فتوی دینے کے لیے شرائطِ افتا کا جاننا بے حد ضروری-محمد ندیم الدین قاسمی

"فتوی دینا "نہایت ہی مہتمم بالشان کام ہے جس کی عظمت و اہمیت اس سے واضح ہے کہ یہ سنتِ الہیہ و سنتِ نبویہ ہونے کے ساتھ ساتھ اجلِّ صحابہ کرامؓ و تابعین عظامؒ کا اہم مشغلہ بھی رہاہے،مگر فتوی دینا نہایت ہی نازک و خطرناک کام بھی ہے اس سلسلہ میں بے باکی بڑے خسارہ کی بات ہے ،جیساکہ ابوداود شریف میں ہے”من افتی بغیر علم فھو علی من افتاہ”(ابوداود ۳۶۵۷)جو بغیر علم کے فتوی دے اس کا گناہ اسی مفتی پر ہے۔حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے کہ فتوی تین شخص دیتے ہیں؛۱۔ایک وہ جسے ناسخ و منسوخ کا علم ہو ۲۔ دوسرا وہ امیر جس میں خدا کا خوف نہ ہو۳۔ تیسرا بے وقوف احمق بناوٹ کرنے والا فتوی دیتا ہے۔(مسند دارمی مقدمہ باب۲۱ حدیث ۱۷۵)
بقول مفتی سعید احمد صاحب ؒ ” آخری دو قسمیں تو گمراہ ہیں البتہ پہلی قسم کے افراد کے لئے فتوی نویسی کے اصول وآداب اور علوم شریعت سے واقف ہونا اور شرائطِ افتاء کا جاننا ضروری ہیں” ( فتوی نویسی کے رہنما اصول ۴۸)تاکہ وہ آپ ﷺ کی حدیث "فضلوا واضلوا”کا مصداق نہ بن جائے اور امت کا اعتماد افتاء کے حامل افراد اور
دارالافتاءوں پر بحال رہے اور ہر فیصلہ کو امت بہ سر وچشم قبول کرلے اسی لئے فقہاء امت نےمفتی کے لئے ویسے تو بہت سی شرائط ذکر کی ہیں البتہ چند یہاں مذکور ہیں:
۱۔صاحب بصیرت ہو ،۲۔ متدین و متقی ، ۳۔ بلند کردار ،۴۔عفت مآب،۵۔کامل العقل، ۶۔دور اندیش ۷۔،بیدار مغز،۸۔شگفتہ مزاج،۹۔ جس کا ظاہر مطابقِ شریعت ہو ۱۰۔قول راجح پر فتوی دے،( ماخوذ از:طحطاوی علی الدر ۳/۱۷۵،درمختار باب القضاء۵ ۴/۱۷)
۱۱۔متقدمین نے اجتہاد کی شرط لگائی ہے جو فی زماننا ممکن نہیں لیکن کم ازکم اتنی تو شرط ہے کہ وہ مسائل کے معرفت تمام حدود وقیود کو جانتاہو، (عقود رسم المفتی ۴۰)
۱۲۔عرف زمانہ کی رعایت ضروری ہے،کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو اس سے بہت سے حقوق ضائع ہوجائیں گے بلکہ بہتیرے لوگوں پر ظلم لازم آئے گا(فتاوی دارالعلوم ۱/۸۰) امام احمدؒ نے فرمایا "من لم یعرف احوال زمانہ فھو جاھل، فللمفتی اتباع عرفہ الحادث فی الالفاظ العرفیہ(رسم المفتی ص ۴۰)
۱۳۔۔مفتی کو بیدار مغز ہونا چاہیے .(ردالمحتار، ج: ٨،ص:٣٠)
۱۴۔ناجائز حیلوں سے کلی اجتناب کریں،اسی طرح ان رخصتوں کی تلاش میں پڑنے سے بھی بچیں جن سے غلط طور پر کچھ لوگ استفادہ کے خواہاں ہوں ( اعلام الموقعین ۲/۲۵۸)
۱۵۔جو چیزیں بغیر کراہت جائز ہیں اور رخصت بھی ہے مفتی عوام کے لئے سہل پہلو کو اختیار کرے (عقد الجید ۷۳ بحوالہ فتاوی دارالعلوم ۸۹/۱)
۱۶۔اسی طرح اگر کسی مسئلہ میں دو صحیح اقوال ہوں تو مفتی اپنی صواب دید اور مصلحتِ وقت کے پیش نظر فتوی دے(الاشباہ والنظائر ۳۱۸)
۱۷۔کسی ماہراستاد کا تربیت یافتہ ہو؛اسی وجہ سے منیۃ المفتی کے آخیر میں صراحت ہے کہ گو وہ شخص ائمہ احناف کی تمام کتب یاد کرچکا ہو،لیکن کسی ماہر کے پاس تلمذ ضروری ہے۔
۱۸۔ عجلت پسندی سے کلی اجتناب: اگرکسی جدید مسئلہ میں اختلافِ رائے ہوجائے تو اپنے قیاس کے گھوڑے نہ دوڑائے بلکہ اکابر مفتیان سے رجوع کریں "شاوروا فیہ الفقہاء والعابدین ولا تمضوا فیہ رأی خاصۃٍ ۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط ۲/۲۷۸)
لیکن جس میں یہ شرائط نہ ہو تو اسے فتوی دینے کا کوئی حق نہیں کیوں کہ اس سے دار الافتاء کے مقام پر کاری ضرب پڑے گی اور امت کا اعتماد اس اہم منصب سےاٹھ جائے گا اور امت بے دین اور منتشر ہوجائے گی ،جیسا کہ موجودہ زمانہ میں برصغیر ہند و پاک میں لفظ ‘ افتاءوفتوی’ نے بھی اپنا مقدس مفہوم کھو دیا ہے.جس کی وجہ سے عام افراد کے ساتھ ساتھ علماء کا اعتماد بھی دار الافتاءکے مفتیان سے اٹھتا جارہاہے، اسلام کے متبعین کی نظر میں دارالافتاء کے فیصلے اپنی وقعت کھوتے جارہے ہیں۔
دارالافتاء سے بے اعتمادی کے اسباب:
۱۔وہ نوفارغ جس نے اپنی نو سالہ طالب علمانہ زندگی کھیل کود ،اساتذہ کی غیبت وتبصرہ پر ،اور ساتھیوں کے ساتھ دل لگی میں گزاردی جسے ایک لائن عربی عبارت حل کرنا "حتی یلج الجمل فی سم الخیاط” سے زیادہ مشکل ہو وہ محض ایک سالہ کسی مدرسہ سے افتاء کرکے خود کی ذاتی رائے پیش کرنے لگے ۔
۲۔ شہر شہر، محلہ محلہ کے ہرمدرسہ میں جہاں "الف "سے لے کر "ب” تک کی بھی مکمل تعلیم نہیں اگر ہے تو بھی ناقص وہ بھی محض سستی شہرت کے خاطر "دار الافتاء” بڑی شان سے کھولنے لگے جس میں انہیں محض طلباء کی کثرت مقصود ہے انہیں بچوں کی صلاحیت سے کچھ واسطہ ہی نہیں کہ وہ کس معیار کے ہیں ؟ بلکہ بہت سے دارالافتاءوں میں تو چالیس اوسط والے طلبہ کا بھی بآسانی داخلہ ہوجاتا ہے پھر یہی طلباء فارغ ہوکر "مفتی”کو اپنے نام کا جزء لاینفک سمجھ کر فتوی دیتے ہیں، فیا للعجب !! جس کے نتیجہ میں اس مقدس شعبے کی حرمت پامال ہو رہی ہے اور قابل قدر مفتیان کرام کی عزت ووقار بھی مجروح ہورہا ہے.اورامت کا دار الافتاء سے اعتماد دن بہ دن اٹھتا جارہاہے،نیز صحیح اور افتاء کا پختہ علم نہ ہونے کی وجہ سے خود یہ بہت سے مسائل کے شکار ہورہے ہیں اور امت بھی منتشر ہوجارہی ہے۔اللہ ہمیں اس منصب کی حساسیت ونزاکت سمجھ کر امت کی درست رہنمائی کی توفیق دے اور اکابر کا متبع بنائے آمین ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

  • Abdul Hameed Qureshi
    8 جون, 2020 at 6:52 شام

    اسلام علیکم
    مسئلہ ہمارے ایک عزیز نے ودسری شادی کرلی
    اس نے اپنے سسرال والوں کو کہا کہ میں اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے چکا ہوں
    لیکں جب وہ پاکستان شادی کرنے آیا نکاخ والے دن اس کی پہلی بیوی بھی آگی
    بہت جھگڑا ہوا اس نے سبکے سامنے کہا کہ میں تم کو طلاق دے چکا ہوں
    لیکں اس کی پہلی بیوی کہتی ہے میں طلاق کو نہیں مانتی ہوں
    اس دن کچھ حضرات کے درمیان آنے وقتی طور پر اس کی پہلی بیوی کو روانہ کردیا
    اس شخص نے کورٹ میں جاکر شادی کرلی اور وہ واپس ملک سے باہر چلا گیا جب دوسال کے بعد واپس آپ اس کی پہلی بیوی نے پھر سے شور کرنا شروع کردیا اور اس کے بڑے بھائی کے گھر جاکر لڑائی کی اس دن بہت سارے لوگ وہاں پر موجود تھے سب کے سامنے اس نے عورت سے کہا میں تم کو تین سال پہلے طلاق دے چکا ہوں میرے لیے تم نامحرم ہو
    اور وہ باہر چلا گیا طلاق کی بات کو چار سال گزر گیے لیکن اس نے دوسال قبل اپنی دوسری بیوی سے کہا کہ میں نے پہلی بیوی سے رجوع کرلیا ہے وہ خو کو شافعی مسلک سے جوڑ رہا ہے جبکہ اس نے پہلی بیوی کو مختلف مقام اور مختلف مجلسوں میں کئ بار کہہ چکا ہے میں اس کو طلاق دے چکا ہوں بزریعہ علدالت بھی تحریری طلاق دےچکا ہے
    خدارا قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں کیا یہ درست ہے یا غلط
    کیونکہ تین طلاقین مختلف مقام اور مختلف اوقات میں دیں

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*