ڈاکٹر جسیم الدین کی تین کتابیں-نایاب حسن

ڈاکٹر جسیم الدین دیوبند،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی کے فیض یافتہ اور  نسلِ نو  کے ان گنےچنے اصحابِ علم میں سے ایک ہیں، جن کا نمایاں وصف عملِ پیہم اور جہدِ مسلسل ہے۔ـ علمی و ادبی کمال، تحریری و  تصنیفی ہنر مندی، صحافتی و ادبی ذوق، ہر لمحہ کچھ نیا جاننے، کرنے کا شوق، علمی تجسس اور ادبی تشوُّق ان کا شناخت نامہ ہے۔ ان کی زندگی میں جمود نہیں ؛ بلکہ  قابلِ رشک تحرک ہے، وہ گرد و پیش کے ہا و ہو سے بے نیاز اپنے ٹارگیٹ کی طرف پوری قوت اور برق رفتاری کے ساتھ محوِ سفر ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ اللہ پاک کی خصوصی عنایتیں بھی ان کے ہم رکاب ہیں، سو وہ یکے بعد دیگرے ایک سے بڑھ کر ایک علمی و عملی معرکے سر کرتے جارہے ہیں ۔

پچھلے سال کورونا وائرس کی وجہ سے دوسرے شعبہ ہاے حیات کے مانند علمی  سرگرمیاں بھی تھم سی گئی تھیں اور کئی ماہ تک مسلسل  ادارے و افراد ہر دو سطح پر یاس انگیز  خمول طاری  تھا،جن اداروں میں کام ہورہا تھا،وہ بھی آفس کی بجاے گھر وں سے یا ورچوئلی ،مگر اسی دوران کئی لوگ ایسے بھی تھے جن کی علمی و قلمی مصروفیتوں میں پہلے سے زیادہ تیزی و برق روی  آگئی اور انھوں نے لاک ڈاؤن کے جبر کو علمی،قلمی اور تصنیفی و تالیفی مشغولیتوں کے لیے نہایت موزوں سمجھتے ہوئے اپنے بہت سے بکھرے کاموں کو سمیٹ لیا۔انہی اصحابِ دانش میں ڈاکٹر جسیم الدین صاحب بھی ہیں کہ انھوں نے لاک ڈاؤن کے عرصے میں ہی نہ صرف ایک اہم ریسرچ پروجیکٹ(شمالی ہند سے شائع ہونے والے عربی رسائل و جرائد کا مطالعہ) کی تکمیل کی؛بلکہ اس کے ساتھ ساتھ  اسی دوران ان کی ایک ساتھ تین کتابیں منظر عام پر آئی ہیں،جبکہ  دوکتابیں(عربی مقالات کا مجموعہ ’’تجلیات الأدب العربی‘‘ اور پریم چند کے ناول بیوہ کا عربی ترجمہ ’’الأرملۃ‘‘) زیر طبع ہیں۔ ذیل میں ان تینوں کتابوں پر چند معروضات پیش ہیں:

(۱)روایات عبدالرحمن الشرقاوی و بریم تشاند:دراسۃ مقارنۃ

عربی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب معروف مصری ناول نگار عبدالرحمن شرقاوی اور منشی پریم چند کی ناول نگاری کے تقابلی و تنقیدی جائزے پر مشتمل ہے۔یہ دراصل جسیم الدین صاحب کاتحقیقی  مقالہ ہے،جس پر انھیں دہلی یونیورسٹی سے 2016میں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی ہے،اسی کو ازسرِ نو ترمیم و تہذیب کے بعد انھوں نے شائع کروایا ہے۔اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں  جغرافیائی اعتبار سے دو مختلف براعظموں اور الگ الگ  سماجی ،تہذیبی و سیاسی ماحول میں پائے جانے والے تخلیق کاروں کے مابین مماثلتیں اور مناسبتیں تلاش کی گئی ہیں اور ان کی تخلیقات کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے  ان کے امتیازات و خصائص کی نشان دہی کی گئی ہے۔ عبدالرحمن شرقاوی عربی کے مشہور و قدآور شاعر،صحافی،ڈرامہ نگار اور ناول نویس تھے،انھوں نے ان تمام میدانوں میں اپنی بلند قامتی کے نقوش ثبت کیے اور خصوصاً اپنے ناولوں میں  بیسویں صدی کے مصری سماج کی بھر پور عکاسی کی،ان کے ناول ’’الارض‘‘(1954)،’’قلوب خالیۃ‘‘ (1956)، ’’الشوارع الخلفية‘‘(1958)اور’’الفلاح‘‘(1967) عربی ادب کے قارئین و شائقین کے یہاں غیر معمولی اہمیت و مقبولیت کے حامل ہیں اور شرقاوی کو ان کی ادبی خدمات کے عوض 1974میں انور سادات کے ہاتھوں  مصر کے بڑے ادبی اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔’’الارض‘‘کی کہانی پر مبنی  1970میں اسی نام سے  یوسف شاہین نے فلم بھی بنائی تھی ۔ابھی پچھلے سال ان کے سوویں یومِ ولادت کی مناسبت سے سینٹر برائے سیاسی و اسٹریٹیجک اسٹڈیز ،قاہرہ نے ان سے منسوب ایوارڈ کا بھی اعلان کیا ہے۔یہ ایوارڈ ہر سال کسی اہم علمی و ادبی شخصیت کو دیا جائے گا۔شرقاوی نے اپنے ناولوں میں مصر  کی دیہاتی و معاشرتی زندگی کا احوال بیان کیا ہے اور بیسویں صدی کے مصر میں پائی جانے والی تہذیبی کشمکش،سماجی اتھل پتھل اور تیزی سے بدلتے سیاسی احوال کی وجہ سے  انسانی ذہن و دماغ پر پڑنے والے اثرات کی بھی ترجمانی کی ہے۔کچھ یہی حال ہمارے ہندوستان کے مشہور و سرکردہ  افسانہ نگار و ناول نویس  منشی پریم چند کا بھی ہے،انھوں نے بھی اپنی تخلیقات میں ہندوستانی دیہات کی منظر کشی کی ۔ دیہی زندگی کے اتار چڑھاؤ،سماجی نابرابری،نسلی  و صنفی تفریق اور ذات پات کے مسائل،معاشی ناہمواری ، ذہن و ضمیر کی کشمکش اور سیاسی جدوجہد  جیسے امور ان کی تخلیقات کا بھی موضوع بنے ہیں،اس اعتبار سے شرقاوی اور پریم چند کے یہاں بڑی دلچسپ مماثلت پائی جاتی ہے۔حب الوطنی کا جذبۂ فراواں  اور آزادیِ وطن کے تئیں غیر معمولی جوش بھی ان دونوں تخلیق کاروں میں مشترک ہے۔اس کے علاوہ زبان و بیان کا حسن،اداے مطلب کی  بے ساختگی اور واقعات و جزئیات نگاری پر غیر معمولی گرفت بھی دونوں فن کاروں میں کہیں کم اور کہیں زیادہ پائی جاتی ہے۔

ڈاکٹر جسیم الدین کی زیر نظر کتاب ایک  مقدمے اور پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔پہلے دوبابوں میں انھوں نے عربی و اردو ناول نگاری کے پس منظر اور تاریخ پر  بڑی عمدہ اور علم ریز گفتگو کی ہے۔تیسرے باب میں عبدالرحمن شرقاوی کی زندگی اور ادبی خدمات کا بیان ہے، جبکہ چوتھے باب میں پریم چند کی حیات اور ادبی و عملی خدمات کا جائزہ ہے۔پانچویں باب میں انھوں نے شرقاوی اور پریم چند کے ناولوں کا اسلوب ،مواد،بیان و اظہار،کہانی کی بنت اور مجموعی فضا وغیرہ کے اعتبار سے تقابل کیا ہے۔انھوں نے شرقاوی کے ناول’’الفلاح‘‘اور پریم چند کے’’گئودان‘‘،’’الارض‘‘اور’’میدانِ عمل‘‘، ’’الشوارع الخلفیۃ‘‘ اور ’’بازارِ حسن‘‘ کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے۔

کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے نئی بھی ہے اور معلومات سے بھر پور بھی ۔عرب ممالک کی بعض یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبے قائم ہونے سے اردو شاعروں،ادیبوں اور تخلیق کاروں سے عرب والے بھی اب تیزی سے مانوس ہورہے ہیں۔عین شمس یونیورسٹی  کی پروفیسر رانیہ نے پریم چند کے ناول گئودان پر ہی تحقیق کی تھی اور انھوں نے اس ناول کا ترجمہ بھی کیا ہے ،اس کے علاوہ اور لوگ بھی اردو فکشن یا دیگر اصناف کی اہم کتابوں کو عربی زبان میں ڈھال رہے ہیں ،مگر جسیم الدین صاحب کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے ایک ہی کتاب میں نہ صرف پریم چند کی نمایندہ تخلیقات کا عربی زبان میں  تعارف و تجزیہ پیش کیا ہے؛بلکہ ایک مشہور ترین اور نابغہ عربی ادیب و ناول نگار کے ناولوں سے ان کا نہایت عمدہ تقابل بھی پیش کردیا ہے۔کتاب کی زبان سادہ اور سہل الفہم ہے اور مرکزی پبلی کیشنز نے نہایت جاذب و دلنشیں  طباعت کا اہتمام کیا ہے،قیمت چار سوروپے ہے۔کتاب اپنے موضوع ومواد کی اہمیت کی وجہ سے اس لائق ہے کہ اس کا اردو ترجمہ بھی شائع کیا جائے،کہ اردو والے بھی اس سے استفادہ کریں اور تہذیبی و ثقافتی ایکسچینج کی روایت ایک قدم  اور آگے بڑھے۔

(۲)مغازیِ رسولﷺ

یہ دراصل  روزنامہ انقلاب کے مذہبی کالم میں ’’مغازیِ رسولﷺ‘‘کے زیر عنوان شائع ہونے والے ڈاکٹر جسیم الدین کے مضامین کا مجموعہ ہے۔سیرتِ نبوی ایک ایسا موضوع ہے جس پر اب تک دنیا بھر کی زبانوں میں لاکھوں  کتابیں لکھی جاچکی ہیں، مگر ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے اور آئے دن سیرت کے کسی نہ کسی گوشے پر نئی نئی کتابیں آتی رہتی ہیں۔آپﷺکی زندگی کا ایک اہم حصہ وہ ہے جس میں آپ نے اسلام کی سربلندی اور اعلاے کلمۃ اللہ کے لیے مشرکین سے جنگیں کیں،ان کی دو قسمیں ہیں،ایک وہ جن میں صحابۂ کرامؓ کے  ساتھ آپ خود بھی شریک رہے اور دوسری وہ جن میں آپ نے صحابہ کی ایک جماعت کو بھیجا،خود تشریف نہیں لے گئے،اول الذکر کے لیے اصحابِ سیر غزوہ اور ثانی الذکر کے لیے سریہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔سیرت پر لکھی گئی کتابوں میں تو غزوات و سرایا کا تذکرہ ملتا ہی ہے،مگر خاص غزوات و سرایا پر بھی بہت سی کتابیں مختلف زبانوں میں لکھی گئی ہیں۔ اس حوالے کے اولین مصادر عربی زبان میں ہیں،جن میں  حضرت عروہ بن زبیر کی ’’کتاب المغازی‘‘ ، ابن شہاب زہری کی ’’المغازی النبویۃ‘‘، امام واقدی کی’’ کتاب المغازی‘‘،محمد ابن اسحاق کی ’’کتاب السیر والمغازی‘‘(سیرت ابن اسحاق)،ابن عبدالبر کی ’’الدرر فی اختصار المغازی والسیر‘‘،امام ابوالقاسم اسماعیل اصبہانی کی ’’کتاب المبعث والمغازی‘‘،ابوالربیع سلیمان الکلاعی کی’’الاکتفاء فی مغازی رسول اللہ والثلاثۃ الخلفاء‘‘،ابن سید الناس کی ’’عیون الاثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر ‘‘،ڈاکٹر علی محمد الصلابی کی ’’غزوات الرسول:دروس و عبر وفوائد‘‘ ،محمد احمد باشمیل کی گیارہ جلدوں پر مشتمل ’’موسوعۃ الغزوات الکبری‘‘  ،ڈاکٹر ابوبدر محمد بن بکر آل عابد کی ’’حدیث القرآن الکریم عن غزوات الرسولﷺ‘‘اہم کتابیں ہیں ۔اردو زبان میں بھی سیرت پر سیکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں اور خاص غزاوتِ نبویﷺ پر بھی لکھا گیا ہے،حضرت عروہ بن زبیر کی کتاب کا اردو ترجمہ سعید الرحمن علوی  نے کیا ہے ،جو ڈاکٹر مصطفی الاعظمی کی تحقیق و مقدمے کے ساتھ شائع ہوا ہے۔اوریجنل متن بھی پہلی بار ۱۹۸۱ میں انہی کی تحقیق وتخریج کے ساتھ ریاض سے  شائع ہوا تھا۔اس کے علاوہ اردو میں ڈاکٹر حمیداللہ کی کئی کتابوں اور مقالات میں غزواتِ نبوی کا مختلف حوالوں سے تذکرہ و تجزیہ کیا گیا ہے،شبلی کی سیرت النبیﷺ،مولانا ادریس کاندھلوی کی سیرت المصطفی،قاضی سید سلیمان منصورپوری کی سیرت للعالمین،مولانا عبدالرؤف داناپوری کی اصح السیر،مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی الرحیق المختوم(اردو،عربی)مولانا مودودی کی سیرت سروردوعالم،مولانا مناظر احسن گیلانی کی النبی الخاتم،ولی رازی کی ہادی عالم،مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی سیرت رسول کریم،مولانا علی میاں ندوی کی نبیِ رحمت اردو میں سیرت کی مقبول و متداول کتابیں ہیں،جن میں غزوات نبوی پر بھی مباحث شامل ہیں،ہمارے عہد میں ڈاکٹر یسین مظہر صدیقی سیرتِ نبویﷺ کے خفی و جلی گوشوں پر تصنیف و تالیف کے حوالے سے بہت اہم اور نمایاں مقام کے حامل عالم تھے۔

ڈاکٹر جسیم الدین نے اپنی اس کتاب میں عہدِ نبوی کے غزوات وسرایا کا جائزہ لیتے ہوئے واقعات کو منطقی ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے۔اس ضمن میں اسلام کا اصول جنگ،جنگوں میں حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم سے متعلق ضوابط اور دورانِ غزوات نازل ہونے والے مختلف احکامِ اسلام کی بھی توضیح کی ہے۔ نبی اکرمﷺنے مختلف قبائل اور ملکوں کے سربراہان کی طرف جو وفود بھیجے تھے ان کا بھی اس کتاب میں تفصیلی تذکرہ ہے۔ اخیر میں حجۃ الوداع کا احوال،خطبۂ حجۃ الوداع اور موجودہ دور میں اس خطبے کی معنویت واہمیت پر دلنشیں گفتگو کی گئی ہے ۔الغرض یہ کتاب مغازیِ رسول اللہﷺ کی تمام تر تفصیلات و جزئیات کو مستند حوالوں کی روشنی میں بیان کرتی ہے اور بیش قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے۔ زبان سادہ استعمال کی گئی ہے،جو ہر طبقے کے قاری کے لیے سہل الفہم ہے۔ کتابیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے موضوع سے انصاف کرنے کے لیے متعلقہ مراجع سے بھر پور استفادہ کیا ہے،اندرونِ کتاب میں روایات وواقعات کا بیان مستند حوالوں کے ساتھ کیاگیا ہے،البتہ جہاں انھوں نے ابن اسحاق،ابن ہشام،ابن القیم،شیخ عبدالحق وغیرہ کے حوالے سے کوئی بات یا واقعہ نقل کیا ہے، ان کی متعلقہ کتاب اور صفحے کا حوالہ وہیں دینا چاہیے تھا؛کیوں کہ بہت سے قاری تو ایسے ہوں گے کہ انھیں پتا ہی نہیں ہوگا کہ ابن القیم کی کس کتاب سے یہ قول نقل کیا جارہا ہے یا ابن ہشام  نے کہاں لکھا ہے یا شیخ عبدالحق کی کس کتاب کا حوالہ دیا جارہا ہے ۔ امید ہے کہ اگلے ایڈیشن میں ڈاکٹر صاحب اس طرف توجہ دیں گے۔ بہر کیف ’’مغازیِ رسولﷺ‘‘ سیرتِ پاک کے ایک اہم ترین گوشے پر نہایت مفید اور قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔ سیرت کے طلبا و علما سمیت تمام کتاب دوستوں کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے۔ مرکزی پبلی کیشنز کے زیراہتمام کتاب کی طباعت نہایت دیدہ زیب اور خوب صورت ہوئی ہے،۳۰۴صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت تین سو روپے نہایت مناسب ہے۔

(۳)کتابیں بولتی ہیں
ڈاکٹر جسیم الدین پچھلی تقریباً دو دہائیوں سے پیشہ ورانہ صحافت سے بھی وابستہ ہیں،اس عرصے میں ان کا انسلاک نئی دنیا،روزنامہ سہارا جیسے اردو صحافت کے بڑے اداروں سے رہا اور2011سے اردو کے سب سے بڑے اخبار روزنامہ انقلاب کے دہلی ایڈیشن سے بحیثیت سب ایڈیٹر منسلک ہیں۔ اس اخبار کا ادبی صفحہ انہی سے متعلق رہا ہے اوراس عرصے میں انھوں نے جہاں اپنے خوب صورت ادبی و ادارتی ذوق و استعداد سے کام لیتے ہوئے  اس صفحے پر قیمتی ادبی تحریریں اور شعری و نثری تخلیقات شائع کیں،وہیں سیکڑوں کتابوں پر تبصرے بھی لکھے۔ انہی تبصروں کو ’’کتابیں بولتی ہیں‘‘کے نام سے انھوں نے یکجا کردیا ہے۔اس کتاب میں اسلامیات،تحقیق و تنقید، شاعری، فکشن، سوانح، سفرنامہ، سیاسیات و سماجیات،ادب اطفال اور تراجم و درسیات کے مرکزی عنوانات کے تحت ڈیڑھ سو کتابوں پر تبصرے شامل ہیں۔ پوری کتاب 336صفحات پر مشتمل ہے اور ڈاکٹر جسیم الدین نے اختصار کے ساتھ ہر کتاب کے موضوعات و مضامین کا اچھا تجزیہ و تعارف کروایا ہے۔ زبان وبیان شستہ و واضح ہے اور اس ایک کتاب کو پڑھ کر ایک ساتھ  ڈیڑھ سو کتابوں کے مافیہ سے آگاہی حاصل ہوجاتی ہے۔ تبصرہ نگاری بھی ایک فن ہے اور اس کے لیے سب سے زیادہ ضروری تبصرہ نگار کا وسیع المطالعہ اور بے لاگ طرزِ نگارش کا حامل ہونا ہے۔ انگریزی میں تبصرہ نگاری پر خاص توجہ دی جاتی ہے اور لندن و امریکہ سے کئی رسالے خاص تبصروں پر مشتمل شائع ہوتے ہیں ،’’لندن ریویوآف بکس ‘‘،’’نیویارک ریویوز آف بکس‘‘ اہمیت کے حامل ہیں ،اسی طرح اخبار ’’نیویارک ٹائمس‘‘ بھی بک ریویو اہتمام سے شائع کرتا ہے ،ہمارے یہاں انگریزی اخبار ’’دی ہندو‘‘ اور ’’انڈین ایکسپریس‘‘ میں بھی ہفتے میں ایک دن (عموماًتوار کو) پابندی سے نئی کتابوں پر تبصرے شائع کیے جاتے ہیں۔ اردو میں بھی تبصرہ نگاری کی پرانی روایت ہے،البتہ زمانے کی رفتار کے ساتھ اس کی شکل و ہیئت میں بدلاؤ آتے رہے ہیں ۔ اس وقت دریاگنج،دہلی سے جناب عارف اقبال کی ادارت میں ’’اردو بک ریویو‘‘ نہایت عمدہ سہ ماہی رسالہ شائع ہوتا ہے،جس میں زیادہ تر اردو اور کچھ دیگر زبانوں کی کتابوں پر بھی تبصرے شائع کیے جاتے ہیں۔ پاکستان سے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے زیر اہتمام ایک رسالہ’’نقطۂ نظر‘‘شائع ہوتا ہے،جس کی ادارت ڈاکٹر سفیر اختر کے ذمے ہے،اس میں اچھے اور جاندار تبصرے شائع ہوتے ہیں۔ حافظ محمود شیرانی،مولوی عبدالحق،سید سلیمان ندوی،نیاز فتحپوری ،ماہر القادری،مولانا عبدالماجد دریابادی کے تبصرے دلچسپ ہوتے تھے اور وہ آج بھی اپنی علمیت و افادیت کے اعتبار سے تازہ و شاداب ہیں۔ مشفق خواجہ نے بھی اپنے کالموں میں دلچسپ تبصرے لکھے ہیں۔اس طرح کی تحریریں ان کی کتاب’’خامہ بگوش کے قلم سے‘‘ اور ’’سخنہاے ناگفتنی‘‘ میں پڑھی جاسکتی ہیں۔ مولانا تقی عثمانی کے ادارے دارالعلوم کراچی سے رسالہ’’ البلاغ‘‘ شائع ہوتا ہے،جس میں وہ عرصۂ دراز تک نئی کتابوں پر تبصرے لکھتے رہے ،انھیں بھی کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے،جو سوا پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے اور ابجدی ترتیب سے سیکڑوں کتابوں پر تبصرے اس میں شامل ہیں۔ابھی حال ہی میں اردو کے معروف وممتاز ناقد و ادیب حقانی القاسمی کے تبصروں اور تقاریظ کا مجموعہ’’کتاب کائنات‘‘کے نام سے شائع ہوا ہے،جو حقانی صاحب کے وفورِ علمیت اور اسلوبِ نگارش کی انفرادیت و شستگی کا دل آگیں نمونہ ہے۔ ڈاکٹر جسیم الدین کی اس کتاب کو بھی اسی سلسلے کی کڑی سمجھنا چاہیے،ہر صاحبِ ذوق کے مطالعے کی فہرست میں شامل ہونے لائق ہے۔

یہ تینوں کتابیں مرکزی پبلی کیشنز دہلی یا ڈاکٹر جسیم الدین سے ان نمبرات پر رابطہ کرکے حاصل کی جاسکتی ہیں:

9711484126,9811794822

 

 

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*