دوسرے مرد کے ساتھ خاتون کے جنسی تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اچھی ماں نہیں ہے:عدالت

چنڈی گڑھ:اگرکسی خاتون کا غیر شادی مرد سے جسمانی تعلق ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خاتون اپنے بچوں کی پرورش صحیح طرح نہیں کر سکتی۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اس بنیاد پر خاتون کو بچے کی تحویل میں لینے سے متعلق حق سے محروم نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خاتون کا شادی کے بعددوسے مرد سے جسمانی تعلق اس بات کی بنیاد نہیں ہے کہ وہ اچھی ماں نہیں ہے اور نہ ہی اس بنیاد پر کہ اسے اپنے بچے کی تحویل سے روکا جاسکتا ہے۔
درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس انوپندر سنگھ گریوال نے کہاکہ ایک باعزت معاشرے میں خواتین کو بدنام کرنا ایک عام سوچ بن گئی ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خواتین کو کسی ٹھوس بنیاد کے بغیر بدنام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ وہ صرف اس بنیاد پر ایک بری ماں ہے کہ خاتون کا ایک سے زیادہ ازدواجی تعلق ہے یا ہوسکتا ہے۔ اس لئے اسے بچے کی تحویل میں جانے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
دراصل فتح گڑھ صاحب کی ایک خاتون نے اپنی ساڑھے چار سال کی بچی کوچھین لئے جانے کے بعد پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔ اپنی درخواست میں اس نے کہا تھا کہ ان کی شادی 2013 میں ہوئی ہے۔ اس کا شوہر لدھیانہ کا رہائشی ہے جو بعد میں آسٹریلیا کا شہری بن گیا۔ وہ خود اس کے ساتھ آسٹریلیا میں ہی رہنے لگی۔ 2017 میں ان کی ایک بیٹی ہوئی، ان کے مابین جھگڑا ہوا۔ جب 2020 میں یہ دونوں اپنے بچے کے ساتھ ہندوستان آئے تو 2 جنوری 2020 کو وہ خاتون اپنے مائیکے چلی گئی۔ ساتھ ہی شوہر نے ساڑھے چارسال کی بچی کو زبردستی اس سے چھین لیا۔ اس خاتون کے پاس آسٹریلیائی شہریت بھی ہے۔