اٹیچی والے بچے کی ویڈیو پرقومی انسانی حقوق کمیشن کا نوٹس،کہا یہ حکام کی لاپرواہی

نئی دہلی:کورونا دور میں مزدوروں کے درد کی ایسی تصاویر سامنے آ رہی ہیں جو انسانیت کو چوٹ پہنچانے والی ہیں۔ایسی ہی ایک تصویر حال ہی میں آگرہ ہائی وے سے آئی جس میں ایک مجبور ماں اپنے بچے کو سوٹ کیس پرلٹاکر لے جا رہی ہے۔تھکا-ہارا بچہ اٹیچی پر ہی سو رہا ہے۔قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آرسی) نے اس واقعہ کو لے کر پنجاب اور یوپی حکومت کے چیف سکریٹری کے علاوہ آگرہ کے ڈی ایم کو نوٹس بھیجا ہے۔کمیشن نے کہا ہے کہ ایسے واقعات صرف مقامی حکام کی لاپرواہی اور غیر منصفانہ نظریہ کی عکاس ہیں۔واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے این ایچ آر سی نے نوٹس میں پوچھا ہے کہ کیا متاثرہ خاندان اور ان جیسے دوسرے لوگوں تک مدد پہنچانے کے لئے مقامی انتظامیہ کو الرٹ کیا گیا تھا۔غور طلب ہے کہ لاک ڈاؤن میں پھنسے کچھ مزدور پنجاب سے نکلے تھے اور انہیں یوپی کے مہوبا جانا تھا، مزدوروں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔پنجاب سے طویل سفر طے کرتے کرتے یہ لوگ آگرہ ہائی وے تک پہنچ گئے۔پیدل چلتے چلتے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں بھی تھکے،حالات یہ ہوگئے کہ ایک خاتون نے اپنے قریب 6 سال کے بیٹے کو ٹرالی اٹیچی پر ہی لیٹا دیا۔تصویر اتنی دردناک ہے کہ بچے کا نصف جسم سوٹ کیس کے اوپر ہے جبکہ باقی حصہ اٹیچی سے سٹ کر نیچے لٹکی ہوا ہے،بچے کی ماں اٹیچی کو کھینچتے ہوئے روڈ پر چلی جا رہی ہے۔