فیض صاحب کی 37ویں سالگرہ ـ وقار احمد ندوی

چونکیے نہیں، آپ نے صحیح پڑھا، فیض 37 سال کے ہی ہیں، میں نے غلط نہیں لکھا ہے، بس آگے پڑھتے جائیےـ

فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو اِس دنیا میں نمودار ہوئے تھے، یہاں ہوتے تو 110 سال کی عمر میں بھی ڈوبتے سورج کی طرح آسمانِ ادب کو شفق رنگ رکھتے اور آنکھوں کو بھلے لگتےـ

فیض صاحب جیسے تھے، ویسے لوگ کہاں مرتے ہیں، جہاں میں اہلِ ایماں صورت خورشید جیتے ہیں – یہاں ڈوبے وہاں نکلے، وہاں ڈوبے یہاں نکلے. ان جیسوں کے لیے لفظ”موت” یا "مرنے” کا استعمال طبیعت کو بد مزہ کر دیتا ہے، لہذا کہنا چاہیے کہ 20 نومبر 1984 کو دوسری دنیا میں ان کی پیدائش ہوئی تھی، امید ہے وہاں 37 سالہ جوانی کی بہاریں لُوٹ رہے ہوں گےـ

جس کی نظمیں اور غزلیں کشتگانِ ستمہائے روزگار کے شب وروز کو جوان رکھتی ہوں، وہ کیسے مر سکتا ہے، وہ تو بوڑھا بھی نہیں ہوگا. "ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، جو لوح ازل میں لکھا ہے، ہم دیکھیں گے”۔ اس دن کا آنا ہنوز باقی ہے، فیض صاحب اسے دیکھے بغیر نہیں مر سکتے. جس نے حلقہء زنجیر میں زبان رکھ دی ہو اور زنجیر اتنی دراز ہو کہ اس کے حلقے ختم ہونے ہو نہیں آتے، وہ کب مر سکتا ہے!

متاع لوح وقلم چھن گٸ تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں اُنگلیاں میں نے
زبان پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے

رات کے ڈھلنے، تاروں کے غبار کے بکھرنے اور ایوانوں میں خوابیدہ چراغوں کے لڑکھرانے کی آرزوئیں جب تک نا تمام ہیں، فیض زندہ ہیں. ان آرزووں کو ہمیشہ نا تمام رہنا ہے لہذا فیض بھی ہمیشہ زندہ رہیں گےـ خود ہی کہ گئے ہیں:
فیض زندہ رہیں وہ ہیں تو سہی
کیا ہوا گر وفا شعار نہیں

پھر کوئی آیا دلِ زار ! نہیں کوئی نہیں
راہرو ہو گا ، کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات ، بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سو گئی راستہ تک تک کے ہر ایک راہگزر
اجنبی خاک نے دُھندلا دیئے قدموں کے سُراغ
گُل کرو شمعیں ، بڑھا دو مَے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفّل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں ، کوئی نہیں آئے گا

1971 میں پاکستان کے دو لخت ہونے کا موقع ہے اور غزل کے درج ذیل پانچ اشعار لکھے جا رہے ہیں ـ دو محبت کرنے والے دلوں کا ٹوٹنا، دوست کے ہاتھ کا چھوٹنا، ایک خاندان کا پھوٹ جانا، دو خاندانوں آپس میں لڑ کر ٹوٹ جانا، غم ذات سے گزر کر غم کائنات کا کون سا ایسا پہلو ہے جو اس غزل میں سمٹ نہ آیا ہو:
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے ختمِ درد عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد
ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ فیض صاحب کی انتہائی اعلی درجہ کی با مقصد سنجیدہ شاعری کو استعارہ، تلمیح، حقیقت، مجاز اور اشارہ کنایہ وغیرہ فنی صنائع وبدائع کی تمیز نہ کرتے ہوئے مروجہ سوقیانہ عاشقی کے سفلہ پن پر محمول کر دیا جاتا ہے. فیض اور جالب ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں، بس زبان اور لہجہ کا فرق ہے، اس کا سبب تعلیم، حلقۂ احباب اور خاندانی پس منظر ہے. چلتے چلتے وہ اشعار جن کے بغیر فیض صاحب کا ذکر مکمل نہیں ہوتا:
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہےحیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دُنیا میں رکھا کیا ہے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جاۓ
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا