ای وی ایم سے نکلے گا جن! کون سی کروٹ بدلے گا بہار؟-صفدر امام قادری

صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس ، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
بہار کا اسمبلی انتخاب محض ۲۴۴؍اسمبلی سیٹوں پہ لڑا جانا تھا اور ایک صوبے کی سرکار بننی تھی مگر جس انداز سے یہ انتخاب ہوا، وہ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ ایک صوبائی یا علاقائی واقعہ نہیں تھا بلکہ قومی سیاست کا نبض پیما بھی تھا۔ دوسروں کی کون کہے، وزیر اعظمِ ہند نے چھے مرتبے بہار کا پھیرا لگایا ہے۔ ان کی پارٹی کے ایک درجن سے زیادہ اسٹار پرچارک اڑن کھٹولوں کے ساتھ میدانِ کارزار میں ڈٹے رہے۔ تین سو سے زیادہ انتخابی جلسے کیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بہار میں ہی بس گئے ہیں۔ یہ اس وقت ہو رہا تھا جب دلی سے لے کر پٹنہ تک این۔ڈی۔اے۔ کی ہی حکومت تھی۔ خود بہار کے وزیر اعلا نتیش کمار نے تقریباً دیڑھ سو انتخابی جلسے اور ریلیاں کیں۔ ان کی پارٹی کے بڑے لیڈروں نے تو بے شک ہزاروں جلسے کیے ہی ہوں گے۔ یہ اس وقت ہورہا تھا جب پندرہ سال سے اُن کی حکومت تھی اور وہ قدِ آدم شبیہ قائم رکھنے میں اس طویل مدت میں کامیاب رہے۔
این۔ڈی۔اے۔ اور نتیش کمار یا نریندر مودی کے اجلاس میں ان سے پہلے کے پندرہ برس کا کچا چٹھا خوب کھولا گیا۔ بتایا گیا کہ جنگل راج تھا اور بہار میں ترقی رکی ہوئی تھی۔ امن و امان کو خطرہ تھا اور لوٹ کھسوٹ کا دورہ تھا۔ این۔ڈی۔ اے۔ کے ہر لیڈر نے شروع کے دور کی تشہیر سے ہی لالو یادو کے دور کے پندرہ برس کی حکومت کی ناکامیوں کے ٹیپ ریکارڈر بجائے گئے اور کوشش یہ کی گئی کہ بہار کے عوام کو گذشتہ دور کا خوف دلا کر یقین دلایا جائے کہ اس سے الگ ہم ہی بہتر حکومت چلا سکتے ہیں۔ اس لیے چوتھی بار ہمیں ہی سرکار بنانے کا موقع دیا جائے۔ آخر آخر میں نتیش کمار نے عوام کے سامنے نریندر مودی سے بھی زیادہ جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا کہ یہ اُن کا آخری انتخاب ہے اور اس کے بعد وہ کبھی ووٹ مانگنے یا عہدہ حاصل کرنے کے لیے لوگوں کے بیچ نہیں آئیں گے، اس لیے اُن کے کاموں کو دیکھتے ہوئے انھیں ایک بار پھر چن کر اقتدار تک پہنچا دیا جائے۔
اس کے برخلاف تیجسوی یادو کی قیادت میں حزبِ اختلاف کی تشہیر کی منطق دوسری تھی۔ تیجسوی یادو نتیش کمار کے پندرہ برسوں کے کاموں کا حساب کتاب مانگتے رہے۔ بہار کو ترقی یافتہ ریاست بنانے کے لیے نتیش کمار کو کیا کیا کرنا چاہیے تھا، اور انھیں کیوں کر نہیں کیا؛ ان سوالوں پر وہ گھیرنے کی کوشش کرتے رہے۔ تیجسوی یادو نے اپنی تشہیر کے روزِ اول ہی بے روزگاری کے سوال کو اٹھایا اور بہار کے نوجوانوں میں سے دس لاکھ لوگوں کو پہلی کابینہ میں ملازمت دینے کے وعدے کے ساتھ اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ اگر ان کی سرکار بنے گی تو وہ کیا کیا کریں گے، اس کی ایک تفصیل حزبِ اختلاف کی ہر ریلی میں سامنے آتی رہی۔ کبھی ٹھیکے پر بحال اساتذہ کے ساتھ انصاف کی بات ہوتی تو کبھی کھیتی اور کسانی کے مسائل پر ان کی پالیسی کا اعلان ہوتا۔ تیجسوی یادو گذشتہ پانچ برس اسمبلی کے ممبر رہے، اس سے زیادہ ان کے پاس کوئی سیاسی تجربہ نہیں مگر انھوںنے ڈھائی سو سے زیادہ انتخابی جلسے کیے اور ایک دن میں انیس جلسوں سے خطاب کرکے اپنے والد لالو پرساد کے ریکارڈ کو توڑ دیا۔
ایک ٹیلی ویژن جرنلسٹ نے تیجسوی یادو سے تشہیر کے دوران ان کی تقریروں میں پیدا شدہ اعتماد کے راز کو جاننا چاہا تو تیجسوی یادو نے انگریزی میں بڑا معقول جواب دیا کہ میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ سیاسیات کے طالب علم روسو کی بات بھولتے نہیں ہیں جب اس نے مزدور، کسان اور کمزور لوگوں کے بارے میں یہ بات کہی تھی کہ ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے اور ہیں تو صرف ان کی زنجیریں اور بیڑیاں۔ تیجسویں یادو کے جواب میں اگلا جملہ آیا نہیں مگر یہ واضح تھا کہ پانے کے لیے سب کچھ بچا ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میری عمر ابھی صرف اکتیس برس ہے اور عوامی بیداری کے جس کام میں لوگوں نے مجھے لگایا ہے یہ کام کئی بار ہاروں تب بھی کرتے ہوئے آگے ہی بڑھتا رہوں گا۔ ایسے میں مجھے کیوں گھبرانا چاہیے۔
اس اسمبلی الیکشن کی تشہیر کے احوال کی ریکارڈنگ جن لوگوں نے گھوم گھوم کر بہار کے گوشے گوشے میں کی ہے، انھوں نے بار بار یہ بات کہی کہ تیجسوی یادو کی باتوں کو سننے کے لیے لوگ اسی طرح بڑی تعداد میں گھروں سے نکلے جیسے پچیس تیس برس پہلے لالو یادو کو سننے کے لیے نکلتے تھے۔ لالو یادو کے لیے کمزور طبقے کے لوگ اور بے زبان غربا و مساکین میدان میں آئے تھے۔ اس بار یہ اضافہ ہوا ہے کہ نوجوان طبقے کے افراد حیرت انگیز طور پر اس بھیڑ کی قیادت کرتے ہوئے نظر آئے۔ یہ سچ ہے کہ بہار جیسے سیاسی اعتبار سے بے حد بیدار صوبے میں جو بھیڑ سیاسی قائدین کو سننے کے لیے آرہی ہے وہ لازمی طور پر انھیں کو ووٹ کرے گی، یہ کہنا مشکل ہے مگر وہ بے مصرف اور فضول زندگی جینے والے لوگ بھی نہیں ہیں۔ اس لیے ان کے سیاسی معنی بھی بہ غور سمجھنا چاہیے۔
اگر زمینی سطح پر نتیش کمار اور نریندر مودی کو اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے کے آثار نہ معلوم ہوتے تو وہ اس انتخاب میں اپنی ساری طاقت کیوں کر جھونکتے؟ اولاً ہنسی مذاق ، طنز اور اہانت سے این۔ڈی۔اے۔ نے اپنی تشہیر شروع کی مگر حزبِ اختلاف نے انھیں سماج کے بنیادی مسئلوں پر اور بہار کے لوگوں کی مشکل زندگی پر بولنے کے لیے مجبور کیا۔ اس سے آگے نہ مذہب اور نہ ذات برادری کا کارڈ چل سکا۔ امت شاہ کو بھی ایک حکمتِ عملی کے ساتھ بہار سے دور رکھا گیا اور یو پی کے وزیر اعلا نے کچھ گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو خود نتیش کمار کو اشاروں کی زبان میں انھیں ڈانٹ پلاتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان سب کے بعد بھی این۔ڈی۔اے۔ کو عوام کی عدالت میں جذباتیت کا آخری کارڈ کھیلنا پڑا اور نتیش کمار نے اپنے آخری انتخاب کا اعلان کرکے درد مندانہ اپیل کی کہ ان پر رحم کھایا جائے اور انھیں ووٹ دیا جائے۔
عوام کی پسند اور ناپسند کا بیورا اب ای۔وی۔ایم۔ میں قید ہے۔ الیکشن کمیشن مرکز سے لے کر صوبے تک نوکر شاہوں کے اشارے پر کام کرتا ہے۔ ملک میں کئی بار ای۔وی۔ایم۔ کی پروگرامنگ پر سوالات اٹھے ہیں اور ایک مدت تک اپوزیشن نے عوامی طور پر یہ مانگ کہ بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کا انتظام کیا جائے جسے مرکزی حکومت نے قبول نہیں کیا ۔ ای۔وی۔ایم۔ کے کاروبار میں امبانی کی کمپنیوں کا سب سے بڑا حصہ ہے جس کی وجہ سے بھی کئی طرح کے شبہات اٹھتے رہے ہیں۔ الیکشن کے انتظامات میں بھی انتظامیہ پر الٹ پھیر کے الزامات کئی بار لگے ہیں۔ وبائی قانون کی وجہ سے انتظامیہ کو کچھ مزید کھیل تماشے کے لیے بھی مواقع حاصل ہوگئے ہیں۔ اس لیے اچھے خاصے حلقے میں اندیشے بھی قائم ہیں کہ کہیں عوام کے جذبات کو پس پشت ڈال کر انتخاب کا نتیجہ نہ سامنے آجائے۔ جمہوریت میں بہت بار عوام بے وقوف بن جاتے ہیں اور جمہوری ادارے حکومت کے اشارے پر اپنی مرضی چلانے پر کامیاب ہوجاتے ہیں۔
زمینی حقایق جو چھَن کر سامنے آرہے ہیں، اس سے ایک بڑے طبقے کو یہ امید پیدا ہوچکی ہے کہ یہ انتخاب ہندستان میں سیاسی تبدیلیوں کا نقطۂ آغاز بننے جارہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو نتیش کمار کی جنتا دل یونائیٹیڈ کی سیٹیں لازمی طور پر گھٹیں گی۔ لوک جن شکتی پارٹی تو یوں بھی حکومت بنانے کے لیے میدان میں نہیں ہے۔ مگر وہ نتیش کمار کی کچھ پسندیدہ سیٹیں چھین لے جائے یا کسی دوسری پارٹی کے حصے میں کر دے تو اس پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے پچھلے دروازے سے اپنے کچھ امیدوار چراغ پاسوان کے راستے سے آزمائے ہیں، ان کی جیت ہونے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو کچھ اعداد و شمار کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ مگر کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل یا کمیونسٹ پارٹیوں سے جہاں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیدھا مقابلہ کرنا ہے، وہاں ان کے آثار صاحبِ اقتدار جماعت کے طور پر نظر نہیں آتے۔ ایسی حالت میں ای۔وی۔ایم۔ کا انتظام ہی ان کے لیے ایک سہارا ہے۔ مگر اس معاملے میں کھلا اور ننگا کھیل مشکل ہے۔ تھوڑے بہت فرق کو ہی پاٹا جاسکتا ہے۔ اگر عوام کی پسند واضح طور پر دوسری رہی تب یہ حقیقت جانیے کہ اس بار سرکار بدلے گی اور بہار سے مغربی بنگال ہوتے ہوے نئی سیاسی لہر بنگال کی کھاڑی میں دفن نہیں ہوگی بلکہ اب دوسری ریاستوں میں ہوتے ہوے ۲۰۲۴ء میں دلی تک پہنچے گی۔
تیجسوی یادو نے بے روزگاری، حکومت کے کام کاج اور مستقبل کے بہار کے سوالوں کو نئے سیاسی خواب کی طرح پیش کیا۔ ایسا خواب ایک نوجوان ہی دیکھ سکتا تھا۔ اگر یہ جادو چل گیا تو ملک کی سیاست میں رفتہ رفتہ ذات اور مذہب کے ایجنڈے کو عوام خارج کریں گے اور ہر حکومت کو اس کی حقیقی جواب دہی کے آئینے میں جانچنے کی مہم شروع کریں گے۔ اس میں صرف نریندر مودی کی سرکار یا نتیش کمار سوکھے ہوے پتے کی طرح زمین پر آکر نہیں گریں گے بلکہ ہر ناکام حکو ت جو صرف نعروں پر چل رہی تھی، اس کے دن پورے ہوں گے۔ امریکہ میں ٹرمپ بھی اسی جواب دہی کے سوال پر نمستے کہتے ہوے رخصت ہورہے ہیں، خدا کرے بہار کے اس انتخاب میں سیاسی تبدیلیوں کا سورج روشن ہو اور ملک میں انقلاب کا نیا سویرا سامنے آئے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)