فادر ڈے کے موقع پر ـ مسعود جاوید

 

ورلڈ فادر ڈے کی مناسبت سے لوگ مدر ڈے کی طرح تحسین آمیز پیغامات لکھ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ رسمی طور پر اظہار محبت ہے حقیقی معنوں میں قدردانی کا جائزہ ہم خود اپنے گریبانوں میں جھانک کر لے سکتے ہیں۔
خوش خط میں لکھی ہوئی تختیاں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جاتی ہیں جو بسا اوقات افراط اور تفریط پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ماں کے قدموں میں جنت ہے۔باپ جنت کا دروازہ ہے۔
ایک طبقہ ماں کے مقام کی برتری کے لئے رحم مادر میں نو ماہ رہنے اور درد زہ برداشت کرنے کا حوالہ دیتا ہے تو دوسرا طبقہ بچے کے نطفہ قرار پانے کے لمحے سے باپ کے سر میں اس کی اچھی پرورش اچھی تعلیم اور کیریئر کے منصوبے اور آخر عمر تک فکرمند اور محنت و مشقت کرنے کے حوالے سے باپ کے مقام کو ترجیح دیتا ہے۔
صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو ماں اور باپ دونوں کے مقام بہت اعلیٰ ہیں لیکن ماں کی صفت تخلیقی کی وجہ سے اس کا ایک درجہ باپ سے اونچا ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی رض نے سوال کیا کہ اس کے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ماں۔ صحابی رض نے پوچھا اس کے بعد تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ماں، صحابی نے پوچھا اس کے بعد تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ ـ
صنعتی انقلاب سے پہلے زندگی ایک ڈھرے پر گزرتی تھی کنبہ کے لوگ گھر اور باہر کے کام مل جل کر کرتے تھے۔ صنعتی انقلاب کے بعد فیکٹریوں میں کام کرنے کا دور آیا اس کے مطابق زندگی گزارنے طور طریقے اپناۓ گۓ ۔‌ تاجر طبقہ باپ کے ساتھ اور باپ کے بعد باپ کی تجارت کو اپنایا اور چلاتا رہا۔
اس کے بعد تعلیمی انقلاب آیا تو باپ کے لئے بیٹے بیٹیوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم دلانا ہدف اساسی بنا اور یہاں سے باپ کی قربانیوں کا ایسا دور شروع ہوا کہ باپ کو بیساکھی تو نہیں ملی ہاں بیٹوں کی طرف سے گزارہ کے لئے ماہانہ وظیفہ ملنے لگا۔
بچوں کے مستقبل کے لئے والدین نے شروع سے بچوں کو نظر سے دور رکھنا گوارا کیا۔ اچھے بورڈنگ اسکول میں داخلہ دلایا، خود کفایت شعاری سے کام لے کر بچوں کے تمام اخراجات اٹھایا اس کے بعد اچھی تعلیم کا مطالبہ تھا کہ اچھی جاب ملے جو بڑے شہروں میٹروپولیٹن اور آئی ٹی ہب میں یا بیرون ملک ملازمت کے لئے منتقل ہو جائے۔ والدین نے اسے بھی برداشت کیا۔
لیکن باپ کو کیا ملا ۔ فخر کرنے کے لئے ایک نام کہ اس کا بیٹا فلاں ملک یا فلاں میٹروپولیٹن سٹی میں فلاں ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم ہے۔
دو سو اور چار سو گز کے عالیشان فلیٹ یا کوٹھی میں رہتے ہیں ٹیلیفون پر بات/ چیٹ بھی ہوتی رہتی ہے، اہلیہ کا انتقال ہو گیا ہے اکیلے رہتے ہیں صبح شام میڈ آکر گھر کی صفائی ، لانڈری اور کھانا پکا جاتی ہے۔ ریٹائرڈ پروفیسر صاحب سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا بہت خوش ہوئے بیٹے کی حصولیابیاں شمار کراتے رہے اور ڈرائی فروٹ اور بسکٹ نکال کر میز پر رکھتے ہوئے کہا ابھی تھوڑی دیر قبل میڈ جا چکی ہے اس لئے چاۓ پیش نہیں کرسکتے۔ بے وقت جب چاۓ کی طلب ہوتی ہے تو میں بھی پریشان ہو جاتا ہوں اس سوسائٹی میں قریب میں کوئی چاۓ خانہ بھی نہیں ہے۔ یہ ہے باپ کی قربانی ۔ بیٹے کے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس مقام پر پہنچ گئے کہ بیٹا تو دنیا جہاں کی آسائشوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے اور جس نے اس کے لئے اتنے سالوں آبیاری کی وہ خود ایک بوڑھے پیڑ کی طرح سوکھتا جا رہا ہے۔

جوائنٹ فیملی نہیں نیوکلیئر فیملی ۔
دوسری قسم ان بیٹوں کی ہے جو گرچہ ایک ہی گھر یا ایک شہر میں ہی رہتے ہوۓ بھی اجنبیوں کی طرح رہتے ہیں۔ جسے مہذب زبان میں نیوکلیئر فیملی یعنی ہم دو ہمارے دو کہا جاتا ہے۔ان کی محنت مشقت دولت اور عشرت اپنی بیوی بچے تک محدود ہوتی ہے۔ والدین ان کی عیش و عشرت کا حصہ نہیں ہوتے ، بہن بھائی اور دوسرے قریبی رشتے دار۔ ماں باپ کے رشتے دار ہوتے ہیں ان کے نہیں۔

اس ضمن میں یہ پہلو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ جس طرح والدین کے حقوق کی اہمیت ہے اسی طرح اولاد کے حقوق کی بھی اہمیت ہے۔ سات جہنمی عورتیں،بیویوں پر شوہروں کے حقوق وغیرہ کے ضمن میں سات جہنمی مرد اور شوہروں پر بیویوں کے حقوق کو جس طرح نظر انداز کر دیا گیا اسی طرح والدین پر اولاد کے حقوق کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس پر بھی وعظ و نصیحت اور کتابچے کی ضرورت ہے۔