دعا کے دن ہیں،مسلسل دعا کیے جائیں-عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

رمضان کا بابرکت مہینہ دُعاؤں کی قبولیت کے لئے نہایت سازگار اور موزوں ترین مہینہ ہے ؛کیونکہ روزے اور دعا کا آپس میں گہراربط و تعلق ہے۔اسی تعلق کی وجہ سے قرآن کریم میں روزوں کے احکامات کے عین درمیان دعا کا مضمون بیان کیا گیا ہے۔ارشاد باری ہے:(اے پیغمبر) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو ( آپ ان سے کہہ دیجیے کہ) میں اتنا قریب ہوں کہ جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں لہذا وہ بھی میری بات دل سے قبول کریں، اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں۔(البقرۃ:186)
حدیث میں آتا ہے کہ رمضان کی ہر رات اللہ تعالیٰ منادی کرنے والے ایک فرشتہ کو عرش سے فرش پر بھیجتا ہے۔جو یہ اعلان کرتا ہے: اے خیر کے طالب! آگے بڑھو۔ کیا کوئی ہے جو دُعا کرے تا کہ اس کی دعا قبول کی جائے۔ کیا کوئی ہے جو استغفار کرے کہ اُسے بخش دیا جائے۔ کیا کوئی ہے جو توبہ کرے تا کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ کیا کوئی ہے جو سوال کرے، جس کو پورا کیا جائے گا۔(کنزالعمال)ایک اور روایت میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ایک روزہ دار کی افطار کے وقت۔ دوسرے عادل بادشاہ کی دعا۔ تیسرے مظلوم کی جس کو حق تعالیٰ شانہٗ بادلوں سے اوپر اٹھالیتے ہیں اور آسمان کے دروازے اس کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے کہ میں تیری ضرور مدد کروں گا گو (کسی مصلحت سے) کچھ دیر ہوجائے۔(مسند احمد)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کو عبادت کا مغز، طاعت کی روح اور بندگی کا عنوان قرار دیا ہے۔جب ایک بے کس و بے بس انسان،ساری مخلوق سے منہ موڑ کر، اپنے مالک حقیقی کی بارگاہ میں دست سوال دراز کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے محروم نہیں فرماتے؛بل کہ توقع سے بڑھ کر نوازتے ہیں۔ہاں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعینہ وہی چیز عطا کردی جاتی ہے، جس کا سوال کیا گیا، کبھی وہ دعاء اس شکل میں قبول نہیں ہوتی؛بل کہ اس دعاء کی برکت سے کوئی آنے والی مصیبت ٹال دی جاتی ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دنیا میں تو اس کا بدلہ نہیں ملتا؛ مگر اللہ پاک آخرت میں اس دعاء کی برکت سے اس کے لیے اجر و ثواب محفوظ فرمادیتے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: جو بلا نازل ہوچکی ہے اس کے لئے بھی دعا نافع ہے اور جو بلا ابھی نازل نہیں ہوئی اس کے لئے بھی مفید ہے۔ (مستدرک حاکم )دعا کی وجہ سے مصیبت نازل ہونے کے باوجود بندہ کے دل میں وحشت کے بجائے امن ڈال دیا جاتا ہے اور اس کے غم وپریشانی میں تخفیف ہوجاتی ہے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتاہے:” اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں ہی کھلاؤں، پس تم سب مجھ ہی سے کھانا مانگوتاکہ میں تمہیں کھلاؤں۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں ہی پہنا دوں، سو تم مجھ ہی سے لباس طلب کرو تاکہ میں تمہیں پہنا دوں ۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے ، تمہارے جن اور انسان سب ایک ہی میدان میں جمع ہو جائیں اور سب مل کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر سوال کرنے والے کو اس کی طلب کے مطابق عطا کردوں تو میرے خزانے میں سے اتنی بھی کمی نہیں ہو گی جتنی ایک سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے اس کے پانی میں کمی ہوتی ہے”۔
جامع و مقبول دعاؤں کے کچھ نمونے:
یوں توقرآن پاک میں متعدد انبیاء کرام (حضرت ابراہیمؑ، حضرت یوسفؑ،حضرت یعقوبؑ ،حضرت موسیؑ،حضرت زکریاؑ وغیرہم)کی دعاؤں کو بہ غرض تعلیم ذکرکیاگیاہے؛تاکہ امت محمدیہ بھی اپنے رب سے مانگنے کا سلیقہ سیکھے اور ان دعاؤں کے ذریعہ خیر کثیر حاصل کرسکے۔ ایک مقام پرنبی پاک ﷺسے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا:(اے پیغمبر)آپ اس طرح کہیے!اے رب (ہمیں )بخش دے اور( ہمار ے حال پر)رحم فرما،تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔(سورة المومنون:118)اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ دعاؤں میں تمام دعاؤں کی سرتاج سورة فاتحہ ہے کہ جس میں حمد ربانی بھی ہے اورتذکیر آخرت بھی،سب سے بڑے خیر کا سوال بھی ہےاور ہر سب سے بڑے شر سے پناہ بھی۔قرآن پاک کے بعد ہمارا سب سے بڑا سرمایہ وہ دعائیں ہیں جو رسالت مآب ﷺ کی زبان مبارک سے ارشاد ہوئیں۔
نبی پاک ﷺسے بہت سی جامع اور موثر دعائیں منقول ہیں؛مگر ایک دعا جو آپﷺنےحج کے موقع پر منیٰ میں مانگی اور اس میں اپنی بندگی اور حاجت مندی کا اتنا مؤثر و جامع انداز اختیار کیاکہ اس سے بہتر و جامع انداز نہیں ہوسکتا۔آپﷺ نے فرمایا:
’’اللہ توہی میری بات سنتا ہے، میرے مقام کودیکھتا ہے، میرے ظاہروباطن کوجانتا ہے، تجھ سے میرا کوئی معاملہ پوشیدہ نہیں ، میں محتاج مدد اورپناہ کا طالب، ڈرنے والا اورگناہوں کا اعتراف کرنے والا ہوں ، تجھ سے مسکین کی طرح مانگتا ہوں اور ذلیل وگنہگار کی طرح عاجزی کرتا ہوں ، ڈرنے والے کی طرح تجھے پکارتا ہوں ، جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہے، آنکھیں بہ رہی ہیں ، جسم جھکا ہوا ہے اور ناک خاک آلودہ ہے، مجھے دعا کے بعد محروم نہ فرما، اورمیرے ساتھ شفقت ورحمت کا معاملہ فرما،اے وہ بہتر وبرتر ذات جس سے ہی اپنی حاجت مانگی جاتی ہے اور جو بہترین دینے والا ہے۔(المعجم الکبیر،ج ۱۱، ص۱۷۴)
حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ ! میں تم سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں، اور میں تم کو ایک بات کی وصیت کرتا ہوں کہ تم کسی بھی نماز کے بعد اس دعا کو نہ چھوڑنا” اللھم اعنی علی ذکرک شکرک وحسن عبادتک” اے اللہ ! آپ مجھے اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہترین طریقہ پر عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما۔(ابو داؤد،کتاب الصلاة، باب في الاستغفار)
حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺنے بہت سی دعائیں بتائی جو ہمیں یاد نہیں رہی ،تو ہم نے آپﷺسے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺآپ نے بہت سی دعائیں فرمائی تھی ان کو ہم یا د نہیں رکھ سکے (اور چاہتے یہ ہیں کہ اللہ سے وہ سب دعائیں مانگیں تو کیا کریں)آپﷺنے فرمایا، میں تمھیں ایسی دعا بتائے دیتا ہوں ،جس سے ساری چیزیں جمع ہوجائے ،اللہ تعالی کے حضور میں یوں عرض کرو (الّلھّم انانسألک من خیر ما سالک منہ نبیک محمدﷺونعوذبک من شرّما استعاذمنہ نبیک محمدﷺوآنت المستعان وعلیک البلاغ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ) اے اللہ !ہم تجھ سے وہ سب مانگتے ہیں جو تیرے نبی محمدﷺنے تجھ سے مانگا ،اور ہم ان سب چیزوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں جن سے تیرے نبی محمدﷺنے تیری پناہ چاہی ،بس توہی ہے جس سے مدد چاہی جائے اور تیرے ہی کرم پر موقوف ہے مقاصد اور ارادوں تک پہونچنا ،اور کسی مقصد کے لئے سعی وحرکت اور اس کوحاصل کرنے کی قوت وطاقت بس اللہ ہی سے مل سکتی ہے۔(ترمذی)
دعا کے آداب اور موانعِ قبولیت:
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:”دعائیں، اور تعوّذات(ایسی دعائیں جن میں اللہ کی پناہ حاصل کی جائے)ان کی مثال اسلحہ و ہتھیار کی طرح ہے۔اسلحے کی کارکردگی کا تعلق اسلحہ چلانے والےسے ہے، صرف اسلحے کا قیمتی اور دھاری دار ہونا کافی نہیں ہے، چنانچہ اسلحہ مکمل اور ہر قسم کے عیب سے پاک ہو، اسلحہ چلانے والے بازو میں طاقت و قوت ہو، اور درمیان میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، تب کہیں جاکر دشمن پر ضرب کاری لگتی ہے، اور ان تین چیزوں میں سے کوئی ایک بھی ناپائی جائے تو نشانہ چوک جاتاہے۔”(الداء والدواء)اس سے معلوم ہوا کہ کچھ حالات، آداب ، اور احکام ایسے ہیں جن کا دعائیہ الفاظ اور دعا مانگنے والے میں ہونا ضروری ہے، اور کچھ رکاوٹیں، اور موانع ہیں جن کی وجہ سے دعا قبول نہیں ہوتی۔سب سے پہلے دعا کے کچھ اہم آداب ملاحظہ فرمائیں :
1. خلوص دل اور یقین کامل کے ساتھ دعا کی جائے۔
2. دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی جائے ۔
3. دعا مانگنے سے پہلے کوئی نیک عمل کرلیاجائے۔
4. باوضو قبلہ رخ دوزانوں ہو کر تواضع اور عاجزی کے ساتھ دعا مانگی جائے ۔
5. قافیہ بندی کا اہتمام نہ کیاجائے۔
6. اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے دعا مانگی جائے۔
7. صرف اپنے لئے نہیں؛ بلکہ تمام ہی مسلمانوں کے لئے دعا مانگی جائے۔
8. دعا کی قبولیت میں جلد بازی نہ کی جائے۔ مثلاً یہ کہے کہ اتنے دن ہوگئے دعا قبول ہی نہیں ہوئی۔
9. اللہ کی ذات اور صفات کا واسطہ دے کر دعا کی جائے۔مثلاًیوں کہاجائے:ائے اللہ! آپ رحیم وکریم ہیں ،رحم کو پسند فرماتے ،ہم پر رحم کردیجیے ۔
10. دعا کے آخر میں آمین کہاجائے اورہاتھوں کو منہ پرپھیر لیا جائے۔
دعا کی قبولیت کے لیے رکاوٹ بننے والےبعض امور:
1- دعا یا دعاکرنے کا انداز نامناسب ہو۔
2- دعا کرنے والے کا دل اللہ تعالی کی طرف متوجہ نہ ہو، یا پھر اللہ کیساتھ بے ادبی کا انداز اپنائے، مثال کے طور پر: دعا اونچی اونچی آواز سے کرے، یا اللہ سے ایسے مانگے کہ جیسے اُسے اللہ تعالی سے دعا کی قبولیت کیلئے کوئی چاہت ہی نہیں ہے، یا پھر تکلّف کیساتھ الفاظ استعمال کرے، اور معنی مفہوم سے توجہ بالکل ہٹ جائے، یا بناوٹی آہ و بکا اور چیخ و پکار میں مبالغہ کے لیے تکلّف سے کام لے۔
3- حرام کمائی کھانا،قبولیتِ دعا کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا: جس کے لمبے سفر کی وجہ سے پراگندہ ، اور گرد و غبار سے اَٹے ہوئے بال ہیں، اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی جانب اٹھا کر کہتا ہے: یا رب! یا رب! اسکا کھانا بھی حرام کا، پینا بھی حرام کا، اسے غذا بھی حرام کی دی گئی، ان تمام اسباب کی وجہ سے اسکی دعا کیسے قبول ہو!!(مسلم)۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے کچھ امور بھی بیان فرمائے، جن سے دعا کی قبولیت کے امکان زیادہ روشن ہوجاتے ہیں، مثلا: کہ وہ مسافر ہے، اللہ کا ہی محتاج ہے؛ لیکن اس کے باوجود دعا اس لئے قبول نہیں ہوتی کہ اس نے حرام کھایاہے۔
4- دعا کی قبولیت کے لیے جلد بازی کرنا، اور مایوس ہوکر دعا ترک کر دینا۔
5- مشیئتِ الہی پر قبولیت دعا کو معلق کرنا: مثال کے طور پر یہ کہنا کہ : “یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے”۔
مختصر یہ کہ ہم رمضان کے اس اخیر عشرے میں زیادہ سے زیادہ دعاؤں کا اہتمام کریں،لایعنی اور بے کار چیزوں میں مشغول رہنے کے بجائے حق تعالی سے اپنا تعلق مضبوط کریں اور اس بات کی بھرپور کوشش کریں کہ ہمارایہ رمضان اگلے پورے سال کے لیے خوش گوار تبدیلی کا پیش خیمہ بن جائے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*