دکھ تو ایسا ہے کہ دل آنکھ سے کٹ کٹ کے بہے! ۔ نایاب حسن

استاذِ محترم مولانا نورعالم خلیل امینی کی یاد
(پہلی قسط )

آہ! یہ انسانیت خور وبا ہمیں کیا کیا دن دکھائے گی اور کیسے کیسے لعل و گہر ہم سے چھینتی رہے گی۔ یوں تو ان دنوں کسی لڑی سے چھٹکے ہوئے موتیوں کی طرح ہر آن انسانی سانسیں ٹوٹتی بکھرتی اور اس عالمِ ہست و بود سے دور چھٹکتی جارہی ہیں،مگر استاذ محترم مولانا نور عالم خلیل امینی کی رحلت کا سانحہ نہایت ہی جگر خراش اور دل کو چھلنی کرنے والا ہے۔ کیسی زندہ دل شخصیت تھی اور کیسی رفعتوں کا حامل انسان۔ شایستگی ان کا خاصہ تھی اور شگفتگی ان کی فطرتِ ثانیہ۔ جیسی آبدار تحریریں لکھتے، ویسی ہی شاندار گفتگو کرتے،وہ حقیقی معنوں میں یکہ تاز ادیب تھے اور دل و دماغ میں سحر پھونکنے والے گفتگو طراز۔ مولانا سے جب بھی بات ہوتی ذہن شاداب ہوجاتا اور علم و نظر کے قیمتی موتی ہاتھ آتے۔ ابھی مولانا کئی اہم علمی و ادبی منصوبوں پر کام کررہے تھے،ان کا ایسے چلا جانا ان کے اہلِ خانہ و پسماندگان کے لیے ہی نہیں،دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے شاگردوں،ان کے مستفیدین و متعلقین اور پورے جہانِ علم و ادب کے لیے ایک جاں کاہ حادثہ ہے۔ دوسرے ہزاروں لوگوں کی طرح وہ میرے بھی استاذ تھے،ان سے کتابی علم حاصل کرنے کے علاوہ ان کی بافیض اور پر مغز باتوں سے بھی بہت کچھ سیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ابھی ’دکھ توایسا ہے کہ دل آنکھ سے کٹ کٹ کے بہے‘ اور ذہن شدید اضطراب و انتشار سے دوچار ہے،مگر یادوں کو سمیٹنا بھی ضروری ہے،مولانا سے وابستہ وہ یادیں،جوبڑی پر لطف ہیں اور اب ان میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا، سو کچھ غیر مرتب سطریں لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
مولانا کا نام بچپن سے ہی سنا ہوا اور جانا پہچانا تھا،کہ ابتدائی عربی سکھانے والی ان کی کتاب’’مفتاح العربیہ‘‘(دوجلدیں) پڑھ رکھی تھی اور ’’خاصی محنت‘‘سے پڑھی تھی،البتہ ان سے پہلی ملاقات ۲۰۰۸ میں ہوئی، تب میں دارالعلوم دیوبند میں نیا نیا داخل ہوا تھا۔ دارالعلوم بالاساتھ (سیتامڑھی) میں ہمارے استاذ گرامی مولانا قاضی محمد عمران قاسمی دیوبند تشریف لائے ہوئے تھے،وہ مولانا کے قدیم شناسا اور رشتے دار ہیں،انھوں نے کہا کہ چلو حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب سے ملواکر تعارف کروادیتا ہوں،آیندہ ان کی خدمت میں حاضری دیتے رہنا اور استفادہ کرنا۔ عصر کے بعد ان کی معیت میں ملاقات اور تعارف کے بعد کچھ رسمی گفتگو ہوئی ، دیوبند میں نووارد تھا اور ابھی اساتذہ تو دور،اپنے ساتھی طلبہ سے بھی مانوس نہیں تھا،سوانھوں نے جو کچھ پوچھا، اس کا جواب دیا اور بقیہ وقت خاموش ہی رہا،بس قاضی صاحب گفتگو کرتے رہے۔ باضابطہ تعارف اور افادہ و استفادہ کا سلسلہ ۲۰۱۰ میں شروع ہوا جب ہم تکمیلِ ادبِ عربی کی کلاس میں داخل ہوئے ۔ درس گاہ میں کسبِ فیض کے ساتھ کبھی کبھی مولانا کے دولت کدے پر بھی جایا کرتے اور ان کی علمی و ادبی گفتگو سے مستفید ہوتے۔ میں خاص طورپر ان کی باتیں بڑی دلچسپی سے سنتا تھا،مختلف حالات وواقعات اور شخصیات پر ان کی رائیں اور تبصرے بڑے چست اور پر لطف ہوتے، معلومات میں اضافہ ہوتا سو الگ۔ انھوں نے اپنی زندگی میں کئی بڑی اور اہم شخصیات کو دیکھا اور برتا تھا،سو ان کے تعلق سے ان کے خیالات میں قطعیت و ایقان ہوتا اور ان کی باتوں سے متعلقہ شخصیات کی زندگی و کردار کی کئی پرتیں کھل کر سامنے آجاتیں۔ درس گاہ میں بعض طلبہ کے منفرد قسم کے ناموں پر چٹکی لیتے اور وقتاً فوقتاً چھیڑ چھاڑ رہتی،خود سبق کے پہلے دن دیگر کئی رفقا کے ساتھ میں بھی ان کے رڈار پر آگیا تھا،حاضری لیتے ہوئے مولانا نے میرا نام پکارا اور کہا’’نایاب حُسن‘‘،سن کر ساری درس گاہ قہقہ بار ہوگئی اور میں عجیب و غریب سہمی ہوئی شکل بنائے کھڑا رہا،پھر کہنے لگے تمھارا یہ نام کس نے رکھا ہے؟حُسن بھی کہیں نایاب ہوتا ہے؟انھیں پتا تھا کہ نام کا حصہ ’’حُسن‘‘ نہیں،’’حَسَن‘‘ ہے،مگر ان کا طلبہ کو خود سے مانوس و بے تکلف بنانے کا اپنا سٹائل تھا۔ کوئی طالب علم موٹا ہوتا،تو کہتے کہ یہ یہاں سے نکل کر مہتمم بنے گا اور ہم سب ان کی اس قسم کی برجستہ گوئیوں سے لطف اندوز ہوتے۔ جب سبق پڑھانا شروع کرتے تو ان کا انہماک دیدنی ہوتا،کتاب میں ڈوب جاتے،مزے لے لے کر پڑھاتے اور جھوم جھوم کر درس دیتے، مختصر اور طویل جملوں کے ترجمہ و تفہیم کے دوران ان کے دسیوں مواقعِ استعمال کی نشان دہی کرتے،عربی تراکیب و تعبیرات کے نئی پرانی شکلوں سے آگاہی بخشتے، عربی الفاظ ،افعال و مشتقات کی اصل ہی نہیں،ان کی روح تک سے آشنا تھے اور دورانِ درس اپنی تمام تر ادبی،لسانی و تدریسی مہارت و معلومات طلبہ تک منتقل کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کے سبق سے اٹھنے کے بعد ہر دن یوں محسوس ہوتا کہ بہت کچھ نیا سیکھنے اور جاننے کو ملا۔ آج ان سے اکتسابِ فیض کرنے والے سیکڑوں زبان و ادب کے شناور ہیں،جو نامورانِ عصر میں شمار ہوتے اور اس یگانۂ عصر استاذ کی تعلیم و تربیت کے خوب صورت نتائج کے طورپر اپنی شناخت رکھتے ہیں ۔
سال بھر ضابطے کی شاگردی کے بعد بھی طویل و مختصر زمانی وقفوں کے ساتھ مولانا کے خوانِ علم و ادب سے خوشہ چینی کا سلسلہ جاری رہا۔ ۲۰۱۸ میں مولانا کے لیے عربی زبان و ادب میں خدمات کے عوض صدارتی ایوارڈ کا اعلان کیا گیا،اس موقعے سے میں نے مولانا کو فون کرکے مبارکباد پیش کی ،ایک مضمون بھی لکھا جس میں مولانا کی ادبی خدمات و امتیازات پر روشنی ڈالی۔ مولانا نے دعائیں دیں اور کہا کہ میرا اصل ایوارڈ تو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے شاگرد اور کتابیں ہیں،جنھیں لوگ پڑھتے اور دعائیں دیتے ہیں۔ ۲۰۱۹ میں دیوبند گیا تو وقت لے کر عصر کے بعد ملاقات کی،عصر اور مغرب کے درمیان کا وقفہ بہت کم تھا،سو کچھ خاص بات چیت نہیں ہوپائی،تو مغرب کے بعد مولانا نے فون کیا اور کافی دیر تک باتیں کرتے اور معذرت کا اظہار کرتے رہے ،کہا کہ میں تم سے مزید گفتگو کرنا چاہتا تھا،مگر میری مصروفیات ایسی رہتی ہیں کہ بعض دفعہ بہت عزیز لوگوں کو بھی وقت نہیں دے پاتا۔ دراصل مولانا پابندی اوقات اور ٹائم مینجمنٹ کے معاملے میں حد درجہ محتاط تھے،اس سلسلے میں وہ کوئی سمجھوتا نہیں کرسکتے تھے۔ انھوں نے اپنی نصف صدی کی عملی زندگی کے دوران زبان و ادب اور علم و فکر کے شعبے میں جو قابلِ قدر خدمات انجام دیں،اس کی اہم وجہ یہی تھی کہ وہ وقت کے بے پناہ قدر شناس تھے،اسی وجہ سے وہ بہت ہی کم آمیز واقع ہوئے تھے،بلا وجہ رابطے بڑھانے اور تعلقات گانٹھنے سے انھیں سخت چڑ تھی،علما عام طورپر جلسوں اور مجمعوں کے شائق ہوتے ہیں،مگر مولانا دوسری ہی ڈھب کے انسان تھے،انھیں بھیڑ بھاڑ میں وحشت ہوتی تھی اور گوشہ نشینی میں عافیت محسوس کرتے تھے۔ پورے سال وہ شاید ہی ایک آدھ پروگرام میں کہیں جاتے ،وہ بھی اگر ان کے ذوق و مزاج کا ہوتا تب،ورنہ بڑی سے بڑی شخصیت یا ادارے کی طرف سے آنے والی دعوت پر بھی خوش اسلوبی سے معذرت کر لیتے۔ انھیں موجودہ دور کے علما سے کئی شکایتیں تھیں،جن میں سے ایک ضیاعِ وقت سے متعلق بھی تھی اور بالکل درست تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان کی زیادہ تر ناکامیوں کی وجہ تضییعِ اوقات اور زندگی کی ناقدری ہے،اس لیے وہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ ناپ تول کر خرچ کرتے اور اسے زیادہ سے زیادہ تصنیف و تالیف، مطالعہ و تفکر اور درس و تدریس میں صرف کرتے،کسی پر بے وجہ تھوڑا سا وقت خرچ کرنا بھی ان کی طبیعت کو نہایت گراں گزرتا تھا۔
میں نے اپنے مضامین کا پہلا مجموعہ’’عکس و نقش‘‘جب انھیں بھجوایا،تو دیکھنے کے بعد فون کرکے فرمایا کہ ماشاء اللہ !تمھاری تحریر میں بڑی پختگی آگئی ہے۔ مولانا کا معیارِ رد و قبول بڑے سخت اصولوں پر مبنی تھا؛اس لیے ان کے حوصلہ افزا کلمات سن کر دل بے پناہ مسرور ہوا۔ پھر اکثر ایسا ہوتا کہ میری کوئی تحریرمولانا کی نظروں سے گزرتی ،تو فون کرکے حوصلہ افزائی کرتے، بہت زیادہ دعائیں دیتے،ان کی وہ دعائیں میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ وہ معیاری علمی و ادبی کام کرنے کے لیے ذہنی یکسوئی،وقت کی قدر شناسی،کثرتِ مطالعہ اور اپنے علم میں مسلسل اضافہ کرتے رہنے کو از حد ضروری سمجھتے تھے۔ ذہنی یکسوئی کے لیے وہ ہر قسم کی فارغ البالی کو اہم قرار دیتے تھے؛اس لیے ہمیشہ وہ دینی و دنیاوی سکون و سعادت کی دعائیں دیتے اور توکل علی اللہ کے ساتھ ان کی طلب و جستجو کے لیے بھی مہمیز کرتے رہتے۔
شوگر کا عارضہ مولانا کو عرصۂ دراز سے لاحق تھا اور کبھی کبھی اس کی شدت بہت زیادہ بڑھ جاتی تھی،اس کا اثر پاؤں پر زیادہ تھا؛اس لیے چلنے میں بھی قدرے پریشانی ہوتی،ادھر چند سالوں سے عصا لے کر چلنے لگے تھے، دوسری قسم کی علالتوں سے بھی دوچار رہتے ،مگر اس کے باوجود ان کے معمولاتِ تدریس و تحریر اور دیگر ذمے داریوں کی بروقت اور کماحقہ ادائیگی میں کوئی کمی نہ آنے پاتی۔ دارالعلوم دیوبند سے وابستگی کے فوراً بعد درس و تدریس کے علاوہ انھیں وہاں سے شائع ہونے والے عربی رسالہ ’’الداعی‘‘ کا مدیر بھی بنایا گیا،جو پہلے پندرہ روزہ تھا،پھر ماہنامہ ہوگیا ۔ ابتداءاً مولانا اکیلے اس رسالے کی ادارت سے لے کر طباعت و ترسیل تک کا کام کرتے اور اس مقصد سے ہر مہینے پندرہ دن کے وقفے سے دیوبند سے دہلی کا سفر کرتے،بعد میں کچھ آسانیاں میسر آئیں،’’الداعی‘‘ کے لیے باضابطہ دفتر اور عملہ مختص کیا گیا اور ان کے ذمے صرف ادارتی امور رہ گئے،مگر دونوں زمانوں میں انھوں نے رسالے کی اشاعت میں کبھی تاخیر کو گوارہ نہیں کیا، مدارس کے حلقے سے شائع ہونے والا غالباً یہ واحد ایسا عربی رسالہ تھا،جو ہر ماہ بروقت شائع ہوتا تھا،کبھی کبھی دو ماہ کے شمارے ایک ساتھ تو شائع ہوئے،مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس ماہ کا اگلے ماہ میں اور اگلے کا اس سے اگلے ماہ میں شائع ہوا ہو،جیسا کہ عام طورپر رسائل و جرائد کے ساتھ ایسا ہوتا ہے،اس پابندی کے ساتھ رسالے کے عالمی معیار کو مینٹین کرنے کا بھی حد درجہ اہتمام کرتے۔ یہی حال مولانا کی کلاس کا بھی تھا،بالکل وقت پر پہنچتے اور وقت پر ہی اپنا سبق ختم کرتے،ایسے طلبہ کو کلاس میں گھسنے نہ دیتے جو ان کی آمد کے بعد آتا،حالاں کہ ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ ان کی کلاس میں طلبہ ان کی آمد کے بعد پہنچیں،زیادہ تر تو ایسا ہوتا کہ ان کی گل افشانیِ گفتار سے مستفیض ہونے کے لیے متعلقہ کلاس کے علاوہ دوسری کلاسوں کے ادب شناس طلبہ بھی ان کے پیریڈ میں آجاتے ۔ مولانا ایسے اساتذہ سے بھی سخت کبیدہ خاطر ہوتے جو اپنی دراز نفس تقریر کے چکر میں ان کے گھنٹے کا کچھ حصہ ’مار جاتے‘۔
وہ اپنے عہد کے بے نظیر ادیب تھے اور ایک ادیب کی تمام تر لطافتیں، نفاستیں اور نزاکتیں ان کی ذات میں موجود تھیں،وہ صرف لفظوں کی فسوں کاری اور زبان و بیان کی حسن کاری پر ہی زور نہیں دیتے تھے؛بلکہ ان کا زور اس پر بھی ہوتا تھا کہ انسان کو اخلاق و لباس اور بول چال کے معاملے میں بھی نفیس و نستعلیق ہونا چاہیے، خود ان کی تحریر و تقریر میں ہی نفاست و نزاہت نہ جھلکتی؛بلکہ ان کا سراپا بھی ان کے انفراد و امتیاز کی گواہی دیتا،وہ جس مجلس میں ہوتے، اپنی وجیہ و با وقار شخصیت،علمی و ادبی سربرآوردگی اور لباس و پوشاک کے رکھ رکھاؤ کی وجہ سے سب میں نمایاں نظر آتے۔ بہترین کرتا پاجامہ،عمدہ شیروانی، سلیقے سے اوڑھی گئی کشتی نما(دیوبندی)ٹوپی، خوب صورت فریم اور موٹے شیشے کی عینک اور چمکتے ہوئے جوتے ان کی خوش قامتی کو مزید دیدہ زیب بنادیتے،چلنے کا انداز،دیکھنے کا ڈھنگ اور بات کرنے کا آہنگ؛سب من کو موہ لینے والا ہوتا؛چنانچہ وہ جدھر سے گزرتے،آس پاس کے لوگوں کی نگاہ بے ساختہ ان پر جاٹھہرتی،پھر وہ اس وقت تک انھیں دیکھتے رہتے،جب تک مولانا نظروں سے اوجھل نہ ہوجاتے۔ اپنی اس غیر معمولی نفاستِ ذوق کا وہ بر ملا اظہار و اعلان بھی کرتے اور شاگردوں کو ایسے ہی اطوار اختیار کرنے کی تلقین بھی کرتے،کہ اس طرح زندگی کلفتوں میں بھی لذت بخش ہوجاتی ہے اور ویسے بھی خوش لباسی و خوش فکری ہر باشعور انسان کا زیور ہے۔ اگر کسی بڑے سے بڑے انسان میں بھی انھیں بدویت،بھونڈاپن یا بد مذاقی نظر آتی تو سخت تکلیف کا اظہار کرتے۔ وہ ان کتابوں کو بھی ہاتھ لگانا گوارہ نہ کرتے،جن کی جلد بندی بے ڈھب،کاغذ ہیچ پوچ اور کتابت نگاہوں کو چبھتی ہو،کہا کرتے کہ مولانا! ایسی کتاب دیکھ کر قے ہونے لگتی ہے،یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی ہر کتاب میں جتنی محنت مواد کو بہتر اور معیاری بنانے پر کرتے تھے، اسی قدر محنت اس کی معیاری طباعت پر بھی کرتے تھے۔