Home تجزیہ ڈاکٹر کفیل خان کے ساتھ افسوس ناک سلوک-شکیل رشید

ڈاکٹر کفیل خان کے ساتھ افسوس ناک سلوک-شکیل رشید

by قندیل

 ( ایڈیٹر، ممبئی اردو نیوز)

کیوں گورکھپور کے ڈاکٹر کفیل خان کے سر پر گرفتاری کی تلوار ہمیشہ لٹکتی ہی رہتی ہے ؟ کیا اس لیے کہ انہوں نے ایک بہت بڑی سیاسی شخصیت سے جھگڑا مول لے لیا ہے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب چاہے ہاں میں ہو یا نہ میں ڈاکٹر کفیل خان کی شخصیت پر نظر ڈالیں تو ان کی ایک ایسی صفت عیاں ہو کر سامنے آتی ہے جو آج لوگوں میں کم کم پائی جاتی ہے – سنجیدگی سے حالات پر نظر ڈالنے اور سوچ سمجھ کر بات کرنے کی صفت – چند روز قبل ان کی کتاب ’’ اسپتال سے جیل تک : گورکھپور سانحہ ‘‘ کے خلاف اترپردیش ( یو پی ) کی پولیس نے ایک ایف آئی آر درج کی ہے ، جسے ایک ایسے ڈاکٹر کو ہراساں کرنے کی کوشش کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا ، جس کو عدالت نے کلین چٹ دی ہے اور جو اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو بے بنیاد ثابت کر چکا ہے ۔ ۳ ، دسمبر کو یو پی کی راجدھانی لکھنئو کے کرشنا نگر پولیس اسٹیشن میں جو مقدمہ درج کیا گیا ہے ، اس کی بنیاد یہ بنائی گئی ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان نے اپنی کتاب کے ذریعے حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسانے اور سماج میں تقسیم پیدا کرنے کا کام کیا ہے ۔ پولیس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ کتاب معاشرے میں تقسیم کے مقصد سے شائع کی گئی ہے ۔ حالانکہ کرشنا نگر پولیس اسٹیشن کے ہاؤس آفیسر جتیندر پرتاپ سنگھ نے یہ مانا ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کی کتاب میں اب تک ایسی کوئی بات نہیں ملی ہے جو قابلِ گرفت ہو ، لیکن اس اعتراف کے باوجود مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ، اور دفعات سنگین لگائی گئی ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مقدمہ ایک مقامی تاجر منیش شکلا کے اس الزام کے بعد درج کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر کفیل کی کتاب لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسانے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کے لیے بانٹی جا رہی تھی ، اور اس کتاب کی آمدنی کا استعمال حکومت کا تختہ الٹنے میں کیا جانا تھا ۔ الزام بھونڈا ہے کیونکہ نہ ڈاکٹر کفیل خان کوئی انتہا پسند ہیں اور نہ ہی عالمی پبلشنگ ادارے ’ ہارپر کولنز ‘ سے کسی انتہا پسند کی کوئی کتاب شائع ہوتی ہے ، یہ کتاب اسی ادارے نے شائع کی ہے اور اس کی ساری دنیا میں ایک ساکھ ہے ۔ یہ ایسا ادارہ ہے ہی نہیں جو کوئی ایسی کتاب شائع کردے جو سنی سُنائی باتوں پر مبنی ہو ، یہ ادارہ ایسی ہی کتابیں شائع کرتا ہے جن میں بیان کردہ واقعات کے باقاعدہ ثبوت ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر کفیل خان نے اپنے اوپر قائم کیے گیے اس نئے مقدمے پر اپنا ردعمل بؑغیر طیش میں آئے دیا ہے ۔

 

انہوں نے وہی بات کہی ہے جو سچ ہے کہ ’’ مجھے بلی کا بکرا بنایا جا رہا ہے ۔‘‘ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب انہیں بلی کا بکرا بنایا گیا ہے ، یہ کام تو اس وقت سے کیا جا رہا ہے جب انہوں گورکھپور کے اسپتال میں بچوں کو موت سے بچانے کی کوشش کی تھی ، اور سانحے کا سارا الزام ان کے سر تھوپ دیا گیا تھا ۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے کچھ سوال پوچھ لیے تھے اور ان کی باتوں کے رد میں کچھ حقائق پیش کرنے کی کوشش کی تھی ۔ وہ آج تک معتوب چلے آ رہے ہیں ، انہیں اب تک گورکھپور کے اسپتال میں بحال نہیں کیا گیا ہے ، اور وہ اپنی زندگی اپنے وطن سے باہر گزارنے پر مجبور ہیں ۔ کتاب پر ایف آئی آر درج کیے جانے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ان کے خلاف پھر کارروائی کی جائے گی ، خطرہ ہے کہ دوبارہ گرفتار کر کے کہیں انہیں جیل میں نہ دال دیا جائے ۔ ڈاکٹر کفیل خان نے ان خدشات کا اظہار کیا بھی ہے ۔ یہ کتاب دو سال قبل 17 دسمبر 2021 کو دہلی میں ریلیز ہوئی تھی اور تب سے یہ کتاب دکانوں پر فروخت ہو رہی ہے ۔ اصل میں انگریزی میں لکھی گئی اس کتاب کا ہندی، اردو، تامل، مراٹھی اور بنگالی وغیرہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس کتاب کا ایک سرکاری ‘ISBN’ نمبر بھی ہے اور اسے خود حکومت نے تمام باقاعدہ اصولوں اور اصولوں پر عمل کرتے ہوئے جاری کیا ہے ۔ لیکن قانون اور ضوابط پر مکمل عمل کے باوجود ڈاکٹر کفیل خان کو ستانے کا افسوس ناک سلسلہ جاری ہے ۔ یوگی حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگوں کو ستانا بند کرے ، یہ مقدمہ بے معنیٰ ہے ، حکومت خود پولیس کو ہدایت دے کہ ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف مقدمہ ختم کیا جائے ۔ اتنا ہی نہیں یہ یوگی حکومت کے لیے یہ ثابت کرنے کا کہ وہ متعصب نہیں ہے ایک اچھا موقع ہے ، اسے چاہیے کہ وہ ڈاکٹر کفیل خان کو گورکھپور کے اسپتال میں بحال کرکے انہیں اپنی ریاست میں عوامی خدمات کا موقع دے ۔

You may also like