دستوئیفسکی سے اچانک بیزاری کی کیا وجہ تھی؟ ـ میلان کنڈیرا

ترجمہ:محمد عمر میمن

جب 1968میں روسیوں نے میرے چھوٹے سے ملک پر فوجی قبضہ کر لیا تو میری جملہ تصانیف پر پابندی لگا دی گئی اور کسبِ معاش کے تمام قانونی ذرائع چشم زدن میں مجھ پر بند ہو گئے۔ چند افراد نے میری مدد کی کوشش کی۔ ایک روز ایک ڈائریکٹر صاحب تشریف لائے اور تجویز پیش کی کہ میں دستوئیفسکی کے ناول دی ایڈیٹ میں تصرف کر کے اسے ایک اسٹیج کے کھیل کے طور پر لکھوں اور اس پر بلا تکلف ان کا نام استعمال کروں۔
چنانچہ میں نے دی ایڈیٹ کادوبارہ مطالعہ کیا۔ مجھ پر جلد ہی منکشف ہو گیا کہ فاقوں سے چاہے میری جان ہی کیوں نہ نکل جائے، مجوزہ کام سے عہدہ بر آ ہونا میری استطاعت سے باہر ہے۔ دستوئیفسکی نے مبالغے سے لبریز حرکات و سکنات، تیرہ تاریک گہرائیوں اور جارحانہ جذباتیت سے مملو جو دنیا اس ناول میں پیش کی ہے وہ مجھے بڑی کراہت انگیز معلوم ہوئی۔ اچانک مجھے Jacques le Fataliste کی یاد آئی اور میرا دل ناگاہ اس کے لیے تڑپ گیا۔ اس تڑپ کی تشریح نا ممکن تھی۔
”کیا آپ دستوئیفسکی پر دیدرو کو ترجیح نہ دیں گے؟“
نہیں، یہ ڈائریکٹر صاحب کو قبول نہ تھا۔ دوسری طرف، اپنی اس عجیب و غریب خواہش سے دستبردار ہونا بھی میرے لیے ممکن نہ تھا کہ جتنا عرصہ بھی ہو سکے ژاک (Jacques) اور اس کے آقا کی معیت میں رہوں، میں تو ان دونوں حضرات کو اپنے ہی کسی ڈرامائی کھیل کے کردار تصور کرنے لگا تھا۔
دستوئیفسکی سے اچانک بیزاری کی کیا وجہ تھی؟ کیا یہ ایک چیک شہری کا روسیوں کے خلاف فطری ردعمل تو نہیں تھا جنہوں نے اس کے ملک پر غاصبانہ قبضہ کر کے اسے گویا ایذا پہنچائی تھی؟ نہیں، ایسا نہیں تھا، اور وہ یوں کہ چیخوف کے لیے میری پسندیدگی جوں کی توں قائم تھی اور اس میں شمہ برابر کمی نہیں آئی تھی۔ تو پھر کیا میں اس ناول کی جمالیاتی قدر و قیمت کے بارے میں متذبذب ہو گیا تھا؟ نہیں، یہ بات بھی نہیں تھی، کیونکہ یہ بیزاری مجھ پر ناگہاں وارد ہوئی تھی اور معروضیت کی دعویدار نہیں تھی۔
میری برہمی کا باعث دراصل دستوئیفسکی کے ناولوں کی فضا تھی۔ یہ وہ فضا تھی جہاں ہر شے صرف جذبے یا احساس میں تبدیل ہو جاتی ہے؛ بالفاظِ دیگر جہاں جذبے (feelings) ترقی پا کر ’قدر‘ اور صداقت بن جاتے ہیں۔
روسی قبضے کا تیسرا دن تھا۔ میں پراگ سے بذریعہ کار Budejovice جا رہا تھا (یہ وہی شہر ہے جسے کامیو نے اپنے ڈرامے The Misunderstanding کا محلِ وقوع بنایا تھا۔)سڑک کے کنارے کنارے روسی پیادہ فوج کا پڑاو چلا گیا تھا۔ ایک جگہ انہوں نے میری کار رکوائی اور تین سپاہی اس کی تلاشی لینے لگے۔ جب یہ ہو چکا تو اس افسر نے جس نے تلاشی لینے کا حکم صادر کیا تھا، مجھ سے روسی زبان میں سوال کیا، ”مزاج شریف؟“ اس کا مقصد طنز یا کینہ ہر گز نہ تھا؛ بلکہ وہ کہنا یہ چاہتا تھا کہ ”یہ سب کچھ جو ہوا ہے، بڑی بھاری غلط فہمی کی بنا پر ہوا ہے۔“ اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ”لیکن یہ سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا۔ یاد رکھیے، ہمیں چیک لوگ نہایت عزیز ہیں۔ بلکہ یوں سمجھیے کہ ہم تو آپ لوگوں سے باقاعدہ محبت کرتے ہیں!“
ایک طرف بیرونِ شہر دیہاتی آبادی ہزارہا ٹینکوں سے پامال ہو چکی ہے، ملک کا مستقبل صدیوں کے لیے رہن رکھا جا چکا ہے، چیک حکومت کے سربراہ گرفتار یا اغوا کیے جا چکے ہیں؛ اور دوسری طرف قابض فوج کا افسر آپ سے اپنی محبت کا اعلان فرما رہا ہے: براہِ کرم مجھے سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ رہی جارحانہ حملے اور فوج کشی کی تعذیر و مذمت، تو اس کے لیے وہ ذرا تیار نہیں تھا۔ دوسروں نے بھی کم وبیش اسی انداز میں گفتگو کی۔ ان کے رویے کی بنیاد عصمت دری کرنے والے کے جذبہ ایذارسانی اور اس سے اخذلذت پر نہ تھی، بلکہ ایک بالکل ہی مختلف نقشِ اول یا آرکی ٹائپ پر: احساسِ محرومی عشق! یعنی یہی کہ یہ چیک لوگ (جنہیں ہم اس قدر عزیز رکھتے ہیں!) آخر کیوں ہمارے ساتھ اس طرح بودو باش کے انکاری ہیں جو ہمارا چلن ہے؟ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم انہیں محبت کے معنی سمجھانے کے لیے ٹینکوں کے استعمال پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اس میں کلام نہیں کہ آدمی کا احساسات (feelings) کے بغیر گزارا ممکن نہیں؛ لیکن اگر انہیں عین اقدار کا درجہ دے دیا جائے، صداقت کا معیار سمجھ لیا جائے اور انہیں ہر قسم کے افعال یا طرزِ عمل کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگے، تو یہ ضرور خطرے کی بات ہے۔ ارفع و اعلیٰ ترین قومی جذبے قبیح ترین دہشت انگیزی کی پشت پناہی کے لیے تیار کھڑے رہتے ہیں اور آدمی، اس حال میں کہ اس کا سینہ غنائی جوش سے پھول رہا ہو، محبت کے مقدس نام پر ظالمانہ افعال کا مرتکب ہوتا ہے۔
جب احساسات تعقل اور تفکر کی جگہ لے لیں تو پھر عدم تفہیم اور عدم رواداری کی بنیاد بن جاتے ہیں، یا بقول کارل یونگ ”بہیمیت کا بالائی ڈھانچا“ـ (The superstructure of brutality)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*