فلسفۂ تنہائی-خلیل جبران

ترجمہ:نایاب حسن

زندگی عزلت اور تنہائی کے سمندر میں واقع ایک جزیرہ ہے!

زندگی ایک جزیرہ ہے جہاں آرزووں کی چٹانیں پائی جاتیں،خوابوں کے درخت اُگتے،وحشت کے پھول کھلتے،پیاس کے چشمے اُبلتے ہیں اور خود اس کا وجود تنہائی اور عزلت کے سمندر کے بیچوں بیچ جھولتا رہتا ہے۔

میرے بھائی!تمھاری زندگی دنیا میں موجود تمام تر جزیروں اور خِطوں سے الگ ایک جزیرہ ہے اور تم چاہے اس کے دوسرے کناروں تک پہنچنے کے لیے کتنی ہی سواریوں،کشتیوں کا سہارا لو اور یہ کنارے تمھیں کتنے ہی بیڑوں اور آبادیوں تک پہنچادیں،مگر فی الحقیقت تم تن تنہا ایک جزیرہ ہو، اپنا دکھ خود تمھیں بھوگنا ہے،تمھاری خوشیاں صرف تمھاری ہیں،تمھیں ملنے والی نامعلوم محبت اپنے تمام تر اسرارو رموز کے ساتھ صرف تمھاری منتظر ہے۔

میرے بھائی!میں دیکھتا ہوں کہ تم سونے کی کرسی پر بیٹھے ہو،اپنی دولت پر شاداں اور اپنی ثروت پر فرحاں ہو اور سوچ رہے ہو کہ سونے کے ہر ٹکڑے میں ایک ایسا مخفی تار ہے جو آپ کی فکر اور سوچ کو دوسروں کی سوچ سے مربوط کرتا ہے۔ میں تجھے ایک ایسے عظیم الشان فاتح کی شکل میں دیکھتا ہوں،جو ایک فوجِ ظفر موج کے ساتھ نکلتا ، قوی ہیکل قلعوں کو تہس نہس کردیتا اور بالا بلند عمارتوں کو آسانی سے اپنے قبضے میں لے لیتا ہے؛لیکن جب میں نے تجھ پر دوبارہ نظر ڈالی تو دیکھا کہ خزانوں کی دیواروں سے گھرے ہوئے دل کے علاوہ بھی ایک دل ہے،جو تنہائی اور حیرانی میں ایسے پیاسے کی طرح دھڑک رہا ہے،جو سونے اور ہیرے جواہر سے بنے پنجرے میں قید ہواور اسے پینے کا پانی بھی میسر نہ ہو۔

میرے بھائی! میں دیکھتاہوں کہ تم مجد و شرف کے تختِ عالی پر بیٹھے ہو ،تمھارے ارد گرد حاشیہ نشینوں کی بھیڑ ہے،جو صبح شام تمھاری ثناخوانی میں مصروف رہتے،تمھاری خوبیاں بیان کرتے،تمھاری غیر معمولی صلاحیتوں کے قصیدے پڑھتے اور تمھارے ارد گرد ایسے حلقہ بگوش رہتے ہیں گویا وہ کسی نبی کی بارگاہ میں ہوں جو ان کی روحوں کو اپنی روح کے ساتھ بلندیوں کے سفر پر لے جائے گا اور چاند ستاروں کی سیر کروائے گا۔ تم انھیں دیکھتے ہو ،تو تمھاری پیشانی بے پناہ خوشی سے چمک اٹھتی ہے،تم اپنے آپ کو دنیا کا سب سے طاقت ور انسان سمجھتے ہو،تمھیں ایسا لگتا ہے کہ تمھاری ذات روح اور باقی لوگ جسم کے مانند ہیں کہ روح بغیر اس کا کوئی وجود ہی نہیں؛لیکن جب میں تمھیں دوبارہ دیکھتا ہوں تو تمھارا وجود اس تخت کے ایک طرف کو کھڑا نظر آتا ہے،احساسِ اجنبیت و وحشت سے دکھی ہے۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ وہ ہر چہار جانب اپنے ہاتھ پھیلاتا اور کچھ نادیدہ چیزیں تلاش کرتا ہے،پھر وہ لوگوں کے سروں کے اوپر دور کہیں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے ،مگر وہاں تو کچھ بھی نہیں ہے،صرف اس کی تنہائی ہے!

میرے بھائی!میں دیکھتاہوں کہ تم ایک حسین و جمیل لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو،تم اس کی پیشانی کو اَفشاں کی جگہ اپنے دل کے قطروں سے روشن کرنا چاہتے ہو،اس کی ہتھیلیوں کو اپنے بوسوں سے لبالب کردینا چاہتے ہو اور وہ ماہ رو تمھیں اس طرح دیکھتی ہے کہ اس کی آنکھوں میں محبت کی چمک اور اس کے ہونٹوں پر عطوفت کی شیرینی ہوتی ہے،تو میں اپنے دل میں کہتاہوں کہ:لگتا ہے محبت نے اس شخص کی تنہائی کو دور کردیا ہے ، اس کی عزلت کی کلفت ختم ہوگئی ہے اور اس کی روح کربِ تنہائی سے نکل کر عشق و محبت میں حاصل ہونے والے وصال سے ہم آہنگ ہوگئی ہے،مگر جب میں تمھیں دوبارہ دیکھتا ہوں تو نظر آتا ہے کہ تمھارے دل کے اَعماق میں ایک دل ہے، جو تنہا ہے،جو اپنے اندر مخفی تمام اسرار کو اس لڑکی کی پیشانی پر انڈیل دینا چاہتا ہے،مگر وہ ایسا نہیں کر سکتا اور میں نے تمھارے بظاہر محبت سے سرشار وجود کے پس پردہ ایک دوسرے وجود کو دیکھا جو بخارات جیسا ہے،جو چاہتا ہے کہ تمھاری محبوبہ کی ہتھیلیوں سے آنسو بن کر بہے،مگر وہ ایسا نہیں کر سکتا۔

میرے بھائی!تمھاری زندگی ایک ایسی منزل ہے جودنیا کی تمام منازل اور زندگیوں سے الگ ہے۔

تمھاری معنوی زندگی ظاہری راستوں اور اُن مَظاہر سے بہت دور ہے،جن کے ناموں سے تمھیں منسوب کیا جاتا ہے۔ اگر وہ منزل تاریک ہے،تو تم اسے اپنے پاس موجود چراغ سے روشن نہیں کرسکتے،اگر وہ خالی ہے،تو تم اپنے آس پاس کے اچھے لوگوں سے اسے بھر نہیں سکتے،اگر وہ چٹیل میدان اور بے آب و گیاہ صحرا میں واقع ہے،تو تم اسے کسی دوسرے کے ذریعے لگائے گئے باغ میں نہیں منتقل کر سکتے،اگر وہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر ہے تو تم اسے اپنے علاوہ کسی اور کی وادی میں نہیں اتار سکتے۔

میرے بھائی! تمھاری معنوی(روحانی) زندگی تنہائی اور عزلت سے ہی عبارت ہے،اگر یہ تنہائی نہ ہو تو تم،تم نہ رہو،میں،میں نہ رہوں۔ اگر یہ تنہائی نہ ہو،تو مجھے تمھاری آواز ، اپنی لگنے لگے اور تمھارا چہرہ، اپنا لگنے لگے،گویا میں آئینے کے سامنے کھڑا ہوں۔

 

(ماخوذ از:البدائع والطرائف،ص:111-115ط:الدارالنموزجیۃ،بیروت2014)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*