ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی اور حقانی القاسمی نویں محمد خلیل سائنس ایوارڈ سے سرفراز

 

نئی دہلی(قندیل نیوز):اردو کے ممتاز ادیب و تنقید نگار حقانی القاسمی اور ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی کو وگیان پریشد پریاگ (الہ آباد) کی جانب سے نویں محمد خلیل سائنس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ تفویضِ ایوارڈ کی یہ تقریب تسمیہ آڈیٹوریم،اوکھلا میں منعقد کی گئی تھی۔ اس موقعے پر ڈاکٹر سید محمد فاروق نے اظہار خیال کرتے ہوئے دونوں ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کی اور  ادب و سائنس کے باہمی رشتوں پر پُر مغز گفتگو کی۔ اردو زبان میں درجنوں سائنسی کتابوں کے مصنف اور رسالہ ’’سائنس کی دنیا‘‘ کے سابق مدیر محمد خلیل نے بھی دونوں ایوارڈ یافتگان کو ہدیۂ تبریک پیش کیا اور کہا کہ شمس الاسلام فاروقی صاحب طویل عرصے سے سائنسی موضوعات پر مضامین لکھ کر لوگوں میں سائنس کے تئیں بیداری پیدا کررہے ہیں،جبکہ حقانی القاسمی ملک کے ممتاز ادیب ہیں جو ادبی موضوعات کے علاوہ سائنسی موضوعات کی کتابوں پر بھی تبصرے لکھتے رہے ہیں اور حال ہی میں انھوں نے میڈیکل سائنس کے حوالے سے اپنے رسالہ’’انداز بیاں‘‘ کا بہت ہی خوب صورت اور جامع شمارہ نکالا ہے،جس میں درجنوں ڈاکٹروں کی ادبی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے،گویا وہ ادب اور سائنس کو باہم آمیز کرنے کی گراں قدر کوشش کررہے ہیں،جس کے لیے ان کی تحسین و ستایش ضروری ہے اور یقیناً وہ اس ایوارڈ کے حقدار تھے۔
حقانی القاسمی نے اس موقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وگیان پریشد الہ آباد کا شکریہ ادا کیا کہ ادب و سائنس کو باہم مربوط کرنے کی ان کی کوششوں کو اس ادارے کی جانب سے سراہا گیا۔ انھوں نے کہا کہ میں اگر چہ بنیادی طورپر ادب کا طالب علم ہوں اور براہ راست سائنس سے میرا تعلق نہیں رہا ہے، مگر اس موضوع سے مجھے دلچسپی رہی ہے اور یوں بھی ادب اور سائنس کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ڈیجیٹل ایج نے ہر انسان کو شعوری طورپر سائنس سے مربوط کردیا ہے اور انسانی ارتقا بھی سائنس سے مشروط ہے،حیات و کائنات کی ساری تفہیم سائنس سے ملتی ہے اور ادب بھی حیات و کائنات کی تفہیم کا ایک معتبر وسیلہ ہے،اسی وجہ سے ادب اور سائنس کا بہت گرا رشتہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر سائنس میں تجسس ہے تو ادب میں تحیر کا عنصر ہوتا ہے اورایک ادیب بھی لاشعوری طورپر سائنس داں ہی ہوتا ہے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر سید احمد خان ،وگیان پریشد پریاگ(الہ آباد) کے دیوبرت درویدی اور ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی نے بھی اظہار خیال کیا، جبکہ اس تقریب میں متعدد اہلِ ادب و دانش شریک رہے۔