یورپی یونین کا طالبان حکومت کیلئے ایک ارب یورو کے امدادی پیکیج کا اعلان

لندن :یورپی یونین نے افغانستان کے لیے ایک ارب یورو کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلہ وون ڈی لیین نے منگل کو کہا کہ افغانستان میں کسی بڑے انسانی، سماجی و معاشی بحران کو ٹالنے کے لیے ایک ارب یورو کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔یورپی کمیشن کی سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یورپی یونین کی جانب سے فوری امدادی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے تین سو ملین یورو کی رقم کا اعلان کیا گیا تھا جس میں 250 ملین یورو کی اضافی امداد کا وعدہ جی ٹوئنٹی ممالک کے سربراہی اجلاس میں کیا گیا ہے۔‘بیان کے مطابق باقی کی امدادی رقم افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو دی جائے گی جو طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان چھوڑ کر جانے والے شہریوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وون ڈی لیین نے جی ٹوئنٹی ممالک کے سربراہی اجلاس میں ایک ارب یورو کی امدادی رقم کا وعدہ کیا ہے۔خیال رہے کہ افغانستان میں سکیورٹی اور انسانی صورتحال پر بحث کرنے کے لیے منگل کو جی ٹوئنٹی ممالک کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا تھا جس کی میزبانی اٹلی نے کی تھی۔ارسلا وون ڈی لیین نے واضح کیا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے دی جانے والی امداد وہاں کام کرنے والے بین الاقوامی اداراوں کے ذریعے فراہم کی جائے گی، نہ کہ طالبان کی عبوری حکومت کو دی جائے گی جسے یورپی یونین نے تسلیم نہیں کیا۔ خیال رہے کہ یورپی یونین کی جانب سے دی گئی انسانی امداد، ترقیاتی امداد سے مختلف ہے جو منجمد کر دی گئی تھی۔’افغانستان میں بڑا انسانی، سماجی و معاشی بحران ٹالنے کے لیے ہم سب کو وہ سب کرنا چاہیے جو ہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں جلدی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم طالبان حکام کے ساتھ روابط رکھنے کے حوالے سے اپنی شرائط واضح کر چکے ہیں جس میں انسانی حقوق کی پاسداری شامل ہے۔ ابھی تک تو رپورٹس خود ہی (صورتحال) واضح کر رہی ہیں۔ لیکن افغان عوام کو طالبان کے اقدامات کی قیمت نہیں ادا کرنی چاہیے۔یورپی یونین کا خیال ہے کہ افغانستان کو امداد کے ذریعے مستحکم کرنے سے افغان مہاجرین کو یورپ اور دیگر ممالک میں پناہ لینے سے روکا جا سکا گے۔ یورپی ممالک اس حوالے سے ہوشیار ہیں کہ افغانستان میں ممکنہ انسانی بحران کے باعث زیادہ سے زیادہ افغان پناہ گزین یورپ میں داخل ہونے کی کوش کریں گے۔ ارسلا وون ڈی لیین نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک بالخصوص وہ جو نیٹو مشن کا حصہ رہ چکے ہیں اور جو جلدبازی میں افغانستان سے نکلے تھے، ان کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ افغانوں کی مدد کریں۔یورپی یونین کی جانب سے اعلان کیے گئے ایک ارب یورو کے امدادی پیکج سے افغانستان میں صحت کے شعبے کو بھی مدد ملے گی۔ جبکہ ہمسایہ ممالک میں مہاجرین کی نقل مکانی کے انتظامی امور میں مدد کے علاوہ دہشت گردی، جرائم اور مہاجرین کے غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخلے کی روک تھام میں تعاون کو فروغ ملے گا۔