Home ستاروں کےدرمیاں ڈاکٹر محمد غزالی : رفتید، ولے نہ از دلِ ما! – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد غزالی : رفتید، ولے نہ از دلِ ما! – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

by قندیل

(پہلی قسط)

ڈاکٹر محمد غزالی صاحب کے ساتھ پہلا تعارف1995ء میں ہوا جب میں اسلامی یونیورسٹی میں ایل ایل بی آنرز شریعہ و قانون کا طالب علم تھا۔ ان دنوں وہ سوشل سائنسز کا کورس پڑھاتے تھے لیکن جس سیکشن کو وہ پڑھاتے تھے میں اس سیکشن میں نہیں تھا۔ (ہمارے سیکشن کو یہ کورس ایک اور عظیم استاذ پروفیسر ڈاکٹر سفیر اختر صاحب نے پڑھایا۔) دوسرے طلبہ سے غزالی صاحب کے علمی تبحر کے علاوہ ان کی شفقت کی کہانیاں سن کر دل میں ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا لیکن ان کے رعب اور جلال کی وجہ سے ان سے ملاقات میں سلام کے سوا کچھ بات نہیں ہوسکی۔ ان دنوں اسلامی یونیورسٹی میں سیمینارز کا سلسلہ پورے زور و شور سے جاری تھا اور تقریباً ہر ہفتے کسی اہم موضوع پر سیمینار ہوتا تھا جس میں ممتاز اہلِ علم کو سن کر، دیکھ کر، بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ غزالی صاحب سے ایسے سیمینارز میں سیکھنے کا موقع ملا اور ایک آدھ دفعہ سوال (اور کسی حد تک اعتراض) کی جسارت بھی کی جسے انھوں نے کمال تحمل سے سنا اور پھر بہت خوبی سے اپنا موقف واضح کیا۔ اب دل میں ان کے رعب کے ساتھ احترام نے بھی جنم لیا۔

انھی دنوں ایک صاحب کے ساتھ حدیث و سنت کی حجیت پر بحث چل رہی تھی۔ میں نے ان کے سامنے ایک دلیل یہ رکھی (جو مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب سے سیکھی تھی، بعد میں معلوم ہوا کہ یہی دلیل ان سے قبل مولانا ابو الاعلی مودودی نے بھی دی تھی) کہ قرآن کریم میں بعض مقامات پر ایسے احکامات کو اللہ کا حکم قرار دیا گیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ثابت شدہ ہیں، جیسے قرآن مجید میں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم کہیں نہیں دیا گیا لیکن جب کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا تو پہلے قبلے کے متعلق قرار دیا گیا کہ وہ قبلہ ہم نے ہی مقرر کیا تھا (وَمَا جَعَلۡنَا ٱلۡقِبۡلَةَ ٱلَّتِي كُنتَ عَلَيۡهَآ إِلَّا لِنَعۡلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِۚ)۔ ان صاحب نے اس کے جواب میں (غلام احمد پرویز سے مستعار لی گئی) دلیل پیش کی لیکن اسلوب استہزائیہ تھا (جیسے عام طور پر منکرینِ حدیث کا ہوتا ہے)۔ان دنوں میں مولانا تقی عثمانی صاحب کو خطوط لکھ کر ان سے مختلف امور میں رہنمائی حاصل کرتا تھا۔ ایک خط میں اس طرف توجہ دلائی اور ان سے درخواست کی کہ وہ خود اس پر کچھ لکھیں تو شاید زیادہ مفید ہو۔ انھوں نے جواب میں کہا کہ یہ شخص شہرت کا طالب معلوم ہوتا ہے، اس لیے اسے نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے۔ مجھے (شاید نوجوانی کے جوش کی وجہ سے) یہ جواب مطمئن نہیں کرسکا۔ میں ایک دن ان صاحب کی تحریر، مولانا تقی عثمانی صاحب کے نام اپنا خط اور ان کا جواب لے کر غزالی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کے ساتھ دو تین اور اصحاب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان کے سامنے مدعا پیش کیا۔ انھوں نے ان صاحب کی تحریر مانگی اور چند سطریں پڑھ کر اچانک جلال میں آگئے اور کہا کہ ایسے بے ہودہ لوگ بحث کے لائق نہیں ہوتے، مولانا تقی عثمانی صاحب نے بالکل درست تشخیص کی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے طور پر مجھے اس اعتراض کا جواب بھی دیا (یہ کہانی پھر سہی) لیکن انھوں نے بھی زور دیا کہ ان صاحب کو منہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

اس کے بعد بھی غزالی صاحب سے وقتاً فوقتاً استفادے کا سلسلہ جاری رہا لیکن سچی بات یہ ہے کہ ان کی جلالی طبیعت کی وجہ سے ان کے ساتھ تفصیلی بحث نہیں ہوسکی۔ ان کے برادر بزرگ استاذِ گرامی ڈاکٹر محمود احمد غازی (رحمہ اللہ) کے ساتھ تعلق کی نوعیت دوسری تھی۔ وہ بظاہر بہت بارعب اور سنجیدہ تھے، علمی دنیا میں ان کا مرتبہ اپنی جگہ، یونیورسٹی کی انتظامیہ میں بھی وہ اعلی مقام پر تھے (نائب صدرِ جامعہ) اور اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ بھی ان کا تعلق تھا۔ اس بنا پر ان سے بات کرنی بظاہر بہت دشوار ہونی چاہیے تھی لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان سے تفصیلی بحث میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ غازی صاحب کے ساتھ بے تکلفی اور غزالی صاحب کے ساتھ نسبتاً سنجیدہ تعلق پر مبنی یہ سلسلہ کئی برسوں تک چلتا رہا۔
اس تعلق میں تبدیلی تب آئی جب 2008ء میں استاذِ گرامی ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب (رحمہ اللہ) کے اصرار پر میں نے ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی میں مختلف پروجیکٹس پر کام شروع کیا۔ اب غزالی صاحب کے ساتھ بے تکلفی کے اسباب بھی بن گئے۔ایک دن ادارے کے ایک سیمینار میں شرکت کےلیے پہنچا تو دیکھا کہ غزالی صاحب سٹیج سے دور، دروازے کے قریب بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ سر آپ کو آگے بیٹھنا چاہیے۔ کہنے لگے، حضرتِ داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے! پھر مسکرا کر کہا، کہ یہ جگہ اس لیے بہتر ہے کہ جب دیکھا کہ مقررین محض وقت ضائع کررہے ہیں، تو اٹھ کر نکل گئے!
ایک دن ادارے میں سیمینار میں گفتگو کی باری میری تھی۔ غزالی صاحب مقررہ وقت سے 5 منٹ قبل پہنچ گئے۔ دعا سلام اور حال احوال پوچھنے کے بعد اچانک گھڑی کی طرف دیکھا اور پھر کہا کہ وقت ہوگیا ہے، بسم اللہ کریں۔ میں نے کہا کہ بزرگوں کو آنے دیں، سر۔ کہنے لگے:
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن، اسدؔ
سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا!
پھر کہا، آپ سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ بھی سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود ہوں گے۔ چنانچہ میں نے میزبان اور دیگر مہمانوں کی آمد کا مزید انتظار کیے بغیر اپنا مقالہ پڑھنا شروع کیا۔ کچھ دیر میں لوگ آگئے لیکن (شاید غزالی صاحب کو دیکھ کر ہی) کسی نے اعتراض نہیں کیا، نہ ہی برا مانا۔ یہ ان کی تربیت کا ایک انداز تھا۔ اس دن سے میں نے انھیں اپنا مرشد مان لیا تھا۔

 

ادارے میں چونکہ میرے مقالات بالعموم فقہ اور اصول کے موضوع پر ہوتے تھے، تو ایک دن غزالی صاحب نے مجھے مخاطب کرکے کہا: مولانا مشتاق احمد نعمانی! آپ یہ مقالات کتابی صورت میں کیوں شائع نہیں کرتے؟ میں نے کہا، کہ ارادہ ہے لیکن دیکھیں کب توفیق ملتی ہے؟ انھوں نے دعا بھی دی اور تحسین بھی کی، پھر کہا کہ آپ نام کے ساتھ نعمانی کیوں نہیں لکھتے؟ میں نے عرض کی کہ میں خود کو اس نسبت کا حق ادا کرنے کا اہل نہیں سمجھتا۔ اس کے بعد بھی اکثر وہ مجھے اسی نسبت کے ساتھ پکارتے تھے۔ یہ ان کی محبت اور حوصلہ افزائی کا انداز تھا۔
2010ء میں غزالی صاحب سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ کے رکن بنے اور اس کے بعد ان کے ساتھ مختلف مقدمات کے قانونی اور فقہی پہلوؤں پر بارہا تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ وہ مقاصدِ شریعت اور قواعد فقہیہ کے ذریعے شریعت کے عمومی مزاج کی بہت عمدہ وضاحت کرتے تھے اور اس پہلو سے ان کے طریقِ استدلال اور منہج پر شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ کا گہرا اثر نظر آتا تھا لیکن اس کے ساتھ ان کے کام کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ نصوص، بالخصوص قرآن کی کی آیات، سے برمحل استدلال کرتے تھے۔ ان کا استحضار قابل رشک اور ان کا استدلال قابلِ تقلید ہوتا۔

 

شریعت اپیلیٹ بنچ میں دو طرح کے مقدمات آتے ہیں: ایک، حدود مقدمات میں سیشن کی عدالت کے فیصلے کے خلاف پہلی اپیل وفاقی شرعی عدالت کو، اور دوسری اپیل سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ کو ہوتی ہے؛ دوم، جب کسی قانون کو "قرآن و سنت میں مذکور اسلامی احکام سے تصادم” کی بنیاد پر وفاقی شرعی عدالت میں چیلنچ کیا جائے (جسے "شریعت درخواست” کہا جاتا ہے) تو پھر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں ہوتی ہے۔ پہلی قسم کے مقدمات بھی اہم ہوتے ہیں لیکن غزالی صاحب کی زیادہ دلچسپی شریعت درخواستوں کی اپیلوں میں ہوتی تھی کیونکہ ان کے ذریعے قوانین سے غیر اسلامی امور دور کرنے کا موقع ملتا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس بنچ کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہوتا تھا اور غزالی صاحب کو مسلسل یہ گلہ رہا کہ ہمارے جو بھی چیف جسٹس بنے، انھوں نے ان اپیلوں کی سماعت سے مسلسل گریز کا رویہ اختیار کیا۔ غزالی صاحب وقتاً فوقتاً انھیں یاد دلاتے بھی رہے۔ چنانچہ ایک بار چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انھیں یہ کام سونپ دیا کہ وہ ان تمام اپیلوں کے متعلق ایک جامع رپورٹ ان کےلیے تیار کریں جس کے بعد وہ ان مقدمات کی سماعت کا سلسلہ شروع کرلیں گے۔ غزالی صاحب نے 1989ء سے 2019ء تک 30 سال کے زیرِ التوا مقدمات کے متعلق ایک جامع رپورٹ تیار کرکے ان کے حوالے کی لیکن کوئی عمل درآمد کی صورت پیدا نہیں ہوئی۔ البتہ 2020ء میں چیف جسٹس گلزار احمد نے شریعت درخواستوں کی اپیلوں کے بجاے حدود مقدمات کی اپیلوں کےلیے چند دن شریعت اپیلیٹ بنچ کے سامنے مقدمات رکھے۔ پھر رات گئی، بات گئی۔
ستمبر 2023ء میں جب قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کا منصب سنبھالا، تو مجھے سیکرٹری کی ذمہ داریاں دیتے ہوئے خصوصاً شریعت اپیلیٹ بنچ کے سامنے زیرِ التوا مقدمات پر رپورٹ کا کام سونپا۔ مجھے غزالی صاحب کی رپورٹ کا علم تھا۔ میں نے ان سے رابطہ کیا، تو وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر انھوں نے قاضی صاحب سے اس موضوع پر تبادلۂ خیال کیا۔ قاضی صاحب نے انھیں بتایا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے نفاذ کے بعد اب مقدمات کی سماعت کےلیے بنچ بنانے کا اختیار تنہا چیف جسٹس کے پاس نہیں رہا، بلکہ اب چیف جسٹس اور دو سینیئر ججوں پر مشتمل کمیٹی اس کافیصلہ کرتی ہے، البتہ میری کوشش ہوگی کہ جنوری سے ہم اس کی سماعت کا سلسلہ شروع کرلیں۔ غزالی صاحب نے انھیں بتایا کہ انھوں نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ پہلے سے تیار کی ہوئی ہے۔ قاضی صاحب کے کہنے پر غزالی صاحب نے اس رپورٹ کی نقل مجھے دے دی۔ میں نے تمام مقدمات کی فائلیں منگوا کر انھیں پڑھا اور پھر غزالی صاحب کے مشورے اور رہنمائی میں ایک لائحۂ عمل تیار کیا، لیکن معلوم نہیں تھا کہ تقدیر میں کچھ اور ہی لکھا ہوا ہے اور 18 دسمبر کو غزالی صاحب کا انتقال ہوا۔ شریعت اپیلیٹ بنچ بھی اب ادھورا رہ گیا ہے۔ آگے کا کام مشکل ہوگیا ہے لیکن، ان شاء اللہ، غزالی صاحب کی یہ آخری خواہش پوری کرنے کی ہم پوری کوشش کریں گے۔ یہ صرف غزالی صاحب کی خواہش ہی نہیں، آئینی ذمہ داری بھی ہے اور ایمان کا تقاضا بھی۔

You may also like