ایک نشہ باز :جو پروفیسر بننے میں کامیاب ہوگیا ! -نقی احمد ندوی

ایک مفکر کا قول ہے کہ کسی واقعہ یا حادثہ اور اسکے ردعمل کے درمیان ایک وقفہ ہوتا ہے، اور اسی وقفہ میں جو آپ فیصلہ کرتے ہیں اسی پر اس کے نتائج کا انحصار ہوتا ہے۔ انسان کی تعلیم وتربیت اور اسکے ذہنی اور فکری نشوونما میں اسکے دوست واحباب کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے، چنانچہ بسا اوقا ت کم عمر کے بچے نشہ کے عادی ہوجاتے ہیں اور غلط بچوں کی صحبت کا شکار ہوجاتے ہیں اور انکی پوری زندگی ہی بدل جاتی ہے۔ مگر کوئی بچہ نشہ کی لت کا شکار ہوجائے اور دسیوں سال سڑکوں پر بھٹکتا پھرے اور اپنے نشہ کی تسکین کے لیے کبھی بھیک مانگے ، کبھی چوری کرے اور کبھی لوٹ مار کرے اور پولس اسکا پیچھا کرتی رہے اور اسی نشہ کی زندگی میں اپنی عمر عزیز کے دس سال گذار دے اور جب تیس سال کا ہو جاے تب اسکی آنکھ کھلے پھر شب وروز محنت کرکے ایک دن پروفیسربن جائے تو اسے کارنامہ نہیں تو اور کیا کہیے۔
کبھی کبھی مصیبت پیچھا نہیں چھوڑتی ، شاید یہی جیسی تھیسل (JesseThistle)کے ساتھ ہوا ،جیسی کی قسمت ایسی تھی کہ اس کا کا باپ بھی نشیڑی تھا، اس نے کناڈا کی ایک قبائلی لڑکی سے شادی کی، تین بچے ہوے، جن میں سب سے چھوٹا جیسی (Jesse) تھا، اپنے شوہر کی نشہ کی عادت سے تنگ آکر جیسی کی ماں اپنے تینوں بچوں کے ساتھ کسی دوسرے شہر چلی گئی، وہاں وہ کام بھی کرتی اور پڑھائی بھی، اسی طرح اپنے بچوں کی پرورش کرتی رہی مگر ایک دن اسکا شوہر سونی واپس آیا اور نئے نئے سپنے دکھاکر پھر تینوں بچوں کو ساتھ لے گیا۔ ٹورنٹو (کناڈا) شہر میں ایک فلیٹ میں رہنے لگا، نشہ کا عادی یہ شخص اپنے بچوں کو کئی کئی دن چھوڑ کر غائب ہوجاتا، بچے بھوکے رہتے، جب پڑوسیوں نے بچوں کی یہ حالت دیکھی تو پولس کو خبر کردی ، سرکاری عملہ آے اور تینوں بچوں کو ساتھ لے گئے۔ تھوڑے دنوں بعد جیسی کو دادا دادی نے اپنے پاس رکھ لیا، جیسی کے دادا بہت سخت قسم کے اصول کے پابند آدمی تھے، انھوں نے جیسی جو اب اٹھارہ انیس سال کا ہوچکا کو ایک دن کہہ دیا کہ اگر تم نے کبھی نشہ کیا تو گھر سے نکال دونگا، شاید جیسی کاباپ بھی نشیڑی تھا جس کی وجہ سے جیسی کے دادا کو اس کے بھی نشہ باز ہونے کا خوف لاحق تھا، مگر بدقسمتی سے جیسی بھی غلط صحبتوں کا شکار ہوگیا، اور ایک دن اسکی جیب سے کوکین کی ایک پیکٹ گرگئی جسے دادا دادی نے دیکھ لیا، پھر وہ اس کا اس گھر میں آخری دن تھا، دادا نے اسی وقت اسکوگھر سے نکال دیا ، جیسی کے پاس سڑک پر رہنے اور سونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ۔
جیسی اب سڑکوں پر دوسرے نشیڑی لوگوں کے ساتھ رہنے لگا، انھیں کے ساتھ کبھی بھیک مانگ کر کھاتا، کبھی چوری کرکے اپنے نشہ کی تسکین کرتا، شہر میں ایک نہر تھی جسکے پل سے لوگ تالاب میں شگون کے طور پرسکے پھینکتے جیسی اس تالاب سے سکے اٹھایا کرتا۔ پولس دوڑاتی تو بھاگتا۔ انیس سال کی عمر سے وہ سڑکوں پر سورہاتھا اور کبھی اپنی پیٹ کی آگ بجھانے تو کبھی پولس کے ڈنڈے سے بچنے کے لیے بھاگ رہا تھا، اب اسکی عمر انتیس سال ہوچکی تھی، دس سال نشہ کی لت نے اور غربت وبیکسی نے اس کی زندگی کے حسین لمحے چرالیے تھے، کبھی کبھی وہ سوچتا کہ کیوں اوپر والے نے اسکو ایسی زندگی دی ہے، کیو ں وہ دوسرے کناڈین شہریوں کی طرح ایک باعزت زندگی سے محروم ہے، کیوں وہ بھی دوسرے لڑکوں کی طرح یونورسٹی نہں جاسکا، بہت سارے سوالات اسکے ذہن میں آتے ، مگر اپنے حالات میں گھرا ایک نوجوان زندگی کے طوفانوں میں ایسا پھنس چکا تھا جہاں سے نکلنا تقریبا ناممکن نظر آرہا تھا۔
ایک دن اسے دو آدمی ملے جنھوں نے ایک آفر جیسی کو دیا، ان دونوں نے کہاکہ اگر وہ اسکی گاڑی کو چلاکر فلان جگہ پہونچا دیگا ا تو وہ اسے نہ صرف یہ کہ نئی ٹی شرٹ دینگے بلکہ ساتھ میں pizza بھی کھلائیں گے۔ ایک ننگے بھوکے دسیوں سال سے سڑک پر بھٹکتے نوجوان کو یہ معمولی آفر بھی بہت پرکشش لگا ۔ جیسی نے ہاں بھردی، جیسی انکی دی ہوئی ٹی شرٹ پہن کر گاڑی چلاکر جب اس مقام پرہونچا تو معلوم ہوا کہ اس کو قتل کی ایک واردات میں پھنسادیا گیا ہے۔ داراصل ان دونوں نے کسی کا قتل کردیا تھا، اور جیسی کے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوے اسکواپنی ٹی شرٹ اور گاڑی دیکر پولس کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ قاتل جیسی (Jesse) ہی ہے۔ جیسی اب پھنس چکا تھا۔ پولس اسے ڈھونڈرہی تھی، جیسی کے پاس دو راستے تھے یا تو بھاگتا پھرتا یا پولس کو سچ سچ بتادیتا کہ قتل اس نے نہیں کیا ہے بلکہ قاتل نے اسے پھنسادیا ہے، چنانچہ جیسی پولس کے پاس گیا اور انھیں سب کچھ بتادیا، قاتل پکڑے گئے مگر جیسی کی مصیبت اور بڑھ گئی ، قاتل کاگروہ جیسی کے پیچھے پڑگیا، جیسی دن رات چھپتا پھرتا ، کب اسکو بھی وہ لوگ قتل کردیں گے اسے پتہ نہیں تھا ، ایک دن کسی نے اس کو چاقو بھی ماردیا، اس کے کچھ دنوں بعد اس کے گروہ والوں نے اسے بیس بال کے ڈنڈے سے اتنا مارا کہ اسکا چلنا مشکل تھا۔
اسی بیچ جیسی ایک کیس میں گرفتار ہوگیا ، اسکی حالت اتنی بری تھی کہ سب سے پہلے اسے ہسپتال پہونچایا گیا، پھر اسکے تھوڑے دنوں بعد جیل بھیج دیا گیا۔ جیل میں نشہ کی لت کی وجہ سے وہ بے چین رہتا تھا اور پاگلوں جیسی حرکتیں کرتا تھا اس لیے اسے سنگل سیل میں رکھ دیا گیا۔
اسی جیل میں اس کی زندگی میں ایک نیا موڑاس وقت آیا، جب اس نے اپنے نشہ سے کسی طرح چھٹکارہ حاصل کرنے کی غرض سے لکھائی پڑھائی شروع کردی تاکہ وہ نشہ بھول سکے، جیل کی سزا ختم ہونے کے بعد نشہ کی لت چھڑانے کے لیے اسے رحاب بھیج دیا گیا ۔ رحاب کی لائبریری اس کے لیے غیر مترقبہ نعمت ثابت ہوئی۔ جیسی کہتا ہے کہ دیر رات تک میں مختلف انسائکلوپیڈیا پڑھتا، دوسری کتابیں دیکھتا اس طرح پھر سے ایک بار لکھنے پڑھنے کا شوق پیدا ہونے لگا۔ رحاب میںاسکو ایک ای میل آیا ، کوئی خاتون اسے تلاش کررہی تھی، اسکا نمبر بھی تھا۔ جیسی نے ڈرتے ڈرتے کال کیا وہ اس کی ماں نکلی۔ بچپن میں اپنی ماں سے جدا ہونے ایک طویل مدت بعد ماں سے ٹیلفون پر بات کرنا اس کے لئے آسان نہ تھا، وہ بار بار فون کاٹ دے رہاتھا اور بے تحاشہ رو رہا تھا۔اسی دوران اس کو ایک اور خوشخبری ملی اس کی دادی نے اسے ملنے کے لیے بلایا تھا۔ دادی بستر مرگ پر تھی، وہ اپنے پوتے کو دیکھنا چاہتی تھی۔ جیسی ملنے گیا، دادی نے اس سے وعدہ کروایا کہ وہ اپنی پڑھائی پوری کریگا اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کریگا، جیسی پھر رحاب لوٹ آیا اس کے دو ہفتہ بعد اس کی دادی کا انتقال ہوگیا۔
جیسی کے بھائی کی ایک اسکول ساتھی تھی جس کا نام مس لوسی تھا ، مس لوسی نے جیسی کو اس کے دادی کے انتقال پر تعزیت کرنے کے لیے فون کیا،اس فون کے بعد جیسی اور لوسی کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا جو بعد میں پیار محبت میں تبدیل ہوگیا ۔ جیسی نے جب رحاب چھوڑا تو لوسی نے اسے اپنے یہاں بلالیا اور دونوں ساتھ رہنے لگے، پھر بعد میں دونوں نے شادی کرلی۔ جیسی کہتا ہے کہ رحاب سے نکلنے کے بعد جب لوسی نے اسے اتنی محبت سے پناہ دی تو اسے ایسا لگا جیسے اسکو پوری دنیا مل گئی ہو، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک سڑک کے نشیڑی کو ایک گھر رہنے کے لیے مل جائیگا۔ لوسی نے اسے ایک ہوٹل میں فرنچ فرائی کاٹنے کی نوکری لگوادی،جیسی نے ٹورنٹو کی یورک یونیورسٹی میں ہسٹری میں ایڈمیشن لے لیا، جب وہ کلاس میں بیٹھا تو اس کے پاس ایک پن اور ایک نوٹ بک کے سوا کچھ نہ تھا جبکہ دوسرے طلباکے پاس آئی فون اور ٹیب تھے اوریہی نہیں عمر میں تفاوت ہونے کے باعث کلا س میں کوئی جیسی سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ۔ بڑی مشکل سے جیسی نے ایک سال پورا کیا، دوسرے سال اسے ریسرچ کے لیے جو موضوع ملا وہ تھا کناڈا میں اس کے اپنے ہی قبیلہTribe پر تحقیق، جیسی کے آباء واجداد کناڈا کے اصلی باشندہ تھے، جنکو میٹیز Tribe Métis کہاجاتا تھا، جیسی نے اپنا ریسرچ لکھا اور اتنی محنت کی اور اتنا شاندار لکھا کہ یورک یونیوسٹی کے پروفیسر نے جیسی کو ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر منتخب کرلیا۔ ۲۰۱۳ میں جیسی کو اس کے آبائی وطن ریسرچ کے لئے جب بھیجا گیا تو ایک طویل مدت بعد جیسی کی ملاقات اپنی ماں سے پہلی بار ہوئی ۔ جیسی نے اپنے آباء واجداد کی تاریخ پر ریسرچ کرنا شروع کیا اور اس میں اتنی محنت وجانفشانی کی کہ اس کے ریسرچ نے کئی ایوارڈ حاصل کیے، جیسی نے گریجویشن امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا اور پی ایچ ڈی کے لیے دواسکالرشپ بھی حاصل کرلیے، ابھی وہ اسی یورک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تدریسی خدمات انجام دے رہا ہے۔
ناگہانی واقعات اور بری صحبتیں انسان کی زندگی کا رخ موڑ دیتی ہیں، ہواوں کے رخ بدل جاتے ہیں اور انسان اپنی زندگی کے سمندر میں بے سمت چلنے لگتا ہے، اسے نہ تو منزل کا پتہ ہوتا ہے اور نہ اپنی زندگی کے مقصد کا، مگر اپنے حالات پر قناعت کرلینا اور اسی کو قسمت سمجھ لینا دراصل ایک بھیانک غلطی کے سوا کچھ بھی نہیں ، آگے کے وہ راستے تلاش کرنا جن میں ترقی اور کامیابی کی مشعلیں جل رہی ہوں بہت ناگزیر ہے، اور جب وہ راستہ مل جایے تو اس پر کسی بھی حال میں جمے رہنا اور اپنی پوری انرجی اور توانائی لگا کر اپنے مقصد کو حاصل کرنا داراصل انسان کی زندگی کارخ بدل دیتا ہے، اور یہی جیسی کی زندگی میں ہوا، ایک نشہ باز ، سڑکوں پر سونے والا ، بھیک مانگ کر اور لوٹ کھسوٹ کرکے اپنا پیٹ بھرنے والا جیسی جب طے کرلیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی بدل کر رہے گا تو وہ گلی کے نشہ باز سے ایک پروفیسر بننے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔