فلسطین اسرائیل تنازعہ:بین الاقوامی قانون کے تناظر میں ـ تزئین حسن

ہمارے ہاں فلسطین کے حوالے سے جذباتیت تو بہت پائی جاتی ہے لیکن قوم کی اکثریت زمینی حقائق سے بے خبر ہے اور اسی نا وا قفیت کی وجہ سے عجیب عجیب غلط فہمیاں سمجھ دار اور پڑھے لکھے لوگوں کے بیانیے میں بھی نظر آتی ہیں-
رائے عامہ دوسرے تنازعات کی طرح یہاں بھی دو حصوں میں تقسیم ہے- لیکن دونوں حصے عام طور سے فلسطین کے پیچیدہ مسئلے کا ضرورت سے زیادہ سادہ منظرنامہ (انگریزی میں اوورسمپلی فائیڈ ورژن بھی کہا جاتا ہے) پیش کرتے ہیں- اس مسئلے کو عموماً ایک مذہبی تنازعہ کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ ایک منظر نامے کے تحت بیت المقدس میں یہود کا ہیکل سلیمانی موجود تھا اور اس طرح یہود کا حق فلسطین پر مذہبی لحاظ سے مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو فلسطین سے دست بردار ہو جانا چاہیے۔ جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی حرمت اور حفاظت کا مسئلہ ہے- حقیقت یہ ہے کہ اس تنازعہ کو مذہبی رنگ دینے میں یہود کا فائدہ ہے- اس موقف کی کمزوری پر ہم آگے بحث کرتے ہیں-
فی الحال اتنا سمجھ لیجئے کہ لاکھوں فلسطینیوں کو طاقت کے زور پر ان کے گھروں سے نکا لنا اور انہیں ہمسایہ ممالک اور غزہ میں پناہ لینے پر مجبور کرنا اصل میں انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور اسےبین الاقوامی قانون کے تناظر دیکھنا چاہئے اور یہی تناظر فلسطینیوں کے حق میں بھی جاتا ہے-

مسجد اقصیٰ کی حرمت مسلمانوں کے لیے یقیناً ایک جذباتی مسئلہ ہے لیکن اگر دنیا میں اس مسئلے کو اجاگر کرنا ہے تو اسے انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر پیش کرنا ہوگا اور عالمی انسانی حقوق کی اصطلاحات استعمال کر کہ اسے خود بھی سمجھنا ہو گا اور سمجھانا ہو گا- بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں دیکھیں تو فلسطین کے منظر نامے میں کئ ایسی حقائق ہیں جنہیں آج کے قاری کے لیے سمجھنا ضروری ہے۔ ان میں سے ایک اسرائیل کی اپارٹائیڈ پالیسیز بھی ہیں۔ اپارٹائیڈ کا لفظ ایسے طرز حکمرانی کے لئے بولا جاتا ہے جس میں سرکاری سرپرستی میں نسلی عصبیت پر مبنی پالیسیاں باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت (institutionalized طریقے سے) اختیار کی جائیں اور ملک میں موجود دو قوموں یا نسلوں کے ساتھ الگ الگ برتاؤ کیا جائے۔ ایسا ایک قوم کو دوسری قوم پر برتری دلانے کے لئے کیا جاتا ہے- اپارٹآئیڈ انسانیت کے خلاف نسل کشی کے بعد دوسرا بڑا جرم تصور کیا جاتا ہے-

یہ لفظ سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں 1948سے لیکر 1990 کی دھائی کے آغاز تک گوروں کی حکومت میں مقامی آبادی کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے لیے استعمال ہوا- حالیہ ادوار میں چین کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ چینی حکومت کے امتیازی سلوک کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہو رہا ہے- اس نظام کے تحت سرکاری پالیسیوں میں ایک نسل (گورے، چینی، اسرائیلی یہودی) کی حیثیت دوسری نسل (کالے، ایغور، عرب فلسطینی) سے اونچی ہوتی ہے اس لیے سرکار کی پالیسیاں برتر نسل کی حمایت میں بنائی جاتی ہیں اور دوسری نسل کے ساتھ باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے- یہ امتیاز دوسری نسل کو مسلسل کمزور اور بنیادی حقوق اور زندگی گزرنے کے وسائل سے محروم کرتا چلا جاتا ہے-

اپارٹائیڈ کا اردو ترجمہ نسلی عصبیت کیا جاتا ہے لیکن چونکہ بین الاقوامی قانون میں یہ ایک تکنیکی اصطلاح ہے اس لیے ہم اورجنل اصطلاح ہی استعمال کریں گے۔ اسرائیل کا طرز حکمرانی اپنی حدود میں رہنے والے فلسطینی عربوں کے ساتھ 1948 سے نسلی عصبیت پر مبنی رہا ہے اور اب دنیا بھی اس پر آواز اٹھانے لگی ہے- (جاری )