دکھ تو ایسا ہے کہ دل آنکھ سے کٹ کٹ کے بہے!(۲)۔نایاب حسن

استاذِمحترم مولانا نور عالم خلیل امینی کی یاد

مولانا کی نفاستِ ذوق کے حوالے سے ایک اور واقعہ پردۂ ذہن پر ابھر رہا ہے، ایک دن سرِ شام فون آیا،دعا سلام کے بعد کہنے لگے بیٹا!ایک بات معلوم کرنی ہے۔ اردو والے جو انگریزی کے ’’انٹرنیشنل‘‘ اور عربی کے ’’دولي یا عالمي‘‘کے اردو متبال کے طورپر’’بین الاقوامی‘‘لفظ استعمال کرتے ہیں،اس کو کیسے لکھتے ہیں؟میں تو عام طورپر الف لام کے ساتھ ہی لکھتا ہوں،مگر تم چوں کہ اردو زبان و ادب کی’’مارکیٹ‘‘میں ہو؛اس لیے سوچا پوچھ لوں۔ پہلے تو مولانا کے مخصوص طرزِادا اور اندازِ بیان سے لطف اندوز ہوتا رہا،پھر اپنے علم کے مطابق کہا کہ عام طورپر اردو والے’’بین الاقوامی‘‘ہی لکھتے ہیں،البتہ میں نے مولانا عبدالماجد دریابادی اور ایک آدھ مزید بڑے ادیبوں کی تحریروں میں ’’بین اقوامی‘‘ لکھا ہوا دیکھا ہے؛بلکہ مولانا دریابادی اردو میں مستعمل اس قسم کی جملہ ترکیبوں کو بغیر الف لام کے ہی لکھتے تھے،جیسے:بین مِلّی،بین معاشرتی وغیرہ۔ کہنے لگے کہ مولانا کی تحریریں تو میں بھی پڑھتا رہا ہوں؛لیکن کبھی اس پر توجہ نہیں دی،گویا اس لفظ کو اردو مزاج میں ڈھالنے کے لیے یوں بھی لکھا جاسکتا ہے۔ پھر بر سبیل تذکرہ میں نے ’’بین الاقوامی‘‘ کے تلفظ کے تعلق سے کہا کہ اردو حلقوں میں جن لوگوں کا عربی پس منظر نہیں ہوتا اور وہ نہیں جانتے کہ ’’بین‘‘کی نحوی و اعرابی حیثیت کیا ہے، وہ اس لفظ کو’’بینُ الاقوامی‘‘بولتے ہیں،یہ سنتے ہی مولانا نے سخت ناگواری کا اظہار کیا اور کہا توبہ،توبہ!یہ تو سخت بدذوقی ؛ بلکہ بیہودگی کی بات ہے۔
مولانا کی شایستگیِ ذوق کا معاملہ نشست و برخاست سے لے کر لباس و پوشاک، اندازِ گفتگو اور تحریر و تصنیف تک یکساں تھا۔ چائے پیتے ہوئے تیز تیز چسکی لینے کو بھی وہ معیوب سمجھتے تھے،وہ بیٹھنے کا سلیقہ بھی سکھاتے تھے اور چلنے کا طریقہ بھی۔ ان کا جمالیاتی ذوق نہایت ہی اعلیٰ و بالا تھا سو وہ ہر عمل میں ترتیب و تنظیم اور جمال آرائی کو ضروری سمجھتے تھے اور بد نظمی ، بے ترتیبی و بدمذاقی سے بے حد ناراض ہوتے،پھر اپنے فصیح و بلیغ انداز میں ایسی ڈانٹ پلاتے کہ سامنے والا تھر تھر کانپنے لگتا۔ اس سلسلے میں وہ اپنے محبوب استاذ،بافیض مربی مولانا وحید الزماں کیرانوی سے خاصے متاثر تھے اور اس حوالے سے اکثر ان کے واقعات سنایا کرتے۔
پچھلے لگ بھگ دوسال سے میں مولانا کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اپنی خود نوشت لکھنے کا سلسلہ شروع کریں،جب بھی بات ہوتی تو اس کا تذکرہ ضرور کرتا؛بلکہ ایک بار تو یہاں تک کہہ دیا کہ زندگی میں ہی اپنی سوانح لکھ دیں یہ بہتر ہے،ورنہ بعد از مرگ لوگ پتا نہیں کیا کیا جھوٹ سچ لکھ دیتے ہیں،انھیں خود اس کا بخوبی اندازہ تھا؛بلکہ اکثر اس تعلق سے بڑی مزے دار باتیں بتایا کرتے،سو کہنے لگے کہ تمھاری بات بالکل صحیح ہے۔ خود مولانا کسی بھی شخصیت کی توصیف یا تذکرے میں غلو اور افراط و تفریط کو سخت ناپسند کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر صاحبِ علم و فضل انسان کی قدر کرتے اور اس کے تعلق سے وقیع رائے کا اظہار کرتے ،مگر لفظوں کے انتخاب میں نہایت محتاط رہتے،حتی الامکان کوئی لفظ یا لقب ایسا استعمال نہ کرتے جو متعلقہ شخصیت کے قد سے بالا یا فروتر ہو اور اپنے لیے بھی غلو آمیز مدح و ستایش کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ اسی طرح اپنی تحریروں میں درج کی جانے والی معلومات کی صحت کا بھی مولانا حد درجہ اہتمام کرتے تھے،واقعات و حالات کی درست تاریخ،صحیح پس منظر اور حقیقی جزئیات تحریر فرماتے اور دوسروں سے بھی وہ یہی توقع رکھتے تھے۔ جب ۲۰۱۸ میں مولانا کو صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا،تو اس مناسبت سے ان کے بہت سے قدیم و جدید شاگردوں نے بہت کچھ لکھا،میں نے بھی ہندوستان میں عربی زبان و ادب کی خدمت اور فروغ میں مولانا کے کردار کو اُجالنے کی کوشش کی۔ بعد میں مجھ سے گفتگو کے دوران مولانا نے فرمایا کہ اور لوگوں نے پتا نہیں کیا کیا لکھ دیا ہے،مگر تمھاری تحریر بالکل متوازن اور معتدل ہے ، تم نے وہی لکھا ہے،جو حقیقت ہے۔
خیر! خود نوشت لکھنے کے لیے میں مولانا کو اپنی ہر گفتگو میں آمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا اور وہ اپنی مصروفیات اور بیماریوں کی وجہ سے معذوری ہی ظاہر کرتے رہے۔ ایک دن میں نے کہا کہ اگر خود لکھنا مشکل ہے تو کسی باصلاحیت شاگرد کو کہہ دیں،وہ روزانہ صبح یا شام ایک مقررہ وقت میں آپ کی خدمت میں آجایا کرے اور آپ اسے اپنا احوالِ زندگی املا کروادیا کریں،اس سلسلے میں، مَیں نے مولانا آزاد اور ان کی کتاب ’’تذکرہ‘‘ یاد دلائی اور بھی کئی بڑے لوگوں کے بارے میں بتایا کہ وہ تو اپنی پوری کتاب املا کروا دیتے ہیں،کہنے لگے ان سب کے بارے میں جانتا ہوں، تمھارا کہنا درست ہے،مگر کبھی اس طرح لکھنے کی نوبت نہیں آئی؛اس لیے میری طبیعت اس پر آمادہ ہی نہیں ہوتی۔ پھر پتا نہیں کیسے موڈ بنا تو ایک دن مغرب بعد فون کیا،کہا کہ میں نے تمھاری بات پر غور کیا ہے، سوچ رہا ہوں کہ مرتب انداز میں نہ سہی،غیر مرتب طریقے سے ہی احوالِ حیات لکھنے کا سلسلہ شروع کردوں،کہ زندگی کا کوئی ٹھکانہ نہیں،معلوم نہیں کب سانس کی ڈور ٹوٹ جائے۔( پچھلے کچھ عرصے سے مولانا کی ہر گفتگو میں کسی نہ کسی حوالے سے زندگی کی ناپائیداری، موت اور اختتامِ حیات کا ذکر آہی جاتا تھا) پھر فرمایا کہ اردو کی کچھ اچھی خود نوشتوں کے نام بتاؤ جو تمھارے پاس ہوں۔ میں نے بتایا تو آل احمد سرور،کنور مہندر سنگھ بیدی،ادا جعفری اور عابد سہیل کی خود نوشتیں بھیجنے کو کہا،میں نے دوچار دن میں بھجوادیں۔ لگ بھگ ایک ماہ بعد فون آیا،کہنے لگے آل احمد سرور کی خود نوشت(خواب باقی ہیں) پڑھ لی ہے،کتاب اچھی ہے،مگر طباعت و کتابت بہت خراب ہے،طبیعت پر جبر کرکے کتاب ختم کی ہے۔ عابد سہیل (جویاد رہا) کے اسلوبِ تحریر کی تعریف کی اور کتاب کی طباعت کو بھی سراہا،اداجعفری کی خود نوشت(جو رہی سو بے خبری رہی) کے بارے میں کہا کہ یہ کتاب میں نے پہلے بھی پڑھ رکھی تھی،ٹھیک ٹھاک ہے۔ بیدی کی کتاب(یادوں کا جشن) ابھی زیر مطالعہ تھی،پوری پڑھی نہیں تھی،مگر وہ بھی انھیں اچھی لگی تھی،بیدی کے شیریں اور بے تکلفانہ طرزِ تحریر سے متاثر تھے،کتاب کے مشمولات بھی انھیں خاصے دلچسپ محسوس ہوئے۔ الغرض اب باضابطہ مولانا اپنی خودنوشت لکھنے کا ذہن بنا رہے تھے؛مگر ’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!‘
دراصل حالیہ سالوں میں، مولانا درس و تدریس، ’’الداعی‘‘کی ادارتی ذمے داریوں کی ادائیگی اور دیگر تحریری سرگرمیوں کی انجام دہی کے ساتھ اس مجلے میں تقریباً چار دہائیوں سے مسلسل’’اشراقۃ‘‘کالم کے تحت شائع ہونے والے اپنے علمی، فکری، ادبی و اصلاحی مضامین کی ترتیب و تالیف میں مشغول تھے؛اس لیے بھی انھیں وقت نہیں مل پا رہا تھا۔ مولانا نے نہایت اہتمام سے ان مضامین کو اکٹھا کیا،انھیں بڑی محنت،دقت نظری اور جزرسی کے ساتھ پڑھا اور پانچ جلدوں میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا،کتاب کا نام مولانا نے’’من وحي الخاطر‘‘تجویز کیا، مجھ سے ذکر کیا تو بڑی خوشی ہوئی اور میں نے ’’اشراقہ‘‘ کی علمی ،ادبی و فکری خصوصیات پر ایک تعارفی مضمون بھی لکھا۔ اس کتاب کے منتخب حصوں کا اردو ترجمہ بھی مولانا شائع کرنا چاہتے تھے،اپنی تحریروں کا ترجمہ عموماً مولانا خود کرتے تھے،مگر شاید انھیں احساس ہونے لگا تھا کہ اب ان کا عرصۂ حیات مختصر ہے،سو وہ اپنے کاموں کو جلد از جلد سمیٹنا اور پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے؛چنانچہ ترجمے کے لیے ان کی نگاہِ انتخاب اردو کے ممتاز ادیب و ناقد اور مولانا کے عزیز ترین اور چہیتے شاگردوں میں سرِ فہرست حقانی القاسمی صاحب پر پڑی، مجھ سے کہا کہ ان کو آمادہ کرو،مولانا حقانی صاحب کے طرزِ تحریر اور ان کی ادبی و لسانی ہنر مندیوں کے بڑے معترف تھے۔ میں نے حقانی صاحب سے بات کی تو انھوں نے اپنی مصروفیات کی بناپر مجبوری ظاہر کی، مولانا نے کہا کہ دوچار مضامین کا ہی سہی؛لیکن حقانی صاحب ضرور ترجمہ کریں،باقی تم کردینا اور حقانی اس پر نظرِ ثانی کر لیں گے۔ حقانی صاحب اس کے لیے آمادہ ہوگئے ،میں نے بھی مولانا سے وعدہ کرلیا اور کہا کہ کتاب آجائے تو آپ متعلقہ مضامین نشان زد کرکے بھجوادیں۔ مولانا کی شدید خواہش تھی کہ یہ کتاب ان کے معیار اور پسند کے مطابق جلد ازجلد شائع ہوجائے، مگر طباعت کی تکمیل میں کورونا اور پچھلے سال بھر سے چلنے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے تاخیر در تاخیر ہوتی رہی،خدا خدا کرکے مارچ کے اوائل میں کتاب چھپ کر آئی،مگر وہ ان کے ذوق اور معیار کے مطابق نہیں تھی،کچھ خامیاں رہ گئی تھیں،جنھیں دور کروایا گیا اور رمضان سے دو تین قبل دوبارہ شائع ہوکر آسکی ۔ ایک اور کتاب شخصیات و سوانح کے تعلق سے’’رفتگانِ نارفتہ‘‘ کے نام سے ابھی زیر طبع ہے،اس میں چوبیس بڑے لوگوں کا دلنشیں تذکرہ ہے، مولانا اسے مطبوعہ شکل میں نہ دیکھ سکے۔ شخصیات ہی پر ایک کتاب کا مسودہ تقریباً تکمیل کے مرحلے میں تھا،نام اس کا مولانا نے’’خاکی،مگر افلاکی‘‘تجویز کیا تھا،یہ کتاب بھی ان کی حیات میں محرومِ طباعت رہی۔
مولانا کو میں فون کم کرتا تھا؛کیوں کہ مجھے ان کی مصروفیت کا خیال رہتا۔ عموماً مہینے پندرہ دن میں مولانا ہی یاد فرماتے اور احوال دریافت کرنے، دعاؤں سے نوازنے کے ساتھ مختلف علمی و ادبی موضوعات پر باتیں ہوتیں۔مولانا سے گفتگو کے دوران میں بولتا بہت کم تھا،صرف مولانا کے سوالوں کے جواب دیتا اور زیادہ تر انھیں سنتا اور سر دھنتا؛بلکہ اگر آس پاس میرا کوئی دوست موجود ہوتا تو سپیکر آن کرکے اسے بھی مولانا کی چٹخارے دار گفتگو اور شوخیِ بیان سے محظوظ ہونے کا موقع فراہم کرتا۔ ابھی رمضان سے دودن قبل ۱۱؍اپریل کو آخری مرتبہ گفتگو ہوئی۔ باتوں باتوں میں فرمایا کہ اب کوئی ایسا شخص ملتاہی نہیں جس سے کچھ بے تکلفانہ گفتگو کی جائے۔ ایک عمیدالزماں کیرانوی(مولانا وحید الزماں کیرانویؒ کے برادرِ خورد،عربی کے بہترین ادیب و مترجم) تھے،انھیں جب چاہتا تھا،فون کرکے بات کرلیتا تھا،بھائی بدرالزماں(کیرانوی،مولانا عمیدالزماں کیرانوی کے صاحبزادہ،عربی و انگریزی کے عمدہ مترجم) سے وقتاً فوقتاً بات ہوجاتی تھی،مگر اب وہ خود بھی بیمار ہیں۔ شاگردوں میں تم کو ’وقت ناوقت پریشان کرتا رہتا ہوں‘ ،یہ سن کر میں نے کہا کہ حضرت! یہ تو میرے لیے بے انتہا سعادت کی بات ہے کہ آپ مجھے یاد رکھتے اور فراغت کے وقت میں گفتگو کے قابل سمجھتے ہیں،تو ہنسنے لگے اور پھر دعاؤں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ یہی آخری گفتگو تھی،اس کے دوچار دن بعد ہی مولانا کے چھوٹے صاحبزادے بھائی ثمامہ نور سے بات ہوئی کہ طبیعت زیادہ خراب ہے، تو میں نے ان کی اجازت سے سوشل میڈیا پر اپنے احباب اور مولانا کے تلامذہ و متعلقین اور مستفیدین سے دعاے صحت کی اپیل کی، پھر کبھی طبیعت بہتر ہونے اور کبھی بگڑنے کی خبریں ملتی رہیں،ڈاکٹر کی نگرانی میں دیوبند میں گھر پر ہی علاج چلتا رہا اور مولانا کے تمام اہلِ خانہ بھر پور خیال رکھتے رہے۔ ۱۹؍اپریل کو میں نے’’رفتگانِ نارفتہ‘‘پر ایک تعارفی تحریر لکھی، جسے بھائی ثمامہ نے پڑھ کر مولانا کو سنایا،انھوں نے بتایا کہ مولانا اسے سن کر حسبِ معمول بہت خوش ہوئے اور خوب دعائیں دیں۔
دن بہ دن حالات ناگفتہ بہ ہوتے گئے تو اسپتال میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا اور ۲۸؍ اپریل کو میرٹھ لے جایا گیا، وہاں سے بھی کبھی یاس انگیز تو کبھی امید افزا خبریں آتی رہیں،۲؍مئی کومعلوم ہوا کہ طبیعت کافی بہتر ہے، ۳؍مئی کو دن میں بھی خوش کن خبریں ملیں،مولانا کے مکمل طورپر روبصحت ہونے کی امید پختہ ہونے لگی تھی،مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا، سو بلاوا آیا اور مولانا پوری آمادگی،انشراحِ صدر کے ساتھ تسبیح و تہلیل پڑھتے ہوئے ایک بجے شب اپنے خالق کے حضور پہنچ گئے۔ أخرِ حیات میں ایک دن ثمامہ نور کو راز الہ آبادی کا ایک شعر سنایا اور فرمایا کہ انٹرنیٹ سے پوری غزل نکال کر سناؤ،بھائی ثمامہ نے وہ غزل سنائی تو اشعار کی مخصوص لفظیات و آہنگ کی وجہ سے خود ان پر بھی رقت طاری ہوگئی اور مولانا کی کیفیت بھی بدلنے لگی ۔ وہ ان اشعار کو بار بار اس طرح پڑھتے کہ گویا شاعر نے انہی کا احوالِ دل بیان کیا ہے۔ ساتھ ہی اشعار کی فنی خوبیوں اور شاعر کے کمالِ ہنر پر بھی اپنی بھرّائی ہوئی آواز میں اظہارِ خیال کرتے جاتے۔ دراصل عربی و اردو ہر دو زبانوں میں مولانا کا ادبی ذوق اعلیٰ تر اور نہایت شستہ و شگفتہ تھا،بر محل جملوں اور شعروں کا استعمال اپنے کلام اور تحریروں میں بے ساختہ کیا کرتے۔ راز الہ آبادی کے ان اشعار سے اندازہ ہوتا ہے کہ جاتے جاتے بھی مولانا کیسے حاضر دماغ تھے اور کیسے صوفیانہ رنگ کے اشعار ان کے ذہن و زبان پر وارد ہوئے:
آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے
اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے
اور کچھ دن یہ دستور مے خانہ ہے، تشنہ کامی کے یہ دن گزر جائیں گے
میرے ساقی کو نظریں اٹھانے تو دو، جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے
اے نسیم سحر تجھ کو ان کی قسم، ان سے جا کر نہ کہنا مرا حال غم
اپنے مٹنے کا غم تو نہیں ہے مگر، ڈر یہ ہے ان کے گیسو بکھر جائیں گے
اشک غم لے کے آخر کدھر جائیں ہم، آنسوؤں کی یہاں کوئی قیمت نہیں
آپ ہی اپنا دامن بڑھا دیجیے، ورنہ موتی زمیں پر بکھر جائیں گے
کالے کالے وہ گیسو شکن در شکن، وہ تبسم کا عالم چمن در چمن
کھینچ لی ان کی تصویر دل نے مرے، اب وہ دامن بچا کر کدھر جائیں گے
جارج برنارڈشا کا قول کہیں پڑھا تھا کہ:آپ بسا اوقات کسی ایسے انسان کو کھودیتے ہیں کہ لگتا ہے ساری دنیا انسانوں سے خالی ہوگئی۔ بلا شبہ مولانا کی رحلت کا سانحہ ایسا ہی ہے،کہ وہ اپنی نوعیت کے فردِ فرید تھے،یکتاے زمانہ،فقیدالمثیل،عدیم النظیر، جس نے اپنے نام کی مناسبت سے ایک دنیا کوزبان و ادب اور علم و فکر کی روشنی بخشی ، جس کے ادب و فن کی جوے سلسبیل سے ایک عالم سیراب ہوتا رہا،ہزاروں طالبانِ زبان و ادب نے جس کے چشمۂ شفاف سے اپنی تشنگی مٹائی اور جس کی خیال انگیز تصانیف نے عالمِ عربی و عجمی کو اپنا اسیر و گرویدہ بنائے رکھا:
دل دھڑکنے کا تصور بھی خیالی ہوگیا
اک ترے جانے سے سارا شہر خالی ہوگیا
(راحت اندوری)