مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت-یعقوب مرتضی

 

طالب علم شعبۂ قانون، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

yaqoobmurtaza99@gmail.com

تعلیم کو ہر مذہب میں اہمیت دی گئی ہے اور دنیا کے ہر دستور میں اس کو انسان کا بنیادی حق قرار دیا گیا ہے لیکن اسلام نے تعلیم پر کتنا زیادہ زور دیا ہے اس کا اندازہ اس تاریخی حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنے پہلے پیغام میں تعلیم کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا "پڑھو” تاکہ انسانوں کے اندر سمجھ پیدا ہوسکے، وہ اس قابل ہو جائے کہ اپنی عقل کا استعمال کر کے صحیح اور غلط کے مابین تمیز کر سکے اور سماج کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکے۔ اسلام کے اس عالم گیر پیغام کی جامعیت یہ ہے کہ اس نے اس عالمی پیغام میں بلا تفریق جنس، مرد اور عورت دونوں کو شامل کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں خواتین تعلیمی میدان میں مردوں سے کبھی پیچھے نہیں رہیں؛لیکن زمانہ جیسے جیسے نبوت کے دور سے دور ہوتا چلا گیا، معاشرے میں برائیاں  سر اٹھانے لگیں اور غیراخلاقی عناصر سماج میں جنم لینے لگے ۔ تب ضرورت اس بات کی تھی کہ اہل علم سنجیدگی سے ان سماجی برائیوں کے اسباب پر غوروفکر کرتے اور ایک جامع حل تلاش کرتے؛ لیکن بدقسمتی سے کچھ ایسا ہوا کہ جب کبھی کسی برائی نے سماج میں سر اٹھایا، لوگ اس غلط فہمی کے شکار ہوگئے کہ عورت ہی اس کی ذمے دار ہے، اس کی ہی وجہ سے سماج میں برائیاں پھیل رہی ہیں اور وہی ان ساری سماجی بگاڑ کی قصوروار ہے۔ لہذا اس برائی پر قابو پانے کے لیے ضروری سمجھا گیا کہ خواتین پر معاشرتی پابندیاں عائد کر دی جائیں اور ہوا یہ کہ معاشرے میں جب کبھی کسی برائی نے سر اٹھایا، تو خواتین کے اردگرد پابندی کی ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دی گئی۔ اگر پھر کبھی کسی برائی نے سر اٹھایا تو اس پابندی کی دیوار کو اور اونچا اٹھا دیا گیا اور اس کو مضبوط سے مضبوط تر کر دیا گیا، حتیٰ کہ لڑکیوں کی تعلیم کو معیوب سمجھا جانے لگا، ان کو بنیادی تعلیم کے حصول کے لئے تعلیمی اداروں میں جانے سے منع کردیا گیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ عورت پڑھ لکھ کر کیا کرے گی اور اس طرح سے خواتین کو سماجی حصے داری اور دنیاوی معاملات سے کاٹ کر گھر کی چہار دیواریوں میں محصور کردیا گیا؛ لیکن سماجی برائیوں پر تب بھی قابو نہیں پایا جا سکا۔

پھر نتیجہ یہ ہوا کہ خواتین جو مسلم قوم کی آدھی آبادی تھی کو گھر میں محدود کر کے جاھل بنا دیا گیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کا اعتراف ہمیں کرنا ہوگا کہ آج بہت سی مسلم مائیں ایسی ہیں جنہیں کلمہ تک یاد نہیں، بہت سی مسلم عورتیں ایسی ہیں جنہیں نماز و روزہ کا صحیح علم نہیں، بہت سی مسلم بہنیں ایسی ہیں جنہیں اپنا نام تک صحیح سے لکھنا نہیں آتا۔ غرض یہ کہ وہ ہر علم سے ناآشنا اور ہر طرح کی سماجی حصہ داری سے عاری ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ وہ قوم جس نے کبھی حضرت عائشہؓ، حضرت فاطمہؓ اور حضرت زینبؓ جیسی عظیم خواتین پیدا کی، آج اس قوم کی اکثر خواتین ناخواندہ ہیں۔

آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ خواتین کو گھر میں محدود کرکے نہ ہی ہم نے دین کا بھلا کیا ہے اور نہ ہی دنیا کا۔ بلکہ اتنا ظلم ضرور کیا ہے کہ ہم نے نصف آبادی کو جاہل بنا دیا ہے، یہ ایک ایسا خلا ہے جس کو پر کرنے میں کئی صدیاں درکار ہیں۔ تعلیمی میدان میں ہم دوسری قوموں سے بہت پیچھے ہیں اور مسلم لڑکیاں دوسری قوموں کی لڑکیوں سے کہیں زیادہ پیچھے ہیں، اس لیے ہمیں لڑکیوں کی تعلیم پر بہت سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ذرا سوچئے تو سہی کہ آخر ایک وہ قوم جس کی پچاس فیصد آبادی کی اکثریت جاھل ہو، وہ دنیا میں کیسے ترقی کر سکتی ہے۔ یہ آفاقی نظام ہے کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو تعلیمی میدان میں آگے ہوں۔

لہذا آج کے ایسے ماحول میں جہاں مسلم لڑکیاں ارتداد کا شکار ہو رہی ہیں اور دوسروں کے بہکاوے میں آکر اپنا مذہب تبدیل کر لے رہی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں تعلیم دی جائے اور اسلامی تعلیمات کی خوب صورتی سے روشناس کرایا جائے تاکہ ان کے عقیدے کی بنیاد مضبوط ہو اور وہ اپنے دین پر عمل پیرا ہونے میں ہی فخر محسوس کریں۔
یہ بڑی عجیب بات ہے کہ والدین جب بھی اپنے لڑکے کے لیے ضروری رشتہ تلاش کرتے ہیں، اس بات کو لازمی قرار دیتے ہیں کہ لڑکی پڑھی ہونی چاہیے لیکن وہی والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم یافتہ نہیں بناتے ہیں۔ بیٹی آپ کی ہو یا کسی اور کی، تعلیم تو ہر ایک کے لیے ضروری ہے اور اس کا بنیادی حق ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ لڑکی جو آپ کو اپنے لڑکے کے لیے چاہیے، تعلیم اس کے لیے ضروری ہو لیکن آپ کی اپنی لڑکی جو سماج کے کسی گھر کی بہو بنے گی، کسی شخص کی بیوی بنے گی، کسی کی ماں بنے گی، تعلیم اس کے لیے ضروری نہ ہو؟

لہٰذا ان تمام مشکلات کا جامع حل یہ ہے کہ عورتوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دی جائے تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی معاملات کو بہتر سے بہتر سمجھ سکیں، کسی کی مدد اور مشورے کی محتاج نہ ہوں۔ یہ بات مردوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی انقلاب کے مانند ہے، جو گھر اور خاندان سے لے کر سماج تک کو بدل سکتی ہے اور اسے بہتر بنا سکتی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایسے گرلس اسکول یا تعلیمی ادارے کی بنیاد ڈالیں جہاں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم بھی پڑھائے جاتے ہوں، تاکہ ہمارے قوم کی بچیاں محدود وقت میں ہر طرح کے علوم سے آراستہ ہو جائیں، صحیح اور غلط کے مابین فرق کرنے لگیں۔ اس کے لیے ذمہ داران کو بھی بچیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے، ناکہ ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے اور انہیں کسی بھی طرح کا عار محسوس نہ ہو۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو تے ہیں تب جا کر معاشرہ بدلے گا، اور آگے چل کر یہی بچیاں اپنی قوم اور اپنے ملک کا نام روشن کریں گی، پھر مسلم سماج سے جہالت کا خاتمہ ہوگا اور مسلمانوں کی موجودہ تعلیمی، سماجی، سیاسی اور معاشی صورتحال بہتر ہوگی۔

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*