ایلوپیتھک علاج کو سرے سے خارج کرنا ـ مسعود جاوید

 

ہر دور میں علاج معالجہ اس دور کی تعلیم تحقیق اور تجربے کی بنیاد پر معاشرے میں رائج رہا بعد میں تعلیم و تحقیق سائنٹفک ریسرچ کا دائرہ جوں جوں وسیع ہوتا گیا احتیاطی تدابیر کے تجرباتی فوائد سامنے آئے اور علاج کے بہتر وسائل ایجاد ہوتے گئے اسی کے مطابق دنیا میں امراض میں کمی اور بہتر علاج مریضوں کو میسر ہونے لگا۔

قدیمی طریقہ علاج و معالجہ آیوروید ، طب یونانی ہربل میڈیسن اور ہومیوپیتھی کے مقابل ایلوپیتھی کا دائرہ افادیت میں وسعت اور عام مقبولیت کی کئی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ مریضوں اور تیمارداروں کی جلد از جلد رو بہ صحت ہونے کی خواہش ہے ۔ دیگر تمام پیتھیز کے ذریعے افاقہ وقت طلب ہوتا ہے اس لئے کہ ان پیتھیز میں عموماً مرض سے زیادہ اس کے اسباب و علت کا علاج کیا جاتا ہے۔ جبکہ ایلوپیتھی میں مرض کا فوری علاج کیا جاتا ہے۔ سر درد کا علاج پیٹ سے شروع کیا جاتا ہے اس لیے کہ قبض سر درد کی بڑی وجہ ہے۔ مریضوں نے اس طوالت سے بچنے کو ترجیح دی تو طب یونانی کے اطباء بی یو ایم ایس نے بھی انگریزی دوائیاں تجویز کرنی شروع کر دی اس کا نقصان یہ ہوا کہ طب یونانی کے ادویات کی تجارت کساد بازاری کا شکار ہو گئی اور اطباء طب یونانی میں پریکٹس اور مہارت حاصل کرنے میں دامن کشی کرنے لگے۔
ایلوپیتھی تعلیم طب میں جراحی اس کا نصف حصہ ہوتا ہے اسی لئے اس تعلیم کے فارغ التحصیل کو علم طب و جراحت بیچلر آف میڈیسن و بیچلر آف سرجری MBBS کی سند دی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں آیوروید اور طب یونانی کا اختصاص علم ادویات تک محدود رہتا ہے یعنی اس کے فارغ التحصیل علم جراحت سے محروم رہتے ہیں اسی طرح علم طب کی بنیادی تعلیم کے اساس بایولوجی فزکس اور کیمسٹری کی معیاری تعلیم اور جراحت کے عملی تجربات پریکٹیکل سے وہ ناآشنا ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں کسی بھی تجارت کے اعلیٰ سطحی فروغ کے لئے حکومت کی سرپرستی کافی نہیں ہے ۔ اس کے فروغ کے لئے سرمایہ دارانہ سوچ ، انویسٹمنٹ اور پروفیشنل کی معقول تنخواہوں پر خدمات حاصل کرنا ہوتا ہے۔
میڈیکل سائنس کے میدان میں ہر دن نت نئی تحقیق اور تحقیق کے نتائج سامنے آتے ہیں۔ امراض قلب کا ادویہ سے علاج ہر پیتھی میں مذکور تھا لیکن ایلوپیتھی میں خوب سے خوب تر کی جستجو نے 1967 میں جنوبی افریقہ میں ایک میت کا دل دوسرے زندہ انسان ، جس کا دل کام کرنا چھوڑ دیا ہے، میں لگایا گیا اور کامیاب رہا، اور سلسلہ چل پڑا، اسی طرح 1953 میں جرمنی میں زندہ یا مردے سے لے ایک گردہ لے کر فٹ کرنے ٹرانسپلانٹیشن سرجری کامیاب رہی اور پوری دنیا میں یہ سرجیکل عمل عام طور پر اپنایا گیا، جگر کسی کا خراب ہوجاتا ہے اور ادویات سے فائدہ نہیں ہوتا ہے تو موت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا ریسرچ کے نتیجے میں 19670 میں فرانس میں ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچے کہ جگر انسانی جسم کے اعضاء رئیسہ کا ایک ایسا عضو ہے کہ اگر اس کا کچھ حصہ کاٹ کر نکال دیا جائے تو. تھوڑے دن بعد ہی وہ خود بخود بڑھ کر اپنی اصل سائز میں آجاتا ہے regenerate ہو جاتا ہے۔ پت gallbladder کے پتھر کا علاج ادویہ کے ذریعے پتھر نکالنے کا ہوتا تھا نئی تحقیق کے نتیجے میں پت کی تھیلی ہی نکال دی جاتی ہے اس کے بعد بھی مریض تندرست رہتا ہے۔ ایس ہزاروں مثالیں ہیں جو ایلوپیتھی میں ملتی ہیں۔

ایلوپیتھک ادویات مارکیٹ میں لانے سے پہلے فارماسیوٹیکل کمپنیاں کلینیکل ریسرچ کرتی ہیں۔ وہ ادویہ کی افادیت اور خوراک کی تحدید کے لئے مریضوں کو اپنے مخصوص مراکز میں ہفتہ دس روز مہینہ رکھتے ہیں ان کے گھر والوں کے اخراجات اٹھاتے ہیں اور اس طرح ادویات کی افادیت اور خوراک کی تحدید یقینی بناتے ہیں۔ اس کے برعکس آیوروید اور طب یونانی کے ادویات عموماً رشییوں اور قدماء اطباء کے نسخوں کی بنیاد پر تیار کۓ جاتے ہیں اور مریضوں کو دیۓ جاتے ہیں۔‌ آج کے دور میں انسانوں کا قوی ، خوراک اور آب و ہوا ظاہر ہے پچھلے ادوار سے مختلف ہیں ایسے میں ان ادویات کا درجہ افادیت مختلف ہوتا ہے جسے عموماً درج کرنے کا رواج بھی نہیں ھے۔ پچھلے دو تین عشروں میں حکومت نے اس جانب توجہ دی ہے اور آیوروید و طب یونانی کے ریسرچ سنٹرز قائم کۓ گۓ ہیں لیکن اس کا ماحصل بھی امراض کی تشخیص اور اس کے لئے ادویات کی تجویز ہے یعنی ادویہ تک محدود ہے جراحت دائرہ تحقیق میں شامل ہے اور نہ اس کے وہ اہل ہیں۔
ایلوپیتھی طب یونانی اور ہومیوپیتھی ادویات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جانبی اثرات سے خالی ہوتی ہیں جبکہ ایلوپیتھی کے سائیڈ افیکٹ ہوتے ہیں جس کے بارے میں ڈاکٹر کو علم ہوتا ہے اور ادویہ ساز کمپنیاں تنبیہ بھی لکھتی ہیں۔
خلاصہ تحریر یہ کہ سینکڑوں سال پہلے کے لکھے گئے نسخے، ادویات اور طریقہ ہائے علاج کا احیاء بلاشبہ قابل ستائش ہے مگر رام دیو یا دیگر سادھو سنت وید حکیم کا ایلوپیتھی کی افادیت سے انکار یا اس طریقہ علاج کو کلی طور پر مضر بتانا نہ صرف عوام کو گمراہ کرنا ہے بلکہ مریضوں کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انگریزی دوائیوں کے بارے میں غلط فہمی پھیلانا اپنی تجارت کو فروغ دینے کی گھٹیا کوشش ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی سے لیس جدید ہندوستان کے پہیے کو مخالف سمت میں لے جانا ہے۔ ہندوستان جو عصری طبی خدمات فراہم کرنے کے متعدد ممالک میں شہرت حاصل کر چکی ہے اور میڈیکل ٹورزم کا ہب بن چکا ہے لاکھوں ڈالر زرمبادلہ کے طور پر حاصل ہو رہے ہیں جس کی ایم بی بی ایس، ایم ڈی اور ایم ایس کی ڈگریوں کو بین الاقوامی طور پر وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جس کے ہزاروں ڈاکٹر امریکہ اور یورپ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اس میں رام دیو جیسے لوگ بے وقوفی کی باتیں کر کے کورونا وائرس کی دوسری لہر سے نمٹنے میں حکومت کی نااہلی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔ حکومت سے سوال کرنے کی بجائے کورونا کے ادویات اور آکسیجن پر سوال کھڑا کرنے کے پیچھے کوئی اور محرک ہونا بعید نہیں ہے۔