فاروق عبداللہ نے لوک سبھا میں کہا:چین کی طرح دوسرے پڑوسیوں سے بھی بات ہونی چاہیے

نئی دہلی:نظربند ی سے رہائی کے بعد پہلی مرتبہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبد اللہ نے لوک سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ سرحد پر تنازعات بڑھ رہے ہیں اور لوگ مر رہے ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کےلیے ایک حل نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جس طرح چین سے بات کر رہی ہے کہ وہ پیچھے ہٹ جائے،اسی طرح ہمیں اپنے دوسرے پڑوسی ممالک سے بھی بات کرنی چاہئے۔انہوں نے جموں و کشمیر میں ہونے والے مبینہ انکائونٹر میں کچھ لوگوں کی ہلاکت کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ فوج نے اعتراف کیا کہ شوپیاں میں تین افراد غلطی سے مارے گئے تھے۔ عبداللہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ متعلقہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ ملے گا۔ عبداللہ نے کہا کہ اگر ہندوستان ترقی کر رہا ہے تو کیا جموں و کشمیر ترقی نہیں کرسکتا؟۔انہوں نے ایوان میں وقفہ صفر کے دوران کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے نظربندی کے دوران ان کا ساتھ دیا۔ حراست سے رہائی کے بعد پہلی بار گفتگو کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے رہنما نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ترقی ہونی چاہئے تھی لیکن وہاں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔