فاروقی صاحب: شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک-پروفیسر ابوبکرعباد

شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی، دہلی
پروفیسر شمس الرحمان فاروقی اردو اور انگریزی تحریروں کے حوالے سے عالمی طور پر جانے اور مانے جاتے ہیں۔ان کی حیثیت بڑے نقاد،اہم نظریہ ساز،اچھے شاعر، ممتاز فکشن نگار،معروف مدیر،منفرد مترجم اوراردو میں جدیدیت کے رجحان کے سربراہ کے بطور قائم ہے۔ انھوں نے تنقید، تحقیق ،شاعری،فکشن،عروض و ابلاغ،اردو کی تفہیم، مغربی ادب،لغت نویسی، اسلوبیات،لسانیات،صوتیات اور تراجم کے حوالے سے متعدد کتابیں لکھیںاور مقالے تحریر کیے ہیں۔انھوں نے اپنے عہد کا مشہور ادبی جریدہ ’شب خون‘ بھی جاری کیا تھاجو تقریباً چالیس برسوں تک شائع ہوتارہا۔وہ مختلف اداروں سے وابستہ رہے اور کئی عالمی اور بیشتر ہندوستانی بشمول سرسوتی سمان،پدم بھوشن اور ساہتیہ اکادمی اعزازات سے نوازے گئے ۔فی الوقت ان کی علمی جہات کے تعلق سے مختصراً گفتگو مقصود ہے۔
فاروقی صاحب کا بیشتر شعری کلام ان کی شاعری کی چار کتابوںکو محیط ہے۔جن میں غزل ، نظم، رباعی، قصیدہ، بچوں کی نظم اور تراجم شامل ہیں۔تفصیل یہ ہے:
۱۔’ گنج سوختہ‘ میں 1959سے 1969تک کامنتخب کلام ہے۔اس میں غزلیں، نظمیں اوررباعیاں ہیں۔
۲۔’سبز اندر سبز ‘میں 1969سے 1974تک کے کلام کا انتخاب ہے۔اس میں غزلوں، نظموںکے علاوہ بچوںکے لیے بھی آٹھ نظمیں ہیں۔
۳۔’چار سمت کا دریا،1977تک کہی گئی ان کی 75منتخب رباعیوں کا مجموعہ ہے۔
۴۔’آسماں محراب‘ 1976سے 1996تک کے منتخب کلام کا گلدستہ ہے ۔ اس کی عمدہ ترتیب ،سخت انتخاب اور فاروقی صاحب کے ایک مصرعے ــ’’زمیں ہے فرش توہے قوس آسماں محراب ‘‘سے ماخوذ مجموعے کانام پروفیسر نیر مسعود صاحب کی محبت اور سلیقے کا ثمرہ ہے ۔ اس کتاب میں فاروقی صاحب کی غزلوں ، نظموں، قطعات، رباعیوں،ایک قصیدہ ٔ شہر آشوب اور بچوں کی چارنظموں کے علاوہ دوسری زبانوں سے ترجمہ کی ہوئی بیس نظمیںاورشاعر کی نامکمل سوانح حیات کے تین ابواب بھی شامل ہیں۔
کہنے کی اجازت دیجیے کہ فاروقی صاحب کی شاعری کسی واضح بیانیہ کی شاعری نہیں ہے ۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ ان کی شاعری نہ تو موضوعات کی ہے،اور نہ ہی واقعات و تصورات اور تجربات کی ۔بلکہ شعور جن جذبات کو متحرک کرتا ہے انھی جذبات وتاثرات کافنکارانہ اظہار ان کی شاعری ہے۔اس حوالے سے چاہیں توان کی شاعری کو ذہنی اور حسیاتی کیفیتوں کے فشار رنگ کی شاعری سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ یقین کیجیے کہ فاروقی صاحب کے شعری تجربات کا ادراک فکری ، جذباتی اور روحانی سطح پر تو کیا جا سکتا ہے ،اس سے بیانات، نظریات اور جسمانی تفصیلات کے حوالے سے محظوظ نہیں ہوا جا سکتا۔انھوں نے اپنی غزلوں میںنئی نئی ترکیبیں وضع کیں،نئی زمین سے نئے مضامین نکالے ، نادر تشبیہیں ،تلمیحیںاور استعارے خلق کیے ،صوفیانہ خیالات کو نئی زبان عطا کی اور چند ایک نئے اوزان بھی ایجاد کیے ہیں۔ اوریہ کہ علامت سازی اور پیکر تراشی میں بھی انھوں نے بڑی جدت اور ہنر مندی دکھائی ہے ایک علامتی پیکر ملاحظہ کیجیے :
بازو بل کھاتے سانپوں کا کون ہے جو سپیرا ہو
دیکھ لوں جھک کے آنکھوں میں زہر بھی ہو تو میرا ہو
اپنے ہم عصروں میں فاروقی صاحب تنہا قابل ذکر رباعی گو شاعر کی شناخت رکھتے ہیں۔رباعیوں میں بھی ان کی فنی مہارت اور قادرالکلامی حد درجہ نمایاں ہیں۔انھوں نے بیشتر مرجہ اوزان پر رباعیاں کہی ہیں اور فارسی کے اساتذہ شعراء کے دو دو مصرعوں پر اردو کے دو دو مصرعے لگا کر رباعی کو ایک نئی تضمینی شان سے روشناس کرایاہے۔ فاروقی صاحب کی رباعیوں کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ ان میں گہرا ابہام اور دبیز اسرار ہوتا ہے۔ ایسا شاید اس لیے کہاجاتا ہے کہ وہ اپنی رباعیوں میں اخلاقی اور فلسفیانہ مضامین کے ساتھ ساتھ بالعموم اپنا ایک جدیدفکری رنگ بھی شامل کرتے ہیںجس کی وجہ سے رباعی کاآہنگ اوراس سے قاری کی روایتی انسیت قدرے مختلف معلوم ہونے لگتے ہیں،سو، اسے بھی تعمیری جدت سے تعبیر کرنا چاہیے۔ ’لالچ بھری رباعیاں ‘ اور ’پکے عمر کی رباعیاں‘اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔نشان زد رہے کہ فاروقی صاحب کی ’لالچ بھری‘ اور ’پکی عمر ‘کی رباعیوں میںفراق گورکھپوری کی روپ کی رباعیوں کی مانندجنسی اہتزاز یا عریانیت نہیں ہے۔مثلاًانھوں نے فراق کی طرح بدن، چال، انگڑائی، کولھے، سینہ، ناف،پیڑو،ران، پنڈلی اور عریاں نہانے وغیرہ کا ذکر کرنے کے بجائے اس صنف کی سنجیدگی اور وقا ر کو بحال رکھا ہے۔ فاروقی صاحب کی ایک سیدھی ، سچی رباعی کا حظ اٹھائیے :
جو عقل کے جھانسے میں نہ آئے وہ ہے دل
جو من مانی کرتا جائے وہ ہے دل
اک بوند گنہ پر سو قلزم روئے
پھر نا کردہ پر پچھتائے وہ ہے دل
ان کی نظمیں بھی کلاسیکی ،ترقی پسندیا عام نظموں کی مانند نہ تو کوئی مسئلہ پیش کرتی ہیں ، اورنہ اس کا حل بتاتی ہیں۔ ان کی بیشتر نظمیں فنی،تہذیبی اور فکری انتشارکے باعث رونما ہونے والے تاثرات و سوالات کو شعری تجربات کا لباس عطا کرتی ہیں۔یہ نظمیں بالعموم تمہید، نفس مضمون اور اختتامیہ کی روایتی ہیئت کی پابند نہیں ہوتیں،تاہم ان کے تمام مصرعے ایک دوسرے سے ایسے باہم مربوط ہوتے ، اور فطری طور پر یوں نمو کرتے ہیں کہ ہیں کہ پوری نظم ایک مکمل و منفرد اکائی کی حیثیت اختیار کرجاتی ہیں۔ چونکہ وہ نثری نظم کے قائل نہیں تھے ، اس لیے انھوں نے اپنی نظموں میں اوزان کی بہر طور پابندی کی ہے ، بعض نظموں میںمروجہ اوزان سے انحراف کرکے نئے اوزان بھی اختیار کیے ہیں۔یہ کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ انھوں نے نظموں میں اوزان و بحور کا بڑا ہی تخلیقی اور معنی خیز استعمال کیا ہے۔کہنے کی اجازت دیجیے کہ ان کی نظمیہ شاعری فکری اور فنی اعتبار سے ان کی رباعیوںاور غزلیہ شاعری سے بہت آگے نہ سہی کسی قدرنکلتی ہوئی ضرور ہے۔ ’گنج سوختہ ‘ کی پہلی نظم ’مناجات(۱)‘ملاحظہ کیجیے:
اس سے پہلے کہ
نقاب گل و گل زار میں پوشیدہ کہیں
اپنے پیوند لگے جبۂ صد رنگ میں ملبوس
مسخرہ موت کا میرے چمنستان و دروبام پہ کالک لیپے
ہانپتے جسم تھیئٹر کے کھلاڑی کی طرح
ہستی موہوم کا اک سایۂ بے وزن بنیں
صورت بے شکل بنیں ۔۔۔
اس سے پہلے کہ
سمندر لب افسوں کو ہلا کرشب مہ تاب کے ٹکڑے کردے
اس سے پہلے کہ
ہزاروں مہ و خورشید کی تابش سے فزوںخیرہ کناں
موت صفت ذرۂ ناچیز کوئی
بام افلاک سے پھٹ کر سرِ گیتی پہ گرے
جاگتی سوتی گلابی لب و رخسار کی گڑیا کا جگر چاک کرے
اس سے پہلے
کہ یہ ہو۔اس
سے پہلے مجھے
مرجانے کی مہلت دے دو
روایت تو یہ ہے کہ فاروقی صاحب نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز افسانے اور ناولٹ لکھ کر کیا تھا، لیکن وہ ابتدائی نقوش محفوظ نہیں رہ سکے۔ پھر فاروقی صاحب تنقید کے ایسے ہورہے کہ کسی کو خیال تک نہیں گزرا کہ وہ وادی فکشن سے تنقید کے میدان میں آئے ہیں۔ بہر حال انھوں نے باضابطہ فکشن تاخیر سے لکھا ،مگر خوب لکھا ۔پہلے افسانے لکھے اور بعد میںاپنا شہرہ آفاق ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘ تحریر کیا۔ افسانے انھوں نے ابتدأً ’ بینی مادھو رسوا‘ اور’ عمر شیخ مرزا‘کے ناموں سے لکھنے شروع کیے ۔یوں وہ خود عرصے تک پُر اسراربنے رہے اور قاری مسرت و بصیرت سے معمورافسانوں سے تسکین پاتے اور افسانہ نگار کے تعلق سے تجسس میں مبتلا رہے۔کچھ دنوں بعد لوگوں کو یہ اندازہ تو ہو گیا کہ عمر شیخ مرزا اور بینی مادھو رسوا فکشن کی بساط پر نہ تو تازہ واردان ہیں،اور نہ ہی یہ ان کے اصلی نام ہیں۔ ہونہ ہوکوئی کہنہ مشق تخلیق کار ہے جو نہ جانے کیوں اپنے آپ کو پردۂ زنگاری میں رکھ کر قاری کے پرواز خیال کو آزما رہا ہے۔پھر کچھ لوگوں نے شک کا اظہار اور بعضوںنے یہ دعوے کرنے شروع کیے کہ یہ دونوں کوئی اور نہیںنیر مسعود ہیں ،جو نام بدل کر افسانے شائع کروارہے ہیں۔ مگر افسانوں کی طرز جدا تھی ، اسلوب جدا تھا، اور پھر فکشن کی دنیامیں اپنی مستحکم جگہ بنانے اورمعتبر شناخت قائم کرلینے کے بعد نیر مسعود صاحب کے چلمن کی آڑمیں چھپنے کا کوئی جواز بھی نہ تھا۔ بالآخر بھید یہ کھلا کہ’ عمر شیخ مرزا ‘اور ’بینی مادھو رسوا‘ کوئی اور نہیںاردو کے اہم ناقد اور شاعر شمس الرحمٰن فاروقی ہیں۔
سو،جب فاروقی صاحب کا پہلا افسانوی مجموعہ’سوار اور دوسرے افسانے‘ زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منصۂ شہود پر آیاتوقاری کے شکوک رفع ہوئے اور ان کی حیرت و مسرت میں مزید اضافہ تو ہواہی ،ان کے دلوں میںفاروقی صاحب کے تئیں عظمت و احترام کا جذبہ بھی پیدا ہوا۔
’سوار اور دوسرے افسانے ‘میں یہ پانچ طویل مختصرافسانے شامل ہیں:’غالب افسانہ‘،’ سوار‘،’ ان صحبتوں میں آخر‘،’آفتاب زمین‘ اور’ لاہور کا ایک واقعہ‘۔ ان تمام افسانوں کے موضوعات،ڈکشن اور ٹریٹمنٹ قدرے مختلف یا یوں کہیے کہ روایتی افسانوںسے ذرا سا منحرف ہیں۔ مثلاً یہ کہ فاروقی صاحب نے نہ صرف اپنے افسانوں میں تحقیقی بنیادوںکا لحاظ رکھا ہے ، بلکہ افسانوں میں انھیں قائم کرنے کی کوشش بھی کی ہے، جب کہ افسانوی بیانیہ تحقیقی دلائل کے محتاج نہیں ہوتے ،بلکہ افسانہ بالعموم تحقیقی دلائل کے تصور کو رد کرتا ہے ۔ جن حضرات نے فاروقی صاحب کی کتاب ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ یا ان کے دوسرے گرانقدر مقالے مثلاً ’اردو غزل کے اہم موڑ، اور ’ایرانی فارسی،ہندوستانی فارسی اور اردو:مراتب کامعاملہ ‘ وغیرہ کا مطالعہ کیا ہوگا انھیں بخوبی یہ اندازہ ہوگا کہ ان کے بہت سے مباحث کو افسانوںکی شریانوں میں داخل کیا گیا ہے ۔ جیسے ’غالب افسانہ‘ میں کلاسیکی غزل کی نازک خیالی ،خیال بندی اورمعنی آفرینی وغیرہ کی وضاحت کی گئی ہے ،اور یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ مرزا غالب ایرانی فارسی اور ہندوستانی فارسی کے حوالے سے اس Complexکے شکار تھے کہ ہندوستانیوں کو فارسی نہیں آتی۔ اسی طرح ’آفتاب زمیں‘میں ’شعرکا ابلاغ ‘، ان صحبتوں میں آخر‘میں’ اردو کا ابتدائی زمانہ‘ اور’ایرانی فارسی ، ہندوستانی فارسی اور اردو:مراتب کا معاملہ‘اور ’غالب افسانہ‘ میں مطالعات غالب،سبک ہندی اور پیروی مغربی‘جیسے مقالوں میں بیان کیے گئے مباحث کی جھلک واضح طور پر موجود ہے ۔ ایسے ہی انھوں نے اپنے افسانوں میںہندوستان کی قدیم تہذیب و ثقافت اورادبی اقدار کو اس سلیقے اورہنر مندی سے پیش کیا ہے، کہ کسی مثنوی میں بھی تہذیب و فسانے کاایساشیر وشکر جیسا بیان کیا ہوگا؟
فاروقی صاحب کے افسانوں میں ہندوستان کی تاریخ و تہذیب،قدیم عہد کی دانشوری ، اس کا سیاسی شعور ،ادبی اقداراور بعض تحقیقی مسائل کی پیش کش اردو فکشن کے فن کو ایک نئی سمت عطا کرتے ہیں۔ساتھ ہی انھوں نے علمی اور فلسفیانہ نکات،لسانی نظریات ، دلچسپ موضوعات ، اہم کردار اورانسانی جذبات و نفسیات کی خوش رنگ قوس قزح کو فکشن کے کینوس پر اتنا واضح اور مکمل ابھاراہے کہ ہر رنگ ایک دوسرے کے حسن میں اضافے کا سبب بنتااور اردو فکشن کو نئی وسعتوں سے آشناکرتا ہے ۔ فاروقی صاحب کی اس جدت پسندی کی وجہ غالباً یہ رہی ہو گی کہ تحقیق و تنقید اور تہذیبی حقائق کو تخلیقی سطح پر بھی قبول کرنے کی رسم عام ہو۔بالکل ویسے ہی جیسے ڈیڑھ صدی قبل ڈپٹی نذیر احمد نے اصلاحی علوم کو تخلیق کے قالب میں ڈھال کر انجانے میں ہی سہی اردو میں ناول نگاری کی بنیاد ڈالی اورحروف شناسوں کو اسکا اسیر بنادیا۔ ( مگر فاروقی صاحب نے فکشن کے ساتھ جو کیا دانستہ کیااوربہت ہی سوچ سمجھ کر کیا)سو کہنے کی اجازت دیجیے کہ فاروقی صاحب نے فکشن کی ہیئت میں تحقیق اورتنقید کی بنیادیں اس خوبی اور خوبصورتی سے پیوست کی ہیں کہ فکشن کے بنیادی اسٹرکچر اور اس کی تعریف و تعیین میں کوئی عیب یا نقص در آنے کے بجائے اس کا رنگ روپ اور بھی نکھر آیاہے اور اس کے قالب میں مزید وسعت و گیرائی پیدا ہوئی ہے۔
فاروقی صاحب کے بیشتر کردار تاریخ و تہذیب اور تحقیق کے بطن سے جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں سے میرؔ، غالبؔ، اقبالؔ اور مصحفی جیسی علمی ،ادبی اور تاریخی شخصیتوںکا براہ راست تعلق قائم ہوتا ہے ۔ان حضرات کے عہد ، ماحول اور زندگیوں میں شامل جو غیر معروف کردار ہیںوہ بھی اپناتاریخی اور کافی حد تک تحقیقی جواز رکھتے ہیں۔فاروقی صاحب نے ایسے کرداروں کے ساتھ بھی شائستگی اور سنجیدگی کا برتائو کیا ہے ،جس نوع کے کرداروں کا ہمارے فکشن نگار بالعموم ایک ہی رخ دیکھ پاتے اور ان کا ذکر قدرے حقارت اور جنسی چٹخارے کے ساتھ کرتے ہیں۔مثلاًافسانہ’ان صحبتوں میں آخر‘ کے نسوانی کردار لبیبہ، خانم بزرگ اور نورالسعادۃ جیسی خواتین ہمارے معاشرے کا اہم حصہ رہی ہیں،ان کے تعلق سے معاشرے میں لوگوں کے جو تصورات اور قیاسات رہے ہیں،وہ افسانے میں موجود ہیں ،مگرافسانہ نگار نے کہیں بھی ان کی تحقیر نہیں کی، تذلیل نہیں کی۔بلکہ نورالسعادۃکے حوالے سے فاروقی صاحب نے عورت کی جذباتی اور نفسیاتی گتھیوں کو بڑی ہی چابکدستی سے کھولاہے۔
کہنے کی ضرورت نہیںہے کہ نقاد کی نثر اور تخلیق کار کی نثر میں بنیادی فرق انشا کا ہوتا ہے۔ سو، واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ فکشن نگار فاروقی کی نثر، نقاد فاروقی کی نثر سے یکسر مختلف ہے۔فکشن نگار فاروقی کی نثرمیں وہ تمام تخلیقی شان موجود ہے جو کسی مستند، معیاری اور کہنہ مشق تخلیق کار کی نثر میں ہونی چاہیے۔ایک خوبی یہ ہے کہ انھوں نے جس عہد یامعاشرے کا قصہ بیان کیا ہے، بیانیے میں بھی اسی عہد اور معاشرے کی نثر استعمال کی ہے، اورمحاورے ، لفظیات اور معنیات کوبھی اسی پس منظرڈھالاہے ۔اس سے صرف فکشن کے کردار ہی زندہ نہیں دکھتے ،بلکہ وہ پورا عہد جی اٹھا ہے جس میں یہ بولتے چالتے اور زندگی کرتے ہیں۔چند مثالیںملاحظہ کیجیے :
’’حوض قاضی کی مختصر سی نہر کا پانی برف ہورہا تھا۔لیکن ایک نوجوان مسجد کی بائیں سے نکلا۔اس کے قدم کبھی سست پڑتے ، کبھی تیز،اور اس کی آنکھوں میں رات کا خمار تھا۔وہ ہاتھ میں کاغذوں کاایک جنگ لیے ہوئے تھا،اسے لب نہر رکھ کر وہ پانی پینے کے لیے جھکا۔ یہ شدید سردی، اور یہ سرد اب، اور علی الصباح،بھلا کون پانی پینے اٹھتا ہے۔لیکن نوجوان کو شاید بھوک لگی تھی، اور وہ اسے ٹھنڈے پانی سے مارناچاہتا تھا۔یا پھر اس کاخلط ہی اس درجہ سودائی تھا کہ اسے اس عالم میں بھی پیاس لگتی تھی۔
نہر میں چلو ڈال کر اس نے پانی اٹھایا ہی تھا کہ آواز آئی۔
’’اے میاں صاحبزادے! ارے میاں،تم محمد تقی میر تو نہیں ہو؟‘‘پوچھنے والا ایک عمر رسیدہ، شریف اور باوضع شخص معلوم ہوتا تھا۔اور وزیرالممالک نواب قمرالدین خان، اعتمادالدولہ کی حویلی کے محافظ خانے سے نماز کے لیے نکلا تھا۔ حویلی مسجد سے کوئی پچاس قدم پر تھی،لیکن اس وقت وہاں صرف چند روشنیاں جل رہی تھیں۔‘‘ (ان صحبتوں میں آخر،سوار اور دیگر افسانے ،ص،158)
تخلیقی نثر کی ایک چھوٹی سی خوبصورت مثال افسانہ ’آفتاب زمین‘ سے دیکھیے :
’’ان کی صورت تو کچھ خاص نہ تھی لیکن پور پور بوٹی بوٹی سے ڈومنی پن ٹپکتا تھا۔ان کی نشست و برخاست، گردن کے خم، ڈھلکے ہوئے دوپٹے کو ہاتھوں سے درست کرنے کے طور،ہر چیز میں ایک ادا نکلتی تھی، اور ہر ادا پکار پکار کر کہتی تھی کہ ہم کلیجے میں کھبنے کے لیے بنے ہیں۔تس پر جامہ زیبی تو اس قدر کہ بس کپڑوںنے ان کا بدن پہن لیا تھا۔‘‘
ایک اور مثال بیوہ ماں کے حسن کو شائستگی سے پیش کرنے کی ملاحظہ کیجیے :
’’میری ماں کم عمری میں بیوہ ہوئی تھیںاور اب بھی ان کے چہرے پر وہ صباحت تھی کہ اگر کبھی ہم لوگوں کے مجبور کرنے پر ذرا اچھا لباس پہن لیتیں تو محفل میںاچھی اچھی دولت مند شریف زادیوں کو ان پر غبطہ ہوتا تھا۔‘‘ (سوار)
افسانوں کے علاوہ فاروقی صاحب نے ایک ناولٹ ’قبض زماں‘ لکھااور ایک ناول ’کئی چاند تھے سرآسماں‘۔’کئی چاند تھے سرآسماں ‘ کی کہانی اردو کے کلاسیکی شاعر نواب مرزاداغ دہلوی کی والدہ وزیر بیگم کو مرکز میں رکھ کر بنی گئی ہے۔اس ناول میں وزیر بیگم کی ذاتی زندگی اوران کے گرد وپیش میں رونما ہونے والے حالات و واقعات کاتاریخی پس منظر میںاس طرح سے جائزہ لیا گیاہے کہ وہ پورا عہد اپنے سماجی رکھ رکھاؤاور تمام جزئیات کے سے ساتھ زندہ ہوگیا ہے۔انگریزوں کے دوسوسالہ تسلط شدہ ہندوستان کی کہانی میں وزیر بیگم کے قصے کو تہذیبی اور ثقافتی سیاق وسباق کے ساتھ فاروقی صاحب نے جس خوبصورتی اور منرمندی کے ساتھ بیان کیا ہے ، اردو فکشن میں تا حال اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ۔ کہنا چاہیے کہ یہ صرف ایک ناول ہی نہیں بلکہ ایک مکمل عہد اور ایک پوری تہذیب کا نوحہ بھی ہے جسے فاروقی صاحب نے خون جگر سے لکھا ،ایک مٹ چکی تہذیب کو ازسرِ نو زندہ کیاہے۔ناول کا نام غالباً احمد مشتاق کے اس شعر سے لیا گیا ہے :
کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ پلٹ گئے
نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا ،نہ تمھاری زلف سیاہ تھی
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فاروقی صاحب اچھے شاعر اور بڑے فکشن نگار تھے ، مگر ان کی اول و آخر اور بنیادی شناخت ایک مستنداور معتبر نقاد کی رہی ہے ۔ ’شعر، غیر شعر اور نثر‘ ،’اثبات و نفی‘ ،’انداز گفتگو کیاہے‘ ،’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ ،عروض، آہنگ اور بیان ‘وغیرہ جیسی کتابیں اس بات کا ثبوت ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ فاروقی صاحب میں وہ تمام خوبیاںموجود تھیں جو ایک اہم، معیاری اور متبحرنقاد کے لیے ضروری ہیں۔ بڑا نقاد وہی شخص ہوسکتا ہے جو مشرقی اور مغربی علوم پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ فارسی زبان،علم عروض اور مختلف زبان و اصناف کے متون کی صحیح قرأت اور تفہیم سے کما حقہ واقف ہو ۔اور اس میں کوئی شک نہیں فاروقی صاحب ان شرائط پر پورے اترتے تھے۔
فاروقی صاحب نے تنقید میںجس قدر اور جس پایے کا کام کیا ہے اسے اردو تنقید کے متاع بے بہا سے تعبیر کرنا چاہیے۔انھوں نے شاعری ، فکشن ، لسانیات اور خود تنقید کی تنقید میں،جن جن نئے اور نرالے پہلوؤں کی دریافت کی اور ان پر جس نوع کے مباحث قائم کیے ، ان سے متون کی تشریح و تعبیرکی متعدد جہتیں کھلیںاور غور و فکر کے نئے نئے در وا ہوئے۔’لفظ و معنی‘ (1968)ان کی پہلی تنقیدی تصنیف تھی جس میں ادبی نظریات، کلاسیکی اور جدید اردو اور یورپی ادبیات پر گرانقد مضامین تھے۔ افسانے کی تنقید عبدالقادر سروری اور وقار عظیم سے لے کراب تک لکھی جارہی ہے ، لیکن افسانے کی نظری اور عملی صوررت حال پر مشتمل مضامین کا مجموعہ’افسانے کی حمایت میں‘اس نوع کے تمام کاموں پر اس اعتبار سے فوقیت رکھتا ہے کہ اس میںافسانے کے نظری اصول،عملی تنقید،شعر و فکشن میں اس کے مقام کاتعین اور ان سب کے اطلاق کے حوالے سے بے حد جامع، مدلل اورتب تک کی بالکل نئی بحث کی گئی ہے۔’تفہیم غالب ‘ میںانھوں نے غالب کے منتخب اشعار کی تشریح و تعبیر جدید اور کلاسیکی تکنیک کے ذریعے کر کے بتایاکہ دیوان غالب کی تقریباً چالیس شرحیں لکھی جانے کے باوجود غالب کے اشعار کے نئے اور انوکھے پہلوؤں کے دریافت کی گنجائش باقی ہے۔اور پھر چار جلدوں میں ’شعرشورانگیز‘ لکھ کرانھوں نے خدائے سخن میر تقی میر کے کلام کی جیسی تصریحیں اور توضیحیں کی ہیںوہ اپنی مثال آپ ہیں۔ داستان کے فن ،اس کی روایت،تحریری اور زبانی بیان کے امتیازات اور قصہ گوئی کی تنقید کے حوالے سے انھوں نے دو بے مثال کتابیں تصنیف کیں،ایک ’داستان امیر حمزہ:زبانی بیانیہ، بیان کنندہ اور سامعین‘ اوردوسری ’ساحری ، شاہی اور صاحبقرانی‘ ۔ان کتابوں کے بعد داستان ،جسے ہم نے زمانۂ جاہلیت کا فن کہہ کر ترک کر دیا تھا ایک بار پھر اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ پورے طمطراق سے معرض بحث میں آگئی۔
فاروقی صاحب نے داستانوں کا عمیق مطالعہ اور اس فن کے اختراع وبیان کے حوالے سے محض گرانقدر کتابیں ہی نہیں لکھیں،بلکہ انھوں نے داستان کے احیا کی عملی کوششیں بھی کیں،جس کا بین ثبوت ان کے بھتیجے محمود فاروقی ہیں۔محمود فاروقی نے ان کی ترغیب پر داستان گوئی کے فن کو از سرنو زندہ کیا اور ملک اور بیرون ملک داستان گوئی کی محفلیں سجاکر اس فن کے وقار ،اس کی دلکشی اور دلچسپی کو بیسویں اور اکیسویں صدی میں مقبول بنایا۔
فاروقی صاحب بہت اچھے خطیب بھی تھے ۔انھوں نے کناڈا، برطانیہ،امریکہ ،نیوزی لینڈ،جرمنی، پاکستان اورخلیجی ممالک کے مختلف اداروںاور جامعات میں تقریباً پچاس خطبے دیے ،اسی طرح ہندوستان کے متعدد مقامات پربھی انھوں خطبات ارشاد فرمائے ۔اپنے مافی الضمیرکے اظہار اور متعینہ موضوعات کے ابلاغ پر وہ پوری طرح قادر تھے۔وہ موضوع سے ذرا بھی نہیں بھٹکتے تھے، زیر بحث مسئلے کو انتہائی سلیقے اور سنجیدگی سے پیش کرتے اور سامعین کو اپنی باتیں حوالوں اور مثالوں سے اس طرح سمجھاتے کہ ہر قسم کا ابہام و اشکال دور ہوجاتا۔ ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ جب اردو میں خطبہ دے رہے ہوں یا تقریر کر رہے ہوں توانگریزی کا ایک بھی لفظ استعمال نہیں کرتے تھے، اسی طرح انگریزی تقریر میں اردو الفاظ کے استعمال سے پرہیز کرتے تھے۔بحیثیت انسان فاروقی صاحب بڑے ہی بے باک،بے خوف، صداقت پسند،خوش دل ،نیک اور محبت کرنے والے تھے۔ان کے جانے سے ایک عہد، ایک تہذیب،ایک روایت اور ایک رجحان کا خاتمہ ہوگیا۔ اب یہ احساس ستاتا ہے کہ زندگی میں ہمیں اس بے بدل عالم کی جیسی قدر کرنی چاہیے تھی ،ہم نے نہیں کی۔
اپنی راہیں بند کروں گا تجھ کو راہ پہ لاؤں گا
جب میں دنیا چھوڑ چکوں گا تب تو تجھے یادآؤں گا (آسماں محراب)
(شمس الرحمان فاروقی)