عید کارڈ-محمد اکرام 

اس روئے زمین پر انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہے۔ حضرت آدم اور حوا کو جب اللہ تعالیٰ نے جنت سے نکال کر اس دھرتی پر بسایا تو ان کے جینے کے لیے بہت سارے وسائل بھی فراہم کیے۔ مخلوق کو زندہ رہنے کی سب سے بنیادی چار چیزوں (ہوا، پانی، آگ اور مٹی) کا انتظام کیا۔ جب یہاں انسان آباد ہوگئے تو انہی کے ذریعے مختلف قبائل پیدا ہوئے اور ایک خوش حال معاشرہ وجود میں آیا۔ ساتھ ہی بہت سی زبانوں اور بولیوں کو بھی وجود ملا۔ دراصل جب بچہ شعور کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسے اپنے جذبات اور احساسات بیان کرنے کے لیے الفاظ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ان لفظوں میں بڑی طاقت اور تاثیر پائی جاتی ہے۔ قلم اور الفاظ کی طاقت کا قرآن پاک میں بھی ذکر ملتا ہے۔ قلم کا تذکرہ تو قرآن مجید میں کئی جگہ موجود ہے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریلؑ نے سب سے پہلے اِقْرأ بِاسمِ رَبِکَ الَّذِی خَلَق(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا) کا ہی درس دیا۔
قلم سے نکلنے والے الفاظ ہی انسان کی تقدیریں لکھتے ہیں اور ہر دور کے انسان اپنے جذبات اور احساسات کے اظہار کے لیے الفاظ کا سہارا لیتے اور مختلف ذرائع استعمال کرتے رہے ہیں۔ پرانے زمانے میں امرا، حکما، سلاطین و غیرہ کی پیغام رسانی کا ذریعہ کبوتر، باز اور کچھ دوسرے پرندے ہوتے تھے لیکن پیغام رسانی کا یہ چلن عام نہیں خاص تھا۔پھر اس کے بعد جب ڈاک خانے کا نظام شروع ہوا تو خطوط کی مختلف شکلیں ہمارے سامنے آئیں جن سے لوگ پیغام پہنچانے کا کام لیتے تھے۔ خطوط کی ان شکلوں میں میں عید کارڈ کو بہت اہمیت حاصل تھی۔
دو دہائی قبل عید کارڈ کا چلن بہت عام تھا جس کا نظارہ رمضان کی آمد سے پہلے ہی ہر گلی، محلے اور نکڑ پر دیکھنے کو مل جاتا تھا۔ لوگ اپنے دوست احباب سے اظہارِ مسرت کے لیے عید کارڈ کا استعمال بڑھ چڑھ کر کرتے تھے۔ بھائی، بہن، بھابھی، بیوی، دوست احباب اور سہیلیوں کے درمیان عید کارڈ کا تبادلہ خوب ہوتا تھا۔ رشتوں کے مطابق کسی کارڈ میں مختصر پیغامات ہوتے تھے توکسی پر شاعری، کسی پر پھول پتے ہوتے تھے تو کسی پرخوبصورت چہروں کے عکس۔ کس طرح کا کارڈ آپ کو پسند کرنا ہے یہ آپ کی صوابدید پر منحصر ہوتا تھا۔ دکانوں پر شام کو کسی میلے جیسا ہجوم ہوتا تھا، رنگ برنگی روشنیوں سے دکانیں سجی ہوتی تھیں، جہاں خریداری کے لیے ہر عمر کے افراد موجود ہوتے تھے۔ خریداروں کی ضرورت کے مطابق دوکاندار بھی ملبوسات اور زیورات کو چھوڑ کر عیدکارڈ زیادہ بیچتے تھے۔دکانداروں کے علاوہ اشاعتی ادارے بھی عید کارڈوں کی ڈیزائننگ میں سال بھر کام کرتے تھے۔ ان اداروں کے درمیان عید کارڈز کی خرید و فروخت کے مقابلے کا نظارہ دیکھنے کے لائق ہوتا تھا۔ پند و نصائح، نیک خواہشات، صحت و عافیت اور لمبی عمر کی دعا کے ساتھ خوبصورت رنگوں سے مزین کارڈ بازاروں اور اشاعتی اداروں میں دستیاب ہوتے تھے۔ مزاحیہ اور خوبصورت شاعری کے ساتھ بچوں کے معصومانہ اور میٹھے بول بھی فضا کو معطر کرتے تھے۔ عید کے قریب بچوں کے ذہن میں یہ خیال گردش کرتا رہتا کہ عید آنے والی ہے ابو کو تنخواہ مل جائے تو ہماری خوشی دوبالا ہوجائے گی۔ بچے اپنی ماؤں سے پوچھتے بھی رہتے کہ امی ابو کو تنخواہ کب ملے گی؟ اگر مل جائے تو مجھے پیسے دلا دیجیے۔ پھر جب ان بچوں کی خواہش ان کے والدین پوری کردیتے تو بچوں کے چہرو ںپر خوشی اور مسرت کی جھلکیاں لائق دید ہوتیں۔
بچوں کے ساتھ ننھی منی بچیاں بھی عید کارڈ کا استعمال کرنے میں پیش پیش رہتیں۔ بچیاں ویسے بھی رنگوں کی شائق ہوتی ہیں۔ انھیں رنگوں سے مزین خوبصورت اور دیدہ زیب کارڈ کچھ زیادہ ہی بھلے لگتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی اور پیاری پیاری بچیاں بھی اپنے معصوم جذبات کا اظہار اپنی سہیلیوں کو عید کارڈ بھیج کر کرتی تھیں۔
ابھی رمضان المبارک کی آمد بھی نہیں ہوئی، لیکن ہم نے اپنے ذہنوں میں کارڈ کے خاکے بنانے شرع کردیے کہ کارڈ کیسا ہوگا، ڈیزائننگ کیسی ہوگی، اپنے احباب کے نام کس رنگ میں لکھیں گے، کارڈ کا سائز کیا ہوگا۔ کارڈ کے ساتھ ہم اپنے عزیز و اقربا کو کن القاب سے خطاب کریں گے۔ گو اس ادھیڑ بن میں کبھی کبھی رمضان اپنے اختتام کو آجاتا۔ پھر ہم اپنے دوست و احباب کو یہ کارڈ بھیج کر دنیا جہان کی ساری خوشیاں حاصل کرلیتے۔ کئی دفعہ تو عید کارڈ کی خوبصورتی کو لے کر دوستوں میں مقابلہ ہوتا تھا کہ کس کا کارڈ خوبصورت ہے اور وہ آپس میں الجھ جاتے کہ نہیں آپ کا نہیں ہمارا کارڈ خوبصورت ہے وغیرہ وغیرہ۔
اسکول اور کالج کے دوست احباب عید کی چھٹی سے پہلے ہی تحفے تحائف بھیج چکے ہوتے تھے۔ اس کے برعکس محلے اور خاندان والوں کا سلسلہ عید کے دن تک چلتا رہتا تھا بلکہ شہروں میں تو عید تین دن تک منائی جاتی ہے، اور تینوں دن خوشی منانے، کھانے پینے، عید کارڈ اور تحفے تحائف وغیرہ کا سلسلہ جاری رہتا۔
عید کارڈز بذریعہ ڈاک روانہ کیے جاتے تھے۔ رمضان کے آخری دنوں میں محکمہ ڈاک کا کام بھی معمول سے بڑھ جاتا تھا۔ یہاں کا بیشتر عملہ عید کارڈ بذریعہ پارسل/ رجسٹرڈ اور عام ڈاک میں بک کرنے اور رسیدیں کاٹنے میں مصروف دکھائی دیتا تھا۔ ان مصروفیات کو دیکھتے ہوئے عام لوگوں کے لیے ہدایت نامہ جاری ہوتا کہ فلاں وقت تک عید کارڈوں کی ترسیل کے لیے عید کارڈ ڈاک خانے کے حوالے کر دیے جائیں۔ عیدکارڈوں کی بہتات کو دیکھتے ہوئے محکمہ ڈاک ان عید کارڈز کو ان کے مقام تک پہنچانے کے لیے خصوصی انتظامات کیا کرتا تھا۔ اس عمل سے صنعت کو بھی فائدہ حاصل ہوتا تھا۔
برِّصغیر ہند و پاک میں اپنے رشتے دار، عزیزوں، اور دوست احباب کو عید کارڈ بھیجنے کی روایت کا آغاز انیسویں صدی کے آخری ایام میں ہوا۔ یہ سلسلہ تقریباًایک صدی تک جاری رہا۔ ان کارڈز کی مقبولیت کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو ریلوے کے دائرے کا وسیع ہونا اور دوسری وجہ جو عام ہے وہ پرنٹنگ پریس کی سہولیات کا عام ہونا ہے۔ یہ بات بھی مشہور ہے کہ شروع شروع میں جو عید کارڈ ہوتے تھے وہ یورپ کے کرسمس کارڈز کے طرز پر ہوتے تھے۔ انھیں ہینڈ رائٹنگ یا پرنٹنگ کے ذریعے ضروری رد و بدل کے بعد عید کارڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
عید کارڈ کی شہرت اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بہت ساری کمپنیاں اس میدان میں سرگرم عمل ہوگئیں جن میں دہلی کی محبوب المطابع اور بمبئی کی ایسٹرن کمرشل ایجنسی اور بولٹن فائن آرٹ لیتھوگرافر شامل ہیں ۔ ان کمپنیوں نے ہندوستان میں عید کارڈز کی چھپائی کے کاروبار میں قدم رکھا لیکن لندن کی کمپنی رافیل ٹک کے چھاپے گئے ہندوستانی مسلم طور و طرز کی تصاویر والے پوسٹ کارڈ بھی استعمال کیے جاتے تھے، رافیل ٹک کے کارڈز برصغیر کی کمپنیوں سے کافی مہنگے تھے، بیسویں صدی کے اختتام تک یہ کام اپنے زوروں پر رہا۔
اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں۔ اس صدی میں ٹیکنالوجی اور نئی ایجادات سامنے آئی ہیں، اس صدی کے بچے کافی ذہین و فطین ہیں جن کے لیے انتظار کسی کرب ناک اذیت سے کم نہیں ہوتا۔ آج کے بچوں کو ہر کام میں عجلت زیادہ محبوب ہے۔ انھیں نتیجے جلد چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ڈاک کے بجائے ای میل، فیس بک، وہاٹس ایپ کا استعمال زیادہ ہونے لگا ہے۔ میسیج لکھ کر سینڈ کرتے ہی سامنے والے کو وہ موصول ہوجاتا ہے اور اسی سرعت سے ہمیں اپنے میسیج کا جواب بھی موصول ہوجاتا ہے۔ اب عید کارڈ کے لیے ہم ان ہی برق رفتار وسائل کا سہارا لیتے ہیں اور موبائل کے ذریعے بھی ہم حسین و جمیل کارڈ ڈیزائن کرکے اپنے احباب تک پہنچا سکتے ہیں۔
عید کارڈ کی روایت کے ختم ہونے کی وجہ مہنگائی نہیں وقت ہے۔ اب کسی کے پاس عید کارڈ کی خریداری کے لیے بازار جانے کی فرصت نہیں ہے کہ وہ وہاں جائے، خریداری کرے اور پھر ڈاک خانے جاکر اپنے عزیز و احباب کی خدمت میں ارسال کرے۔ اب ہمارے سامنے ماضی کی بھولی بسری یادیں ہیں، جنھیں بس ہم محسوس کرسکتے ہیں۔ احباب کو بھیجنے جانے والے کارڈ محض کارڈ نہیں ہوتے تھے بلکہ ان میں وہ خلوص اور پیار چھپا ہوتا تھا جس کا خوشگوار احساس دیر تک ذہن و دل پر قائم رہتا تھا۔ اب نئی ٹکنالوجی نے گرچہ بہت ساری سہولیات مہیا کردی ہیں باوجود اس کے ہم اندر سے وہ خوشی محسوس نہیں کرتے جو پہلے کرتے تھے۔ پہلے کی خوشیاں ہمارے دلوں میں دیر تک قائم رہتی تھیں۔لیکن وقت کے ساتھ بدلنا بھی ضروری ہوتا ہے اس لیے ہم نے بھی تبدیلیوں کو ناگزیر سمجھا۔ یہ سچ بھی ہے کہ ہمیں زمانے کے ساتھ چلنا ہوگا ورنہ ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ اسی لیے ٹیکنالوجی ہماری مجبوری نہیں بلکہ ضرورت ہے ۔ ہم اگر اس برق رفتار دنیا میں وقت کا صحیح استعمال نہیں کرپائے تو پھر بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ لہٰذا ہر اچھی تبدیلی کا خیر مقدم کرنا چاہیے، لیکن پرانی یادوں اور روایتوں کو بھی کبھی کبھی دہرا لینا چاہیے تاکہ کسی نہ کسی درجے میں ہمارا رشتہ ماضی سے بھی قائم رہے۔ آج ہم مختلف اقسام کے ’عیدکارڈ‘ کمپیوٹر پر تیار کرکے، معنی خیز الفاظ اور جملے لکھ کر واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے اپنے اعزا و احباب کو بھیج سکتے ہیں۔بہت سارے لوگ نئی ٹکنالوجی سے فائدہ اٹھا بھی رہے ہیں۔ وہ خو بصورت ’عید کارڈ‘ تیار کرکے بذریعہ ای میل اور واٹس ایپ ان کا تبادلہ کرتے ہیں اور بازار جاکر خریداری کرنے اور ڈاک گھر جانے کا وقت بچاتے ہیں۔ اس طرح وہ ’عید کارڈ‘ کی روایت کو بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں اور نئی تبدیلی کے تقاضوں کو بھی پورا کررہے ہیں۔
(یہ مضمون ماہنامہ بچوں کی دنیا مئی 2022کے شمارے میں شائع ہوچکا ہے)
Mohd Ikram
189/6A, Street No.: 1
Ghaffar Manzil, Jamia Nagar
New Delhi – 110025
Mob.: 9873818237

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*