، یااس کی حرکت کے عمودی یا دائروی گردش ہونے یا پھر اس کے آغاز اور اختتام پر جزوی یا نظریاتی اختلاف ہو،مگر یہ تسلیم کیجیے کہ ادب کا بھی وقت کااپنا ایک تصور ہے۔جس پر سوالات تو قائم کیے جا سکتے ہیں،اس کے تصوروقت سے انکارنہیں کیا جاسکتا۔ گوکہ اس کے تعلق سے باضابطہ نظریہ سازی اوراس پرمزید مفصل ومنضبط گفتگو کی ضرورت ابھی باقی ہے-