ف ۔ س ۔ اعجاز کی دھیمی آنچ سی کہانیاں ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

جیسے اسلوب ہر فکشن نگار کو شناخت عطا کرتا ہے ، ویسے ہی فکشن نگار کا اپنا لہجہ ، جو مزاج کے تابع ہوتا ہے ، اس کی پہچان کو مستحکم کرتا ہے ۔ کوئی تیز (لاؤڈ) لہجے میں اپنی کہانیاں پیش کرتا ہے ، تو کسی کی کہانیوں کا لہجہ تند ہوتا ہے ، اور کسی کی کہانیاں تلوار جیسی کاٹ رکھتی ہیں ۔ اسی طرح ہر فکشن نگاراپنے مزاج کے مطابق کہانیاں بنتا ہے ، نرم یا گرم یا پھر ملا جلا یعنی نرم گرم دونوں ۔ کولکتہ کے فکشن نگار ف ۔ س ۔ اعجاز کی کہانیوں کا مزاج کچھ دھیما دھیما سا ہے ۔ وہ یوں کہ ان کی کہانیوں میں ، خوشی اور غم ، جذبات کی شدت یا محبت اور نفرت ، ہر طرح کی کیفیات پائی تو جاتی ہیں ، مگر نہ کہیں شور ہے ، اور نہ کہیں ماتم یا خوشی سے بے قابو ہونے کا عالم ، تمام کیفیات فکشن نگار کے مزاج کے مطابق دھیمے دھیمے انداز میں سامنے آتی ہیں ، یوں جیسے دھیمی آنچ میں پکا ہوا لذیذ کھانا ۔ اور یہی مزاج یا انداز ف ۔ س۔ اعجاز کی افسانہ نگاری کا خاص وصف ہے۔
ف ۔ س۔ اعجاز اردو دنیا میں ایک جانا پہچانا نام ہے ، انہیں لوگ کولکتہ سے شائع ہونے والے ادبی پرچے ‘’انشاء‘ کے مدیر کے طور پر بھی جانتے ہیں، جو اپنے خاص نمبروں کے لیے بڑا مقبول ہے ، اور ایک اچھے شاعر اور مترجم کے طور پر بھی ، انہیں ساہتیہ اکیڈمی کا ترجمہ ایوارڈ مل چکا ہے ۔ اور یہ ایک اچھے افسانہ نگار بھی ہیں ۔ میں ایک لمبے عرصے تک ان کی کہانیاں پڑھنے سے محروم تھا ، اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ‘ ’انشاء‘ کی کاپیاں ممبئی میں گنے چنے لوگوں تک ہی پہنچ پاتی ہیں ، اور وہ پرچے بھی جو ف ۔ س ۔ اعجاز کی کہانیاں شائع کرتے ہیں ممبئی میں ملتے نہیں ہیں ۔ دوسری بات ، اور یہ افسوس ناک بات ہے ، کہ افسانہ نگاروں کی منتخب کہانیوں کے مجموعوں میں بھی ان کی کہانیاں نظر نہیں آتیں ، یا یہ بھی ممکن ہے کہ میری نظر سے ایسے انتخابات نہ گزرے ہوں جن میں ان کی کہانیاں شامل ہیں ۔ اگر ساجد رشید ، جنہیں مرحوم لکھتے ہوئے آج بھی کلیجہ منھ کو آتا ہے ، کے رجحان ساز ادبی پرچے ‘ ’نیا ورق‘ میں ان کا افسانہ ’پلوٹو کی موت‘شائع نہ ہوا ہوتا تو شاید کچھ دن اور ف ۔ س ۔ اعجاز بطور افسانہ نگار میرے لیے انجان ہی رہتے ۔ اس افسانے نے مجھے ایک عجیب طرح کے سحر میں جکڑ لیا تھا ، اور آج بھی یہ افسانہ جب میرے سامنے آ جاتا ہے تو میں خود کو اسے پڑھنے پر مجبور پاتا ہوں ۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ اسی نام سے ہے ۔ مگر مجھے ان کے دوسرے افسانوی مجموعے ’’ وہ دس اور دیگر افسانے ‘‘ پر بات کرنی ہے جو ابھی حال ہی میں شائع ہوا ہے ۔
یہ افسانوی مجموعہ 216 صفحات پر مشتمل ہے ، اس میں 33 طویل و مختصر، ڈیڑھ دو صفحات کی کہانیوں کے ساتھ ‘ ’کہانی ریزے‘ کے عنوان سے 23 کہانیاں مزید ہیں ، ہر کہانی کا اپنا الگ الگ عنوان ہے ۔ گویا مجموعی طور پر اس مختصر مجموعے میں 56 کہانیاں شامل ہیں ۔ انتساب فکشن نگار کے مزاج کے مطابق ہے ۔’’فکشن کے قارئین کے لیے مصنوعی ذہانت کی کہانیاں ۔ ‘‘ یہ انتساب ف ۔ س ۔ اعجاز کی سائنس سے دلچسپی کو اجاگر کرتا ہے ۔ سائنس بالخصوص مصنوعی ذہانت ان کا پسندیدہ موضوع ہے ، اور اس مجموعے کی کئی کہانیوں میں انہوں نے اس موضوع کو کامیابی کے ساتھ برتا ہے ۔ مثلاً کہانی’’ ایریکا ‘‘ ۔ یہ ایک نسائی روبوٹ کی کہانی ہے ۔ کہانی ایک بے حد حسین نسائی روبوٹ ‘ ایریکا ‘ کے گرد بنی گئی ہے ، جس کے توسط سے ، افسانہ نگار جہاں انسانی اخلاقیات کے تاریک پہلو کو کامیابی کے ساتھ اجاگر کرتا ہے وہیں ایک ایسے مستقبل کی اطلاع بھی دیتا ہے جہاں روبوٹ اور انسان ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے ۔ کہانی ’’ گڑیا‘‘ حالانکہ سائنسی کہانی نہیں ہے لیکن کہانی کا موضوع ‘ اسپرم ڈونر اور ‘جیتی جاگتی گڑیا ‘ کے اردگرد بنا گیا ہے اس لیے اس نے قدرے سائنسی رنگ لے لیا ہے ۔ یہ ایسے جوڑے کی کہانی ہے جو اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، لہذا یہ اسپرم ڈونر کی مدد حاصل کرتا ہے اور طبی تجربات سے گزر کر عورت ایک بچی کی ماں بن جاتی ہے ، لیکن اس کی بچہ دانی نکال لی جاتی ہے اور ڈاکٹر یہ انتباہ دے دیتے ہیں کہ آئندہ وہ کسی بھی طریقے سے ماں نہیں بن سکے گی ۔ دونوں ہی بچی سے خوب پیار کرتے ہیں مگر ایک دن وہ بچی مر جاتی ہے ، اور ماں اس کی موت برداشت نہیں کر پاتی ، اس پر اداسی کے دورے پڑنے لگتے ہیں ۔ ایک دن اس کا ماما اسے اس کی بچی کی شکل کی ایک گڑیا’ ‘ ایندرینا‘ لا کر دیتا ہے ، جس کا دل بھی دھڑک سکتا ہے ، جو چل پھر بھی سکتی ہے ، اور ہنس کھیل بھی ۔ لیکن ماں اس میں اپنی حقیقی بچی تلاش نہیں کر پاتی ، اور گڑیا کا ادھورا پن اس کے غم کا مداوا نہیں بن پاتا ۔ یہ دونوں ہی کہانیاں ایک طرح سے ‘ فطری اور ‘ غیر فطری ‘ یا قدرتی اور ‘بناؤٹی زندگیوں کے فرق ، ایک کی تکمیلیت کے باوجود محرومی کے احساس اور دوسرے کی ناتکمیلیت کے باوجود اسے زندگی سے بھرپور سمجھنے کی نافہمی کا المیہ سامنے لاتی ہیں ۔ انسان فطرت سے دور بھاگ کر جب غیر فطری طریقے سے خوشی بٹورنا چاہتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ سب سراب ہے ۔
اس مجموعہ کی تمام 56 کہانیوں پر بات کرنا ممکن نہیں ہے ، لیکن مذکورہ دو کہانیوں کے علاوہ چند ایک کہانیاں اور ہیں جن کا تذکرہ ضروری ہے تاکہ یہ اندازہ ہو سکے کہ ف ۔ س ۔اعجاز کے یہاں موضوعات میں کتنا تنوع ہے یا خود افسانہ نگار کے بقول موضوعات میں کس قدر ورائٹی پائی جاتی ہے ۔ مثلا ً ’’ لکڑی کا جزیرہ‘‘ مابعدالطبیاتی فضا کا افسانہ ہے ، ایک فینتاسی ، مگر اپنے اختتام پر یہ پیار کرنے والوں کا افسانہ بن جاتا ہے ۔ افسانہ ’’ اشتہار‘‘ اردو زبان سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں پر گہرا طنز ہے ۔ افسانہ ’’ ایک ہتھیار ڈیزائنر کی موت ‘‘ کلاشنکوف کے موجد کی خود ملامتی پر مبنی ہے اور یہ بتاتا ہے کہ ایک غلط فیصلہ آگے چل کر کیسے فیصلہ کرنے والے کو پچھتاوے کی آگ میں جلانے کا سبب بن سکتا ہے ۔ تین افسانوں کا ذکر خاص طور پر کروں گا ۔ افسانہ ’’ ہاوز نمبر 44‘‘۔کمال کا افسانہ ہے ۔ یہ کہانی سورؤں کی بڑھتی آبادی اور ان سے وباء کی طرح پھیلنے والی بیماری اور اس سے بچاؤ کی تدابیر کے تانے بانے سے بنی گئی ہے ، اور اس پس منظر میں بھارت کی سب سے بڑی اقلیت کے ایک بڑے المیے ، اس کے رہائشی مسائل پر ، دھیمے دھیمے انداز میں یوں بات کرتی ہے کہ ، دل و دماغ جکڑ جاتے ہیں ۔ کہانی کا اختتام آج کے سیاست دانوں پر گہرے طنز پر ہوتا ہے ۔ مسلمان اس ملک میں سورؤں کی طرح باڑوں میں رہنے پر مجبور کر دیے گیے ہیں، ان کے وجود کو وباء مان لیا گیا ہے، جس طرح کہانی میں سورؤں سے نجات کے لیے انتظامیہ سرگرم ہے اسی طرح حقیقی زندگی میں روز مسلمانوں کو قبرستان پہنچانے کے نعرے لگتے ہیں ۔ کچھ سیاست داں ایسے بھی ہوتے ہیں جو ووٹوں کی سیاست کے لیے اقلیت نوازی کا ڈھونگ کرتے ہیں ، یہ کہانی پڑھتے ہوئے یہ سب باتیں دماغ میں گھوم جاتی ہیں ۔ راوی کہانی کے آخر میں ہمدردی جتاتے سیاسی لیڈر کو دیکھتا ہے تو اسے لگتا ہے:’’ سہائے بابو کا منھ دیکھ کر میں گہری سوچ میں پڑ گیا ۔ ان کا مزاج ٹھنڈا اور پیٹ بھرا نظر آ رہا تھا۔‘‘ راوی اس سے پہلے سورؤں کو دیکھ چکا تھا کہ پیٹ بھرنے کے بعد ان کے مزاج ٹھنڈے ہو جاتے ہیں ۔ کہانی’’ جینا یہاں مرنا یہاں ‘‘ تدفین کے مسئلے کو سامنے لاتی ہے ۔ ایک گاؤں ہے جہاں کوئی قبرستان نہیں ہے لہذا ہر گھر خود ایک قبرستان میں تبدیل ہوگیا ہے ، اور کچھ گھروں میں اتنی قبریں ہو گئی ہیں کہ زندوں کے رہنے کے لیے جگہ نہیں بچی ہے، لوگ ہجرت کرنے کی سوچ رہے ہیں ۔ یہ آج کے بھارت کا ایک افسوس ناک سچ ہے ۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوئی نہیں سوچتا، افسانہ نگار نے گاندھی جی کے تین بندروں سے اس کی خوبصورت عکاسی کی ہے:’’ نیم کے پیڑ پر تین بندر بیٹھے تھے ۔ ایک نے اپنے ہاتھ اپنے منھ پر، دوسرے نے اپنی آنکھوں پر اور تیسرے نے اپنے کانوں پر رکھے ہوئے تھے ۔‘‘کہانی ’’وہ دس‘‘ کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کے پس منظر میں ان دس افراد کی داستان ہے جو مدھو بنی سے پیدل بردوان جانے کے لیے نکلے ہیں ۔ ان سب کی کہانیاں سارے بھارت کی کہانی بن جاتی ہے ۔ افسانہ نگار نے پولیس سے لے کر اسٹیشن ماسٹر، ٹی وی رپورٹر اور سرکاری اہلکار تک، سبھی کو مثبت انداز میں پیش کیا ہے ۔ یہ بھی لاک ڈاؤن کا ایک چہرہ تھا ۔ جب دسوں افراد اپنے اپنے مسائل اور ذاتی مصائب سے الجھتے اور سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرتے اور کورنٹائن ہوتے، اپنی منزل پر پہنچتے ہیں تو 175 روپیے پی ایم کئیرس فنڈ میں یہ کہتے ہوئے جمع کراتے ہیں : ’’ یہ رقم ہم دس مہاجر مزدوروں کے پاؤں کی دھول بھی نہیں ہے، اسے پردھان منتری ریلیف فنڈ کے لیے قبول کر لیجیے، آپ کا احسان ہوگا ۔ ہمیں کورونا کو ہرانا ہے ۔‘‘ ریسیپشنسٹ پیسے لے کر رسید بناتی ہے اور اس کی آنکھوں سے دو قطرے آنسو کے چھلک کر رسید پر گر پڑتے ہیں ۔ یہاں کہانی ختم ہو جاتی ہے ۔ یہ دو آنسو پڑھنے والوں کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، کیوں آنسو گرے؟ کیا اس لیے کہ ریسپشنسٹ کو پتہ ہے کہ پی ایم کیئرس فنڈ سے انہیں کچھ نہیں ملنے والا؟ کیا وہ ان دسوں کی سادگی پر آنسو بہا رہی ہے کہ یہ کورونا سے لڑنا چاہتے ہیں اور حکومت کو کورونا کی کوئی فکر نہیں ہے؟ یا یہ آنسو بس یوں ہی ٹپک پڑےہیں؟ ف ۔ س ۔ اعجاز کی کہانیاں دھیمے دھیمے پڑھنے والوں پر حاوی ہوتی اور انہیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں ۔ ان کہانیوں میں خامیاں بھی تلاش کی جا سکتی ہیں ، مثلاً یہ کہ ان کی مختصر کہانیاں کچھ توجہ پاتیں تو بہترین طویل کہانیوں میں ڈھل سکتی تھیں ، مختصر ہونے کے سبب ان کہانیوں کا تاثر قارئین پر بھرپور نہیں پڑتا ہے، یوں لگتا ہے کہ ایک آنچ کی کسر رہ گئی ہے ۔ لیکن یہ کہانیاں بہرحال قابل مطالعہ ہیں، اور آج جب لوگ اپنی کہانیوں کو پیچیدہ بنا رہے ہیں ان کہانیوں کا قابل مطالعہ ہونا ان کی سب سے بڑی صنعت ہے ۔ یہ مجموعہ کتاب دار (موبائل : 9869321477)سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔