فیض یافتگانِ دیوبند کی تخلیقات میں امن و یکجہتی کے عناصر-ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

رام لکھن سنگھ یادو کالج،بتیا،مغربی چمپارن(بہار)

اعتدال دیوبند کا مزاج اور شناخت رہا اور ہے ۔ اس کے پیش ِ نظر قرآن کا وہ ضابطہ بھی ہمیشہ رہا ہے جس میں انسان کی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے نقطہ ٔ اشتراک پر جمع ہوکر کام کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ (تعالوا الیٰ کلمۃ سواء بیننا ۔آل عمران ، آیت : 64) اس ضابطے کے تحت اپنے دین پر مکمل کاربند اور ثابت قدم رہتے ہوئے وطن کی دوسری اقوام کے ساتھ دیوبند کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ۔دیوبند اسکول کے پہلے طالب ِ علم مولانا محمود حسن جنھیں مالٹا کی سخت قید و بند سے رہائی کے بعد اہل ِ وطن نے شیخ الہند کے خطاب سے نوازا ۔ آزادی ٔ ملک کی ان کی عظیم تحریک ’’ تحریک ِ شیخ الہند ‘‘ سے ملک کا ذرہ ذرہ با خبر اور ہر انصاف پسند ہندوستانی واقف ہے ۔ شیخ الہند نے دیوبند میں جب خفیہ طور پر اس تحریک کی بنیاد ڈالی تو اس کے ممبر غیر مسلم طلبہ بھی تھے ۔ تاریخ دارالعلوم دیوبند میںسید محبوب رضوی مرحوم نے لکھا ہے کہ ابتدامیں دارالعلوم میں فارسی وریاضی کے درجات میں بہت سے ہندو طلبہ پڑھا کرتے تھے اور ایک مدت تک یہ سلسلہ جاری رہا لیکن جب انگریزوں نے ملازمت کے لیے سرکاری تعلیم اور سرکاری سند کو لازمی قرار دے دیا تو پھر شدہ شدہ یہ پوری ٹولی بکھر گئی۔ (تاریخ ِ دارالعلوم دیوبند ، سید محبوب رضوی ، ادارہ ٔ اہتمام دارالعلوم دیوبند (1992)جلد 1 ،ص : 194)
1866میں دارالعلوم دیوبند جب قائم ہوا تو طلبہ کے لیے اسے کتاب کی ضرورت پڑی ۔ اس سلسلے میں دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم قاری محمد طیب ؒقاسمی اپنے ایک پیغام میں تحریر فرماتے ہیں :
’’ یہ واقعہ ہے کہ جناب منشی نول کشور صاحب انسانی ہمدردی اور علم دوستی میں یکتا تھے ۔ ان کی علم دوستی اور علماء نوازی کا نتیجہ تھا کہ 1866 میں جب دارالعلوم قائم ہوا تو اس کے پاس طلبہ کو دینے کے لیے درسی کتابیں موجود نہیں تھیں ۔۔۔ اہل ِ ملک سے اپیل کی گئی ۔ چناں چہ اس اپیل کا ملک میں خاطر خواہ اثر ہوا ۔ اہل ِ مطابع نے اس موقع پر اپنی مطبوعات بڑی فراخ دلی سے دارالعلوم کو پیش کیں ، حتی ٰ کہ بعض ہندو مالکان ِ مطابع نے بھی بفراخ ِ دلی کتابوں سے دارلعلوم کی اعانت کی ‘‘ ۔
آگے 1294 ھ کی روداد کے حوالے سے قاری صاحب لکھتے ہیں :
’’ جناب منشی نول کشور مالک ’’ اودھ اخبار ‘‘ لکھنؤ اور جناب راؤ سنگھ صاحب مالک اخبار ’’ سفیر ِ بڈھانہ ‘‘کا بالخصوص شکریہ کہ باوجودیکہ یہ دونوں صاحب اہل ِ ہنود ہیں مگر آفرین صد ہزار آفرین ان کی سخاوت اور عنایت پر کہ اپنے اپنے اخبارات ِ گراں بہا اس مدرسہ کو مفت عنایت فرماتے ہیں ‘‘ ۔ (ماہنامہ ’’نیا دور‘‘ لکھنؤ نول کشور نمبر، نومبر و دسمبر 1980 )
اس مشن کی تکمیل کے لیے جب حضرت شیخ الہند نے اپنے انتہائی چہیتے اور رازدار شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی کو افغانستان کے محاذ پر روانہ کیا اور انھوں نے وہاں ایک عبوری حکومت قائم کی تو اس وقت بھی اس حکومت کی مسند صدارت پر راجہ مہندر پرتاپ کو بٹھایا ۔ اس لیے کہ حضرت شیخ الہند نے کابل میں موجود اپنے شاگردوں کو یہ ہدایات بھیجیں تھیںکہ ’’ و ہ ہر طرح اپنی تحریک میں غیر مسلموں کو بھی شامل کریں اور انھیں ذمہ دار مناصب پر فائز کریںاورانھیں بطور خاص یہ یقین دلائیں کہ اس تحریک کا مقصد پھر سے ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت قائم کرنا نہیں بلکہ صرف ملک کی آزادی کا حصول ہے‘‘۔ (معمار ان جامعہ ،ظفر احمد نظامی ،مکتبہ جامعہ لمیٹڈنئی دہلی (2011)ص: 26)
اسلام کے نظام زندگی پر جس طرح شیخ الہند پختہ یقین رکھتے تھے اسی طرح اسلام کے جذبۂ رواداری کا سبق بھی ان کے پیش نظر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب جامعہ کی بنیاد ڈالی جارہی تھی توآپ نے ایک راہنما اصول بتاتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’اس یونیورسٹی کا تما تر نظام عمل اسلامی خصائل اور قومی محسوسات پر مبنی ہوگا‘‘۔ (خطبہ صدارت برائے تاسیس جامعہ29 اکتوبر1920 علی گڑھ)ــ’’ اسلامی خصائل ‘‘کے ساتھ’’ قومی محسوسات ‘‘کا لاحقہ شیخ الہند کے گہرے اسلامی شعور اور اسی جذبۂ رواداری کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ انھوں نے طلبہ کو یہ نصیحت بھی کی تھی کہ وہ اپنے مذہبی شعار کے ساتھ ساتھ اپنے ہم قوموں کے دکھ درد کا مداوا کرنے والے ہوں اور ذمہ داروںکو یہ تاکید کی کہ اس ادارے کا دروازہ ہندی قوم کے ہر بچے کے لیے ہمہ وقت کھلا رہے۔ بقول مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب ’’دیگر مسلم طلبہ کے ساتھ گاندھی جی نے بھی اپنے بیٹے کو سرکاری کالج سے ہٹا کر جامعہ میں داخلہ کرایا تھا‘‘۔
یوں تو فضلائے دیوبند نے کئی حوالے سے امن و یکجہتی کے فروغ میں عملی طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن اسی کے ساتھ ان کے ذخیرہ ٔ شعر و ادب میںایسے بے شمار نمونے دیکھے جا سکتے ہیں جن سے امن و یکجہتی کا نور پھیلا اور پھیل کر نفرت کی سیاہیوں کو مٹانے کاکام کیا ۔سر دست میری گفتگو کا موضوع ’’ امن و یکجہتی کے فروغ میں دیوبند کا کردار ،نظم و نثر کی روشنی میں ‘‘ ہے ۔ یہ سچ ہے کہ یہ ایک وسیع موضوع ہے جسے سمیٹنے کے لیے دفتر درکار ہے ۔ تاہم وسعت بھرکوشش کی جائے گی اور فضلائے دیوبند کی نثری و شعری تخلیقات کے وہ عناصر ذیل میںپیش کیے جائیں گے جن سے قومی یکجہتی کو فروغ ملا ہے۔
قومی یکجہتی کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اپنی اپنی مذہبی اور تہذیبی آزادی کے ساتھ ملک میں بسنے والی ہر قوم مل جل کر پیار و محبت سے رہے اسی کا نام قومی یکجہتی ہے ۔ قومی یکجہتی کی تعریف کی وضاحت اور اس کے حدود و قیود متعین کرتے ہوئے ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی قاسمی لکھتے ہیں :
’’ قومی یکجہتی اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کیا ہے ؟ یہاں پر قومی یکجہتی کے تصور اور حقیقی خد و خال کو واضح کرنا ضروری ہے تاکہ کسی غلط فہمی اور خلط مبحث کا اندیشہ نہ رہے ۔قومیت اور یکجہتی دونوں مل کر ہندوستان کی تہذیبی ، لسانی ، تاریخی اور رنگی و نسلی رنگا رنگی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ زبان و ادب ، رہن سہن ، تصورات اور رسم و رواج میں اشتراک و یگانگت اور تہذیبی و ثقافتی مظاہر میں مماثلت قومی یکجہتی کی تشکیل میں معاون ہوتے ہیں ۔ سیاسی اور قومی وحدت کا مفہوم انھی مماثلتوں سے بر آمد ہوتا ہے اور پھر ہندوستان کی مخصوص پہچان اور علامت ، کثرت میں وحدت کا چہرہ ظہور پذیر ہوتا ہے ۔۔۔ یہاں کی مٹی میں اجتماعی مزاج کی خوشبو رچی بسی ہے ۔ یہاںکثرت میں وحدت کے فلسفے پر ہی عمل کیا جاسکتا ہے ۔ قومی یکجہتی کے اسی تصور کو فروغ دے کر ملک کی سالمیت ، اس کے اتحادی ڈھانچے اور اس کی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ ‘‘ (ہفت روزہ ’’ الجمعیۃ ‘‘ نئی دہلی (جمہوریت نمبر )مشمولہ ’ قومی یکجہتی میں علمائے دیوبند کا کردار‘ 27 تا 2 فروری 2017)
شیخ الہند کے ایک دوسرے شاگرد ِ رشید شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے بھی جمعیۃ علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے ملک میں امن و یکجہتی کی روایت کو مزید مستحکم کیا اور آج بھی عملایہ سلسلہ جاری ہے ۔حضرت مدنی نے اپنی خود نوشت سوانح ’’ نقش ِ حیات ‘‘ میں مغل عہد کی رواداری پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے :
’’ آپس میں رشتہ داریاں اور بیاہ شادی جاری کر لی تھی ،ہر قسم کے عہدے ،وزارت ِ عظمیٰ اور سپہ سالاری سے لے کر ادنیٰ انتظامی اور فوجی عہدوں تک بلا لحاظ ِ نسل و رنگت اور مذہب و وطنیت حسب ِ قابلیت مفتوح اقوام کو بھی دیتے رہتے تھے ۔ انھوںنے ہندوؤ ں کو مہا راجہ ، راجہ ، تعلق دار بنایا ، بڑی بڑی ریاستیں دیں ،ہفت ہزاری، شش ہزاری ، پنچ ہزاری اور نیچے کے تمام منصب عطا کیے ۔ سر پی سی رائے (مشہور بنگالی لیڈر ) کہتا ہے : ’’ اورنگ زیب کے عہد میں بنگال کے ہندوؤ ں کو منصب داری اور بڑی بڑی جاگیریں عطا کی گئیں اور بڑے بڑے زمیندار بنا دیے گئے ۔ اورنگ زیب نے ہندوؤں کو گورنر بنایا ، وائسرائے بنایا ۔ یہاں تک کہ اس نے خالص مسلم صوبہ افغانستان پر بھی جو نائب السلطنت مقرر کیا تھا وہ ہندو راجپوت تھا ‘‘۔(نقش ِ حیات جلد اول ،دارالاشاعت کراچی (سنہ ندارد )ص : 156)
علامہ سید مناظر احسن گیلانی بھی شیخ الہند کے ایک شاگرد ہیں ۔ دین و دنیا کی تعلیمی دوئی کو مٹانے میں ان کا اہم رول رہا ہے، ان کے درجنوں شاگردوں نے دنیا بھر میں اسلام کو سرخرو کیا اور اسلامی تعلیمات کے ذریعے امن بحال کرنے کی بے مثال کوششیں کیں ۔ ان کے شاگردوں میں سرِ فہرست ڈاکٹر حمید اللہ حیدرآبادی ہیں ۔ بہار اسٹیٹ ٹیکسٹ بک پبلشنگ کارپوریشن لیمیٹیڈ پٹنہ( 1967) کی تیار کردہ کتاب ’’ انتخاب ِ اردو ‘‘( برائے امتحان سکنڈری اسکول ، بہار) میں علامہ سید مناظر احسن گیلانی کا ایک مضمون ’’ بہار اور اس کے علمی ، تہذیبی اور تمدنی کارنامے ‘‘ بھی شامل ہے ۔ علامہ ہندوستان کے صوبے بہار میں علمی فتوحات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ ہندوستان میں فکری و نظری ہل چل بودھ مت یا جین دھرم کے ذریعے سے ہوئی ۔ کون نہیں جانتا کہ ان دونوں تحریکوں کا استھان یا مرکز بہار ہی تھا ۔ بہار ہی میں بودھ مت کے ماننے والے نے مشہور تاریخی یونیورسٹی نالندہ قائم کی ۔ سنسکرت ادبیات میں آئینی و قانونی دستور جو چانکیہ کی طرف منسوب ہے اس کا واضع بھی پاٹلی پترا ہی کا رہنے والا تھا اور ہندوستان کا سرمایہ ٔ ناز کارنامہ ’’ کلیلہ ودمنہ ‘‘ جس کا ترجمہ تقریباً ہر علمی زبان میں کیا گیا ہے ، اس کا مصنف بھی بہار ہی کا رہنے والا تھا ۔ ‘‘ (انتخاب ِ اردو ، ص : 122)
اس کے علاوہ بھی علامہ گیلانی نے اس موضوع پر کئی مضامین تحریر کیے ہیں ۔ مثلاً : ’ اسلام اور ہندو مذہب کی بعض مشترک تعلیمات ‘ ،’ مسلمانوںکی حکومت میں غیر مسلم اقوام ‘ اور ’ہماری قدیم قومی و وطنی تہذیب ‘ وغیرہ ۔
اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لیے اپنے تن من دھن کو لٹانے والے علامہ تاجور نجیب آبادی کو بابائے اردو ثانی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔تاجور نے’’ اردو مرکز ‘‘ لاہور(1925) میں قائم کیا اور اس کے زیر ِاہتمام 36جلدوں میں اردو نظم و نثرکا ایک بے مثال انتخاب شائع کیا ۔ انھوں نے پنجاب میں اردو کی ترویج کے لیے غیر مسلم نوجوانوں پر زیادہ زور صرف کیا ۔ ان کے شاگردوں کی فہرست طویل ہے جن میں ن م راشد ، اختر شیرانی ، تلوک چند محروم ، احسان دانش ، موہن سنگھ دیوانہ ، شورش کاشمیری ، جگن ناتھ آزاد ، کرپال سنگھ بیدار وغیرہ سر ِ فہرست ہیں ۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ اردو زبان کو ’’جمہوری ‘‘ بنانا ہے۔زندگی بھر علامہ تاجور ہندو مسلم اتحاد کے لیے قلمی جہاد کرتے رہے ۔ اپنے ایک مضمون میں وہ لکھتے ہیں :
’’ ہندوستان کے امن و امان ، ہندوستان کی ترقی اور ہندوستان کی آزادی کے لیے ہندو مسلم اتحاد سے زیادہ ضروری چیز اور کوئی نہیں ۔ ۔۔۔ ہر فرقے کے اخبارات ، اپنی قوم کے غنڈوں کی عیب پوشی بلکہ عیب ستائی پر ایک زبان ہوجاتے ہیں اور اس غلط حمایت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فساد انگیز اور بے کیرکٹر لوگ بڑھ کر ’’ مولانا ‘‘ اور ’’شریمان‘‘ کے خطابوں کی بارش میں لیڈری سنبھال لیتے ہیں۔ ‘‘ (شاہکار لاہور ، اپریل 1935بحوالہ دارالعلوم دیوبند : ادبی شناخت نامہ ، ص: 140 ، 141) ایک دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں : ’’ ہم جو پروگرام پیش کر رہے ہیں ، اس کا مقصد یہ ہے کہ اردو شاعری کو ایسے ہندوستانی قالب میں ڈھالا جائے کہ اس کے چہرے سے ہندوستانیت ٹپکے ‘‘ ۔ (ماہنامہ ’’ ادبی دنیا ‘‘ لاہور ، فروری مارچ 1932بحوالہ سابق ص : 142 ،143)
مولانا حامد الانصاری غازی ایک ممتاز عالم دین ، دانشور اور محب ِ وطن صحافی تھے ۔ تقریبا دو دہائیوں تک ’’مدینہ‘‘ بجنور جیسے انگریزوں کے لیے صور ِ جنگ پھونکنے والے اخبار کے مولانا غازی مدیر رہے۔ ان کے والد مولانا منصور انصاری ملک کی آزادی کی خاطر 33 سال تک جلا وطن رہے اور غریب الدیاری ہی میں کابل میں ان کا انتقال ہوا ۔ وہ یقینا کردار کے ساتھ ساتھ صحافت کے بھی غازی رہے ۔ پوری زندگی ہندو مسلم اتحاد کے لیے عملا و قلما جدو جہد کرتے رہے ۔ اپنے ایک مضمون ’’ہم سب ہندوستانی ہیں ‘‘ میں لکھتے :
’’ ہندوستان ہمارا وطن ہے اور ہم سب ہندوستانی ہیں ۔ یہ افسانہ نہیں بلکہ روح کا حقیقی تقاضہ ہے ۔ تاریخ کے سینے میں بہت سے زخم ہیں مگر ان زخموں کو کریدنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ہزار اختلاف ہو سکتے ہیں مگر آج ہم سب اس بات پر متحد ہیں کہ ہم سب ایک ہیں اور ہمارا یہ ایکا وطن کی سرحدوں سے قائم ہے ۔ ہندوستان ہماری زندگی کا قلعہ ہے اوریہ قلعہ قومی اتحاد کے فولاد سے تیار ہواہے ‘‘۔ (بحوالہ اردو صحافت اور علماء ، سہیل انجم ،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس دہلی ،(2016)ص : 129)
مولانا سید انظر شاہ کشمیری کا تعلق بھی ایک مدت تک جمعیۃ اور کانگریس سے رہا ،وہ ایک بے مثال خطیب اور منجھے ہوئے مدرس و محدث کے ساتھ ساتھ اردو کے ایک عمدہ نثرنگار بھی تھے ، یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقعے پر دیوبند میں امن و یکجہتی اور علماء کی عظیم قربانیوں پر پر مغز تقریر فرماتے ۔ انھوں نے مختلف علماء ، ادباء ، شعراء اور سیاستدانوں پر خوبصورت خاکے بھی لکھے ہیں ، ان خاکوں میں رام منوہر لوہیا ، پنڈت نہرو اور گاندھی جی بھی شامل ہیں ۔ ان حضرات کی بہت سی کمیوں کے ساتھ ان کی بہت سی اچھائیوں کا بھی کھلے دل سے اعتراف کیا ہے ۔ گاندھی جی سے انھیں بڑا لگائو تھا ۔ گاندھی جی کو جب گوڈسے نے قتل کیا تو پورے ملک میں کہرام مچ گیا تھا ۔ اس موقعے پر اخبار ’’ الجمعیۃ ‘‘ نے انھیں کیسے خراج پیش کیا ، اسے مولانا کشمیری لکھتے ہیں :
’’الجمعیۃ اخبار کے شہرہ ٔ آفاق ایڈیٹر مرحوم فارقلیط نے گاندھی جی کی موت پر جوسرخیاں اخبار میں جمائی تھیں انھوں نے پورے ملک میں آگ لگا دی تھی ۔ ایک دن تو اخبار کی سرخی یہ تھی کہ ’’ حضرت عیسیٰ ؑ پھر سولی پر چڑھے ‘‘ ۔ (لالہ ٔ و گل ، مولانا سید انظر شاہ کشمیری ، شاہ اکیڈمی دیوبند (2000)ص : 287 )
شاہ صاحب اپنے ایک صدارتی خطبے میں فرماتے ہیں :
’’ ضرورت ہے کہ امت کا داعیانہ جذبہ کروٹ لے اور ملت اخلاق و کردار کے زیور سے مرصع ہو ۔ کیا آپ نے کبھی بھوکے ہمسایہ ہندو کا پیٹ بھرا ؟ پیاسے کی پیاس بجھائی ؟ بیمار کی دوا دارو کا بند و بست کیا ؟ مرجانے والے ہندو کے پسماندگان سے تعزیت کی ؟ ان کے دکھ سکھ کے ساتھی بنے ۔ ۔۔۔ برادران ِ وطن کے ساتھ رواداری ، فراخ دلی ، اعلیٰ ظرفی ، ہم آہنگی ، باہمی میل جول اور امن و شانتی کے ساتھ رہنے سہنے ، زندگی گزارنے کی عادت ڈالیے ‘‘ ۔ (گزارشات بر حقائق و واقعات بموقع دو روزہ کانفرنس مرکزی جمعیۃ علمائے ہند کان پور ، مولانا انظر شاہ کشمیری ، ص : 14 ،15)
ملک کے ممتاز عالم ِ دین ، پارلیامنٹ کے ممبر اور ایک تجربہ کار صحافی مولانا اسرار الحق قاسمی ایک بہترین مقرر بھی ہیں اور مقبول کالم نگار بھی ۔ انھوں نے پورے ملک میں اپنی تنظیم ’’ آل انڈیا تعلیمی و ملی فائونڈیشن ‘‘ کے پلیٹ فارم سے تعلیمی بیداری کا اہم کام انجام دیا ہے ۔ لیکن قلمی و عملی ہر دو حوالے سے ہندو مسلم اتحاد کی مولانا کی کوشش قابل ذکر کارنامہ ہے ۔ مولانا کے ایک مضمون ’’ ہندوستان کا مشترکہ کلچر: تحفظ اور فروغ کا مسئلہ‘‘سے اس کا نمونہ پیش ہے :
’’باشندگانِ ہند کے اتحاد نے انگریزوں کے دانت کھٹے کردیے تھے۔ہمارا ملک ہندوستان آزاد ہوا تو اس کے پیچھے بھی بلاتفریق مذہب وملت تمام باشندگانِ ہند کی قربانیاں کارفرما تھیں۔ اگر ایک طرف گاندھی جی تھے ، تو دوسری طرف مولانا محمد علی جوہر اگر ایک طرف پنڈت جواہر لال نہروتھے تو دوسری طرف مولانا ابوالکلام آزادتھے۔اگرایک طرف چندر شیکھر آزاد، تانتیہ ٹوپے جیسے مجاہدینِ آزادی تھے تو دوسری طرف اشفاق اللہ خاں اورمولانا حسرت موہانی جیسے جانباز سپوت تھے ۔۔۔ تمام باشندگانِ ہند پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے تہذیبی ورثے کی حفاظت کریں ۔اس کے لیے انھیں چاہئے کہ بلاتفریق مذہب وملت ایک دوسرے کے ساتھ اخوت کا کا معاملہ کرتے رہیں۔ ایک دوسرے کے لیے معاون ثابت ہوں ، ایک دوسرے کے کام آئیں ، ایک دوسرے کے ساتھ پیار ومحبت سے کاروبار کریں، ایک دوسرے کے تئیں ہمدردی ونرمی رکھیں۔اگر کسی فرقہ کے کچھ لوگ شرپسند ہیں یا شدت پسند ہیں تو ان پر قیاس کرتے ہوئے پورے فرقے کو شرپسند اور شدت پسند نہ خیال کریں‘‘۔ (ہندوستان کا مشترکہ کلچر: تحفظ اور فروغ کا مسئلہ)
معروف فقیہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اپنی دیگر صلاحیتوں کے ساتھ پابندی سے کالم بھی لکھتے ہیں اور سیمیناروں میں بھی شریک ہوتے رہتے ہیں ۔23،24ستمبر 2016 کو مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا میں ایک بین مذاہب سیمینار منعقد ہوا ۔ جس میں مولانارحمانی نے ’’ خدا ، رسول اور انسان کے بارے میں اسلامی تصور ‘‘ کے تحت فرمایا :
’’مسلمان جس مذہب پر یقین رکھتے ہیں اس کے دو نام ہیں : اسلام اور ایمان ۔ اسی لحاظ سے مسلمانوں کے بھی دو نام ہیں ۔مسلم اور مومن ،اسلام کے معنیٰ اپنے آپ کو حوالے کردینے کے ہیں۔ یہ عربی گرامر کے لحاظ سے سِلم اور سلام سے ماخوذ ہے جس کے معنی صلح سلامتی اور حوالگی کے ہیں، اسی سے مسلم ہے یعنی ایسا شخص جو صلح کو پسند کرنے والا اور اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردینے والا ہو ۔ ایمان ’امن ‘کے لفظ سے ماخوذ ہے، امن کے معنی ہیں : دوسرے کو امن دینا ، یقین کرنا ، اسی سے مومن ہے ۔مومن کے معنی ہوئے : امن دینے والا ، یقین کرنے والا ۔
غور کیجیے تو اسلام اور ایمان ان دونوں میں امن ، سلامتی ، صلح اور اور خدا کے احکام کے سامنے جھک جانے کے معنی پائے جاتے ہیں ، یہی اسلام کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔‘‘(بصیرت فیچر ، بصیرت آن لائن )اس کے علاوہ بھی مولانا کے بے شمار مضامین اس موضوع پر شائع ہوئے ہیں ۔
دیوبند کے ادبی منظر نامہ پر ایک چمکتا اور خوب صورت نام حقانی القاسمی کا بھی ہے ۔ وہ ایک مجتہد تخلیقی نقاد ہیں ۔ ادبی صحافت کا بھی طویل تجربہ انھیں حاصل ہے ۔ ان کی ہر کتاب اور ہر تحریر ادب کا ایک نیا جزیرہ ہوتا ہے۔ادب کے جمہوری قدروں کا استحکام ان کا وظیفہ ٔ روز و شب ہے ۔ کتاب ’’لاتخف‘‘ میں شامل اپنے ایک مضمون :’’ادب ، امن اور احتجاج ‘‘ میں ادب اور امن کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے حقانی القاسمی رقم طراز ہیں :
’’ امن ، کائنات کا تجمیلی عنصر ہے ۔ انسانی وجود کا اساسی معروض امن ہے ۔ دنیا کے بیشتر مذاہب کا ارتکاز ہیومنزم ، عدم ِ تشدد ، اہنسا ،امن پر رہا ہے۔ امن کائنات کی انرجی ، توانائی ہے ۔ اس کے بغیر کائنات ایک خرابہ ہے ۔ گوتم سے گاندھی تک ، دنیا کے تمام دانشوروں نے انسانیت ، اخوت ،مفاہمت ، تکریم پر ہی زور دیا ہے کہ ایک غیر منقسم کَل کی تشکیل اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
امن ، مفاہمت سے ہی ایک جمیل و جلیل کائنات کی تکمیل ہو سکتی ہے ۔ فاتحین ِ عالم بھی امن کی قوت سے آگاہ رہے ہیں اور انھوں نے امن ِ عالم کے لیے جنگ و جدل کا طریق ترک کرکے مفاہمت کی راہ چنی ۔ اشوکا نے بے شمار جنگیں لڑیں مگر کالنگا کی لڑائی میں انسانی وجود کے لہو نے اس کی آنکھیں نم کر دیں اور بالآخر اس نے اس جنگ کا کفارہ یوں ادا کیا کہ جنگ بندی کی پالیسی کا اپنی مملکت میں نفاذ کیا اور جنگ کی نفسیاتی جڑوں کی تلاش کرتے ہوئے یہ محسوس کیا کہ مذاہب اور عقائد کے ما بین برتری اور بالا دستی کا جذبہ ہی جنگ کا سبب ہے ۔ اشوکا نے پر امن اشتراک اور بین مذاہب مفاہمت پر زور دیا ہے اور مختلف ثقافتی ، مذہبی تناظرات کو تجربوں کے تنوع اور تکثیریت سے تعبیر کیا ۔ یہی تکثیریت تصادم کی وجہ تھی مگر بنیادی طور پر اس تکثیریت میں انسانی وحدت کا رمز بھی مضمر ہے اور کائنات کی تابانی ، درخشانی کا انحصار اسی تکثیری وحدت پر ہے ۔ ‘‘ آگے حقانی القاسمی انصاف پسند ادیبوں کے قلمی جہاد کی اہمیت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ شبدوں سے احتجاج بھی آج کے سفاک ،بے حس دور میں کسی جہاد سے کم نہیں ہے ۔ یہ احتجاج جاری ہے اور شاید ابد تک جاری رہے یا اس وقت تک جب تک کائنات میں ایک بھی با ضمیر انسان زندہ ہے ۔ ‘‘ (لاتخف ، ’ادب ، امن اور احتجاج ‘ ۔۔۔(۔۔۔) ص : 17تا 19)
معروف صحافی و ادیب مولانا نسیم اخترشاہ قیصر ماہنامہ ’’طیب ‘‘ دیوبند کے ایک اداریے میں جمہوریت، جس کی بنیاد دراصل قومی یکجہتی ہی پر منحصر ہے ،کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
’’ صحیح جمہوریت یہ ہے کہ ہم اس کا عہد کریں کہ کسی کی دل آزاری نہیں ہوگی ، کسی حق غصب نہیں ہوگا ، کسی کو اس کے حقوق سے محروم نہیں کریں گے اور اس ہندوستان کو ایک ایسا مثالی ملک بنائیں گے جس میں واقعی اور حقیقی معنی میں تمام تہذیبوں ، تمام فرقوں ، تمام مذاہب کے ماننے والوں کو زندہ رہنے اور اپنے تشخص کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع اور حقوق حاصل ہوں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب اور جس دن ہر ہندوستانی نے اس تصور کواپنی عملی زندگی میں جاری کر لیا اسی دن یہ جمہوریت اور زیادہ طاقتور ہو کر اور زیادہ پر کشش اور دلکش ہوکر ہمارے سامنے آئے گی اور اس وقت ہمیں اندازہ ہوگا کہ جمہوریت کا صحیح لطف کیا ہے ۔ ‘‘ (ہفت روزہ ’’دیوبند ٹائمز‘‘ دیوبند ، یکم فروری 1987 )
ایک اچھے صحافی کے بطور اعجاز ارشد قاسمی کی پہچان رہی ہے اور اس وقت سے انھوںنے لکھنا شروع کردیا تھا جب علما کا اس طرف رجحان آج کے مقابلے میں کم تھا۔ حالیہ دنوں میں ان کی ایک نئی کتاب ’’ علمائے دیوبند کی اردو شاعری ‘‘ منظر عام پر آئی ہے ۔ ان کی تحریروں میں بھی قومی یکجہتی کے عناصر واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ اپنے ایک مضمون ’’ قومی یکجہتی ماضی اور حال کے تناظر میں ‘‘ میں انھوں نے لکھا :
’’ یہ گلشن ِ ہند ہمیشہ سے پیار ، محبت ، امن و سلامتی ، مروت و بھائی چارگی ، اتحاد و اخوت اور رواداری کی زندہ مثال رہا ہے ۔ تاریخ کی جب ہم ورق گردانی کرتے ہیں تو بجا طور پر یہ دیکھتے ہیں کہ یہ فخر صرف اسی سر زمین کو حاصل ہے کہ یہاں مختلف مذاہب اور کلچر و ثقافت کے لوگ شیر و شکر کی طرح گھل مل کر رہے ہیں ۔ آخر یہی تو وجہ ہے کہ شاعر مشرق علامہ اقبال نے مادر ِ وطن کی محبت کے حسین جذبے سے سرشار ہوکر ’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ‘‘ کہا ہے جو محض ایک حسین تخیل ہی نہیں بلکہ ایک تاریخی روایت کی تصدیق بھی ہے ‘‘ ۔ (ماہنامہ ’’ یوجنا ‘‘ نئی دہلی ، دسمبر 1999)
نثری جائزے کے بعد اب دیوبند کی شعری تخلیقات میں قومی یکجہتی کے عناصر کا جائزہ پیش کیا جائے گا ۔ قبل اس سے کہ اس نکتے پر گفتگو کی جائے ، دیوبند کی اردو شاعری کے رنگ ، ڈھنگ اور مزاج و منہاج کا پتہ لگایا جا نا ضروری ہے ۔ دیوبند کبھی بھی شاعری برائے شاعری کا قائل نہیں رہا ۔ اس نے زیادہ تر مقصدی اور تعمیری شاعری کی ہے ، مقصدی سے ہر گز یہ مراد نہیں کہ اس نے فن شاعری اور اس کے اصول و ضابطے سے روگردانی کی ہے ۔ دیوبند کا اپنا ایک مستقل لسانی اور ثقافتی نظام ہے جو کم و بیش ہر مقام پر شعر و نثر میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ بقول حقانی القاسمی ’’ دیوبند کا اپنا ایک الگ ثقافتی اور لسانی نظام ہے ۔ یہ عربی فارسی کا ممزوجہ ہے ۔ کلاسیکی شعریات سے دیوبند کا رشتہ گہرا ہے ، مگر جدید شعریات سے منحرف بھی نہیں ۔ دیوبند کی تخلیق کا رنگ و نور بالکل الگ ہے اور ان کے الفاظ کی جدلیاتی منطق بھی جداگانہ ہے ۔ دیوبند کے ثقافتی لسانی اور شعری نظام کی تفہیم کے بغیر دیوبند کی تخلیقی حسیت کا ادراک یا اس کی تعیین ِ قدر ممکن نہیں ہے ۔ ‘‘ (دارالعلوم دیوبند :ادبی شناخت نامہ ، حقانی القاسمی ، آل انڈیا تنظیم علمائے حق نئی دہلی (2006)ص : 50)
دیوبند کی شاعری کا حاوی حصہ نظموں پر مشتمل ہے تاہم غزلیہ شاعری کی مقدار بھی کچھ کم نہیں ۔ یہاں کے خوشہ چینوں نے شعر کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ غزل ،قصیدہ ، مثنوی ، مرثیہ ، نظم ، قطعہ ، رباعی اور نعت و منقبت ہر ایک کے گیسو کو سنوارنے کاکام کیا ہے ۔ یہاں کی شاعری کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس کا رشتہ عوام سے گہرا ہے ۔ دیوبند ادب میں کسی خاص اسکول کا قائل نہیں ہے تاہم کہیں سے مفید و تعمیری عنصر لینے اور استفادے سے اسے عار بھی نہیں۔ سماجی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اس کا ڈانڈا ترقی پسند ی سے ضرور ملتا ہے لیکن اسے تقلیدکی بجائے توارد کانام دینا زیادہ صحیح ہے ۔ ویسے بھی دیوبند تحریک کا جنم ترقی پسندتحریک سے ستر سال پہلے ہو چکا تھا ۔ دیوبند کے اسی رنگ ِ شاعری کو بتاتے ہوئے حقانی القاسمی لکھتے ہیں :
’’ دیوبند کی پوری شاعری ، عوام اساس ہے اور شعری مزاج ترقی پسندوں سے ملتا جلتا کہ دیوبند کی تخلیق میں نو آبادیاتی ذہن ، استحصالی قوتِ جبر و جارحیت کے خلاف ردّ عمل ملتا ہے ۔ ۔۔۔ دیوبند کی تخلیق میں ترقی پسندانہ دانش نمایاں ہے اور ان کی تخلیق میں ضبط و تمکین بھی ہے‘‘ ۔ (دارالعلوم دیوبند :ادبی شناخت نامہ ، حقانی القاسمی ، ص : 51)
لطف کی بات یہ ہے دیوبند کے بانی سے لے کر آج تک اس کے جتنے بھی ممتاز اور نمایاںاور مختلف میدانوں کے ماہر علماء و فضلاء گزرے ہیں یا موجو ہیں ، سب کے اندر شعری ذوق پایا جاتا تھا اور پایا جاتا ہے ۔ میری محدود معلومات کے مطابق فضلائے دیوبند میں چالیس ایسے شعراء ہیں جو یا تو صاحبِ دیوان یا صاحبِ مجموعہ ہیں ۔ ان میں بھی ایک درجن شعراء ایسے بھی ہیں جنھیں استاذ شاعر کی حیثیت حاصل ہے ۔ ناطق گلاؤٹھوی ، تاجور نجیب آبادی ، زبیر راہی قاسمی ، فرحت قادری ، کاشف الہاشمی ، ریاست علی ظفر، صادق علی بستوی،ظفر جنک پوری اور شاہین جمالی وغیرہ کے نام انتہائی نمایاں اور روشن ہیں ۔جن شعراء تک راقم کی رسائی ممکن ہو سکی ان کے کلام میں قومی یکجہتی کی روشنی ڈھوندنے کی اپنی سی کوشش کی جارہی ہے۔
قاری احسان محسن ایک نابینا نعت گو شاعر ہیں ، انھوں نے غزل، حمد و مناجات ، قطعات و رباعیات اور قصیدہ ومرثیے بھی کہے ہیں اور خوب کہے ہیں لیکن ان کی شعری شناخت نعت گوئی ہے اور وہ بھی سوز و گداز اور درد بھرے ترنم کے ساتھ ۔ ایک نظم ’ نغمہ ٔ وطن ‘ میں وہ اپنے جذبہ ٔ وطنیت کا اظہار یوں فرماتے ہیں :
ہمارا ملک ہمیں جان و تن سے پیارا ہے
ہر ایک گوشہ وطن کا ، جگر کا پارا ہے
کوئی ہو مسلم و ہندو کہ سکھ کہ عیسائی
ہیں بھائی بھائی یہی قومیت کا دھارا ہے
ہمالیہ ہے یہاں اور رودِ گنگ و جمن
کہیں پہ تاج محل ہے ، کہیں منارا ہے
یہاں پہ مسجد و مندر ، کلیسا اور گرجا
ہر اک مقام سے وحدت ہی آشکارا ہے
(نقوشِ محسن ، احسان محسن قاسمی ، مسعود پبلشنگ ہائوس دیوبند (2004)طبعِ چہارم ، ص : 191)
ان اشعار میں حب ِ وطن بھی ہے ، قومی یکجہتی بھی ، بھائی چارہ اور ہندوستانی تہذیب کا خوبصورت نظارہ بھی ۔
مولانا احمد سجاد ساجد قاسمی پیشے سے ٹیچر ہیں اور شعر و ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں ۔ ان کا شعری مجموعہ ’’ غبارِ شوق ‘‘ زیرِ طبع ہے ۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے متعلق ایک نظم سے چند اشعار پیش ہیں :
یہ امن و اماں کا گہوارا ،پھیلی ہے فضا میں بوئے وفا
یہ دیس ہے چشتیؔ گاندھیؔ کا ،یہ دیس ہے صوفی سنتوں کا
ہے صبح بنارسؔ ، شامِ اودھؔ، فردوسِ نظر کشمیرؔ یہاں
نانکؔ کا وطن ،تلسی ؔ کی زمیں ،پیدا ہوئے غالب ؔمیرؔ یہاں
مندر ،مسجد، گرجے، اس کے ،کیا خوب حسیں شہ پارے ہیں
ہر دھرم یہاں ،تہذیب یہاں، ہر سمت یہاں گردوارے ہیں
ان اشعار میں ساجد قاسمی کے جذبہ قوم و وطن کا اندازہ بآسانی لگایا جاسکتا ہے ۔
علامہ قمر عثمانی دارالعلوم وقف دیوبند کے سینیر استاذوں میں ہیں ۔ عمر کے لحاظ سے اٹھاسی سال کے بزرگ ہیں ۔درس و تدریس اور شعر و ادب کا وہ ایک طویل تجربہ رکھتے ہیں ۔ بقول خود علامہ ،وہ ضرور بوڑھے ہوگئے ہیں لیکن ان کی شاعری ابھی بھی جوان ہے ۔ ان کا ایک مختصر سا مجموعہ ’’ جاوداں ‘‘ ہے لیکن انتہائی مضبوط شاعری کا نمونہ ہے ۔ زیادہ تر غزلیں ہیں اور کچھ نظمیں۔ نغمۂ وطن سے کچھ اشعارپیش کیے جاتے ہیں :
تہذیب کا مسکن ہے ، اہنسا کا پجاری
اک حسن ہے کشمیر سے تا راس کماری
اک ایک ادا اس کی دل و جان سے پیاری
الفت کا چمن زار ہے گہوارہ ٔ فن ہے
یہ میرا وطن ، میرا وطن ، میرا وطن ہے
(جاوداں ،علامہ قمر عثمانی ،مکتبۃ الجامعہ دیوبند ،’نغمہ ٔ وطن‘ (2015)ص : 97،98 )
علامہ ظفر جنک پوری بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں لیکن حمد و نعت اور نظم میں بھی ان کی کوشش قابل ِ ذکر ہے ۔ ان کے مجموعے ’’ صدائے دل ‘‘ کے حصۂ منظومات میں بیشتر کا موضوع حب وطن ، بھائی چارہ اور قومی یکجہتی ہے ۔ ان کے چند منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں :
ہر دل سے مٹا دیجے ، اب گردِ کدورت کو
ہر دل میں محبت کی اک شمع جلا دیجے
(صدائے دل ، علامہ ظفر جنک پوری ، ادارہ ٔ عزیز العلوم تحفیظ القرآن نئی دہلی (2010)ص : 152)
شعارِ زیست ہے ، شیرازہ بندی
مکمل ہے یہی ساماں ہمارا
مٹیں گے ہم ظفر قوم و وطن پر
ہے قومی ایکتا عنواں ہمارا
یہاں جینے کا حق ہے ہر بشر کو
ہو عیسائی کہ سکھ ، ہندو مسلماں
سکوں سب کو میسر ہو وطن میں
وطن سب کے لیے ہو خلد ِ ارماں
(صدائے دل ،’قومی یکجہتی ‘ ص : 169)
عامر عثمانی کے چھوٹے بھائی عمر فاروق عاصم عثمانی کا بھی اردو شاعری سے رشتہ استوار تھا اور اچھی شاعری کی ۔ بنیادی طور پروہ غزل کے شاعر ہیں تاہم حمد و قطعات اور نظمیں بھی کہیں ہیں ۔ ایک نظم ’ تاریخ کے جھروکوں سے ‘ سے چند اشعار پیش ہیں :
سو ظلم سہے ، جان بھی دی مال بھی چھوڑا
پر نعرہ ٔ ’جے ہند ‘ لگاتے رہے ہم لوگ
آزادی کا ہر دیپ بجھاتا رہا دشمن
ہر دیپ سے اک دیپ جلاتے رہے ہم لوگ
دل جس سے تڑپ جاتا ہے ، بھر آتی ہیں آنکھیں
وہ درد بھرے گیت بھی گاتے رہے ہم لوگ
(میرے بعد ، ’ تاریخ کے جھروکوں سے‘ عظیم بک ڈپو دیوبند ، (2009)ص :302 )
دیوبندکے استاذ شاعروں میں مولانا کاشف الہاشمی کا نام انتہائی ممتاز ہے ۔وہ اقبال کے ہم دوش تو نہیں تھے تاہم انھوں نے اقبال کی لفظیات کے ساتھ ساتھ اقبال کی فکری روح کو اپنے اندر جذب کرنے کی جس قدر سعی کی ہے وہ ان ہی کا حصہ ہے۔بقول شمس الرحمن فاروقی : ’’مولانا کے ان اشعار میں اقبال کے کلام کی روح نظر آتی ہے ‘‘۔(کلیات کاشف ، ص : 59)کاشف الہاشمی نے حمد و نعت ، منقبت ، مرثیہ اور رباعیات کے ساتھ نظم اور غزل میں بھی طبع آزمائی کی ہے تاہم وہ بنیادی طور پر نظم گو شاعر ہیں ۔ ان کی ایک رباعی چشمِ بصیرت کی نذر کی جاتی ہے :
آزادی ٔ انساں کے مددگار بنو
صحت کے لیے فکر کے بیمار بنو
مظلوم کی امداد کو ، بھولو نہ کبھی
بھارت کے سپوتو ذرا ہشیار بنو
(کلیاتِ کاشف ،مکتبہ مجلسِ قاسم المعارف دیوبند ،(2016)ص : 291)
مفتی کفیل الرحمن نشاط عثمانی ایک جید عالمِ دین اور فقیہ ، ہونے کے ساتھ ایک خوبصورت لب و لہجے کے غزل گو شاعر بھی تھے ۔ انھوں نے کئی اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی لیکن غزلوں ہی سے ان کی شناخت قائم ہوتی ہے ۔ ان کی نظم ’’ یومِ جمہوریہ کا پیغام ‘‘ سے چنندہ اشعار پیش ہیں:
ہندو مسلم کی یہ تفریق کے منظر کیسے
حریت میں تو لہو سب کا ہوا ہے شامل
متحد ہو کے سبھی لوگوں نے جانیں دی ہیں
موج ِافرنگ سے ٹکراکے ملا ہے ساحل
(کلیاتِ نشاط ، کفیل الرحمن نشاط ، ’ یومِ جمہوریہ کا پیغام ‘نشاط پبلی کیشنز دیوبند (2013) ص :240)
مولانا کفیل احمد علوی ایک معروف صحافی اورشاعر ہیں ۔ ایک مدت تک پندرہ روزہ ’’ آئینہ ٔ دارالعلوم ‘‘ دیوبند کے مدیر ر اور ایک عرصے تک دارالعلوم دیوبند کے شعبہ ٔ صحافت ’’ شیخ الہند اکیڈمی ‘‘ کے نگراں رہے ۔ وہ انتہائی سادہ مزاج و سادہ لباس تھے لیکن ان کی شاعری داد کے قابل ہے ۔ ان کے مجموعے ’’ شوق ِ منزل ‘‘ کا بیشتر حصہ نظموں پر محیط ہے ۔ ان کی نظم ’’یہ میرا وطن ہے یہ میرا وطن ہے ‘‘ سے چند اشعار :
یہ انسانیت کا ، شرافت کا حامی
یہ نفرت کا دشمن ، محبت کا حامی
یہ امن و سکوں کا ، صداقت کا حامی
یہ میرا وطن ہے یہ میرا وطن ہے
کوئی اس طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے
قدم جارحانہ بڑھاکر نہ دیکھے
میرے حوصلے آزماکر نہ دیکھے
یہ میرا وطن ہے یہ میرا وطن ہے
(شوق ِ منزل ، کفیل احمد علوی ،آستانہ بک ڈپو دہلی ،’یہ میرا وطن ہے یہ میرا وطن ہے‘ (2014) ص : 70)
استاد شاعر علامہ سید ابو الحسن ناطق گلائوٹھوی دیوبند کے قدیم فضلا میں ہیں ۔ داغ کی شاگردی بھی انھیں حاصل ہے ۔ دیوان غالب کی شرح’’ کنز المطالب ‘ کے نام سے تحریر کی ۔ بحیثیت غزل گو شاعر ان کی شناخت ہے ۔ ان کی نظم ’’ ترانہ ٔ وطن ‘‘ سے چند منتخب اشعار :
ہم جاں نثار اس کے ، یہ مہرباں ہمارا
ہندوستاں کے ہم ہیں ، ہندوستاں ہمارا
ہیں دل فریب منظر ، پہلو میں نربدا کے
روح ِ رواں ہے گنگا ، آب ِ رواں ہمارا
ہندو ہیں اور مسلماں ، عیسائی ، پارسی ،سکھ
مل جل کے ہم سفر ہے یہ کارواں ہمارا
یہ سادھوئو کی بستی ، یہ صوفیوں کی بستی
کردار ہے تقدس ، ناطق یہاں ہمارا
(دیوان ِ ناطق ،ناطق گلائوٹھوی ، ’ ترانہ ٔ وطن ‘ ناشر و مرتب : محمد عبد الحلیم ،ناگپور (1976) ص : 16)
فرحت قادری کی غزلیہ شاعری ان کی پہچان ہے ، ان کے کئی مجموعے منصہ ٔ شہود پر آئے اور خراج ِ تحسین وصول کیا ۔ در اصل ان کا میدانِ شاعری غزل ہے تاہم نظموں کو بھی انھوں نے نظرانداز نہیں کیا بلکہ ان کی نظموں کی بنیاد ہی جذبہ ٔ حب الوطنی ہے ۔ چونکہ ان کی اکیاون قومی نظموں کا باضابطہ ایک مجموعہ ’’ زمین ِ ہند ‘‘ موجود ہے اس لیے اسی مجموعے سے متعلق گفتگو کی جائے گی ۔فرحت قادری صاحب کا خیال ہے کہ وطن اور اہلِ وطن کا تعلق ماں اور بچے کا سا ہے ۔ انھوں نے خود کو 1942کا ننھا مجاہد کہا ہے ، اس وقت وہ دیوبند میں زیر ِ تعلیم تھے ۔ اس زمانے میں دیوبند میں انگریزوں کے خلاف روزانہ جلسے جلوس منعقد ہوتے اور قادری صاحب بچوں کی قیادت فرماتے ، اسی ماحول نے ان کے اندر قومی جذبہ بیدار کیا اور یہیں سے ان کی شاعری کی کونپل پھوٹی ۔ بقول خود قادری صاحب : ’’ میری شاعری کی ابتدا بھی انھیں دنوں ہوئی اور قومی نظموں ہی سے ہوئی ‘‘ ۔ (زمین ِ ہند ، فرحت قادری ، مکتبہ غوثیہ کریم گنج گیا ، (1993) ص : 19)
فرحت قادری کے اندر جذبہ ٔ حب الوطنی اور وطن کے لیے کس قدر تڑپ تھی ؟ اس پر علامہ ابراحسنی لکھتے ہیں :
’’ فرحت اصلا غزل کے شاعر ہیں ۔ ان کے جذبہ ٔ حب الوطنی نے ان کو نظمیں کہنے پر مجبور کیا ہے ۔ شاعر جب قوم ووطن کو قابل ِ اطمنان حالت میں نہیں پاتا تو اس کا دل تڑپ جاتا ہے اور ہر تڑپ ، درد ، خلوص اور جذبہ ٔ سرفروشی میں ڈوبی ہوئی ایک نظم بن جاتی ہے ۔ آپ فرحت کی ان نظموں کو پڑھیے آپ ضرور میرے ہم نوا ہوں گے اور اس خلوص ، وفا اور قومی درد کو ضرور اپنے دل میں محسوس کریں گے جو فرحت کے دل نے محسوس کرکے اسے شعری جامہ پہنایا ہے ۔ ‘‘ (زمین ِ ہند ، ص : 11)
اب ان کی شاہکار اور طویل نظم ’’ زمین ِ ہند ‘‘ سے کچھ منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں :
یہ زمیں وید کی ، پوران کی ،گیتا کی زمیں
یہ زمیں رام کی ، گوپال کی ، سیتا کی زمیں
اس کی عظمت کو بچالیں تو غزل بھی چھیڑیں
بھکشوئوں ، رشیوں کی ، کامائوں کی پیروں کی زمیں
مرشدوں ، ولیوں ، بزرگوں کی فقیروں کی زمیں
اس کو سینے سے لگالیں تو غزل بھی چھیڑیں
کاشی و متھرا کی ، اجمیر کی کلیر کی زمیں
لکھنؤ ، دہلی کی ، چتوڑ کی ، الور کی زمیں
اس کا رنگ اور جمالیں تو غزل بھی چھیڑیں
یہ ظفر شاہ و بھگت سنگھ کی ، ٹیپو کی زمیں
سکھ مسلمان کی ، عیسائی کی ، ہندو کی زمیں
آنکھ سے اس کو لگالیں تو غزل بھی چھیڑیں
غالب و میر کے اشعار کی خوشبو اس میں
پریم و اقبال کا ، ٹیگور کا جادو اس میں
اس کی شان اور بڑھا لیں تو غزل بھی چھیڑیں
یہ نمازوں کی زمیں اور یہ پوجا کی زمیں
شانتی کی یہ زمیں اور اہنسا کی زمیں
اس کو اور اونچا اٹھالیں تو غزل بھی چھیڑیں
(زمین ِ ہند ، ص : 60، 59)
ان اشعار کا ایک ایک نقطہ امن ، شانتی ، قومی ایکتا و یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبے سے معمور ہے ۔ یہاں پر شاعرکے نزدیک لفظ ِ غزل امن کا استعارہ ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غزل جو شاعر کی محبوبہ بھی ہے اور اس نے محبوبہ سے نہ ملنے کی قسم کھائی ہے اتنے اس کا وطن پورے طور پر آزاد نہ ہوجائے اور گنگا جمنی تہذیب کا سورج نصف النہار تک نہ پہنچ جائے ۔
یہ اور اس طرح کے درجنوںدیوبند اسکول کے شعرا و ادبا ہیں جن کی نظم و نثر میں ملک کی تعمیر و ترقی ، امن و یکجہتی ، بھائی چارہ اوراتحاد و اتفاق کی روشن تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں ۔