غزہ پر اسرائیلی حملے ، فلسطینی تنظیموں کے قائدین کے اہل خانہ مصر منتقل ہونے لگے

قاہرہ :غزہ کی پٹی میں مسلسل آٹھویں روز اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔ اس دوران میں حماس اور دیگر فلسطینی گروپوں کے قائدین کے گھروں اور ٹھکانوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان تنظیموں کے رہ نماؤں کے گھرانوں نے شدید بمباری کے بعد قاہرہ کا رخ کر لیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ مصر نے شہریوں کی خاطر کئی گھنٹوں یا پھر پورے ایک دن کی فائر بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ مصری حکام کو اسرائیل کے جواب کا انتظار ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں اور جنگی کشتیوں نے پیر کی شام سے اب تک غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر 60 سے زیادہ حملے کیے۔ ان حملوں میں حماس تنظیم کے زیر انتظام حکومتی مراکز، تنظیم کی قیادت کے خالی گھروں ، فلسطینی گروپوں کے ٹھکانوں ، زرعی اراضی اور سڑکوں کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی فوج نے پیر کی شب تاخیر سے ایک اعلان میں بتایا کہ حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں نے گذشتہ پیر سے لے کر اب تک اسرائیل کی سمت 3350 راکٹ فائر کیے ہیں۔ ان میں سے 200 راکٹ صرف پیر کے روز داغے گئے۔ مزید یہ کہ اسرائیلی فضائی بم باری اور توپ خانوں کی گولہ باری سے غزہ کی پٹی میں کم از کم 130 مسلح جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔اُدھر فلسطینی شہروں میں طبی ذمے داران نے بتایا ہے کہ گذشتہ ہفتے لڑائی کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 212 تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں 61 بچے اور 36 خواتین شامل ہیں۔ دوسری جانب راکٹ حملوں میں اسرائیل میں دو بچوں سمیت 10 افراد مارے گئے۔