الیکشن غیر قانونی قرار دیے جانے پر سپریم کورٹ پہنچے گجرات کے وزیر تعلیم

نئی دہلی:اسمبلی انتخابات غیر قانونی قرار دیے جانے کے معاملے میں گجرات کے وزیر تعلیم بھوپندرسنگھ چوڑاسما نے سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹایاہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے۔بتا دیں کہ گجرات ہائی کورٹ نے منگل کو 2017 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں دھولکا سیٹ سے چوڑاسما کی انتخابی جیت کوغیر قانونی قرار دیاتھا۔حریف اشون راٹھور نے چوڑاسما کی جیت کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیاتھا۔ آشون نے درخواست میں کہا تھا کہ چوڑاسما نے غیر مناسب طریقوں سے الیکشن جیت لیاہے۔راٹھور نے اپنی درخواست میں ووٹوں کی گنتی کے دوران قوانین کی خلاف ورزی اور بیلیٹ پیپر کے ووٹوں کی گنتی نہیں کئے جانے کا الزام لگایا تھا. اپنی درخواست میں راٹھور نے کہا تھا کہ اصولوں کے مطابق وی ایم کے ووٹوں کی گنتی سے پہلے بیلٹ پیپر کے ووٹوں کی گنتی ہونی چاہئے تھی. انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ووٹوں کی گنتی افسر نے ای وی ایم کے ووٹوں کی گنتی پہلے کی تھی اور بعد میں بیلٹ پیپر کے ووٹوں کی گنتی ہی نہیں گئی۔راٹھور نے کہاہے کہ بیلٹ پیپر سے تقریباََ400 ووٹ پڑے تھے، جن کے حساب کیے بغیر ہی انھیں فاتح قرار دے دیاگیا۔ چوڑاسما کو 327 ووٹ سے فاتح قرار دے دیا گیا، جبکہ بیلٹ پیپر کے تقریباََ400 ووٹوں کا حساب ہی نہیں کیاگیا۔گجرات ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد چوڑاسما کا الیکشن منسوخ کرنے کا فیصلہ سنایا۔