فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں-حلیم اطہر سہروردی

منفرد انداز کی رومانی، اور احتجاجی شاعری کے لیے بے انتہا مشہور اور شہرہ آفاق شاعر احمد فراز4 جنوری1931 کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے ۔ان کا نام سیّد احمد شاہ ہے،بعد میں فیض احمد فیضؔ کے مشورے سے احمد فرازؔنام اختیار کیا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔ انہیں ابتدا سے ہی شاعری و ادب سے دلچسپی تھی ،احمد فراز کی مادری زبان پشتو تھی لیکن ابتدا ہی سے فراز کو اردو لکھنے اور پڑھنے کا شوق تھا اور وقت کے ساتھ اردو زبان اور ادب میں ان کی یہ دلچسپی بڑھنے لگی ۔ ان کے والد انہیں ریاضی اور سائنس کی تعلیم میں آگے بڑھانا چاہتے تھے لیکن احمد فراز کا فطری میدان ادب وشاعری کی طرف تھا ۔ اس لیے انہوں نے پشاور کے ایڈورڈ کالج سے فارسی اور اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور باضابطہ ادب وشاعری کا مطالعہ کیا ۔ احمد فراز نے اپنا کرئیر ریڈیو پاکستان پشاور میں اسکرپٹ رائٹر کے طور پر شروع کیا مگر بعد میں وہ پشاور یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگئے ۔ جب حکومت پاکستان نے اکیڈمی آف لیٹرس کے نام سے ملک کا اعلی ترین ادبی ادارہ قائم کیا تو احمد فراز اس کے پہلے ڈائریکٹر جنرل بنائے گئے ۔ ایڈورڈ کالج پشاور میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی ریڈیو پاکستان کے لیے فیچر لکھنا شروع کردیاتھا۔اور جب احمد فراز بی اے میں زیر تعلیم تھے ان کا پہلا شعری مجموعہ تنہا تنہا شائع ہوا ، بعد ازاں انھوں نے اردو میں ایم اے کیا، تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ ریڈیو سے علیحدہ ہوگئے اور یونیورسٹی میں لیکچرر بن گے اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ درد آشوب شائع ہوا ،یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر پشاورکے ڈائریکٹر مقرر ہوئے، انھیں1976 میں اکادمی ادبیات کا پہلا سربراہ مقررکیاگیا2006 میں نیشنل بک فاونڈیشن کے سربراہ رہے،احمد فراز نے ایک زمانے میں فوج میں ملازمت کی کوشش بھی کی تھی، ،احمد فرازنے متعدد ممالک کے دورے بھی کیے، احمد فراز نے کئی نظمیں لکھیں جنھیں عالمی سطح پرسراہا گیا، ان کی غزلیات کو بھی بہت شہرت ملی، حق گوئی اور بے باکی ان کی تخلیقی فطرت کا بنیادی عنصر تھی۔احمد فراز کی شاعری کے14مجموعہ کلام شائع ہوئے ہیں،ان میں تنہاتنہا، دردآشوب، شب خون، میرے خواب ریزہ ریزہ، نابینا شہر میں آئینہ، بے آواز گلی کوچوں میں، سب آوازیں میری ہیں، پس انداز موسم، خواب گل پریشاں ہے، ، غزل۔ اے عشق جنوں پیشہ، بہانہ کرو، اور جاناں جاناں نمایاںہیں۔ ان کی شاعری کے انگریزی، فرانسیسی، ہندی، روسی، جرمن، یوگوسلاوی اور پنجابی زبان میں ترجمے ہو چکے ہیں،احمد فرازکی کئی غزلوں کو مہدی حسن، نور جہاں، ناہیداختر، و دیگر ہندستانی و پاکستانی گلوکاروں نے گایا جنھیں عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی، علی گڑھ یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی کے علاوہ کئی ایک یونیورسٹیوں کے نصاب میں احمد فرازکا کلام شامل ہے، جامعہ ملیہ میں احمد فراز کی غزل کے موضوع پر اوربہاولپور میں احمد فراز کے فن اور شخصیت کے عنوان پرپی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا گیا۔فرازؔکی شاعری جن دو بنیادی جذبوں ، رویوں اور تیوروں سے مل کرتیار ہوتی ہے وہ احتجاج ، مزاحمت اور رومان ہیں ۔ ان کی شاعری سے ایک رومانی ، ایک کلاسیکی ، ایک جدید اور ایک باغی شاعر کی تصویر بنتی ہے ۔ انہوں نے عشق ، محبت اور محبوب سے جڑے ہوئے ایسے باریک احساسات اور جذبوں کو شاعری کی زبان دی ہے جو ان سے پہلے تک ان چھوے تھے ۔انھوں نے اپنی شاعری کے زمانہ عروج میں فوج میں آمرانہ روش اور اس کے سیاسی کردارکے خلاف شعرکہنے کے سبب کافی شہرت پائی، جنرل ضیاالحق کے دور میں انھیں مجبوراً جلاوطنی بھی اختیار کرنا پڑی، انھوں نے ضیاالحق کے مارشل لا کے دورکے خلاف نظمیں لکھیں جنھیں بہت شہرت ملی، مشاعروں میں کلام پڑھنے پر انھیں فوجی حکومت نے جنرل ضیا الحق کی آمریت کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے کی پاداش میں انہیں حراست میں لے لیا جس کے بعد احمد فراز کو خودساختہ جلاوطنی بھی برداشت کرنا پڑی،وہ چھ سال تک کناڈا اور یورپ میں جلاوطنی کا کرب سہتے رہے ۔فرازؔاپنے عہد کے سب سے مقبول ترین شاعروں میں سے تھے ۔ ہند و پاک کے مشاعروں میں جتنی محبتوں اور دلچسپی کے ساتھ فراز کو سنا گیا ہے اتنا شاید ہی کسی اور شاعر کو سنا گیا ہو ۔ ان کے بہت سے اشعار عوام کے ذہنوں میں ایسے محفوظ ہوگئے کہ دوران گفتگو وہ ان اشعار کا استعمال کرتے ہیں، جیسے۔۔ اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔۔۔جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں، ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں۔۔۔فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں،تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا ۔۔۔دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں،رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ۔۔۔آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ،سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں ۔۔۔یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں،ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فرازؔ۔۔۔ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا،فراز کو خود اپنی شہرت کا اندازہ تھا اس شعر سے اس کا ثبوت مل جائے گا،اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے۔۔۔*ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا۔۔احمدفراز کی پزیرائی ہر سطح پر ہوئی انہیں بہت سے اعزازات وانعامات سے بھی نوازا گیا ۔ 2004 میں جنرل پرویز مشرف کے دور صدارت میں انھیں ہلال امتیازسے نوازا گیا لیکن انھوں نے 2 برس بعد سرکاری پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے یہ تمغہ واپس کر دیا،احمد فراز نے1988میں آدم جی ادبی ایوارڈ اور 1990میں اباسین ایوارڈحاصل کیا جبکہ 1988میں انھیں ہندوستان میں فراق گھورکھ پوری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، اکیڈمی آف اردو لٹریچر (کینڈا)نے انھیں 1991میں ایوارڈ دیا۔1992میں ہندوستان میں احمد فرازکو ٹاٹا ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، ، احمدفراز شدید علالت کے باعث 25 اگست کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے مگر ان کی شاعری دنیائے
ادب کےلیے ایک اثاثہ ہیں اور اس کے نقوش آج بھی عوام کے دلوں میں موجود ہیں۔