ڈاکٹرظفرالاسلام کی حمایت میں مسلم رہنماؤں کا مشترکہ بیان،پولیس کارروائی کی مذمت

 

نئی دہلی: مشہورمسلم رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے اور ان پر درج کردہ ایف آر آئی واپس لینے کامطالبہ کیاہےـ میڈیا کے لیے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہاگیاہے کہ: ہم دہلی پولیس کے ذریعے ڈاکٹرخان کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی مذمت کرتے ہیں ـ کئی دن پہلے کیے گئے ایک ٹوئٹ کی وجہ سے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کے خلاف دہلی پولیس کے ایکشن سے اس کی متعصبانہ شبیہ واضح ہوگئی ہےـ کسی کوان کے ٹوئٹ سے اختلاف ہوسکتاہے اورانھوں نے اپنی وضاحت بھی پیش کی تھی ـ مگر پولیس بغیر کسی نوٹس کے انھیں گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھر پہنچ گئی ـ لاک ڈاؤن کے دوران عین افطار کے وقت ایک نیم عدلیہ ادارے کے سربراہ کے خلاف اس قسم کی کارروائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ دہلی پولیس کس حدتک جاسکتی ہےـ نارتھ ایسٹ دہلی فسادات میں زبردست جانی ومالی نقصانات کاسبب بننے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہ جانے والی دہلی پولیس مختلف طریقوں سے مسلمانوں کوٹارگیٹ کررہی ہےـ جن لوگوں نے اشتعال انگیز بیانات دیے اور لوگوں کوفساد کے لیے اکسایا ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے سماجی کارکنان اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کودہلی پولیس نشانہ بنارہی ہے جوملک کے لیے نہایت خطرناک ہےـ اس بیان میں مزید کہاگیاہےکہ: ہم گورنمنٹ سے فوری طورپر ڈاکٹرخان کے خلاف درج شدہ ایف آئی آرواپس لینے اوردہلی پولیس کو بے قصوروں کے خلاف ایکشن لینے سے روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں ـ یہ بیان مولاناارشد مدنی، مولاناتوقیر رضاخان، مولانا محمود مدنی، سید سعادت اللہ حسینی، مولاناولی رحمانی، مولااصغرامام سلفی، نوید حامد، ڈاکٹر منظور عالم، مولانا سلمان حسینی ندوی، مولانا محسن تقوی، ڈاکٹرقاسم رسول الیاس، پروفیسر اخترالواسع اورڈاکٹرتسلیم رحمانی وغیرہ کی طرف سے جاری کیاگیاہےـ