ڈیڑھ سو سے زائد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری ـ عنایت شمسی

 

ممتاز محقق، بر صغیر پاک و ہند میں ابوالکلامیات کے ماہر ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری طویل علالت کے بعد 81 سال کی عمر میں مقامی اسپتال میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری 30 جنوری 1940ء کو شاہ جہانپور، متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ بر صغیر کے موقع پر 7 سال کی عمر میں والدین کے ہمراہ بھارت سے پاکستان ہجرت کی اور آگ و خون کا دریا عبور کر کے لٹے پٹے پاکستان پہنچ کر کراچی میں آباد ہوگئے۔
ابتدائی تعلیم انہوں نے تقسیم سے قبل مدرسہ شاہی مراد آباد میں شروع کر دی تھی۔ ہجرت کے بعد میٹرک اور انٹر کراچی بورڈ سے کیا، گریجویشن اور ایم اے اردو جامعہ کراچی سے کیا، جبکہ ڈاکٹریٹ سندھ یونی ورسٹی سے کی۔
بعد ازاں درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوئے اور باقی اوقات مطالعہ وتحقیق میں صرف کیے۔ مدرسہ تعلیم القرآن، ہولی قرآن سوسائٹی سے ملازمت کا آغاز کیا۔
نیشنل کالج کراچی سے وابستہ ہوئے اور 2000ء میں ریٹائرڈ ہوئے، اس دوران انہوں نے انجمن ترقی اردو، شعبہ قاموس الکتب اور سہ ماہی اردو میں بھی خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری کے قلم سے پہلا مضمون 1957ء میں نکلا، جس کے بعد ان کا قلم 2016 ءتک بےتکان تحقیقی مقالات، کتابوں اور مضامین کا انبار لگاتا رہا۔
2016ء سے ضعف اور اعذار کی بنا پر انہوں نے لکھنا پڑھنا ترک کر دیا۔
نصف صدی سے زائد عرصے میں ڈیڑھ سو سے زائد تحقیقی کتابیں اور لاتعداد تحقیقی مقالات اور تحاریر اہل علم کی نذر کیں۔
ان کا سب سے بڑی تحقیقی شاہکار ”شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی سیاسی ڈائری“ ہے، جس کی ضخامت 7 ہزار صفحات ہے، جو 8 جلدوں پر مشتمل ہے۔
ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہانپوری نے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کی علمی، دینی، دعوتی اور ادبی خدمات پر دادِ تحقیق دینے کا التزام کیا اور ان شخصیات کی علمی و عملی زندگی کے کئی گوشوں پر تحقیقات پیش کیں۔
ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہانپوری نے سب سے زیادہ تحقیقی کام مولانا ابو الکلام آزاد پر کیا۔ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی علمی، تفسیری، حدیثی، صحافتی اور ادبی خدمات پر کام کیا اور لاتعداد مقالات تحریر کیے۔اس سلسلے میں ان کا سب سے اہم کارنامہ مولانا آزاد کے زیر ادارت مختلف ادوار میں نکلنے والے اخبارات وجرائد ”الہلال“ اور ”پیغام“ کی تمام فائلوں کی بازیابی ہے۔ علاوہ ازیں مولانا آزاد کی تفسیر ترجمان القرآن پر ان کا 40 سے زاید صفحات پر مشتمل بسیط مقدمہ، مولانا کے شعری کلام کی تدوین کلیات آزاد، ارمغان آزاد، دیوان ابوالکلام وغیرہ کی شکل میں ان کے گراں قدر علمی وادبی مضامین ومقالات کی ترتیب وتہذیب پر ان کا کام بطور خاص قابل لحاظ ہے۔
وہ گزشتہ کئی سالوں سے علیل تھے۔ گزشتہ دن طبعیت بگڑنے پر انہیں مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم نے 4 صاحبزادیاں سوگوار چھوڑیں۔ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے ـ