عید الفطر:اللہ کی کبریائی کے اعلان اور شکر گزاری کا دن-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سورۂ بقرہ میں رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اسی ماہ میں قرآن مجید نازل کیا گیا تھا ، جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں، اس کے بعد روزہ کے بعض احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَلِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمۡ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ (البقرۃ :185)
” تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے اُس پر اللہ کی کبریائی کا اعلان کرو اور شکر گزار بنوـ”
اس آیت میں چند اہم باتیں کہی گئی ہیں :
پہلی بات یہ کہ” تم روزوں کی تعداد پوری کروـ ” اللہ تعالیٰ نے پورے ماہِ رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے، اس نے فرمایا ہے کہ یہ روزے پہلے کی قوموں پر بھی فرض کیے گئے تھے ، اسی طرح خاتم النبیین کی امّت پر فرض کیے گئے ہیں، ان سے تزکیہ حاصل ہوتا ہے اور تقویٰ کی صفت پیدا ہوتی ہےـ یہ نزولِ قرآن کی عظیم الشان نعمت کا شکرانہ ہےـ یہ گنتی کے چند دنوں کا معاملہ ہے ، اسے بوجھ نہیں سمجھنا چاہیے، پھر بھی جن لوگوں کو واقعی کوئی عذر ہو ، مثلاً وہ مریض ہوں یا سفر پر ہوں تو وہ ابھی روزہ نہ رکھیں ، بعد میں کبھی حسبِ سہولت رکھ لیں گے
دوسری بات یہ کہ ” اللہ کی کبریائی کا اعلان کروـ” یہ عید کا خاص پیغام ہے ـ عید الفطر کے موقع پر رمضان کا آخری روزہ مکمل ہونے(غروبِ آفتاب) کے بعد سے عید الفطر کی نماز تک اور عید الاضحٰی کے موقع پر یوم عرفہ(9 ذی الحجہ) کی صبح سے ایامِ تشریق کے آخری یوم (13 ذی الحجہ) کی شام تک تکبیر کا وِرد کرنا مسنون ہےـ یہ گویا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ حالات چاہے جیسے ہوں ، مصائب و مشکلات چاہے جتنی پیش آئیں ، ہمارا کام اللہ کا کلمہ بلند کرنا ، اس کی کبریائی کا اعلان کرنا اور اس کے دین کو سربلند کرنے کا عزم ظاہر کرنا ہےـ
تیسری بات یہ کہ ” تم شکر گزار بنوـ” شکر گزاری عید کے موقع پر خوشی و مسرّت کے اظہار سے ہونی چاہیے، اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی ، اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟! خوشی کا اظہار کھانے پینے ، لباس پہننے ، ملنے جلنے ، بات چیت کرنے اور دیگر ذرائع سے ہونا چاہیے _ روایات میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم عید کے موقع پر بہترین جوڑا زیب تن فرماتے تھے _ کوئی مصیبت یا پریشانی آئے تو اس کا حوالہ دے کر سادگی سے عید منانے کی تلقین درست رویّہ نہیں ہے،حوادث کا زندگی بھر کا ساتھ ہےـ غزوۂ احد میں 70 صحابہ شہید ہوئےـ بئر معونہ پر 70 صحابہ بے دردی سے قتل کردیے گئےـ غزوۂ موتہ میں مسلمانوں کا بہت زیادہ جانی نقصان ہوا، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی ان واقعات کے بعد آنے والی عید کو سادگی سے منانے کی تلقین نہیں فرمائی ـ
اس موقع پر میں مزید دو باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں :
* پہلی بات یہ کہ اللہ کی راہ میں صدقۂ و خیرات کیجیے- متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم عید الفطر کے خطبہ میں صحابہ کو صدقہ کی تلقین فرمایا کرتے تھے اور عید گاہ میں جمع ہونے والی عورتوں کے پاس جاکر الگ سے انہیں جو وعظ و نصیحت فرماتے تھے اس میں بھی انہیں صدقہ پر ابھارتے تھے،کورونا کی وبا کے دوران احتیاطی تدبیر کے طور پر لاک ڈاؤن کا جو اعلان کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ بے روزگار ہوئے ہیں ، بہت سے لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہوئے ہیں، بہت سے لوگ دانے دانے کو محتاج ہوئے ہیں،رمضان ‘شھر المواساۃ’ (ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ ) ہے، اس میں ہم نے زکوٰۃ نکالنے اور صدقہ کرنے کا اہتمام کیا ہےـ کورونا کے نتیجے میں فقر و فاقہ کا شکار مسلمانوں اور دیگر مذاہب کو ماننے والے انسانوں کی مدد کی ہےـ یہ انسانی اور رفاہی مدد ہمیں آئندہ بھی جاری رکھنی ہےـ حدیث میں ہے کہ صدقہ رب کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے (ابن حبان)
دوسری بات یہ کہ اس موقع پر ہم حکومتی مظالم کا شکار ہونے والے محروسین کو یاد رکھیں ـ گزشتہ چند ایام میں متعدد نوجوانوں کو بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگا کر داخلِ زنداں کیا گیا ہےـ یہ وہ نوجوان ہیں جنھوں نے شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے ظالمانہ قانون کے خلاف احتجاجی تحریک کی قیادت کی تھی ـ ملک کے حکم رانوں نے اس اندیشے سے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد یہ تحریک پھر نہ شروع ہوجائے ، نوجوانوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے یہ اوچھی حرکت کی ہے _ ہم اس موقع پر ان گرفتاریوں کی مذمّت کرتے ہیں اور حکم رانوں کو متنبّہ کرتے ہیں کہ وہ اس حرکت سے باز آئے _ ان گرفتاریوں کے ذریعے وہ احتجاجی تحریک کو ختم نہیں کرسکتی ، بلکہ وہ ان شاء اللہ اور زیادہ قوّت کے ساتھ ابھرے گی ـ ہمیں چاہیے کہ ہم ان نوجوانوں کی حمایت میں کھڑے ہوں ،قانونی چارہ جوئی میں ان کی مدد کریں اور ان کے اہلِ خانہ کو ہر طرح کا بھرپور تعاون فراہم کریں ـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*