پروفیسر فیضان اللہ فاروقی کی یاد میں- نایاب حسن

پروفیسر فیضان اللہ فاروقی(۲۰۲۰-۱۹۵۲) ہمارے عہد کے باتوفیق استاذِ عربی زبان و ادب،فارسی و اردو ادب کے نکتہ رس و رمز آشنا عالم اور صالح و صائب الرائے دانشور و مفکر تھے۔ انھوں نے تعلیم و تعلم کے قدیم و جدید سرچشموں سے کسبِ فیض کیا اور پھر ملک کی ممتاز دانش گاہوں میں تعلیم و تربیتِ افراد کے مقدس پیشے سے وابستہ رہ کر ۲۰۱۷ میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی ،نئی دہلی سے سبکدوش ہوئے تھے۔ وہ نہ صرف علم و ادب اور فکر و تحقیق کے شناور تھے؛بلکہ اخلاق و اطوار کی بلندی اور خود آشنائی و عرفانِ ذات کی دولت سے بھی مالامال تھے،وہ حقیقی معلم تھے اور منصبِ معلمی کے فرائض سے آگاہ،سو آخری سانس تک اس مقدس عمل سے جڑے رہے،پہلے کم و بیش پانچ عشروں تک مختلف جامعات میں عربی زبان و ادب پڑھاتے رہے اور ۲۰۱۷ میں رسمی سبک دوشی کے بعد اپنے گھر کو ہی تعلیم گاہ میں بدل دیا اور وہاں آس پاس کے بچوں کو فی سبیل اللہ قرآن کریم کی تعلیم دیتے رہے،حتی کہ پچھلے سال ۲۰؍جولائی کو کورونا کی زد میں آنے کے بعد دہلی کے فورٹس اسکارٹ ہسپتال میں ان کا انتقال ہوگیا۔ انھوں نے اپنے پیچھے کئی عمدہ علمی،ادبی و تحقیقی کتابیں اور ملک و بیرون ملک میں برسرِ کار ہزاروں شاگرد چھوڑے ہیں ،انہی میں سے ایک عربی زبان کے جید عالم ،مصنف،مترجم، صحافی و استاذ ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی(اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ عربی،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی) ہیں ۔ انھوں نے فاروقی صاحب کی وفات کے بعد انھیں خراجِ عقیدت پیش کرنے اور نسلِ نو کو ان کی بلند قامت شخصیت سے واقف کروانے کی غرض سے اپنے زیر ادارت شائع ہونے والے عربی رسالہ’’مجلۃ الھند‘‘کا ایک شمارہ ان سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کی غیر معمولی جدوجہد،خلوص و لگن اور دیدہ ریزی کے نتیجے میں اس رسالے کا اپریل-جون کا خصوصی شمارہ شائع ہوچکا ہے،جو پروفیسر فیضان اللہ فاروقی صاحب کی پوری زندگی پر روشنی ڈالتا ہے اور ان کی خدمات کی مختلف جہتوں کو اُجالتا ہے۔
یہ مجلہ ۳۵۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ مدیر التحریر کے ادارتی نوٹ کے بعد ’’مقالات و بحوث‘‘کے عنوان سے شامل دس مقالات میں فاروقی صاحب کے نقوشِ حیات اور علمی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شروع کے تین مضامین(ڈاکٹر مجیب الرحمن،زہرہ خاتون،ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی) مجموعی طورپر فاروقی صاحب کی زندگی ، سرگرمیاں اور اخلاق و عادات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ایک مضمون(ڈاکٹر معتصم اعظمی) میں ان اداروں کا تعارف کروایاگیا ہے،جن سے فاروقی صاحب نے کسبِ فیض کیا۔ایک مضمون(ڈاکٹر عبیدالرحمن الطیب) میں فاروقی صاحب اور علم حدیث کی نشر و اشاعت میں ان کے کردار کو بیان کیا گیا ہے۔ تین مضامین(ڈاکٹر منظر عالم،ڈاکٹر محمد اجمل،ڈاکٹر جمشید احمد ندوی) ان کی کتاب’’لکناؤ مرکزا للدراسات العربیۃ والإسلامیۃ‘‘ کے تجزیے اور تنقید و تحلیل پر مشتمل ہیں۔ ایک مضمون ان کی کتاب An Applied Grammar of Standard Arabicکا جائزہ پیش کرتا ہے۔
دوسرا حصہ’’مقالات الفاروقي‘‘ کا ہے،جس میں فاروقی صاحب کے سات علمی و تحقیقی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ تیسرا حصہ’’ترجمات مقالات الفاروقي‘‘ کے عنوان سے ہے،جس میں فاروقی صاحب کے اردو مضامین کو عربی کے قالب میں ڈھالا گیا ہے،اس میں چار مضامین شامل ہیں،ترجمہ نگارڈاکٹر ہیفا شاکری،ڈاکٹر عظمت اللہ،ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی اور ڈاکٹر محفوظ الرحمن ہیں۔ ’’ذکریات‘‘ کے مرکزی عنوان کے تحت آٹھ مضامین (مفتی ثناء الہدی قاسمی،ڈاکٹر مقصود احمد،ڈاکٹر عرفان اللہ فاروقی،ڈاکٹر آمنہ فاروقی،ڈاکٹر محمد نعیم،ڈاکٹر معراج احمد ندوی) شامل ہیں۔ فاروقی صاحب کا ایک انٹرویو بھی شائع کیا ہے۔ فاروقی صاحب کی وفات پر کہے گئے دو مرثیے(پروفیسر زبیر احمد فاروقی،ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی) اور ایک مدحیہ قصیدہ (ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی)بھی شاملِ اشاعت ہے۔
الغرض ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی نے ساڑھے تین سو صفحات کے اس خصوصی شمارے میں فاروقی صاحب کے جملہ علمی و عملی پہلووں کو سمیٹنے کی عمدہ کاوش کی ہے اور انھیں بہترین خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ اس میں نہ صرف فاروقی صاحب کے تعلق سے ان کے معاصرین اور شاگردوں کے تاثرات یکجا ہوگئے ہیں؛بلکہ خود ان کے اہم علمی و تحقیقی مقالات بھی جمع کردیے گئے ہیں۔ اس طرح یہ شمارہ گویا پروفیسر فیضان اللہ فاروقی صاحب کی مکمل کتابِ حیات ہوگئی ہے،اس کا مطالعہ کرکے ان کے سوانحِ حیات کے تقریباً تمام گوشوں سے آشنائی ہوجاتی ہے اور ان کی علمی و تعلیمی سرگرمیوں،اخلاق و کردار اور تحقیق و تالیف کے حوالے سے قیمتی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ فاروقی صاحب ایسے گنے چنے اساتذہ میں سے ایک تھے،جو صارفیت کے موجودہ دور میں بھی اپنے فرائض کی ادائیگی اور اپنے خردوں،عزیزوں اور شاگردوں کے تئیں بے لوث و مخلص ہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ایسے تمام اساتذہ کے مانند فاروقی صاحب کے شاگرد بھی نہ صرف ان کی علمی لیاقت اور تدریسی، ادبی، تخلیقی و تصنیفی مہارتوں کی منھ بھر بھر کے تعریفیں کرتے ہیں؛بلکہ ان کی بے نفسی،زہد و قناعت، تواضع و انکساری،اعلیٰ اخلاق اور حسنِ اطوار کی بھی گواہی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر اورنگ اعظمی نے بھی فاروقی صاحب کے ایسے ہی سعید و رشید شاگرد کی بہترین مثال پیش کی ہے اور اپنے رفیع القدر استاذ کو ان کے شایانِ شان خراجِ عقیدت پیش کیا ہےـ اس مجلے میں شامل خود ان کا مضمون بھی نہایت شاندار ہے اور فاروقی صاحب کی زندگی کے اہم علمی،عملی و اخلاقی گوشوں سے آگاہی بخشتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ شائقینِ علم و ادب خصوصاً فاروقی صاحب کے متعلقین و تلامذہ اس مجلے کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے اور ان کی بے مثال معلمانہ، مربیانہ، محققانہ زندگی کی تفہیم و تعارف کے سلسلے میں ’’مجلۃ الہند‘‘ کا یہ خاص شمارہ اہم رول ادا کرے گا ۔ مجلہ اپنی معنوی خوبیوں اور محاسن کے ساتھ ظاہری حسن و جمال سے بھی آراستہ ہے اور طباعت کے اعتبار سے بھی غیر معمولی انفرادیت کا حامل ہے۔ حصول کے لیے مدیرِ مجلہ ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی صاحب سے ان کے نمبر: 8010269376پر رابطہ کیا جا سکتا ہے اور ان کی پرسنل ویب سائٹ azazmi.com پر آن لائن بھی پڑھا جاسکتا ہے۔