ڈاکٹر معید الزماں قاسمی کیرانوی:ایک مثالی طبیب اور ہردلعزیز شخصیت ـ محمد انوار خان قاسمی بستوی

ابھی چند روز روز قبل کی بات ہے حسب معمول صدیق محترم ڈاکٹر عاطف سہیل صدیقی اور فاضل گرامی مولانا حفظ الرحمان اسامہ قاسمی کی معیت میں بعد عصر تفریح کے لیے نکلا۔ ان دونوں ہی احباب کے ذریعے یہ غمناک اطلاع ملی کہ ڈاکٹر معید الزماں قاسمی کیرانوی شدید طور پر بیمار ہیں اور ان کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ اس خبر نے مجھے ذاتی طور پر بیحد متاثر اور بے چین کردیا کیوں کہ وہ تقریبا ۱۲ سال سے نہ یہ کہ صرف میرے فیملی ڈاکٹر تھے؛ بلکہ مرور ایام کے ساتھ ڈاکٹَر صاحب سے مجھے ایک خاص قسم کا انس ہوگیا تھا جس نے آہستہ آہستہ ایک گہرے تعلق کی شکل اختیار کرلی تھی۔ اس خبر نے ڈاکٹر صاحب سے وابستہ حضرات اور ان کے محبین میں ایک غم کی لہر دوڑادی۔ ڈاکٹر صاحب کے محبین ابھی ان کی شدید علالت ہی کا غم بھلا نہ پائے تھے کہ اگلے ہی روز اچانک بروز جمعہ ۲۱ اگست یہ خبر صاعقہ اثر موصول ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس واقعہ نے ہزاروں لوگوں کو اشکبار وسوگوار اور نہ معلوم کتنے دلوں کو اندوہ وغم کا جوئبار بنادیا۔

ڈاکٹر قاسمی کی ناگہانی وفات نے کتنے قلوب کو رنجور کیا ہے شاید اس کا احاطہ آسان نہ ہو۔ وہ اس قدر دل آویز شخصیت کے مالک تھے، اور اتنی شستہ اور نستعلیق طبیعت رکھتے تھے کہ ان پر نظر پڑتے ہی ایک عام انسان فوری طور پر بہت ہی مثبت رائے قائم کرلیتا اور پھر اس کے دل میں ڈاکٹر صاحب چپکے سے اپنے لیے ایک خاص مقام بنا لیتے جو وقت کے ساتھ بڑھتا تو لیکن اس میں کمی نہ آنے پاتی۔

میری پہلی ملاقات

۱۹۹۵ء کا سال تھا کہ مشرقی یوپی سے ضلع بستی کے کچھ طلبہ نے دار العلوم دیوبند میں داخلہ لینے کا عزم کرلیا جن میں ایک یہ فقیر سراپا تقصیر بھی شامل تھا۔ چنانچہ ہم تقریبا ۱۵ طلبہ شوال کے آغاز میں ضلع بستی سے دیوبند کے لیے روانہ ہوگئے۔ جس وقت ہماری ٹرین ‘امرناتھ ایکسپریس’ سہارنپور اسٹیشن پر فروکش ہوئی، موسم کچھ خنک تھا، برسات کی رم جھم تھی، اور اسی موسمی اتھل پتھل اور باد وباراں کی اٹکھیلیوں میں ہم دیوبند پہونچے، شام ہوتے ہوتے تغیر موسم کے اثرات نے مجھے مغلوب کردیا اور بالآخر میں بخار زدہ ہوگیا۔ چنانچہ ہمارے ضلع کے کچھ پرانے احباب جو سالوں سے دیوبند میں زیر تعلیم تھے انھوں نے مجھے باہم مشورہ کرکے ڈاکٹر معید الزماں صاحب کے پاس علاج کے لیے لے جانے کا فیصلہ کرلیا، اور مجھے احباب نے یہ بھی بتادیاتھا کہ ڈاکٹر صاحب مشہور معجم نویس مولانا وحید الزماں کیرانوی کے حقیقی بھائی ہیں۔ ہم لوگ عربی اول ہی سے مولانا وحید الزماں نور اللہ مرقدہ کی عربی قوامیس سے واقف تھے، اور حضرت کی ادبی عظمت اور علمی شہرت سے فطری طور پر غایت درجہ مرعوب تھے، اس لیے ڈاکٹر معید الزماں صاحب سے ملاقات سے پہلے ہی ان کی شخصیت سے بھی متاثر ہوگئے، اور ملاقات کے بعد ڈاکٹر صاحب کی وجاہت، بے پایاں نستعلیقیت، مثالی سادگی، حلم وبردباری، متانت وسنجیدگی، اور نرم خوئی وخوش اخلاقی نے ہمیشہ کے لیے ڈاکٹر صاحب کا گرویدہ بنالیا۔ مرحوم کے یہاں جب جب میں جاتا تو علاج ومعالجہ سے ہٹ کر دیگر بہت سے امور پر بھی گفتگو فرماتے اور اگر مطب میں مریض نہ ہوتے، تو کبھی کبھی مجلس کافی طول بھی اختیار کرلیتی۔ میرے لیے سعادت کی بات ہے کہ دو بار مرحوم عیدگاہ کے پیچھے میرے غریب خانے پر بھی تشریف لائے۔

خاندانی پس منظر وولادت

ڈاکٹر معید الزماں قاسمی بن مولانا مسیح الزماں قاسمی بن مولانا محمد اسماعیل بن مولانا محمد حسین کا خاندان کیرانہ سے تعلق رکھتا تھا۔ کیرانہ ایک مردم خیز قصبہ رہا ہے جو اس وقت ضلع شاملی اور اس سے قبل ضلع مظفر نگر کا ایک اہم قصبہ شمار کیا جاتا تھا۔ اس قصبے سے چند ایسی شخصیات ظہور پذیر ہوئی ہیں جنھوں نے صرف بر صغیر ہی نہیں؛ بلکہ پوری دنیا کو اپنے علم وفن سے متاثر کیا۔ انھیں عہد ساز شخصیات میں متکلم اسلام، مناظر وقت مولانا رحمت اللہ کیرانوی ہیں جو پورے عالم اسلام میں اپنی بے نظیر تصنیف ‘اظہار الحق’ کے لیے مشہور ہیں۔ اس سرزمین سے تعلق رکھنے والی دوسری عظیم شخصیت مولانا امین الدین کیرانوی کی ہے جو امام وقت شاہ اسحاق دہلوی کے کبار تلامذہ میں شمار کیے جاتے تھے۔ اسی عظیم قصبے سے اٹھنے والی ایک تیسری بلند قامت شخصیت، بر صغیر میں عربی زبان کے مجدد، یگانئہ روزگار، مولانا وحید الزماں قاسمی، استاذ ادب عربی، ونائب مہتمم دار العلوم دیوبند، کی ہے جو ڈاکٹر مرحوم معید الزماں کے بڑے بھائی تھے، اور بر صغیر کے علمی حلقے میں اپنی ادبی اور لغوی خدمات کی وجہ سے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ڈاکٹر معید الزماں مرحوم کی ولادت اسی عظیم اور تاریخی قصبے میں ۳۱ جنوری ۱۹۴۶ء مطابق ۲۶ ربیع الاول ۱۳۶۵ھ میں ہوئی۔ ڈاکٹر معید الزماں عمر میں اپنے بڑے بھائی مولانا وحید الزماں سے تقریبا سولہ سال چھوٹے تھے۔

ایک بار مجھ سے مرحوم نے خود بتایا کہ ان کی دادی شیخ عبد المجید جھنجھانوی کی صاحبزادی اور مشہور فقیہ وبلند پایہ محدث علامہ نواب قطب الدین نور اللہ مرقدہ، مصنف ‘مظاہر حق’ شرح ‘مشکوۃ المصابیح’، کی نواسی تھیں۔ چنانچہ انھیں بزرگوں کا علمی اور دینی فیض مرحوم کے خاندان میں خوب پھیلا، اور ان کی فکری اور روحانی برکتیں اور سعادتیں اولاد واحفاد میں منتقل ہوئیں۔

تعلیم وکیریر

ڈاکٹر معید الزماں صاحب ازہر ہند دار العلوم دیوبند کے فاضل تھے اور بعد میں انھوں نے طب کی تعلیم بھی حاصل کی اور اسی کو اپنا میدان عمل بنا لیا، اور فضل خداوندی سے انھوں نے اس طویل طبی پیشے میں اپنے دست شفا سے بہت ہی معمولی سی رقم کے عوض خلق خدا کو بے پایاں فائدہ پہونچایا۔ اللہ کی کائنات نہایت وسیع وغیر محدودو ہے اور نہ جانے اس میں خدا کے کتنے مخلص بندے ہیں جو انسانیت کے لیے نہایت مفید ہوتے ہیں اور جنھیں بنو آدم کو نفع پہنچانے میں خصوصی لذت ملتی ہے؛ البتہ میں ذاتی طور پر اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنی معمولی رقم میں اتنا موثر علاج کرنے والا کبھی کوئی معالج نہیں دیکھا۔ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں مقام بلند عطا کرے اورآخرت میں صالحین کی معیت عطا فرمائے۔

ڈاکٹر صاحب کی خصوصیات

ڈاکٹر صاحب متنوع انسانی خوبیوں اور اخلاق جمیلہ کا ایک مجسم پیکر تھے۔ ان کی نگاہیں شرم وحیا کی عکاسی کرتیں، اور ہمیشہ نیچی رہتیں، اور بقدر ضرورت وہ کبھی کبھار ہی اوپر اٹھتیں، مزاج میں بڑی نرمی، اور طبیعت میں نمایاں سنجیدگی تھی۔ جب وہ اپنی خوبصورت شیروانی زیب تن کرکے، سر پر دیوبندی ٹوپی ڈال کر، آنکھوں پر خوبصورت چشمہ لگا کر نہایت شائستگی اور سبک خرامی سے چلتے، تو وہ اس وقت متانت وسنجیدگی، خوش پوشی اور نستعلیقیت کا مجسمہ نظر آتے، اور جب وہ اپنے مطب میں کرسی پر براجمان ہوتے، تو ایسا لگتا کہ ایک نہایت حسین وجمیل پھول کسی درخشاں اور دلکش گلدستہ میں بڑے قرینے سے رکھا ہوا ہے۔

علاج کے لیے آنے والے علماء اور حاملینِ علومِ نبوت کا خاص احترام فرماتے اور بڑے ادب اور تعظیم کے ساتھ ان کا علاج کرتے۔ جب بھی کوئی عالم ان کے یہاں علاج کے لیے جاتا، وہ ایسا محسوس کرتا جیسے کہ ڈاکٹر صاحب علاج وتشخیص کے ساتھ اس کا اکرام بھی کرنا چاہتے ہیں، اور اس کی تعظیم بجالانا چاہتے ہیں۔ میں جب بھی مرحوم کے یہاں جاتا، ایسا محسوس ہوتا کہ وہ بحیثیت عالم میرے ساتھ خصوصی اکرام کا معاملہ کرنا چاہتے ہیں حالانکہ میں ان کے سامنے ان کے بچوں کی عمر کا ہوتا۔ یہی وہ بلند اخلاق واقدار ہیں کہ مرحوم اس دنیا سے رحلت کے بعد بھی ہمارے درمیان زندہ ہیں، اور ان کی پاکیزہ عادات وخصائص، اور ان کے گفتار وکردار کی خوشبو آج بھی ہمارے قلوب واذہان کو معطر ومعنبر کیے ہوئے ہے۔

ادیب العصر، استاذ محترم حضرت مولانا نور عالم خلیل الامینی دامت برکاتہم نے تقریبا دو دہائی قبل اپنی مشہور کتاب ‘وہ کون کی بات’ میں ڈاکٹر معید الزماں کا مختصر تذکرہ فرمایا ہے جس میں حضرت الاستاذ نے مرحوم کی بڑی اچھی خاکہ کشی کی ہے۔ مولانا امینی فرماتے ہیں: مولانا ڈاکٹر معید الزماں قاسمی: گورا رنگ، چھریرا بدن، لمبا قد، معصوم سی صورت، سادہ طبیعت، نرم خو، شاید کبھی غصہ نہیں ہوتے۔ ہمیشہ سے مجھے اپنے برادر اکبر مولانا کی طرح سفید پوش اور نستعلیق نظر آئے اور کیوں نہ ایسا ہو کہ تمام بھائیوں پر مولانا اور اپنے والد ماجد کی تربیت کی چھاپ ہے۔ حصول طب کے بعد ہی سے دیوبند میں مطب کر رہے ہیں۔ ماشاء اللہ ان کی خوش اخلاقی، ہمدردی اور دست شفا کی وجہ سے خلق خدا کو خوب فائدہ پہونچ رہا ہے۔

بحیثیت ایک طبیب اور معالج

ڈاکٹر صاحب اپنے طبی پیشے میں نہایت نباض، ذمہ دار اور ایماندار واقع ہوئے تھے۔ وہ چند عام قسم کی بیماریوں ہی کے معالج تھے؛ لیکن اس میں وہ خاص مہارت رکھتے تھے اور شہر دیوبند میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ مبدا فیاض سے انھیں دست شفا عطا ہوا تھا جس کے شاہد ہزاروں علماء وطلبہ اور اہالیان دیوبند ہیں۔ چند دہائیوں سے جس طرح شفاخانے، ہسپتال، اور مطب انسانوں کا استحصال کررہے ہیں، اور معالجین واطباء کی جماعت قزاقوں کی گینگ بن چکی ہے جوکہ ہر طرح سے انسانوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے میں شب وروز مصروف رہتے ہیں، ایسے عالم میں مرحوم جیسے بے لوث اطباء—جو انسانوں کے حقیقی مسیحا اور مریضوں کے بے پایاں ہمدرد ہوا کرتے تھے—کی رحلت ایک دلفگار واقعہ، ناقابل فراموش سانحہ، اور کسی بھی سماج کے لیے بہت بڑا خسارہ ہے۔

مرحوم کی ایک عجیب خوبی یہ تھی کہ ان کے مریض ان کے علاوہ کسی اور جگہ علاج کرانے میں بے اطمینانی، عدم اعتماد اور زیاں کا احساس رکھتے تھے۔ کسی دن اگر آپ کا مطب بند ہوتا، تو کسی دوسرے ڈاکٹر کے پاس جانا ان کے مریضوں کے لیے نہایت شاق وگراں تجربہ ثابت ہوتا۔ مرحوم نے اپنی غیر معمولی نباضی، شاندار طبی حذاقت، خود اعتمادی، اور مثالی خوش اخلاقی کی بنا پراپنے مریضوں کو فتح کرلیا تھا۔ ایک عجیب واقعہ یاد آیا جس کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ ایک دفعہ احقر کی اہلیہ محترمہ ننھے بچے بشار کے علاج کے لیے مرحوم کے یہاں پہونچیں، تو دیکھا کہ مرحوم کا مطب ‘دار الشفاء القاسمیہ’ بند ہے۔ چونکہ بچے کو بخار تھا اور فوری طبی نگہداشت اور علاج ناگزیر تھا، اس لیے آگے جاکر کسی اور ڈاکٹر سے چیک اپ کراکے بچے کی دوا انھوں نے لے لی۔ واپس ہوتے ہوئے اہلیہ محترمہ نے دیکھا کہ ڈاکٹر معید الزماں نے اب اپنا مطب کھول دیا ہے۔ یہ دیکھنا تھا کہ انھوں نے دوسرے ڈاکٹر سے لی ہوئی وہ دوائی فورا کوڑے دان میں پھینک دی اور دوبارہ ڈاکٹر صاحب سے بچے کا چیک اپ کراکے ان سے دوا لی۔ ڈاکٹر صاحب کی تدفین کے بعد جب میں گھر واپس آیا، اس وقت یہ واقعہ میری اہلیہ نے مجھ سے بتایا۔ جو لوگ مرحوم سے وابستہ تھے، وہ طبی طور پر اب یتیم محسوس کررہے ہیں، اور اس قدر اداس اور غمگین ہیں جیسے ان کے گھر کا کوئی فرد اور اہم فیملی ممبر اس دنیا سے رخصت ہوگیا ہے۔

اطبا بڑے فخر سے بقراطی حلف (Hippocratic Oath) لیتے ہیں؛ لیکن وہ کس حد تک اس حلف کی شقوں پر خود کاربند رہتے ہیں وہ آج کل ہم سب سے پوشیدہ نہیں ہے۔ بقراطی حلف کا جدید انگریزی ترجمہ جو ایڈٹ ہوکر ۱۹۶۴ء میں ٹفٹس یونیورسٹی، امریکہ، سے شائع کیا گیا اس میں ایک شق یہ ہے کہ ایک طبیب کے اندر خوش اخلاقی، انسانی ہمدردی اور غمگساری کے جذبات ہونے چاہئیں کیوں کہ یہ صفات سرجن کے چھرے اور کیمیا ساز کی دوا سے بھی زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان اعلی اقدار کے حامل اطبا آج دنیا میں عنقا ہوتے جارہے ہیں۔ دور حاضر میں طب کا میدان ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرچکا ہے؛ بلکہ بالفاظ دیگر اکثر اطبا بھی مافیا بن چکے ہیں جن کی زندگی کا مقصد انسانی ہمدردی اور سماجی خدمت کے بجائے اب مال ودولت جمع کرنا، اور رہزنوں کی طرح انسانوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا اور غریبوں اور مجبوروں کا خون چوسنا ہوتا ہے۔ کسی بھی سماج میں ڈاکٹر معید الزماں صاحب جیسے بے لوث، انسانیت نواز اور ہمدرد طبیب ومعالج کا وجود ایک عظیم نعمت ہے جس کا صحیح ادراک اس نعمت کے زوال کے بعد ہی ممکن ہے۔

ڈاکٹر صاحب ایک مریض کو صرف چالیس (۴۰) روپئے میں دوا دیتے تھے، اور ان کی دوا بھی برانڈڈ کمپنی کی ہوتی تھی، وہ ہر کسی کمپنی کی دوا اپنے مریضوں پر استعمال کرکے انھیں تختئہ مشق بنانے پر کبھی راضی نہ ہوتے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایک دفعہ میرے لڑکے بشار کو بخار کی شکایت ہوئی، ڈاکٹر صاحب سے دوا لایا، دوا ختم ہونے کے بعد جب دوبارہ دوسرے دن ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا، تو دیکھا ان کا مطب بند تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے فون پر رابطہ کیا، تو انھوں نے وہی دوا کسی ڈسپنسری سے خریدنے کا مشورہ دیا۔ حیرت واستعجاب کی انتہا نہ رہی جب دوا فروش نے اسی دوا کے لیے ساٹھ (۶۰) روپئے کا بل بنایا۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ جو دوا بازار میں ساٹھ (۶۰) روپئے میں مل رہی ہے، وہی دوا ڈاکٹر صاحب تشخیص وتجویز کے بعد محض چالیس (۴۰) روپئے میں مریض کو دیتے تھے۔ کیا ایسے مخلص اور مسیحا صفت اطبا دستیاب ہیں ہمارے درمیان؟ یہ واقعہ صرف میرا نہیں؛ دیوبند کے سیکڑوں لوگ ایسے واقعات کی شہادت دیں گے۔

اولاد

ڈاکٹر صاحب مرحوم کے تین بیٹے ہیں جن میں سب سے بڑے بیٹے جناب منیر الزماں ہیں۔ موصوف کی ولادت ۱۹۸۰ء میں ہوئی، اور ان کی تعلیمی لیاقت بی ایس سی (BSc) ہے جسے انھوں نے ڈی اے وی کالج (DAV College) مظفرنگر سے کیا اور کچھ دنوں کے لیے مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند اور دہلی میں ملازمت بھی کی۔ مختصر تدریسی تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ صحت کے مسائل کی وجہ سے اپنی ملازمت کا بوجھ زیادہ دنوں تک سنبھال نہ سکے۔ بعد میں طب میں ڈپلوما بھی کیا اور اپنے والد مرحوم کے ساتھ کئی سالوں تک پریکٹس بھی کرتے رہے؛ لیکن صحت میں انحطاط کی وجہ سے پریکٹس بھی موقوف کرنی پڑی۔ اللہ سے دعا ہے کہ موصوف کو صحت دائمہ مستمرہ عطا فرمائے، اور اپنے والد ماجد کے پیشے کو خوش اسلوبی سے برقرار رکھنے، سنبھالنے، اور سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرے صاحبزادے جناب مشیر الزماں ہیں جن کی ولادت ۲۰ مئی ۱۹۹۰ء میں ہوئی۔ موصوف نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ریاضیات (Mathematics) اور کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس سی (MSc) کا کورس کیا، اور فی الحال زیتون انٹرنیشنل اکیڈمی، غازی آباد میں ہیڈماسٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔

تیسرے بیٹے جناب مجیب الزماں ہیں جو کہ ۵ مئی ۱۹۹۲ء میں پیدا ہوئے اور انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے آپریشنل ریسرچ (Operational Research) میں ایم ایس سی (MSc) کیا ہے، اور فی الحال گڑگاؤں کی ایک کمپنی مک کنسی اینڈ کمپنی (McKinsey & Company) میں سینیئر اینالٹکس اینالسٹ (Senior Analytics Analyst) کے عہدے پر فائز ہیں۔

ڈاکٹر صاحب مرحوم کے چار لڑکیاں ہوئیں جن میں ایک برادر محترم، مالک کتب خانہ حسینیہ، جناب قدر الزماں صاحب بن مولانا وحید الزماں سے منسوب ہیں اور دیوبند میں رہتی ہیں، اور دوسری صاحبزادی دہلی میں جناب وسیم عثمانی صاحب سے منسوب ہیں، تیسری صاحبزادی جنوبی ہندوستان کے مشہور شہر حیدرآباد میں جناب عابد علی صاحب سے منسوب ہیں جوکہ اس وقت اپنے خاوند کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی ہیں، جب کہ چوتھی صاحبزادی لکھنؤ میں جناب عابد حسین صاحب سے منسوب ہیں۔

جنازہ وتدفین

۲۱ اگست کو اللہ نے جمعہ کی مبارک ساعتوں میں وقت تہجد سے کچھ قبل ڈاکٹر صاحب کو اپنے حضور بلالیا، اور عجیب خوبصورت اتفاق کہ یہ اسلامی کیلنڈر کا پہلا دن یعنی کہ یکم محرم الحرام کی تاریخ تھی۔ ماہ اگست کا گرم دن تھا جسے صبح کی خنک رم جھم نے نہایت لطیف اور خوشگوار بنادیا تھا۔ مرحوم کی نماز جنازہ نمونئہ اسلاف، حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی مہتمم دار العلوم دیوبند نے محمود ہال میں پڑھائی، اور قبرستان قاسمی میں کبار علماء دیوبند کی جوار میں ہمیشہ کے لیے آسودہ خواب ہوگئے۔ مجھے اندازہ تھا کہ شاید ظہر، عصر یا مغرب کے بعد جنازہ اور تدفین عمل میں آئے کہ یہاں دیوبند میں عام دنوں میں یہی معمول ہے؛ لیکن شاید کورونا کی وبا کی وجہ سے صبح ۹ سے ۱۰ بجے کے بیچ میں ہی جنازے اور تدفین کے عمل کو بعجلت تمام مکمل کرلیا گیا۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے نماز جنازہ میں حاضری کی سعادت سے محروم رہا جس کا قلق مجھے آج تک ہے، البتہ دوران تدفین حاضری ہوگئی اور قوم کے اس مخلص خادم، طبیب حاذق اور مرد مومن کی بابرکت تربت پر چند مشت خاک ڈال کر بھاری قدموں سے گھر واپس آگیا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*