فریضۂ دعوتِ دین:علما کی جواب دہی طے ہونی چاہیے

ناصررامپوری مصباحی

اللہ نے محض انسانی عقل و فطرت کے اعتبار سے انسان کو دو چیزوں کا مکلف رکھا ہے، ایک عقیدۂ توحید اور دوسرے اس سے زیادہ کے لیے تلاشِ مزید، اس کے بعد اسے انبیا اور وارثینِ انبیا علیہم السلام کی ضرورت پڑتی ہےـ
اب ہم رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت پر غور کریں تو آپ خود بڑھ کر کفار تک پہنچے، اُنہیں دعوتِ دین پہنچائی، ان کے اعتراضات کے جوابات دیے،دعات و مبلغین ارسال فرمائے،یعنی عملاً آپ نے بہت جانفشانی کی ـ
اس حوالے سے آپ کا طائف کا سفرِ دعوت اور ایک دعوتی سفر میں آپ کے 70 عزیز دعاتِ صحابہ کی شہادت عظیم واقعات ہیں، لیکن آپ نے پیش قدمی نہ چھوڑی،قیصر و کسرٰی وغیرہ کو از خود دعوتی خطوط جاری فرمائے،جو اس وقت ایک عظیم کام تھاـ
رسول اللہ نے تین طریقوں سے لوگوں کو دعوت دی:کردار سے،زبان سے، معجزہ سےـ ان تینوں چیزوں کی بنیاد پر آپ نے لوگوں کو یہ بتایا کہ وہ اپنا موجودہ کفر و شرک یا دین دھرم چھوڑ کر دینِ اسلام کیوں قبول کریں ـ
اب مذکورہ پوری گفتگو کا خلاصہ یہ ہوا کہ توحید کے بعد تلاشِ مزید کے لیے انسان عقلی بنیاد پر از خود مکلف ہے، لیکن تلاشِ مزید کو پورا کرنے میں انبیا و وارثینِ انبیا اس کے ساتھ برابر کے مکلف ہیں،حتی کہ اللہ نے بعثتِ انبیا کر کے اس کا انتظام بھی فرمایاـ
جب کہ سیرتِ رسول کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے مدعو کا ایک جگہ بیٹھ کر انتظار نہ کیا بلکہ آپ 80 یا 90 فیصد خود اُس تک پہنچے یا از خود اس تک دعوت بِھجوائی، دعات روانہ کیے، بلکہ شاید عملی طور پر آپ کی یہ کوشش صد فیصد رہی ـ
علاوہ ازیں آپ کے پاس صد فیصد پاک و مضبوط کردار تھا ،جو آپ کے صادق و امین اور آپ کے دینِ حنیف کے سچے ہونے پر سب سے بڑی دلیل تھا، خلاصہ یہ کہ مدعو تک رسائی و زبانی دعوت اور جامع کردار دونوں چیزیں آپ کے پاس صد فی صد تھیں ـ
رہا معجزہ (باستثناے قرآن مجید) تو آپ نے اس کا صد فیصد استعمال نہیں کیا،بلکہ غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ آپ نے اسلام کی دعوت اور اثباتِ حقانیت کو معجزہ اور کرشمہ پر پانچ دس فیصد بھی منحصر نہ رکھاـ
اب آجائیے آج کے ہم جیسے علما کی طرف تو ہمارے پاس نہ صد فیصد پاک کردار ہے کہ جسے دیکھ کر ایک عام شخص ہمارے مجموعی دین اور اس سے متعلق ہمارے دعووں کو سچ مان لے، نہ ہم مدعو تک رسائی اور زبانی دعوت کو صد فیصد انجام دیتے ہیں ـ ایسے میں ایک مخلص مدعو کس حد تک معذور ہے اور کارِ دعوت نہ کر پانے کی وجہ سے ہم کتنے بڑے مجرم ہیں یہ اہم سوال ہے، ہمارے پاس مؤثر کردار بھی نہیں اور مدعو تک رسائی اور زبانی کاوش بھی نہیں، ہمارے دونوں پہلو بہت کم زور ہیں،جب کہ ہم بزبانِ خود رسول اللہ کے محب و عاشق ہیں ـ
آگے بڑھیے تو اِس بیچ کسی گم راہ کہ جس نے قبولِ حق کے لیے دروازۂ دل مقفل نہیں کر رکھا تھا اور جس نے اپنے شبہات دل میں نہیں رکھے تھے بلکہ پبلش کر دیے تھے، کے انتقال کی خبر ہمارے کانوں سے ٹکراتی ہے تو بجاے اپنی دعوتی کوتاہی اور ایک اہم شخص کے ضائع ہونے پر کفِ افسوس ملنے کے ہم کافر کافر کا شور شرابا کرنے لگتے ہیں ـ
معجزۂ قرآن اور دینِ اسلام جو خود ایک مجسم معجزہ ہے، یہ دونوں چیزیں اگر زمانۂ نبوی میں تھیں تو آج بھی ہمیں فراہم ہیں، شاید یہی دو طاقتیں بچی ہیں جو دینِ فطرت کو آج بھی خود انحصار قائم و مستقل اور اپیلنگ بنائے ہوئے ہیں،ورنہ ہماری دعوتی حیثیت ناگفتہ ہےـ
ہمارا کہنا یہ ہے کہ ہم علما کی جواب دہی طے ہونی چاہیے،یہ دنیا آج تک آدھی سے زیادہ کافر کیوں ہے؟انڈیا میں ہم 25 کروڑ مسلمان اور لاکھوں علما ہر دن کتنے لوگوں کو داخلِ اسلام کر رہے ہیں اور عرفان خان جیسے کتنے تشنگان کی ہر دن ہم پیاس بجھا رہے ہیں؟ہمارا اس پر سالانہ حساب کتاب سامنے آنا چاہیےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)