ڈاکٹر کفیل خان :٨ مہینے کا ٹارچرـ شکیل رشید

 

ڈاکٹر کفیل خان اور یوگی آدتیہ ناتھ میں بڑا فرق ہے ۔ جیسے آسمان اور زمین میں ، بلندی اور پستی میں ۔آلہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے اور متھرا کی جیل سے باہر آنے کے بعد ڈاکٹر کفیل خان نیوز پورٹل دی وائر سے بات کر رہے تھے تو ان کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تھے، آنسو جن میں کسی جرم کے بغیر زندان کے حوالے کیے جانے پر درد بھری شکایت بھی تھی، ناانصافی کا غم بھی تھا اور تمام تر مصائب اور مشکلات کے، اور ظالم حکمراں کے بے شرمی کے ساتھ ناانصافی پر آمادہ رہنے کے خلاف ڈٹے رہنے اور کبھی نہ جھکنے کا عزم بھی تھا ۔ یوگی کے آنسو بھی لوگوں نے دیکھے ہیں ۔ بات 2007ء کی ہے ایم پی یوگی لوک سبھا کے اندر اپنا دکھڑا سناتے ہوئے زار و قطار رونے لگے تھے اور اسپیکر سومناتھ چٹرجی سے شکوہ کیا تھا کہ کیا وہ اس لوک سبھا کے رکن ہیں یا نہیں ہیں اور کیا لوک سبھا انہیں حفاظت دے سکے گی یا نہیں… یہ شکوہ اور شکایت اس لیے تھی کہ اس وقت کی یوپی کی ملائم سنگھ یادو کی سرکار نے انہیں گیارہ دن کے لیے سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا تھا اور یوگی کو یہ لگ رہا تھا کہ ان کے خلاف سیاسی سازش رچی جا رہی ہے، ساری کارروائی سیاسی بدلے کی کارروائی ہے ۔ یوگی نے لوک سبھا میں یہ تک کہا تھا کہ کہیں ان کا حال بھی سنیل مہتو جیسا تو نہیں کر دیا جائے گا ! واضح رہے کہ مہتو کا تعلق جھارکھنڈ مکتی مورچہ پارٹی سے تھا اور انہیں جمشید پور کے قریب ایک حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا ۔ لوگوں کو خوب یاد ہوگا کہ یوگی کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں نے ان کی "بہادری” کا ملمع اتار دیا تھا ۔ بات کیا تھی؟ گورکھپور میں ایک ہندو مسلم لڑائی میں راج کمار نام کا ایک لڑکا مارا گیا تھا، معاملہ محرم الحرام کا تھا، کشیدگی کے بیچ یوگی نے موقعہ پر جانے کی کوشش کی تھی حالانکہ اس پر پابندی تھی ۔ یوگی نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اگر تمہارے گھروں اور تمہاری دکانوں کو کوئی جلاتا ہے تو ایسا ہی تمہیں کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا ۔ یوگی نے اس انتہائی زہریلی، نفرت سے بھری ہوئی تقریر میں یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ اور ان کی تنظیم ہندو یوؤا واہنی کے ان کے چیلے چپاٹے مارچ کریں گے اور تعزیہ کو برباد کر یں گے ۔ 28 جنوری 2007ء کو، یوگی اور ہندو یوؤا واہنی کے فساد کرنے پر اتارو عناصر گرفتار کر لیے گیے تھے ، ٹھیک محرم الحرام کے جلوس سے ایک روز قبل ۔ لیکن فسادات پھوٹ پڑے تھے، جانی اور مالی نقصانات ہوئے تھے، ٹرین کے ڈبے جلائے گیے تھے، مسجدوں اور گھروں اور دکانوں کو پھونکا گیا تھا ۔ فسادات میں دس افراد ہلاک ہویے تھے ۔ گورکھپور میں یوگی اور بی جے پی کے چار لیڈروں انوج چودھری، وائی ڈی سنگھ، موجودہ گورکھپور سٹی رکن اسمبلی رادھا موہن داس اگروال اور آج کی ریاستی سرکار کے ایک وزیر شیو پرتاپ شکلا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی ۔ یہ واحد کارروائی ہے جو گورکھپور انتظامیہ نے یوگی کے خلاف کی ہے ۔ زہریلی تقریر سے فساد پھوٹا لوگ مارے گیے لیکن یوگی کسی دودھ کے دھلے کی طرح لوک سبھا میں انصاف کی گہار لگا رہے تھے ! یوگی اس کے بعد بھی نفرت سے بھری تقریریں کرتے رہے اور آج بھی زہریلی تقریریں کرتے ہیں ۔ ٹانڈہ میں 13 دسمبر 2013ء کو ایک ہندو لیڈر کا قتل ہوا، یوگی نے نفرت سے بھری تقریر کی، سماج وادی پارٹی اور اس کے رکن اسمبلی عظیم الحق پر قتل کا الزام عائد کیا اور دھمکی دی کہ اگر پندرہ دن کے اندر ان کی گرفتاری نہ کی گئی تو وہ ہندو یوؤا واہنی کے اپنے گرگوں کے ساتھ مارچ کریں گے ۔ یہ یوگی ہی تھے جنہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی مسلمان ایک ہندو لڑکی سے شادی کرتا ہے تو ہندو سو مسلم لڑکیوں سے شادی کریں گے ۔ یہ یوگی ہی تھے جنہوں نے مسجدوں میں مورتیاں لگانے کی دھمکی دی تھی ۔ اور یہ یوگی ہی تھے جنہوں نے کہا تھا کہ قبروں سے مسلم عورتوں کی لاشیں نکال کر بے حرمتی کریں گے ۔ اور یہ یوگی ہی تھے جنہوں نے دہلی کے فسادات سے قبل دہلی اسمبلی انتخابات کی ریلیوں میں بندوق اور گولی کی دھمکی دی تھی ۔ یہ نفرت سے بھری ہوئی تقریریں ڈاکٹر کفیل خان کی نہیں تھیں جن پر علی گڑھ میں ہیٹ اسپیچ کا جھوٹا گھناؤنا الزام عائد کیا گیا تھا ۔ یوگی کا معاملہ تو یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کی گدی پر متمکن ہونے کے بعد انہوں نے اپنی نفرت سے بھری تقریروں کے لیے قائم مقدمہ کو ہی ختم کرادیا ہے، اور پرویز پرواز نام کے جس مسلم صحافی نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہمت کی تھی اس کے خلاف کارروائی کی انتظامیہ کو مکمل چھوٹ دے دی ہے ۔ پرویز پرواز آج گینگ ریپ کے ایک الزام میں، جو ان کے اور ان کے وکیل ایڈوکیت سید فرمان نقوی کے مطابق من گھڑنت ہے، عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔ یوگی پر مقدمہ چلانے کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے ۔
پرویز پرواز کے ساتھ جو ہوا وہی ڈاکٹر کفیل خان کے ساتھ بھی ہوا ہے ۔ پرویز پرواز نے ایف آئی آر درج کرانے کی ہمت کی تھی اور ڈاکٹر کفیل خان نے یہ سوال پوچھنے کی ہمت کی تھی کہ گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں سرسام سے جو ستّر بچے مرے ان کا قاتل کون ہے؟ گویا یہ کہ پرویز پرواز کے ساتھ اگر بقول ان کے وکیل، بدلے کی کارروائی کی جا رہی ہے تو ڈاکٹر کفیل خان کے ساتھ بھی بدلے یا بالفاظ دیگر انتقام کی کارروائی ہی کی گئی ہے ۔ یوگی بدلے کی کارروائی کے لیے خوب جانے جاتے ہیں ۔ یو پی کے سابق وزیر، سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان کی مثال لے لیں ۔ آج اعظم خان رکن پارلیمنٹ ہوتے ہوئے بھی جیل میں ہیں اور تنہا نہیں ہیں ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ اور بیٹا عبداللہ اعظم خان بھی اسیر ہیں ۔ یوگی سرکار نے عبداللہ کی، جو رکن اسمبلی تھا، پیدائش کی سند کو جعلی قرار دیے کر مقدمہ قائم کر دیا ہے، جواہر یونیورسٹی کے قیام کے لیے زمینوں پر قبضہ کرنے کا ملزم بنا دیا ہے، لینڈ مافیا بنا دیا ہے اور ڈھیروں دوسرے سنگین الزام عائد کر دیے ہیں ۔ بات صرف یہ ہے کہ اعظم خان ہمیشہ یوگی کی شر انگیزی پر تنقید کرتے رہے ہیں، تنقید اور نکتہ چینی کبھی کبھی سخت بھی ہو جاتی تھی ۔ اب یوگی اعظم خان کو بہت بڑا بدمعاش قرار دینے کے لیے قانون کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر رہے ہیں ۔ اعظم خان کا پورا خاندان اس وقت نشانے پر ہے، اور حیرت انگیز طور پر یوگی کی ساری بدنیتی کے جگ ظاہر ہونے کے باوجود بھی سیاسی حلقے خاموش ہیں، بس کبھی کبھار سماج وادی پارٹی کے رہنما، جیسے کہ اکھلیش سنگھ یادو، اعظم خان کو پھنسانے کی، سیاسی بدلہ لینے کی آواز بلند کر دیتے ہیں ۔ ابھی گزشتہ دنوں یوگی نے مختار انصاری اور عتیق احمد جیسے دو حریف سیاسی لیڈروں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے، مانا کہ یہ دونوں باہو بلی ہیں، لیکن یہ کارروائیاں ان کے باہوبلی ہونے کی بنیاد پر نہیں ان کے سیاسی نظریات کی بلکہ اس سے بھی زیادہ ان کے مسلم سیاستدان ہونے کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں ، ورنہ بی جے پی میں تو نہ باہوبلیوں کی کمی ہے اور نہ ایسے لیڈروں کی جو مجرمانہ مقدمات کے باوجود اسمبلی اور پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے، اس لیے یہ کہنا قطعی غلط نہیں ہے کہ یوگی سرکار میں جو کیا جاتا ہے اس کے پس پشت مذہب اور ذات پات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔بی آر ڈی میڈیکل کالج اور اسپتال کے واقعہ کی بات کریں گے کہ ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف بدلے کی کارروائی کا اس اسپتال سے ہی تعلق ہے مگر اس سے پہلے یوگی اور مودی سرکار کے چہروں پر لگنے والے ان طمانچوں کی بات کر لیں جو اس سچ کو مزید تقویت پہنچا رہے ہیں کہ فرقہ پرست حکمرانوں کے دور میں ملک کی اقلیتیں، دلت اور مسلمان نشانے پر ہیں اور اس بار نشانہ سابقہ نام نہاد سیکولر سرکاروں کے مقابلے اَچوک ہے ۔
طمانچے بار بار لگے اور لگ رہے ہیں ۔ ایک طمانچہ تو ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے تبلیغی جماعت کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے جڑا، کورٹ نے سارے مقدمے کو ہی مسلمانوں کو بالواسطہ طور پر ڈرانے کے لیے قائم کیا مقدمہ قرار دیا ۔ کورٹ کے یہ جملے ملاحظہ ہوں…. اس ایکشن سے بالواسطہ طور پر ہندوستانی مسلمانوں کو ایک وارننگ دی کہ کسی بھی چیز کے لیے مسلمانوں کے خلاف کسی بھی قسم کا ایکشن لیا جا سکتا ہے…. پھر طمانچہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دو طلباء شرجیل عثمانی اور فرحان زبیری کی ضمانت کے فیصلے سے لگا ۔ پنجرہ توڑ کی رکن دیوانگنا کی رہائی سے طمانچہ لگا ۔ انتظامیہ نے پوری کوشش کرلی تھی کہ سی اے اے کے خلاف پرامن تحریک میں شامل رضاکاروں کو دہلی فسادات کے لیے قصور وار قرار دے دیا جائے لیکن عدالت نے انتظامیہ کے جھوٹ کو اسی کے منھ پر پھینک مارا ۔ پھر طمانچہ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کے اعدادوشمار سے لگا جس نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مسلمان، آدیواسی اور دلت اپنی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے جیلوں میں کہیں زیادہ ہیں ۔ سارے جھوٹ کھلتے جا رہے ہیں، سچ سامنے آ رہا ہے، دہلی فسادات کا سچ بھی اور پولیس کی جانبداری اور زعفرانی حکمرانوں کی بدنیتی کا سچ بھی ۔ ڈاکٹر کفیل خان کے معاملے میں بھی سچ سامنے آیا ہے، آلہ آباد ہائی کورٹ نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ڈاکٹر نے علی گڑھ میں نفرت بھری تقریر نہیں کی تھی ان کی تقریر تو ایکتا کی، جوڑنے والی تقریر تھی ۔ عدالت کے جملے ملاحظہ کریں … شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ڈاکٹر کفیل خان کی 13 دسمبر 2019ء کو کی گئی تقریر، جس کے لیے انہیں این ایس اے جیسے سخت قانون کے تحت گرفتار کیا گیا، کہیں سے بھی نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی نظر نہیں آتی بلکہ اس تقریر میں قومی یکجہتی اور شہریوں کو اتحاد کی ترغیب دلائی گئی ہے، تقریر ہر طرح کے تشدد کی مذمت بھی کرتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ ضلع مجسٹریٹ علی گڑھ نے تقریر کی اصل منشاء کے بجائے منتخب حصے پڑھے اور چند منتخب فقروں کو پیش کیا…. عدالت نے یہ بھی کہا… اس میں کوئی شک نہیں کہ مقرر حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کر رہا تھا اور اس مخالفت کے دوران اس نے چند مثالیں بھی پیش کیں مگر ان میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو مقرر کی گرفتاری کا باعث بنے …. عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان پر این ایس اے کا لگانا غیر قانونی تھا ۔ گویا یہ کہ عدالت نے یوگی سرکار کی طرف سے ڈاکٹر کفیل خان پر لگایے گیے سارے الزامات اٹھا کر کوڑادان میں پھینک دیے ۔لیکن ڈاکٹر کفیل خان کے آٹھ مہینے، زندگی کے قیمتی دن، یوگی کے بدلے کی کارروائی کی بھینٹ چڑھ گیے ۔ کیا ان بیتے ہویے دو سو دنوں کو یوگی واپس لوٹا سکیں گے؟ یقیناً نہیں بلکہ اگر کوئی ان سے کہے گا بھی کہ ڈاکٹر کفیل خان کو کیوں بغیر کسی جرم کے جیل میں ڈالا تھا تو شاید وہ وہی جواب دیں جو اعظم خان کی گرفتاری پر دیا تھا کہ.. کچرے کی صفائی ہو رہی ہے… جی مسلمان اور دیگر اقلیتیں ان کی نظر میں کچرا ہی ہیں ۔ ڈاکٹر کفیل خان کی اہلیہ ڈاکٹر سبشتاں نے اسی خوف سے کہ کہیں ان کے شوہر کے خلاف مزید کوئی قدم یو پی سرکار نہ اٹھالے یوپی کی بجائے جےپور آنا اور شوہر کو ساتھ لانا بہتر سمجھا ہے ۔ خود ڈاکٹر کفیل خان نے یہ بات کہی ہے کہ انہیں پھر کسی کیس میں پھنسایا جا سکتا ہے ۔ اس اندیشے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ ان کا فرضی انکاؤنٹر بھی کیا جا سکتا ہے ۔ یوگی سرکار پر بھروسہ نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ اس کی بدنیتی ہے ۔ تین سال پہلے ڈاکٹر کفیل خان کو بی آر ڈی میڈیکل کالج آکسیجن کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، اس وقت چھ ماہ سے زائد جیل میں رہے پھر ضمانت پر رہا ہوئے ۔ بات 10اگست 2017ء کی ہے، بی آر ڈی میڈیکل کالج اور اسپتال میں آکسیجن ختم تھا سرسام (انسیفلائٹس) کے مریض بچے اسپتال میں بھرتی تھے، آکسیجن نہ ہونے کے سبب پہلے 48 گھنٹے میں 30 بچے جان سے گیے، 13 اگست تک مرنے والے بچوں کی تعداد 72 ہو گئی ۔ ان بچوں کی موت کا ذمہ دار کون تھا؟ اسپتال کو جو کمپنی آکسیجن سپلائی کرتی تھی اس نے 6 اپریل 2017ء کو وزیراعلیٰ یوگی کو تحریری طور پر یہ اطلاع دے دی تھی کہ کمپنی کا بقایا چکتا نہیں کیا گیا ہے اگر جلد رقم ادا نہیں کی گئی تو آکسیجن کی سپلائی منقطع کردی جائے گی ۔ وزیر صحت کو بھی یہ تحریر بھیج گئی تھی ، کالج کے ذمے داران کو بھی تحریری شکایت بھیجی تھی مگر رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی ۔ اسپتال میں آکسیجن ختم ہو گیا، الزام ڈاکٹر کفیل خان پر لگا جبکہ وہ خود آکسیجن سلینڈر خریدنے گیے تھے ۔ 11 اگست کو بچوں کے وارڈ کے باہر میڈیا نے ڈاکٹر کفیل خان کو بے چینی سے ٹہلتے دیکھا، ایک پک اپ سے جمبو سلینڈر اتارے جا رہے تھے، اسی وقت ایک عورت گود میں بیمار بچہ لیے آئی ڈاکٹر کفیل خان نے اس بچے کو وارڈ کے باہر ہی دیکھا اور گود میں بھر کر بھاگتے ہوئے وارڈ میں اسے بھرتی کرانے چلے گیے ۔ یہ تصویر، انسانیت کی تھی لیکن اس کے سبب اچانک 12 اگست کو سارا الزام ڈاکٹر کفیل خان پر عائد کر دیا گیا کہ وہ بچوں کے وارڈ کے نگراں تھے ۔ میڈیا زہر اگلنے لگا، ان کی پرائیوٹ پریکٹس جرم بن گئی، عصمت دری کا کوئی معاملہ ان پر بنا دیا گیا اور وہ معطل کر دیے گیے، گرفتار ہویے ۔لیکن دو بار کی محکمہ جاتی انکوائری کے بعد بالکل بری قرار دیے گیے ۔ پھر انہوں نے ایک قصور کیا، یہ سوال پوچھ لیا کہ بچوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ سوال نہیں پوچھا جانا چاہیے؟ کیا یہ سوال نہیں اٹھنا چاہیے کہ آکسیجن سپلائی کی بحالی کے لیے بقایا ادا نہ کرنے والے بچوں کے قاتل کیوں نہ قرار دیے جائیں؟ بہرحال اب ڈاکٹر کفیل خان آزاد ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ سیلاب متاثرین کے بیچ جا کر کام کریں، بیمار بچوں کی نگہداشت کریں، کورونا کی وباء کی روک تھام کی جنگ میں تعاون دیں اور اپنی نوکری پر واپس جائیں، لیکن شاید یوگی سرکار میں یہ سب کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا ۔ ان کی جیل سے رہائی کے بعد اپنے بچوں اور والدہ نزہت پروین کے ساتھ جو ویڈیو سامنے آئی ہے اسے دیکھ کر آنسو نکل آتے ہیں، یہ شخص بچوں سے اور لوگوں سے کتنا پیار کرتا ہے! یہ شخص ہے ہی پیارا اور نڈر بھی ۔ ڈاکٹر کفیل خان نے صاف صاف یہ شعر پڑھتے ہوئے کہ،
ظلم کے دور میں زباں کھولے گا کون
اگر ہم ہی چپ رہیں گے تو بولے گا کون
کہہ دیا ہے کہ یوگی سرکار کے آگے جھکنا نہیں ہے ۔ حالانکہ انہیں اندازہ ہے کہ یوگی سرکار ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے ۔ اس بار جیل میں ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا، جسمانی اور ذہنی اذیت دی گئی، کھانا اور پانی بند کر دیا گیا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری، سب جھیل گیے، اور انہوں نے یہ کہہ بھی دیا ہے کہ اب ڈرنا نہیں ہے ۔ ڈاکٹر کفیل خان مسلمانوں کا ہی نہیں ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، انہوں نے جو سبق دیا ہے کہ جھکو نہیں اسے سب کو یاد رکھنا چاہیے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)