ڈاکٹر احمد عبد الحی کی نئے امیر شریعت سے ملاقات،عہدے پر برقرار رہیں گے،اب سینئر ایڈووکیٹ راغب احسن نے تمام کمیٹیوں سے استعفا دیا

پٹنہ : امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ کے امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر آج مولانا سجاد میموریل ہاسپیٹل کے چیرمین جناب ڈاکٹر احمد عبدالحئی صاحب سے ملاقات کے لیے پارس ہاسپیٹل پہنچے۔ امیر شریعت کی آمد پر عملہ نے ان کا خیر مقدم کیا۔ امیر شریعت سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ کی آمد سے مجھے بڑی خوشی ہوئی، خود میری خواہش تھی کہ آپ سے ملوں۔ کل سے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر احمد عبدالحی کا استعفا نامہ گردش کررہا تھا،اس کے تعلق سے اُنھوں نے صفائی دی ہے کہ جب بھی کوئی نئے امیر بنے ہیں، خواہ وہ امیر شریعت سادس ہوں یا امیر شریعت سابع میں نے ہر ایک کو اپنا استعفیٰ نامہ پیش کیا ہے۔ لیکن الحمدللہ دونوں امرائے سابقین نے مجھے یہی کہا کہ آپ اپنا کام حسب سابق کرتے رہیں۔ اس موقعے سے نئے امیر شریعت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی الحمد للہ طویل خدمات ہیں، جن کا سب کو اعتراف ہے اور ڈاکٹر صاحب کے استعفیٰ کی جہاں تک بات ہے تو اُن سے گفتگو کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ چوں کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا یہ استعفیٰ نامہ اپنی سابقہ روایت کے مطابق دیا ہے اور امارت شرعیہ کو ایسے باصلاحیت لوگوں کی ضرورت ہے، لہٰذا حسب سابق ان شاء اللہ ڈاکٹر صاحب ہمارے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔قابل ذکر ہے کہ آج پھر سوشل میڈیا پر پٹنہ ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ راغب احسن کا استعفا نامہ بھی گردش میں ہے،جو امارت کی مجلس عاملہ،شوری، اربابِ حل و عقد کے ممبر اور امارت شرعیہ ٹرسٹ کے ٹرسٹی بھی تھے،انھوں نے تمام کمیٹیوں کی ممبرشپ سے استعفا دے دیا ہے ۔ اس کی وجہ انھوں نے اپنے استعفا نامہ میں یہ بتائی ہے کہ چوں کہ امیر شریعت کے انتخاب میں ۱۷۰؍ایسے ممبران نے ووٹ دیا ہے،جو غیر قانونی طورپر جون ۲۰۲۱ میں اربابِ حل و عقد میں شامل کیے گئے اور یہ انتخاب غیر دستوری طریقے سے عمل میں آیا ہے اس لیے اب وہ امارت کی تمام کمیٹیوں سے علیحدہ ہورہے ہیں۔