ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی آئین وجمہوریت کی تاریخی فتح:انصاف منچ /سی پی آئی ایم ایل 

 

مظفرپور:(پریس ریلیز ) سی پی آئی ایم ایل انصاف منچ ، خواتین کی تنظیم اپوا اور طلباء یوتھ آرگنائزیشن انقلابی نوجوان سبھا کے کارکنوں نےماہر اطفال معالج ڈاکٹر کفیل خان پر نافذ ای ایس اے (قومی سلامتی ایکٹ) کو الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے کالعدم قرار دینے اور ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کا پوسٹر کے ذریعے خیرمقدم کیا اور الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے جمہوریت کی فتح قرار دیا ہے۔اسی طرح دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے سی اےاے،این آر سی اور این پی آر تحریک میں حصہ لینے کی وجہ سے جیل میں قید پنجرا توڑ تحریک کی مشہور خاتون کارکن دیونگانہ کی رہائی پر بھی خوشی کا اظہار کیا گیا۔ کارکنان نے ڈاکٹر کفیل خان کو سلام ، آئین اور جمہوریت کی فتح کے نعرے لگائے۔ اس دوران انصاف منچ بہار کے ریاستی صدر سورج کمار سنگھ، نائب صدر آفتاب عالم وظفر اعظم نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے ڈاکٹر کفیل پر عائد قومی سلامتی ایکٹ کو مسترد کرنا جمہوریت اور ملک کے مفاد میں ہے۔ اسی طرح دہلی ہائی کورٹ کا دیوانگنا اور شرجیل عثمانی کو ضمانت دینا انصاف اور عوامی تحریک کی فتح ہے۔ ہریسبھا چوک پر سی پی آئی ایم ایل ضلعی دفتر سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں منعقدہ پروگرام میں انصاف منچ کے ریاستی صدر سورج کمار سنگھ ، ریاض خان، سی پی آئی ایم ایل ضلعی سکریٹری کرشن موہن ، آفس سکریٹریس سکل ٹھاکر ، منوج یادو ،شتروگھن سہنی ، سنت لال پاسوان ، اپپوا شاردا دیوی،ضلعی صدر اور سکریٹری نرملا سنگھ ، پروفیسر میرا ٹھاکر ، آئیسا کے دیپک کمار ، اجے کمار ، سوراب کمار پاسواں ، نوجوان سبھا کے ضلعی سکریٹری راہول کمار سنگھ ، شفیق الرحمن ، وجے میترا اور دیگر کارکنوں نے شرکت کی مظاہرے کے دوران سی پی آئی ایم ایل اور انصاف منچ کے کارکنوں کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نیشنل سیکیورٹی ایکٹ اور غداری جیسے قوانین کو ہمیشہ جمہوریت اور اظہار رائے کے حقوق کو کچلنے کے لئے استعمال کرتی رہی ہے۔ مودی یوگی حکومت جمہوری اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو قید میں ڈال رہی ہے ۔جمہوریت اور ملک کے مفاد میں راسوکا اور غداری سے متعلق قوانین کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔