Home تجزیہ انتخابی ماحول میں زہر ، الیکشن کمیشن بے خبر !۔شکیل رشید

انتخابی ماحول میں زہر ، الیکشن کمیشن بے خبر !۔شکیل رشید

by قندیل

( ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

انتخابی ماحول میں زہر گھولا جا رہا ہے اور الیکشن کمیشن ہے کہ آنکھوں پر ہاتھ دھرے ، کانوں میں انگلیاں ڈالے اور منھ پر دونوں ہتھیلیاں رکھے بیٹھا ہے ۔ ساری دنیا کو ، سوائے الیکشن کمیشن کے ، پتا ہے کہ بی جے پی کے لیڈران اور اس کے الیکشنی امیدواروں کا بیانیہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے ارد گرد بُنا جا رہا ہے ۔ ساری دنیا دیکھ اور سُن رہی ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کا کوئی دن مسلمانوں کا نام لیے بغیر نہیں گزرتا ، شاید انہیں اب خواب بھی مسلمانوں کے آتے ہیں ۔ دو روز قبل انہوں نے ایک نیا سوشہ چھوڑا ہے جسے لے کر کٹّر وادی ہندووادی تنظیموں ، بالخصوص وشو ہندو پریشد ( وی ایچ پی) نے ، نفرت کا بازار گرم کرنا شروع کر دیا ہے ۔ پی ایم مودی نے ایک ایسے گمنام کانگریسی کے حوالے سے ، جو اب بی جے پی کا حصہ ہے ، یہ دعویٰ کیا ہے کہ راہل گاندھی الیکشن جیت کر ایودھیا کے رام مندر کی جگہ مسجد بنانا چاہتے ہیں ! وی ایچ پی نے شور مچانا شروع کر دیا ہے کہ ہم مسجد نہیں بننے دیں گے ! پی ایم مودی کے پاس مذکورہ دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ، انہوں نے بس ایک سابقہ کانگریسی کے حوالے سے دعویٰ کر دیا ہے ۔ پتا نہیں کہ کسی سابقہ کانگریسی نے ایسی کوئی بات کہی بھی ہے یا نہیں اور اگر کہی بھی ہے تو کس بنیاد پر کہی ہے ، اس کا کوئی ذکر نہیں ! پی ایم مودی کا یہ بے سر پیر کا دعویٰ ہے کیونکہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کا ہے ۔ اس وقت کے چیف جسٹس گگوئی کی بنچ نے ، جو پانچ جج صاحبان پر مشتمل تھی ، مسجد کی جگہ مندر بنانے کا متفقہ فیصلہ سنایا تھا ، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ لہٰذا مندر کی جگہ مندر بنوانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ اور پھر کانگریس کاہے کو مسجد بنوائے گی ؟ اس نے تو بابری مسجد کے تالے کھلوائے اور شیلا نیاس کروایا تھا نیز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رام مندر کا فیصلہ اپنے سر باندھنے کی کوشش کی تھی ۔ خیر ، بات پی ایم مودی کے بیان کی ہو رہی تھی جو انتہائی منافرانہ اور سماج کو باٹنے والا ہے ، ایک ایسا بیان جس پر الیکشن کمیشن کو فوری طور پر کارروائی کرنا چاہیے تھی ۔ لیکن الیکشن کمیشن بے عمل ہے ۔ اس کی بے عملی کا ایک ثبوت تیسرے مرحلے کی پولنگ میں یو پی میں نظر آیا ، ویڈیو سامنے ہیں کہ پولیس مسلم ووٹروں کو دھمکا رہی ہے ، ان پر لاٹھیاں برسا رہی ہے ، لیکن کوئی کارراوائی کسی کے خلاف نہیں کی گئی ہے ۔ سماج وادی پارٹی کا الزام ہے کہ سنبھل ، بدایوں ، آنولہ ، آگرہ وغیرہ میں پولیس نے مسلمانوں کے شناختی کارڈ چھینے اور انہیں ووٹ نہیں ڈالنے دیا ، لیکن الیکشن کمیشن کچھ سننے کو آمادہ نہیں ہے ۔ ایک دن پہلے ایک کانگریسی لیڈر سام پتروڈا نے ، جو امریکہ میں رہتے ہیں ، امریکی وراثت کے قانون کا حوالہ دے کر کہا کہ وہاں گھر کے سربراہ کی موت کے بعد اس کی جائیداد کا ساٹھ فیصد سرکاری خزانے میں چلا جاتا ہے تاکہ عوام کے کام آئے اور باقی گھر کے افراد میں منقسم ہوجاتا ہے ، کیوں نہ اس قانون پر بھارت میں بھی غور و خوض کیا جائے ۔ اس بات کو پی ایم مودی نے کانگریس کے منشور سے جوڑ دیا اور یہ دعویٰ کر دیا کہ کانگریس وارثوں سے آدھا حصہ چھین لے گی ۔ حالانکہ کانگریس کے منشور میں ایسی کوئی بات نہیں ہے ، یہ سام پتروڈا کا ذاتی بیان ہے ۔ یہ تو غنیمت ہوا کہ پی ایم مودی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کانگریس یہ سب چھین کر مسلمانوں کو دے دے گی ۔ شاید اس لیے کہ مودی پہلے ہی ایسا دعویٰ کر چکے ہیں کہ کانگریس کے منشور میں ہے کہ ہندوؤں کی املاک اور ان کی عورتوں کے زیور اور منگل سوتر چھین کر مسلمانوں کو سونپ دیے جائیں گے ۔ یہ سب جھوٹ ہے ۔ کانگریس کے منشور میں دیش کے وسائل میں سب کی حصے داری کی بات کی گئی ہے نہ کہ مسلمانوں کو دینے کی ۔ پی ایم مودی نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ کانگریس آئین کو تبدیل کر دے گی اور ریزرویشن چوری کرکے مسلمانوں کو دے دے گی ۔ معاملہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق ہے ۔ یہ انتخابی ماحول میں زہر گھولنے اور دھرم کے نام پر سماج کو بانٹنے اور نفرت کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش ہے ۔ یہ بیانات ’ ہیٹ اسپیچ ‘ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے ۔ سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کیوں ان بیانات کو نظرانداز کر رہا ہے ؟ کیا وہ حکومت کے دباؤ میں ہے یا حکومت کے لیے کام کر رہا ہے ؟ الیکشن کمیشن کی کارکردگی افسوس ناک ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like