الیکشن کمیشن کو تحلیل کرکے ممبران کی تفتیش کی جائے:آنندشرما

نئی دہلی:کانگریس کے سینئر رہنما آنند شرما نے پیرکے روزکہاہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن کو تحلیل کیا جانا چاہیے اور اس کے ممبروں کے اقدامات کی چھان بین کی جانی چاہیے کیونکہ اس نے مبینہ طور پر رائے دہندگان کے اعتماد کو دھوکہ دیاہے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیاہے کہ سپریم کورٹ کا آئینی بنچ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرریوں کے لیے اہلیت کافیصلہ کرے۔سابق مرکزی وزیر نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ایک روز قبل ہی چار ریاستوں اور ایک مرکزی علاقہ کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ممتابنرجی کی جیت کی اطلاع کے بعدپھرشکست کی اطلاع آنے لگی جس سے الیکشن کمیشن پرکئی طرح کے سوال کھڑے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ کوویڈوباکے دورمیں آٹھ مرحلوں میں الیکشن کرانے پربھی وہ نشانے پرہے جب کہ تمل ناڈومیں ایک ہی مرحلہ میں الیکشن کرایاگیاہے۔شرما نے ایک بیان میں کہاہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن کو تحلیل کیاجاناچاہیے اور اس کے ممبروں کے اقدامات کی چھان بین کی جانی چاہیے۔الیکشن کمیشن نے خود کو داغدار کیا ہے اورووٹرزکے اعتماد کو دھوکہ دیاہے۔انہوں نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کا آئین بنچ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری کے لیے نمبر اور اہلیت کے بارے میں فیصلہ کرنے اور کمیشن کو منصفانہ اور آزادانہ انداز میں کام کرنے کے لیے رہنمااصول طے کرنے کا فیصلہ کرے۔کانگریس کے سینئر رہنمانے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 324 کے تحت دیئے گئے اختیارکی خلاف ورزی کی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیاہے کہ مغربی بنگال میں ان کے اقدامات حیران کن اور قابل مذمت ہیں۔کبھی کبھی وہ بی جے پی کے حلیف کی طرح نظر آتے ہیں۔شرما نے کہاہے کہ کمیشن کسی بھی پابندی کے بغیر بڑے عوامی جلسے کرنے کی اجازت دے کر کوویڈ سے متعلق پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے کا قصوروار ہے اور اس کا جوابدہ ہونا چاہیے۔