دعا کے شہر میں آنسو کی اذان(پروین کماراشک کی شاعری پر ایک نوٹ)-حقانی القاسمی

یہ دورmechanised birthکاہے۔Frozen Eggیا In Vitro Fertilization (IVF)سے تولیدی عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ اس نوع کے میکانکی تولیدی عمل سے اخلاقیات اور اقداری نظام کے ساتھ انسان کی شناخت بھی مجروح ہورہی ہے۔ اس کی وجہ سے نسل انسانی کا منظرنامہ ہی نہیں بلکہ شجرہ نسب تبدیل ہوتا جارہاہے۔تولیدی عمل کی طرح تخلیقی عمل کے ساتھ بھی کچھ ایسی ہی واردات گزر رہی ہے۔ شاعری کی ساخت اورسلاست بھی غیرفطری عناصر کے تداخل کی وجہ سے شکستہ، سقیم بلکہ عقیم ہوگئی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس دور میں بھی کچھ ایسے تخلیق کار ضرور ہیں جن کے یہاں ’فطری تخلیقیت‘ کا عنصر نمایاں ہے اوران کا تخلیقی عمل غیرفطری عناصر سے مجروح یا متاثر نہیں ہے۔
پروین کماراشک بھی انھیں شاعروں میں ہیں، جن کے اظہار و احساس کے مابین ایک مادرانہ رشتہ (Maternal Bond)ہے، وہ بھی اسی طرح کے تخلیقی کرب سے گزرتے ہیں، جس طرح ایک ماں دردِزہ سے گزرتی ہے۔ اسی درد نے انھیں وہ داخلی اور ماورائے ذہن شعور عطا کیا ہے، جس نے خارجی دنیا سے ان کا رشتہ ختم کرکے باطنی دنیا سے تعلق قائم کردیاہے اور یہی Detachmentان کی تخلیق کا رمز ہے۔ ان کی شاعری کا محور سکوت ذہن(Silence of Mind)اور صدائے دل(Sound of Heart)ہے۔ پروین کمار کی شاعری کا افق اور الٰہ سے رابطہ ہے۔ ان کے ہاں ایک معصومانہ تحیر ہے اور ہر چیز کو ’دیدہ حیران‘ سے دیکھنے کی خواہش اور ایک نئے انداز سے اظہار میں ڈھالنے کا جذبہ بھی ہے۔ ان کا داخلی ذہن، انسان کے متعین کردہ خطوط وحدود میں محصورنہیں ہے۔ ان کی آنکھیں ہمہ گیر اورجہاں بیں ہیں۔جو مصنوعی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتیں۔ ان کی شاعری میں ایک Bird Eyeیاخلاباز کی آنکھیں نظر آتی ہیں اور ایسی ہی شاعری دنیا کو ایک نیافینومیناعطاکرتی ہے یا تخیلی کائنات کی تشکیل توکرتی ہے۔
ان کی شاعری میں عشق کی ارتعاشی لہریں ہیں اوروہ موج بھی جو ذات اور روح کے مابین نقطہ عطف ہے۔اس میں انسانی شعور، احساس و ادراک کے وہ تمام مدارج ومنازل ہیں جن سے فردبشر کے شب وروز گزرتے ہیں۔ان کی شاعری میں نئے موسموں کی بشارت بھی ہے اور احساس و اظہار کی تازگی بھی۔ایسی شاعری محنت و ریاضت کی مرہون منت نہیں،بلکہ کسی کاوردان ہی ہوسکتی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ پروین کمار اشک کی شاعری کسی مخصوص تخلیقی لہر کا فیض ہو یا ایک ایسی ساعت کا جس میں انسانی ذہن کا براہِ راست آسمان سے رشتہ ہوتاہے۔ ان کی شاعری ’پدمنی پہر‘ کی ہے اس لیے اس میں روح اورضمیر کو تابناک وتوانا کرنے والے عناصر کا وفور ہے۔
پروین کماراشک کی شاعری میں جو موج یم عشق اورصوفیانہ دیوانگی (Sufi Madness)ہے اس کو سمجھنے کے لیے ذہن کی نہیں، دل کی ضرورت ہے اور دل بھی ایسا جو گداز ہو۔ گداختگیِ دل کے بغیر نہ پروین کمار اشک کو سمجھنا آسان ہوگا اور نہ ہی ان کے پورے تخلیقی عمل کو۔ اس تخلیق کے اندر جو جادوئی کردارہے اس میں بہت کچھ دخل روحانیت کا ہے، جو پروین کمار اشک کی تخلیق کا لاینفک حصہ ہے۔
پروین کماراشک نے اپنی تخلیق کو اسی روحانی نقطے سے اجالا ہے۔ ان کی تخلیقی فکر میں رود روحانیت ہے اور سپت رشمی کرنیں بھی۔ یہی Radiant Energyان کی شاعری کا رنگ و روپ، انداز اور اسلوب بدلتی ہے۔ ڈیوائن انرجی کے بغیر ایسی شاعری ممکن ہی نہیں ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے طبعی وجود کو مابعدالطبیعاتی جہتوں سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں تصوف کی رمزیت اورسریت ہے۔ یہ مکمل طور پر Enlightenment کی شاعری ہے۔ ایک دوامی شعور کی،حلقہ دام خیال سے باہر کی شاعری اس میںWave of Thoughts (خیالات کی لہر) نہیںبلکہ جذبات و احساسات کا مدوجزر ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں منفیت کی سیاہ قوتوں کے خلاف احتجاج اور ردِعمل بھی ہے۔ اس میں جس عشق یا Sufi alchemyکا بیان ہے وہ ازلی اور دائمی محبت ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انسان اور Godlinessکے درمیان محبت کی اساس پرمبنی شاعری ہے۔ اس شاعری میں مصنوعی،غیر فطری یا مشروط محبت کا تصور نہیں ملتا۔ بلکہ جو بھی محبت ہے اس کا زمین و آسمان سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ یہ مکمل طور پر الوہی رابطے و رشتے کی شاعری ہے۔ یہ شاعری اثبات کی متحرک قوتوں کا اشاریہ اور منفیت کی سیاہ قوتوں کے خلاف احتجاج بھی ہے:
نہ تیغ پھینکنا گھبرا کے ظلمت شب سے
زمین حق پہ لہو کا نشان روشن ہے
پروین کماراشک کے یہاں روحانی محبتوں کی نئی منزلوں کی جستجو اور تخیلات کے نئے مدارج کی دریافت کا عمل روشن ہے، نئے استعارات اور تراکیب کی جستجو کے عمل نے بھی ان کی شاعری کو جدت، لطافت اور نزاکت سے ہم کنار کیاہے۔ مروجہ معمولے سے انحراف نے بھی پروین کمار اشک کی شاعری کو نقطہ امتیاز اور انفراد عطا کیا ہے۔
ایک مخصوص پیٹرن کے ذہنی نظام کے تخلیقی عمل سے کسی جدت یا ندرت کی توقع نہیں کی جاسکتی، مگر پروین کماراشک نے اپنی اختراعی فکر سے شاعری کی لطافت ومعنویت میں اضافہ کیاہے۔ تخلیق کو احساس اوراظہار کے جوابعاد انھوں نے عطا کیے ہیں، اس ’ابعادیت‘ سے ان کی شاعری میں وہ کیفیت پیدا ہوگئی ہے، جو عہدماضی میں میرؔ سے مخصوص تھی اور روحانی احساس کے اعتبار سے بھی میرا، کبیر، لل وید سے انھوں نے اپنارشتہ جوڑلیا ہے، جس سے ان کا مقام ہم عصرشعرا سے مختلف ہوگیا ہے۔ اختراعی فکر کے ساتھ ساتھ اظہاری قوت (experessional cogency)بھی ان کی شاعری کو انفرادیت عطا کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ شاعری نہیں،روح سے رابطہ ،مکالمہ یا داخلی خود کلامی ہے۔ یہ طبعی وجود کی تعبیرات اور تشریحات سے بالکل مختلف نوعیت کی روحانی تعبیر و تفہیم ہے۔ باطنی وجود کی تفہیم صوفیانہ وجدان و ادراک کے غماز ان اشعار سے ہی ممکن ہے۔یہ اشعار ان کی فکری نبوغت اور لسانی لطافت کے گواہ ہیں:
تم نے کیوں بارود بچھا دی دھرتی پر
میں تو دعا کا شہر بسانے والاتھا
خبر کہاں تھی میری روح ایک مسجد ہے
شب وجود میں ماہِ اذان بھی ہوگا
خدا کی طرح چمکتا ہے دل کے شیشے میں
دعا کا آنسو کہاں آنکھ سے نکلتا ہے
دعا کا آنسو، دعاکاشہر، شب وجود اور ماہِ اذان جیسی تراکیب میں جدت و ندرت ہی نہیں بلکہ معنوی لطافت ونزاکت بھی ہے۔ یہ کثیرالمعانی تراکیب ہیں جو اپنے ظاہری مطلب کے علاوہ باطنی مفاہیم کے بھی حامل ہیں، ان تراکیب سے ہی اندازہ ہوتاہے کہ پروین کماراشک کاتخلیقی آسمان کتنے اور کیسے کیسے شبد ستاروں سے روشن ہے:
یہ میری روح میںکیسی اذان روشن ہے
زمیں چمکتی ہے، کل آسمان روشن ہے
میں روز فون پہ اس کو صدائیں دیتا ہوں
خدا کے ساتھ میرا رابطہ نہیں ہوتا
مسجد دل میں تنہا بیٹھے روتے ہیں
ہمیں نماز پڑھانے والا کوئی نہیں
بزرگوں کو خدایا بھیج فوراً
دعا کا خون زمیں نے کر دیا ہے
سمندر کو دکھا کر آگ اب کیوں
دعا کی بارشوں کو رو رہی ہے
نہ مسجدوں کی طرف ہیں نہ مندوںکی طرف
میری دعائیں ہیں جلتے ہوئے گھروں کی طرف
جہاں پرکھوں کے سجدے کے نشاں ہیں
وہ گلیاں خون سے کیوں دھو رہے ہو؟
خدا کی بے رخی پر رو ہی ہے
دعا مجھ سے لپٹ کر رو رہی ہے
پروین کماراشک کی شاعری میں نے ایک بچے کی آنکھ سے پڑھی کہ اس تخلیق کے تحیر اور جمال سے محظوظ ہوسکوں۔بچوں کی آنکھ سے فطرت اورکائنات کے تحیرات وتموجات کا مطالعہ زیادہ مفید ہوتا ہے کہ بچوں کی آنکھیں تحفظات وتعصبات سے پاک ہوتی ہیں اور اس منفیت سے بھی جو آج کل عصری تنقیدی ڈسکورس سے مخصوص ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*