فقیہ العصرمولانا قاسم مظفرپوری کی رحلت ملک و ملت کا ناقابل تلافی خسارہ:مولانا اظہار الحق مظاہری

 

حضرت قاضی صاحب معمار ملت اور صاحب الرائے انسان تھے:ڈاکٹر اظہار
حضرت مولانا قاسم مظفرپوری کے انتقال پر مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور میں منعقدہ تعزیتی نشست میں شمالی بہار کے موقرعلمائے کرام کا اظہار خیال

مظفرپور(عبدالخالق قاسمی)فقیہ العصر مولانا قاسم مظفرپوری کی وفات پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت نامورو بزرگ عالم دین مولانا اظہار الحق مظاہری ناظم جامعہ اشرف العلوم کنہواں شمسی نے کی،جبکہ نظامت کے فرائض مولانا عبدالخالق قاسمی اور مولانا تقی احمد قاسمی نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔ نشست کا باضابطہ آغاز حبیب اللہ سلمہ گیاری نے قرآن کریم کی تلات سے کیا،نیز نبی کریم صلوسلم عل کی شان میں نعت پاک کا گلدستہ مولانا اسعداللہ قاسمی نے پیش کیا۔ اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اظہار الحق مظاہری نے کہا کہ مولانا قاسم مظفرپوری کی رحلت ملک و ملت کا ناقابل تلافی خسارہ ہے۔ مولانا کی ذات با برکات گونا گوں خوبیوں کی حامل تھی،آپ کامیاب مدرس اور بیباک مقرر تھے۔ مولانا مفتی انوار قاسمی نے کہا کہ حضرت قاضی صاحب مختلف علوم و فنون کے مالک تھے،اللہ تعالی نے مختلف جہتوں سے ان سے دین کی خدمت لی۔ سابق ممبر اسمبلی وچیف ایڈیٹر روزنامہ پیاری اردو نے مولانا کے انتقال کو عظیم خسارہ قرار دیا اور کہا کہ حضرت سے میرے اچھے مراسم تھے،میرا ان سے گھریلو تعلق تھا آج وہ ہمارے بیچ نہیں ہیں مگر وہ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ حضرت ملت کے معمار اور صاحب الرائے انسان تھے۔ حضرت علیہ الرحمہ کے بڑے داماد مولانا عبیدالرحمن رحمانی نے کہا کہ ہم سب لوگ آج یتیم ہوگئے۔ مدرسہ طیبہ اور سیکروں مدارس اسلامیہ و مکاتب دینیہ حضرت کے فیض سے محروم ہوگئے ۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے برادر زادہ مولانا رحمت اللہ ندوی مقیم حال دوحہ قطر مولانا نعمت اللہ قاسمی ریسرچ اسکالر ام القری مکۃ المکرمہ نے تحریری شکل میں تعزیت نامہ بھیجا، جسے برادر مکرم مولانا فضل اللہ ندوی نے حاضرین کی سماعت کے حوالے کیا،درد بھرا تعزیتی پیغام سن کر لوگ آبدیدہ ہوگئے۔ حضرت مولانا عزیر اختر قاسمی استاد حدیث جامعہ اسلامیہ قاسمیہ دارالعلوم بالاساتھ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ عالم بننا فرض کفایہ ہے اور علم دین سیکھنا فرض عین ہے، ضرورت اس کی ہے کہ جگہ جگہ مدارس و مکاتب قائم کیے جائیں اور بچوں میں دینی بیداری لائی جائے اور انہیں علم دین سکھایا جائے۔ مولانا مفتی ثناءاللہ قاسمی استاد فقہ جامعہ اسلامیہ قاسمیہ دارالعلوم بالاساتھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت کا علمی اور اخلاقی مرتبہ اتنا اونچا تھا کہ وہاں تک دیکھنے میں بڑے بڑوں کی ٹوپی گرجاتی تھی۔ مولانا خبیب احمد قاسمی ناظم معھدالسنہ والقرآن قیدراباد دربھنگہ نے اپنے بیان میں حضرت قاضی صاحب سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفات کو قاضیوں اور مفتیان کرام کا بڑا خسارہ قرار دیا۔ سماجی کارکن وسابق رکن ضلع پریشد حافظ انصار نے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ بلا اختلاف ہر مسلک کے لوگوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ آخر میں حافظ منت رحمانی نے تمام مہمانانِ کرام کا شکریہ ادا کیا۔ صدر محترم کی دعا پر تعزیتی مجلس اختتام پذیر ہوئی۔