عیدِ قرباں کا پیغام مسلمانوں کے نام-شمس عالم قاسمی

ابتداے آفرینش ہی سے اس کار گہ عالم میں حق و باطل کی کشمکش، باہمی ٹکراؤ اور مقابلہ آرائی ہوتی رہی ہے۔مختلف ادوار میں مختلف اطوار سے اہلِ باطل نے حق کو مٹانے اور اس کے وجود کو ختم کرنے کی ناپاک سازشیں رچی ہیں تو اہلِ حق نے بھی ان کے سامنے سینہ سپر ہوکر جواں مردی کے ساتھ ہر محاذ پر ان کا مقابلہ کیا، ان کے مکروہ عزائم کو ناکام بنایا، ان کے مکرو فریب کا پردہ چاک کرکے حق کی دعوت کو چہار دانگ عالم میں پھیلایا، اور کفر و شرک کی تاریکیوں کو درو کرکے نغمہ توحید سے کائنات کو روشناس کرایا ہے جس کا سلسلہ تا حال جاری و ساری ہے ۔اسی معرکہ حق و باطل کے سلسلے کی ایک بہت ہی اہم کڑی حضرت ابراھیم خلیل اللہ علیہ الصلوةوالسلام کی ذات بابرکت بھی ہے جن کے خلوص و للہیت کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالٰی نے اس قربانی کے عمل کو رہتی دنیاتک کیلئے جاری فرمایا دیا ہے۔
آپ علیہ الصلوةوالسلام بچپن سے لے کر جوانی تک، جوانی سے آخری عمر تک حق کی آواز پر لبیک کہتے رہے اور ایک لمحہ کیلئے بھی آپ نے کبھی باطل سے سمجھوتہ نہیں کیا۔آپ علیہ السلام کی پوری حیات طیبہ رہتی دنیا تک کیلئے ایک بہترین نمونہ ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے "قد کان لکم أسوة حسنة فی إبراهيم والذین معه” ترجمہ: مسلمانوں! تمہارے لیئے ابراھیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے۔ سورہ الممتحنہ آیت نمبر ٤
آپ علیہ السلام نے فرزندان توحید کیلئے ایثار و قربانی اور جاں نثاری کا ایسا عمدہ طریقہ جاری فرمایا ہے جو اپنی مثال آپ ہے، آپ نے دین حق کی تبلیغ اور نشر و اشاعت میں ہر قسم کی تکلیفیں برداشت کیں اور ہر طرح کی قربانیاں پیش کی ہیں،حق کی راہ میں آپ نے اپنے ماں باپ، دوست و احباب، اعزہ و اقارب سے ناطہ توڑا، اور گھر باڑ کو چھوڑا، خدائی کا دعوی کرنے والے وقت کے ظالم بادشاہ نمرود کے سامنے بڑی حکمت ودانائی کے ساتھ توحید خداوندی کی دعوت پیش کی اور ان کے اعتراضات کا دنداں شکن جواب دے کر انہیں لاجواب کیا، نار نمرود میں خندہ پیشانی کے ساتھ داخل ہوئے، وطن سے ہجرت کو نہایت حوصلے کے ساتھ قبول کیا، بیوی اور بچے کو وادیئ غیر ذی زرع میں رب کے حوالے کیا، اللہ تعالٰی نے بڑھاپے میں اولاد کی نعمت سے نوازا تو بڑے شکر گزار ہوئے اور پھر امتحان کیلئے بیٹے کی قربانی کا حکم دیا تو بلاجھجک فورا تیار ہوگئے اور اس عظیم امتحان میں بھی بڑی اعلی کامیابی حاصل فرمائی،جیسا کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے” رب ھب لی من الصالحين، فبشرنه بغلم حلیم، فلما بلغ معه السعی قال یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری قال یابت افعل ما تومر ستجدنی ان شاءاللہ من الصبرین، فلما اسلما وتله للجبین، و نادینه أن یابراھیم، قد صدقت الرؤيا انا کذلک نجزی المحسنين، ان ھذا لھوالبلوءالمبین، وفدینه بذبح عظیم، وتركنا علیہ فی الآخرين، سلم علی ابراھیم، کذلک نجزی المحسنين، إنه من عبادنا المؤمنين۔”
ترجمہ: ابراہیم علیہ السلام نے کہا” ائے میرے رب! مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما، تو ہم نے اسے ایک نیک بخت بردبار بچے کی بشارت دی، پھر جب وہ بچہ نئی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے، تو ابراہیم نے کہا میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، اب تو بتا تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا ابا! جو حکم ہوا ہے اسے پورا کیجئے ان شاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے، غرض جب دونوں تیار ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا، تو ہم نے آواز دی ائے ابراہیم! یقینا تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں، در حقیقت یہ کھلا امتحان تھا، اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ فدیہ میں دے دیا، اور ہم نے ان کا ذکر پچھلوں میں باقی رکھا، ابراہیم پر سلام ہو، ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں، بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھا”۔(الصفات ١٠٠ تا ١١١)
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
آپ علیہ السلام کی اسی رضا و رغبت اور احکام خداوندی کے تکمیل کی خاطر ہر قسم کی قربانی کیلئے ہر دم تیار رہنے میں تمام انسانوں اور بالخصوص مسلمانوں کیلئے بہت ہی اعلٰی و ارفع نمونہ موجود ہے۔
عصر حاضر میں ایک بار پھر حق و باطل کی معرکہ آرائی اپنے شباب پر ہے، وقت کی نمرودی طاقتیں اھل حق پر ظلم و ستم کے پہاڑ تو رہی ہیں، اھل حق کو ختم کرنے سازشیں رچی جا رہی ہیں، حق و انصاف کی لڑائی لڑنے والے اور سچ بولنے والے ڈاکٹر کفیل خان، شرجیل امام، دیگر بہت سے مسلم اکٹیوسٹ اور دانشوران جیل کی سلاخوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں، وقت کی ظالم حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور عوامی تحریکات کو کچلنے کی بھر کوشش کر رہی ہے،جہاں ایک طرف بابری مسجد کو مسمار کرکے پانچ اگست سے رام مندر کی تعمیر شروع ہونے جارہی ہے تو وہیں دوسری طرف سپریم کورٹ میں دی پلیسیس آف ورشپ (اسپیشل ایکٹ 1991) کی منسوخی کا مطالبہ کرکے کاشی متھرا اور ملک کی دیگر مساجد پر قبضہ کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں، توحید کے متوالوں پر ھجومی تشدد کے ذریعے سر عام قاتلانہ حملے ہورہے ہیں اور انہیں ملک کا غدار کہا جارہا ہے، این آر سی اور این پی آر لاکر دستوری حقوق سے محروم کرنے اور دوسرے درجے کا شہری قرار دینے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔
ایسے پر فتن اور نازک حالات میں اہل ایمان کیلئے عید قرباں کا یہی پیغام ہے کہ سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اپنے دین و شریعت کی حفاظت، اسلامی تشخصات کی بقاء، نسل نو کے ایمان کی سلامتی کی خاطر وقت کی نمرودی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہوجائیں، ناامیدی اور احساس کمتری کا شکار ہونے کے بجائے صبر و استقامت کے ساتھ ہر محاذ پر ان کا مقابلہ کیا جائے
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی، دین اسلام پر قائم و دائم رہنے اور دین متین پر سو فیصد عمل پیرا ہونے کی توفیق مانگی جائے۔
حضرت ابراھیم خلیل اللہ علیہ الصلوةوالسلام کی طرح دین کی تبلیغ و اشاعت کی خاطر اپنے جان و مال، آل و اولاد، تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا جائے، آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور مسلکی اختلافات میں پڑنے کے بجائے دشمنان اسلام کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں، ملک کے دیگر مظلومین کے ساتھ متحدہ محاذ بناکر ملک کے آئین کی حفاظت اور گنگا جمنی تہذیب کی بقاء کیلیئے ایک نئی صبح کا آغاز کیا جائے۔
اگر ہم نے محض اللہ تعالٰی کی رضامندی اور اس کی خوشنودی کے حصول کی خاطر پورے اخلاص و للہیت کے ساتھ ان اعمال صالحہ کو انجام دیا تو یقین جانئے کہ بلاشبہ اللہ سبحانہ تعالٰی کی خصوصی رحمت و نصرت ہماری طرف متوجہ ہو گی، دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی ہمارے قدم چومے گی، ایک بار پھر اس کائنات میں اھل حق کا بول بالا اور وقت کی ظالم نمرودی و طاغوتی حکومت کا منہ کالا ہو گا ان شاءاللہ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے "ان تنصراللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم” ترجمہ: ائے ایمان والوں! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے تو وہ بھی تمہاری مدد کرےگا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔بقول شاعر مشرق علامہ اقبال رحمہ اللہ:
آج بھی جو ابراہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*