ڈاکٹر کفیل کی رہائی کا فیصلہ:کیا یوگی حکومت ہوش میں آئے گی؟

 

محمد قاسم ٹانڈؔوی
(09319019005)
مضبوط جمہوری ممالک کی بنیاد جن اہم ستونوں پر قائم ہوتی ہے ان میں سے ایک ستون عدالت کا چیمبر بھی ہوتا ہے۔ اسی لئے عدالتیں حق و صداقت کے پرچم کو بلند رکھنے اور ناانصافی کے بازار کو ختم کرنے میں اہم کردار نبھاتی ہیں۔ بلکہ عدالت کا یہ احاطہ ایک جمہوری ملک اور فلاحی ریاست کی پہچان ہوا کرتی ہے- جہاں کا عدالتی نظام صاف شفاف نہ ہو اور بوقت فیصلہ وہاں کی عدالتیں مذہبی تعصب سے پاک یا کمیونٹی کو دیکھ کر جانبدارانہ کارروائی عمل میں لاتی ہوں، تو ایسی ریاستیں اور مملکتیں جلد ہی زوال کا شکار ہو کر رہ جاتی ہیں یا ایسی عدالتوں کے چیمبر میں بیٹھنے والے بےنام و نشان ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس لئے منصف وقت اور میزان عدل کے سامنے بیٹھے شخص کو چاہئے کہ وہ کسی بھی فیصلہ کو سنانے سے قبل اولا اپنے ذہن کو ہر قسم کے تعصبات سے پاک کر لے اور ہر طرح کے رشتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بجانب حق فیصلہ سنائے، تاکہ بعد میں کسی طرح کا پچھتاوا اور شرمندگی کا نہ تو احساس ہو اور نہ ہی کسی ایک فریق کی طرفداری اور جانبداری برتنے کی وجہ سے دوسرا فریق اس کو معتوب و مطعون ٹھہرانے اور جہاں کی عدالتیں بھی اس اصول پر کاربند ہوں گی، وہ یقینا حق و انصاف کی علمبردار اور اپنے شہریوں کے حقوق کی محافظ و ہمدرد ہوں گی، پھر ایسی صورت میں کیوں نہ وہ کمرۂ عدالت اور اس میں بیٹھنے والے ججز اور کیس کو ہینڈل کرنے والے وکلا سبھی قوم کے منظور نظر اور قابل اعتماد و احترام ہوں گے؟ لیکن ہمارا یہ ملک جسے ہمارے بزرگوں نے بڑی مشکل اور جانفشانی سے انگریزوں کے چنگل سے آزادی دلائی اور مرحلہ وار بےشمار جان و مال کی قربانی پیش کرنے کے بعد آزادی کی فضا قائم کی تھی، آج اس ملک میں آباد اکثریتی طبقہ کے ماسوا طبقات کے ساتھ بڑی بدقسمتی کی بات یہ پیش آئی کہ پہلے ملک کے مرکزی اقتدار سے انہیں دور کیا گیا پھر رفتہ رفتہ آئینی اداروں سے ان کی چھٹنی شروع کر دی اور نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ دن کی روشنی میں نہ صرف ان کے حقوق سلب کئے جانے لگے بلکہ حق و انصاف کی راہ بھی ان کے لئے مشکل سے مشکل تر بنا دی گئی اور انصاف کے مندر میں بیٹھ کر دن دہاڑے انصاف کا خون کیا جانے لگا۔ اور ایسا ایک دو بار نہیں بلکہ متعدد مرتبہ ہوا، مگر ہم ہر بار صبر و تسلی کے ساتھ معاملہ آخری عدالت کے حوالے کرتے رہے۔
لیکن کہتے ہیں کہ جس طرح رات کے بعد صبح کا نمودار ہونا یقینی ہے یا اندھیرے کے بعد روشنی کا آنا ویسے ہی حالات کا تغیر و تبدل ایک لازمی شئی ہے، جو دیر سویر ہوکر رہتا ہے۔ چنانچہ پہلے ممبئی ہائی کورٹ سے تبلیغی جماعت کے سلسلے میں حق و انصاف کی جیت ہونا اور اب منگل کے روز آلہ باد ہائی کورٹ سے ڈاکٹر کفیل خان کی باعزت رہائی در اصل ملک کے اس سسٹم کی بحالی کی طرف مثبت اقدام ہے جسے اہل اقتدار کی طرف سے یرغمال کرنے کی کوششوں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ جب سے مرکز سمیت ملک کی بیشتر ریاستوں میں بی جے پی یا اس کی ہمنوا و ہم خیال پارٹیوں کا تسلط قائم ہوا ہے تبھی سے ہر آئینی ادارے کا وجود متزلزل ہے، حتی کہ ملک کا سب سے باعزت و باوقار ادارہ "سپریم کورٹ” جسے انصاف کے منادر میں سے ایک بڑا مندر "عدالت عظمی” کہا جاتا ہے، وہ بھی اپنی شبیہ اور تقدس کو عوام کی نظروں میں محفوظ نہ رکھ سکا، جہاں سے جانے انجانے میں بیتے دنوں کچھ ایسے فیصلے صادر کئے گئے جن کو سن کر باشندگان ملک کے علاوہ غیر ممالک کے لوگ بھی انگشت بدنداں رہ گئے اور ان کی طرف سے بعد میں اس پر منفی ردعمل کا اظہار سامنے آیا۔ خیر ! اس وقت جو ہوا سوا، اب الہ آباد ہائی کورٹ کا جو حالیہ فیصلہ آیا ہے وہ دراصل ریاستی حکومت کے منھ پر ایک زور دار طمانچہ ہے، جس نے ڈاکٹر کفیل خان کو ایک تقریر کے جرم میں گذشتہ کئی ماہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال رکھا تھا۔ ویسے اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ ریاستی حکومت اپنے قیام کے روز اول ہی سے انتقام کے جذبے سے کام کر رہی ہے، جس کےلئے اس نے ہر وہ راہ اور موقع اختیار کیا جہاں سے عوام خاص طور پر مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے یا انہیں بدنام کیا جا سکے، چنانچہ مسلم لیڈران کی گرفتاری کر انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلنا، تعلیم یافتہ نوجوانوں پر سخت قسم کی دفعات قائم کر ان کے مستقبل کو تند و تاریک بنانا، مسلم علاقوں یا اسلامی شناخت کو ظاہر کرنے والے مقامات اور عوامی پلیسز کے نام کو تبدیل کر اپنی مسلم دشمنی ثابت کرنا؛ ریاستی حکومت کے وہ اقدام ہیں جن کو اہل بصیرت و قلم کار اس کے انتقامی جذبہ سے تعبیر کرتے آ رہے ہیں، اور یہی حقیقت بھی ہے۔ آج ایک بار پھر ریاستی حکومت کا اصلی چہرہ بےنقاب کیا ہے عدالت نے، جس کی وجہ سے حکومت کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)