چیف الیکشن کمشنر نے وزیر قانون کوخط لکھا، انتخابی اصلاحات کاعمل تیزکرنے کی اپیل

نئی دہلی:چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا نے وزیر قانون روی شنکر پرساد کو خط لکھ کر انتخابی حلف نامے میں غلط معلومات دینے کے لیے دوسال جیل کی فراہمی سمیت متعدد انتخابی اصلاحات سے متعلق تجاویز پرعمل تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔چندر نے بتایا ہے کہ میںنے وزیر قانون کو لکھا ہے کہ ان تجاویز کو تیز رفتار سے لیا جانا چاہیے اور امید ہے کہ ان پر جلد ہی وزارت اس پر غور کرے گی۔الیکشن کمیشن کی تجویز کردہ انتخابی اصلاحات میں سے ایک اہم تجاویز انتخابی حلف نامے میں غلط معلومات دینے کے لیے جیل کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کر دو سال کرنے کی فراہمی سے متعلق ہے۔ دو سال تک قید کی وجہ سے متعلقہ امیدوار کا انتخاب لڑنے سے چھ سال تک کی پابندی ہوگی۔چندر کا کہنا ہے کہ اس وقت چھ ماہ کی جیل کا بندوبست ہے جو کسی کو نااہل نہیں کرتاہے۔کمیشن نے یہ بھی تجویز پیش کی ہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت پیڈ نیوزکو جرم بنایا جائے اور اس کے لیے دفعات فراہم کی جائیں۔چیف الیکشن کمشنر نے یاد دلایا کہ کمیشن نے انتخابی مہم کے اختتام اور پولنگ کے دن کے درمیان خاموش دور کے دوران اخبارات میں سیاسی اشتہاروں پر پابندی کی تجویز بھی پیش کی ہے تاکہ رائے دہندگان متاثر نہ ہوں اور اپنا ذہن کھولیں۔ اس اقدام کے لیے عوامی نمائندگی ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہوگی۔پولنگ سے 48 گھنٹے قبل انتخابی مہم سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی تجویزکے لیے قائم کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ پولنگ کے دن اخبارات میں اشتہارات پر پابندی عائد کردی جائے۔فی الحال الیکٹرانک میڈیا کو پولنگ کے اختتام سے 48 گھنٹوں کے دوران تشہیر کا مواد دکھانے سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اخبارات کو بھی اس پابندی کے دائرئہ کار میں لایا جائے۔چندر نے کہاہے کہ ایک اور تجویز یہ ہے کہ ووٹر لسٹ کو آدھارکارڈ سے جوڑیں تاکہ انتخابی فہرستوں میں شامل نام کو ایک سے زیادہ جگہ پر روکا جاسکے۔وزیر قانون پرساد نے حال ہی میں لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تجویز حکومت کے زیر غور ہے اور اس کے لیے انتخابی قوانین میں ترمیم کرنا ہوگی۔