عیدالفطر:دعوت دین کا اک نادر موقع-اسانغنی مشتاق رفیقی

دین اسلام دنیا میں خدا کا آخری پیغام ہے جو خداوند متعال نے اپنے آخری رسول سیدنا حضرت محمد ﷺ کے ذریعے انسانوں تک ان کی دنیاوی بھلائی اور  اخروی نجات کے لئے بھیجا۔ اس پیغام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اس کا کوئی حکم کوئی نظریہ کوئی طریقہ فطرت انسانی کے خلاف نہیں جاتا۔ پروردگار عالم کی ربوبیت کے اقرار سے لے کر اس کے آگے سر تسلیم و عقیدت خم کرنے تک اور اسی طرح خوشی وشادمانی اور غم و الم کے اظہار سے لے کر، انفرادی طور پر یااپنے ہم جنسوں کے ساتھ ان مواقع میں شریک ہونے تک دین اسلام انسانی فطرت کی اتنی بہترین رہنمائی کرتا ہے کہ اسے کہیں بھی اور کبھی بھی رتی برابر بھی اجنبیت اور اپنے مزاج کے خلاف ہونے کا احساس نہیں ہونے دیتا، فطرت انسانی چاہتی ہے اور ازل سے یہ بات انسانوں کے دستور میں بھی شامل ہے کہ وہ اپنے اس پروردگار اور ایشور کے نام پر جس کے آگے وہ سجدہ ریز ہوتے ہیں اور جس سے دعائیں مانگ کر اپنے مسائل حل کرتے ہیں ایک دن مخصوص کر کے سب مل کر اس کی اجتماعی عبادت کریں اور اس دن کو ایک تہوار یعنی عید کی شکل میں منا ئیں۔ فطرتِ انسانی کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لئے پروردگار عالم نے اپنے آخری پیغام دین اسلام میں سال بھر میں دو دن متعین کئے ہیں، عید الفطر اور عید الاضحی۔

عیدالفطر، ماہ رمضان کے خاتمے پر شوال کی پہلی تاریخ کے دن متعین ہے۔ اس دن اللہ اور اس کے آخری رسول سیدنا حضرت محمد ﷺ پر ایمان رکھنے والے بندے اور بندیاں جنہوں نے ماہ رمضان میں دن بھر روزہ رکھا اور رات کا اکثر حصہ اپنے رب کے آگے سجدہ ریز رہے ،علی الصبح ایک مخصوص رقم صدقہ فطر کے نام پر غریب اور لاچار لوگوں میں تقسیم کر کے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں،اپنے پاس موجود بہترین لباس پہن کر، گھر کے دستر خوان پر موجود میٹھا تناول فرما کر  پر وقار انداز میں اپنے گھروں سے نکلتے ہیں، اپنے رب کی بڑائی اور حمد پڑھتے ہوئے راستے کے ایک طرف سے اس طرح گذرتے ہیں کہ راہ گیروں کو کوئی تکلیف نہ ہو اورعید گاہ پہنچ کر اپنے رب کے آگے دو گانہ ادا کر کے سجدہ شکر بجا لاتے ہیں کہ اس نے رمضان مبارک میں انہیں نیکیاں سمیٹنے کا موقع عنایت کیا۔ پھر اس کے بعدعید گاہ میں موجود اپنے رشتہ دار دوست احباب سے مصافحہ کر کے گلے مل کر عید کی مبارکبادی پیش کر تے ہیں اور پھر پر سکون انداز میں راستہ کے دوسری طرف سے خراماں خراماں اپنے گھروں کو واپس لوٹ آتے ہیں۔ کہیں کوئی ہنگامہ نہیں کرتے، کوئی نعرے بازی نہیں کرتے، پٹاخے اڑا کر اور ڈھول تاشے بجا کر راہگیروں کو پریشان نہیں کرتے۔ گھر واپس آکر اللہ نے جو مہیا کیا ہے اس میں سے لذیذ کھانے بنوا کر خود بھی کھاتے ہیں اور محلے کے غریب و مسکین افراد،جان پہچان والوں اوربلا تفریق مذہب دوست و احباب کو بھی کھلاتے ہیں۔ اس پورے عمل میں تین چیزوں کی اہمیت کھل کر واضح ہورہی ہے، پہلا اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کی شکر گذاری، دوسرا انسانوں کے ساتھ غم خواری، محبت اور اخوت کا اظہار اور تیسرا خوشی کے موقع پر اعتدال کا راستہ۔ در حقیقت یہی دین اسلام کا اصل پیغام بھی ہے جس کی یاد دہانی وہ اپنے ماننے والوں کو ہر موقع پر کراتا رہتا ہے۔

 

 

 

دین اسلام میں  عید الفطر اور عید الضحٰی کے علاوہ کوئی اور عید نہیں ہے ۔ مسلمانوں میں ان سے ہٹ کر جتنے بھی تیوہار منائے جاتے ہیں وہ یا تو رسوم و رواج کے دائرے میں آتے ہیں یا علاقائی اور قبائلی دائرے میں۔ ایک اور بات جس کی وضاحت بہت ضروری ہے، دین اسلام میں مذہبی جلوس کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو عید کے موقع پر عید گاہ جلوس کی شکل میں جانے کی تاکید ہوتی لیکن قرآن وسنت میں مبہم انداز میں بھی ایسی کوئی بات نہیں ملتی۔

آج کل مسلمانان ہند ایک بہت ہی نازک دور سے گذر رہے ہیں۔ فاشسٹ اورفرقہ پرست طاقتیں جن کی پشت پناہی کوئی اور نہیں خود ملک کی موجودہ حکومت کر رہی ہے، مسلمانوں کو ہر طریقے سے خوفزدہ کرنے اور انہیں جانی اور مالی نقصان پہنچانے کی کوشش میں شب و روز مصروف ہیں،وہیں اسلام اور شعائر اسلام کے تعلق سے چند نادان مسلمانوں کے طرز عمل کو دکھا کر عوام الناس میں بد گمانی اور غلط فہمی بھی مسلسل پھیلائی جا رہی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جس میں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں گمراہ کن، من گھرٹ جھوٹی کہانیاں اور افواہیں پوری شد و مد کے ساتھ پھیلائی نہ جارہی ہوں۔ کبھی طلاق، کبھی نماز جمعہ، کبھی حجاب، کبھی اذان،کے بارے میں اتنی شدت کے ساتھ غلط پروپگنڈا کیا جا رہا ہے کہ عام آدمی انہیں سچ سمجھنے لگے۔ اب یہ بات یقین کی حد تک ثابت ہوچکی ہے کہ یہ  فاشسٹ طاقتیں وطن عزیز میں ایک منصوبہ بندی کے تحت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ ایسے میں ہمارا رد عمل کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے اس پر بڑے غور فکر کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بات ہر حال میں یاد رکھنی ہے کہ ہم ایک ایسے دین کی نمائندگی کر رہے ہیں جو اپنے ماننے والوں کو دنیا میں امن اور آخرت میں نجات کا یقین دیتا ہے۔اس حوالے سے اسلام دشمن طاقتیں ہمارے ایک ایک فعل پر خوردبینی نظر جمائے بیٹھی ہوئی ہیں۔ ہماری ذرا سی بھول چوک نہ صرف ہمیں پریشانیوں میں مبتلا کرسکتی ہے بلکہ دین اسلام کے لئے بھی دشمنان اسلام کی نظر میں ایک بد نما داغ بن سکتی ہے جس کی آڑ میں وہ پتہ نہیں کیسے کیسے افواہوں کے بازار گرم کردیں۔ ان سب باتوں کو پیش نظر رکھ کر ہمیں اس بار اپنی عید کی تیاری کرنی ہے۔

کسی بھی حال میں ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی ہے کہ ہم ایک ایسے رسول ﷺکے امتی ہیں جنہوں نے اپنے بد ترین جانی دشمنوں کے لئے بھی اپنے رب سے ہدایت کی دعائیں مانگی تھیں، ایک ایسے رسول ﷺ کے امتی جو ظلم و ستم کے سخت ترین حالات کا سامنا کرتے ہوئے یہاں تک کہ جان پر بن آئی تب بھی دعوت و تبلیغ کے اپنے مشن کے ساتھ پوری شدت سے جڑے رہے۔ جہاں بھی آپ کو موقع ملا آپ نے صرف قول نہیں عمل سے اسلام کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ ہماری بد نصیبی ہے کہ آج ہم اپنی اس پہچان کو بھول چکے ہیں، سچ پوچھیں تو یہی ہماری ذلت و رسوائی کا واحد اور آخری سبب بھی ہے۔ اگر ہم ایک سچے امتی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے آپﷺ کے دعوت و تبلیغ کے مشن کے ساتھ جڑے رہتے اور اپنے ہر قول و عمل سے لوگوں کے آگے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرتے تو آج دنیا ہمیں یوں نہیں دھتکارتی۔ خیر جو ہوا سو ہوا، اللہ ہمیں معاف کرے، یوں سمجھئے عید الفطر کی یہ مبارک ساعت ہمارے لئے ایک نئی ابتدا لے کر آئی ہے۔ ہمارا دین، دین اعتدال ہے اور یہ عین فطرت انسانی پر ہے، یہ پیغام آپ اپنے قول و عمل سے اپنے اطراف و اکناف بسنے والے بردران وطن تک پہنچانے کی بھر پور کوشش کریں، عید کا بہانا لے کر ان سے ملیں، اپنے دستر خوان پر انہیں دعوت دیں، راست طور پر نہیں، ان کی زبان میں ان کے محاوروں کے ساتھ باتوں باتوں میں اپنا مدعا ان کے آگے رکھ دیں اور باقی سب اپنے رب پر چھوڑ دیں وہ ہدایت دینے پر آئے تو ابو جہل کے گھر سے عکرمہ پیدا کرسکتا ہے، چنگیز و ہلاکو کی اولادوں کو کعبہ کا پاسبان بنا سکتا ہے، اس کے قبضہ ء قدرت کی کوئی حد نہیں ہے۔ ہمیں تو بس اپنا فرض ادا کرنا ہے۔

اللہ ہمیں صحیح سمجھ دے اور اپنے پیارے رسولﷺ کی مشن سے جوڑے رکھے۔ آمین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*