عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ـ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید

۱۲؍ ربیع الاول کو آں حضرت سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’جشن عید‘‘ منایا جاتا ہے اور آج کل اُسے اہل سنت کا خاص شعار سمجھا جانے لگا ہے۔ اس کے بارے میں بھی چند ضروری نکات عرض کرتا ہوں:
۱:… آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ خیر ایک اعلیٰ ترین عبادت بلکہ روحِ ایمان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک واقعہ سرمۂ چشمِ بصیرت ہے۔ آپ کی ولادت، آپ کی صغرسنی، آپ کا شباب، آپ کی بعثت، آپ کی دعوت، آپ کا جہاد، آپ کی قربانی، آپ کا ذکر و فکر، آپ کی عبادت و نماز، آپ کااخلاق و شمائل، آپ کی صورت وسیرت، آپ کا زہد و تقویٰ، آپ کا علم و خشیت، آپ کا اُٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، آپ کی صلح و جنگ، خفگی و غصہ، رحمت و شفقت، تبسم و مسکراہٹ، الغرض آپ کی ایک ایک ادا اور ایک ایک حرکت و سکون امت کے لیے اسوۂ حسنہ اور اکسیر ہدایت ہے اور اس کا سیکھنا سکھانا، اس کا مذاکرہ کرنا، دعوت دینا امت کا فرض ہے۔ اسی طرح آپ سے نسبت رکھنے والی شخصیات اور چیزوں کا تذکرہ بھی عبادت ہے۔ آپ کے احبابؓ و اصحابؓ، ازواجؓ و اولادؓ، خدامؓ و عمالؓ، آپ کا لباس و پوشاک، آپ کے ہتھیاروں، آپ کے گھوڑوں، خچروں اور ناقہ کا تذکرہ بھی عین عبادت ہے، کیوں کہ یہ دراصل ان چیزوں کا تذکرہ نہیں، بلکہ آپ کی نسبت کا تذکرہ ہے۔
۲:… آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے دو حصے ہیں: ایک ولادتِ شریفہ سے لے کر قبل از نبوت تک کا اور دوسرا بعثت سے لے کر وصال شریف تک کا۔ پہلے حصہ کے جستہ جستہ بہت سے واقعات حدیث و سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں اور حیاتِ طیبہ کا دوسرا حصہ جسے قرآن کریم نے امت کے لیے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ فرمایا ہے۔ اس کا مکمل ریکارڈ حدیث و سیرت کی شکل میں محفوظ ہے اور اس کو دیکھنے سے ایسا لگتا ہے کہ آپ باہمہ خوبی و زیبائی گویا ہماری آنکھوں کے سامنے چل پھر رہے ہیں، اور آپ کے جمالِ جہاں آرا کی ایک ایک ادا اس میں صاف جھلک رہی ہے۔ بلامبالغہ یہ اسلام کا عظیم ترین اعجاز اور اس امت مرحومہ کی بلند ترین سعادت ہے کہ اس کے پاس ان کے محبوب کی زندگی کا پورا ریکارڈ موجود ہے اور وہ ایک ایک واقعہ کے بارے میں دلیل و ثبوت کے ساتھ نشان دہی کرسکتی ہے کہ یہ واقعہ کہاں تک صحیح ہے؟ اس کے برعکس آج دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جن کے پاس ان کے ہادی کی زندگی کا صحیح اور مستند ریکارڈ موجود ہو۔ یہ نکتہ ایک مستقل مقالے کا مضمون ہے، اس لیے یہاں صرف اسی قدر اشارے پر اکتفا کرتا ہوں۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو بیان کرنے کے دو طریقے ہیں: ایک یہ کہ آپ کی سیرت طیبہ کے ایک ایک نقشے کو اپنی زندگی کے ظاہر و باطن پر اس طرح آویزاں کیا جائے کہ آپ کے ہر امتی کی صورت و سیرت، چال ڈھال، رفتار و گفتار، اخلاق و کردار آپ کی سیرت کا مرقع بن جائے اور دیکھنے والے کو نظر آئے کہ یہ محمد رسول ﷲ کا غلام ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جہاں بھی موقع ملے آں حضرت کے ذکرخیر سے ہر مجلس و محفل کو معمور و معطر کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و کمالات اور آپ کے بابرکت اعمال و اخلاق اور طریقوں کا تذکرہ کیا جائے اور آپ کی زندگی کے ہر نقشِ قدم پر مرمٹنے کی کوشش کی جائے۔ سلف صالحین، صحابہؓ و تابعینؒ اور ائمہ ہدیٰؒ ان دونوں طریقوں پر عامل تھے۔ وہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت کو اپنے عمل سے زندہ کرتے تھے اور ہر محفل و مجلس میں آپ کی سیرتِ طیبہ کا تذکرہ کرتے تھے۔ آپ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ سنا ہوگا کہ ان کے آخری لمحاتِ حیات میں ایک نوجوان ان کی عیادت کے لیے آیا، واپس جانے لگا تو حضرتؓ نے فرمایا: ’’برخوردار! تمہاری چادر ٹخنوں سے نیچی ہے اور یہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے‘‘۔ ان کے صاحبزادے سیدنا عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنانے کا اس قدر شوق تھا کہ جب حج پر تشریف لے جاتے تو جہاں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفر حج میں پڑائو کیا تھا، وہاں اترتے، جس درخت کے نیچے آرام فرمایا تھا، اس درخت کے نیچے آرام کرتے۔ اور جہاں آنحضرت فطری ضرورت کے لیے اترے تھے، خواہ تقاضا نہ ہوتا تب بھی وہاں اترتے اور جس طرح آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے اس کی نقل اتارتے، رضی ﷲ عنہ۔ یہی عاشقانِ رسول تھے جن کے دم قدم سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ صرف اوراق و کتب کی زینت نہیں رہی، بلکہ جیتی جاگتی زندگی میں جلوہ گر ہوئی اور اس کی بوئے عنبرین نے مشامِ عالم کو معطر کیا۔ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ بہت سے ایسے ممالک میں پہنچے جن کی زبان نہیں جانتے تھے، نہ وہ ان کی لغت سے آشنا تھے، مگر ان کی شکل و صورت، اخلاق و کردار اور اعمال و معاملات کو دیکھ کر علاقوں کے علاقے اسلام کے حلقۂ بگوش اور جمالِ محمدی ؐ کے غلام بے دام بن گئے۔ یہ سیرتِ نبوی کی کشش تھی، جس کا پیغام ہر مسلمان اپنے عمل سے دیتا تھا۔
سلف صالحین نے کبھی سیرت النبی ؐ کے جلسے نہیں کیے اور نہ میلاد کی محفلیں سجائیں، اس لیے کہ وہاں ’’ہر روز روزِ عید‘‘ اور ’’ہر شب شبِ برأت‘‘ کا قصہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جب ان کی پوری زندگی ’’سیرت النبی ؐ‘‘ کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی، جب ان کی ہر محفل و مجلس کا موضوع ہی ’’سیرتِ طیبہ‘‘ تھا اور جب ان کا ہر قول و عمل ’’سیرت النبی ؐ ‘‘ کا مدرسہ تھا، تو ان کو اس نام کے جلسوں کی نوبت کب آسکتی تھی؟! لیکن جوں جوں زمانہ کو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور سے بُعد ہوتا گیا، عمل کے بجائے قول کا اور کردار کے بجائے گفتار کا سکہ چلنے لگا۔ الحمدﷲ! یہ امت کبھی بانجھ نہیں ہوئی، آج اس گئے گزرے دور میں بھی ﷲ تعالیٰ کے ایسے بندے موجود ہیں جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا آئینہ سامنے رکھ کر اپنی زندگی کے گیسوو کاکل سنوارتے ہیں اور ان کے لیے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت ملکِ سلیمان ؑ اور گنج قارون سے زیادہ قیمتی ہے۔ لیکن مجھے شرم ساری کے ساتھ یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ ایسے لوگ کم ہیں، جب کہ ہم میں سے اکثریت مجھ جیسے بدنام کنندہ، گپوڑوں اور نعرہ بازوں کی ہے جو سال میں ایک دو بار ’’سیرت النبیؐ‘‘ کے نعرے لگا کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کے ذمہ اُن کے محبوب نبی کا جو حق تھا، وہ قرض انہوں نے پورا ادا کردیا اور اب ان کے لیے شفاعت واجب ہوچکی ہے، مگر ان کی زندگی کے کسی گوشے میں دور دور تک سیرتِ طیبہ کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سیرت کے ایک ایک نشان کو انہوں نے اپنی زندگی کے دامن سے کھرچ کھرچ کر صاف کرڈالا ہے، اور روزمرہ نہیں بلکہ ہر لمحہ اس کی مشق جاری رہتی ہے، مگر ان کے پتھردل کو کبھی احساس تک نہیں ہوا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سنتوں اور اپنے طریقوں کے مٹنے سے کتنی تکلیف اور اذیت ہوتی ہوگی۔ وہ اس خوش فہمی میں ہیں کہ بس قوالی کے دوچار نغمے سننے، نعت شریف کے دوچار شعر پڑھنے سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ادا ہوجاتا ہے۔ میلاد کی محفلوں کے وجود سے امت کی چھ صدیاں خالی گزرتی ہیں اور ان چھ صدیوں میں جیسا کہ میں ابھی عرض کرچکا ہوں، مسلمانوں نے کبھی ’’سیرت النبی ؐ‘‘ کے نام سے کوئی جلسہ یا ’’میلاد‘‘ کے نام سے کوئی محفل نہیں سجائی۔ ’’محفل میلاد‘‘ کا آغاز سب سے پہلے ۶۰۴ھ میں سلطان ابو سعید مظفر اور ابوالخطاب ابن دحیہ نے کیا، جس میں تین چیزیں بطور خاص ملحوظ تھیں : ۱:… بارہ ربیع الاول کی تاریخ کا تعیُّن۔ ۲:… علماء و صلحاء کا اجتماع۔ ۳:… اور ختمِ محفل پر طعام کے ذریعہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پُرفتوح کوایصالِ ثواب۔ ان دونوں صاحبوں کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ کس قماش کے آدمی تھے؟ بعض مورخین نے ان کو فاسق و کذاب لکھا ہے اور بعض نے عادل و ثقہ۔ واﷲ اعلم۔ جب یہ نئی رسم نکلی تو علمائے امت کے درمیان اس کے جواز و عدم جواز کی بحث چلی، علامہ فاکہانی اور ان کے رفقاء نے ان خود ساختہ قیود کی بنا پر اس میں شرکت سے عذر کیا اور اُسے ’’بدعت ِسیّئہ‘‘ قرار دیا۔ اور دیگر علماء نے سلطان کی ہم نوائی کی اور ان قیود کو مباح سمجھ کر اس کے جواز و استحسان کا فتویٰ دیا۔ پھر جب ایک بار یہ رسم چل نکلی تو یہ صرف ’’علماء و صلحاء کے اجتماع‘‘ تک محدود نہ رہی، بلکہ عوام کے دائرے میں آکر ان کی نئی نئی اختراعات کا تختۂ مشق بنتی چلی گئی۔ آج ہمارے سامنے ’’عید میلاد النبی‘‘ کی جو ترقی یافتہ شکل موجود ہے (اور ابھی خدا بہتر جانتا ہے کہ اس میں مزید کتنی ترقی مقدر ہے) اب ہمیں اس کا جائزہ لینا ہے۔ سب سے پہلے دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ جو فعل صحابہؓ و تابعینؒ کے زمانے میں کبھی نہیں ہوا، بلکہ جس کے وجود سے اسلام کی چھ صدیاں خالی چلی آئی ہیں، آج وہ ’’اسلام کا شعار‘‘ کہلاتا ہے۔ اس شعارِ اسلام کو زندہ کرنے والے ’’عاشقانِ رسولؐ‘‘ کہلاتے ہیں، اور جو لوگ اس نوایجاد شعارِ اسلام سے نا آشنا ہوں، ان کو دشمنانِ رسول تصور کیا جاتا ہے۔ إنا للّٰہ و إنا إلیہ راجعون۔ کاش! ان حضرات نے کبھی یہ سوچا ہوتا کہ چھ صدیوں کے جو مسلمان ان کے اس خود تراشیدہ شعارِ اسلام سے محروم رہے ہیں، ان کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ کیا وہ سب نعوذ باﷲ! دشمنانِ رسولؐ تھے؟ اور پھر انہوں نے اس بات پر کبھی غور کیا ہوتا کہ اسلام کی تکمیل کا اعلان تو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن ہوگیا تھا، اس کے بعد وہ کون سا پیغمبر آیا تھا جس نے ایک ایسی چیز کو ان کے لیے شعارِ اسلام بنادیا جس سے چھ صدیوں کے مسلمان نا آشنا تھے۔ کیا اسلام میرے یا کسی کے ابا کے گھر کی چیز ہے کہ جب چاہو اس کی کچھ چیزیں حذف کردو اور جب چاہو اس میں کچھ اور چیزوں کا اضافہ کرڈالو؟ دراصل اسلام سے پہلے قوموں میں اور اپنے بزرگوں کے بانیانِ مذہب کی برسی منانے کا معمول ہے، جیسا کہ عیسائیوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یوم ولادت پر ’’عید میلاد‘‘ منائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے برسی منانے کی رسم کو ختم کردیا تھا اور اس میں دو حکمتیں تھیں۔ ایک یہ کہ سالگرہ کے موقع پر جو کچھ کیا جاتا ہے وہ اسلام کی دعوت اور اس کی روح و مزاج سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ اسلام اس ظاہری سج دھج، نمود و نمائش اور نعرہ بازی کا قائل نہیں، وہ اس شور و شغب اور ہائو ہو سے ہٹ کر اپنی دعوت کا آغاز دلوں کی تبدیلی سے کرتا ہے، اور عقائد ِ حقہ، اخلاقِ حسنہ اور اعمالِ صالحہ کی تربیت سے ’’انسان سازی‘‘ کا کام کرتا ہے۔ اس کی نظر میں یہ ظاہری مظاہرے ایک کوڑی کی قیمت بھی نہیں رکھتے، جن کے بارے میں کہا گیا ہے : جگمگاتے در و دیوار دل بے نور ہیں۔
دوسری حکمت یہ ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کی طرح کسی خاص موسم میں برگ و بار نہیں لاتا، بلکہ وہ تو ایسا سدا بہار شجرۂ طوبیٰ ہے جس کا پھل اور سایہ دائم و قائم ہے۔ گویا اس کے بارے میں قرآنی الفاظ میں ’’أُکُلُہُا دَائِمٌ وَّ ظِلُّہَا‘‘ کہنا بجا ہے۔ اس کی دعوت اور اس کا پیغام کسی خاص تاریخ کا مرہونِ منت نہیں بلکہ آفاق و ازمان کو محیط ہے۔ اور پھر دوسری قوموں کے پاس تو دوچار ہستیاں ہوں گی جن کی سالگرہ مناکر وہ فارغ ہوجاتی ہیں۔ اس کے برعکس اسلام کے دامن میں ہزاروں لاکھوں نہیں، بلکہ کروڑوں ایسی قد آور ہستیاں موجود ہیں جو ایک سے ایک بڑھ کر ہیں اور جن کی عظمت کے سامنے آسمان کی بلندیاں ہیچ اور نورانی فرشتوں کا تقدس گردِ راہ ہے۔ اسلام کے پاس کم و بیش سوا لاکھ کی تعداد تو ان انبیاء کی ہے، جو انسانیت کے ہیرو ہیں اور جن میں سے ایک ایک کا وجود کائنات کی ساری چیزوں پر بھاری ہے۔ پھر انبیاء کرام کے بعد صحابہ کرام کا قافلہ ہے، ان کی تعداد بھی سوا لاکھ سے کیا کم ہوگی، پھر ان کے بعد ہر صدی کے وہ لاکھوں اکابر اولیاء ﷲ ہیں جو اپنے اپنے وقت میں رشد و ہدایت کے مینارۂ نور تھے اور جن کے آگے بڑے بڑے جابر بادشاہوں کی گردنیں جھک جاتی تھیں۔ اب اگر اسلام شخصیتوں کی سالگرہ منانے کا دروازہ کھول دیتا تو غور کیجیے! اس امت کو سال بھر میں سالگرہوں کے علاوہ کسی اور کام کے لیے ایک لمحہ کی بھی فرصت ہوتی؟ چونکہ یہ چیز ہی اسلام کی دعوت اور اس کے مزاج کے خلاف تھی، اس لیے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ و تابعینؒ کے بعد چھ صدیوں تک امت کا مزاج اس کو قبول نہ کرسکا۔ اگر آپ نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اسلامی تاریخ میں چھٹی صدی وہ زمانہ ہے، جس میں فرزندانِ تثلیث نے صلیبی جنگیں لڑیں، اور مسیحیت کے ناپاک اور منحوس قدموں نے عالم اسلام کو روند ڈالا۔ ادھر مسلمانوں کا اسلامی مزاج داخلی و خارجی فتنوں کی مسلسل یلغار سے کمزور پڑگیا تھا۔ ادھر مسیحیت کا عالم اسلام پر فاتحانہ حملہ ہوا، اور مسلمانوں میں مفتوح قوم کا سا احساس کمتری پیدا ہوا، اس لیے عیسائیوں کی تقلید میں یہ قوم بھی سال بعد اپنے مقدس نبی کے ’’یوم ولادت‘‘ کا جشن منانے لگی۔ یہ قوم کے کمزور اعصاب کی تسکین کا ذریعہ تھا، تاہم جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں‘ امت کے مجموعی مزاج نے اس کو قبول نہیں کیا، بلکہ ساتویں صدی کے آغاز سے لے کر آج تک علمائے اُمت نے اسے ’’بدعت‘‘ قرار دیا اور اسے ’’ہر بدعت گمراہی ہے‘‘ کے زمرے میں شمار کیا۔ اگرچہ ’’میلاد‘‘ کی رسم ساتویں صدی کے آغاز سے شروع ہوچکی تھی اور لوگوں نے اس میں بہت سے امور کے اضافے بھی کیے، لیکن کسی کو یہ جرأت نہیں ہوئی تھی کہ اُسے ’’عید‘‘ کا نام دیتا، کیونکہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ’’میری قبر کوعید نہ بنانا‘‘ اور میں اوپر حضرت قاضی ثناء اﷲ پانی پتی کے حوالے سے بتاچکا ہوں کہ ’’عید‘‘ بنانے کی ممانعت کیوں فرمائی گئی تھی۔ مگر اب چند سالوں سے اس سال گرہ کو ’’عید میلاد النبیؐ‘‘ کہلانے کاشرف بھی حاصل ہوگیا ہے۔
دنیا کا کون مسلمان اس سے ناواقف ہوگا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے ’’عید‘‘ کے دو دن مقرر کیے ہیں: عید الفطر اور عید الاضحی۔ اگر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت کو بھی ’’عید‘‘ کہنا صحیح ہوتا اور اسلام کے مزاج سے یہ چیز کوئی مناسبت رکھتی تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اس کو ’’عید‘‘ قرار دے سکتے تھے اور اگر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ پسندیدہ چیز ہوتی تو آپ نہ سہی، خلفائے راشدین ہی آپ کے یوم ولادت کو ’’عید‘‘ کہہ کر ’’جشن عید میلاد النبیؐ‘‘ کی طرح ڈالتے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا، اس سے دو ہی نتیجے نکل سکتے ہیں: یا یہ کہ ہم اس کو ’’عید‘‘ کہنے میں غلطی پر ہیں یا یہ کہ نعوذ باﷲ ہمیں تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کی خوشی ہے، مگر صحابہ کرام خصوصاً خلفائے راشدین کو کوئی خوشی نہیں تھی، انہیں آپ سے اتنا عشق بھی نہیں تھا جتنا ہمیں ہے۔ ستم یہ ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت میں تو اختلاف ہے، بعض ۹؍ ربیع الاول بتاتے ہیں، بعض ۸؍ ربیع الاول، اور مشہور بارہ ربیع الاول ہے۔ لیکن اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات شریفہ ۱۲؍ ربیع الاول ہی کو ہوئی۔ گویا ہم نے ’’جشن عید‘‘ کے لیے دن بھی تجویز کیا تو وہ جس میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے داغِ مفارقت دے گئے، اگر کوئی ہم سے یہ سوال کرے کہ تم لوگ ’’جشنِ عید‘‘ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت طیبہ پر مناتے ہو یا آں حضرت کی وفات کی خوشی میں؟ (نعوذ باللہ) تو شاید ہمیں اس کا جواب دینا بھی مشکل ہوگا۔ بہرحال میں اس دن کو ’’عید‘‘ کہنا معمولی بات نہیں سمجھتا، بلکہ اس کو صاف صاف تحریف فی الدین سمجھتا ہوں، اس لیے کہ ’’عید‘‘ اسلامی اصطلاح ہے، اور اسلامی اصطلاحات کو اپنی خودرائی سے غیر منقول جگہوں پر استعمال کرنا دین میں تحریف ہے۔ اور پھر یہ ’’عید‘‘ جس طرح منائی جاتی ہے وہ بھی لائقِ شرم ہے، بے ریش لڑکے غلط سلط نعتیں پڑھتے ہیں، موضوع اور من گھڑت قصے کہانیاں، جن کا حدیث و سیرت کی کسی کتاب میں کوئی وجود نہیں، بیان کی جاتی ہیں، شورو شغب ہوتا ہے۔ نمازیں غارت ہوتی ہیں، اور نامعلوم کیا کیا ہوتا ہے۔ کاش! آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جو ’’بدعت‘‘ ایجاد کی گئی تھی اس میں کم از کم آپ کی عظمت و تقدس ہی کو ملحوظ رکھا جاتا۔ غضب یہ کہ سمجھا یہ جاتاہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان خرافاتی محفلوں میں بنفس نفیس تشریف بھی لاتے ہیں۔ فیا غربۃ الإسلام! (ہائے اسلام کی بیچارگی!)

(ماخوذ از: اختلاف امت اور صراط مستقیم)