دوسری شادی کا ارادہ رکھنے والے حضرات کی خدمت میں ـ سرفراز فیضی 

 

میں پچھلے کئی سالوں سے مختلف فورمز پر دوسری شادی کی حمایت میں لکھتا اور بولتا آرہا ہوں ،اس لیے ممکن ہے بہت سارے احباب کو میری طرف سے اس طرح کی بات چونکانے والی لگے لیکن حقیقت یہی ہے کہ مجھ سے مشورہ لینے والے اکثر مردوں کو میں دوسری شادی نہ کرنے کا مشورہ دیتا ہوں، ایسا نہیں کہ میں دوسری شادی کے خلاف ہوں، یقینا دوسری شادی ہمارے معاشرے کی ضرورت اور معاشرے کے بہت سارے مسائل کا حل ہے، معاشرے میں کم از کم اتنے استقامت وعزیمت سے متصف دوسری شادی کرنے والے مرد ہونے چاہیے کہ کوئی عورت خواہ کنواری ہو یا بیوہ، مطلقہ ہو یا مختلعہ عمر کے کسی بھی مرحلہ میں بغیر نکاح کے نہ بیٹھی رہے، لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے باہمت مرد بہت کم ہیں جو دوسرے نکاح کا بوجھ سنبھال سکیں یہی وجہ ہے کہ دوسری شادی میں کامیابی کا تناسب کم اور طلاق کی شرح زیادہ ہے۔

 

دوسری شادی میں ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ دوسری شادی کے فیصلے بالعموم جلد بازی میں، جذبات کے ماحول میں اور پریکلٹکل ہوکر غورو فکرکے بغیر لیے جاتے ہیں۔ کم مرد ہیں جو اتنی دور اندیشی اور سمجھداری کے ساتھ دوسری شادی کا اقدام کرتے ہیں جتنی دوسرے نکاح کے لیے درکار ہے، بیشتر مرد ایکسائٹمنٹ میں اندھے ہوجاتے ہیں، شادی کا شوق ان کا ذہن ایسا ماؤف کردیتا ہے کہ شادی کے بعد کے مسائل دیکھنے کی صلاحیت مسلوب ہو جاتی ہے۔ کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں مردوں کی آنکھوں پر جنسی نا آسودگی کا پردہ چڑھا ہوتا ہے، اس پردے کے پیچھے وہ ان سنگین مسائل کو درست طریقے سے نہیں دیکھ پاتے جو نکاح ثانی کی وجہ سے کھڑے ہوجانے والے ہیں، ایسے لوگ ہوس کے دباؤ میں آکر نکاح تو کرلیتے ہیں لیکن جیسے ہی نا آسودگی کی وہ کیفیت ختم ہوتی ہے ، نفس کا بوجھ ہلکا ہوتا ہےاور آنکھوں پر پڑی شہوت کی دھند چھٹتی ہے سامنے مسائل کا انبار منہ کھولے کھڑا نظر آتا ہے ، بیوی، بچے، خاندان، سماج ، معاش کے مسائل سب اس کے خلاف محاذ آراء ہوتے ہیں ، جلد بازی اور جنسی دباؤ میں دوسری شادی کرلینے والا شخص ان مسائل سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی طاقت اپنے اندر نہیں پاتاتو ہمت ہار جاتا ہے، ان مسائل کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے، ایسے میں طلاق کا آپشن اس کو زیادہ آسان لگنے لگتا ہے۔

 

دوسری شادی میں کثرت طلاق کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اکثر مرد شہوت کے دباؤکے سبب دوسری بیوی کے انتخاب میں اپنے بہت سارے معیارات سےسمجھوتہ کرلیتے ہیں، کیونکہ دوسرے نکاح کے لیے اپنی ’’پسند کی عورت‘‘کا مل پانا بیشتر حالات میں آسان نہیں ہوتا اس لیے بہت سارے مرد جلد بازی میں اپنی ’’پسند‘‘کو پس پشت ڈال کر یہ ذہن بنالیتے ہیں کہ’’جیسی بھی ملے بس مل جائے۔‘‘لیکن معیارات کے ساتھ یہ سمجھوتہ محض نکاح ثانی ہونے تک قائم رہتا ہے، نکاح کو مہینے دو مہینے بھی نہیں گزرتے کہ پہلی بیوی جس میں اب تک سو عیب نظر آتے تھے اس کی محبت جاگنے لگتی ہے اور دوسری بیوی جس کے لیے شادی سے پہلے ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار تھے اس میں وہ سارے عیوب دکھنے شروع ہوجاتے ہیں جو دوسری شادی کی للک میں شادی سے پہلے نظر انداز کر دیے گئے تھے ، اب ان عیوب کے ساتھ بیوی کو رکھنا وہ بھی وہ ساری قربانیاں دیتے ہوئے جو ہمارے معاشرے میں مرد کو نکاح ثانی کے بعد دینی پڑتی ہیں انسان کو مشکل لگنے لگتا ہے اور اس کے مقابلے میں طلاق کا آپشن آسان دکھائی دیتا ہے۔

 

خفیہ نکاح میں تو طلاق کا آپشن اور بھی زیادہ آسان ہوتاہے ، کیونکہ اس میں انسان پر معاہدہ نکاح کی پاسداری کا وہ سماجی دباؤ بھی نہیں ہوتا جو اعلانیہ نکاح میں ہوتاہے اور مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیشتر دوسری شادیاں خفیہ ہی ہوتی ہیں۔

 

کچھ ایسے لاپرواہ اور مجرم مزاج مرد بھی ہوتے ہیں جن کے لیے دوسری شادی محض ایک تجربہ ہوتا ہے جس کے بارے میں وہ پہلے سے ذہن بناچکے ہوتے ہیں کہ اگر کامیاب نہ ہوا تو وہ الٹے پاؤں واپس آجائیں گے، دوسری شادی ان کے لیے محض ایک شوق اور ایڈونچر ہوتی ہے، ایسے لوگ شادی کرکے اپنی جگیاسا مٹاتے ہیں، اپنی شہوت پوری کرتے ہیں اور جب عورت کے جسم سے ان کا من بھر جاتا ہے تو کوئی بہانہ تلاش کرکے الگ ہوجاتے ہیں، اللہ کا خوف تو ان کے دل میں ویسے ہی نہیں ہوتا، افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بھی ایسی کوئی اتھارٹی نہیں جو ان کا مؤاخذہ کرسکے۔

 

پہلی شادی میں اگر تعلقات خراب ہوں اور بات طلاق تک پہنچ جائے تو گھر خاندان اور سماج کے لوگ سب مل کر اس کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ کسی طرح رشتے کو ٹوٹنے سے بچا لیا جائے، دوسری شادی کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے،دوسری شادی میں مرد پر طلاق کے لیے گھر، خاندان اور سماج کا دباؤ ہوتا ہے ، ان سب کی ہمدردیاں پہلی بیوی کے ساتھ ہوتی ہیں، معاشرے کی مخصوص ذہنیت اور بے دین مزاج کی وجہ سے لوگ اِس دوسری بیوی کو ہی ظالم اور گھر توڑنے والا سمجھتے ہیں ، لہذا دوسری شادی کے معاملہ میں مرد بغیر کسی افسوس اور شرمندگی کے طلاق دیتا ہے ،طلاق دے کر اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی گردن آزاد ہوگئی اور اس کے سر کا بوجھ اتر گیا، لیکن وہ عورت جس کو طلاق ہوئی ہےوہ ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے ، ویسے بھی ہمارے معاشرے کے مخصوص مزاج کی وجہ سے دوسری بیوی بننے کے لیے تیار ہونے والی عورتیں بالعموم وہ ہوتی ہیں جو پہلے سے ہی کسی غم کا بوجھ اپنے سینے پر پال رہی ہوتی ہیں ،یہ عورتیں یا تو عمر دراز کنواریاں ہوتی ہیں، یا مطلقہ یا مختلعہ یا بیوہ، ان عورتوں کے لیے دوسری شادی کی ناکامی کی مار دوگنا عذاب بن جاتی ہے، یہ دوہرا زخم ان کی زندگی کا ایسا بوجھ بن جاتا ہے جو ان کو نفسیاتی مریض بنا دیتا ہے۔ جن سے باہر نکل پانا بہت ساری عورتوں کے لیے نا ممکن ہوجاتا ہے۔ الا من رحم ربی

 

لہذا وہ حضرات جو دوسری شادی کا ارادہ رکھتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ دوسری شادی برائے دوسری شادی انتہائی خطرناک رجحان ہے، اس سے باہر آجائیں، اگر واقعتا دوسری شادی کے لیے سنجیدہ ہیں تو جنسی دباؤ اور ایکسائٹمنٹ کے مزاج سے باہر آکر پورے معاملے کا مکمل پریکٹیکل ہوکر تجزیہ کریں، قلم ہاتھ میں لیں اور کاغذ پرایک کالم میں دوسری شادی کے آپ کی زندگی پر مثبت اثرات اور دوسرے کالم میں دوسری شادی کے منفی اثرات نوٹ کریں اور مہینوں تک ان دونوں اثرات پر غور کریں، اگر مثبت پہلو منفی پہلو پر غالب ہے تو نکاح ثانی کا اقدام کریں ورنہ باز رہیں۔

 

یاد رکھیں ! پہلی شادی کسی نہ کسی طرح چل جاتی ہے کیونکہ ایک نکاح انسان کی ضرورت ہوتا ہے اور پہلی شادی اس ضرورت کی تکمیل کے لیے ہوتی ہے، لہذا پہلی بیوی کے معاملے میں انسان بہت ساری چیزوں سے سمجھوتہ کرلیتا ہے اور بہت ساری خامیوں کو نظرانداز کردیتا ہے ،دوسری شادی کی کامیابی بھی اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ انسان کی ضرورت ہو ، لہذانکاح ثانی کے اقدام سے پہلے غور کیجیے کہ پہلی شادی میں آپ کی ایسی کون سی ضرورت ہے جو پوری نہیں ہوپارہی اور کیا واقعی وہ ضرورت دوسری شادی کرکے پوری ہوجانے والی ہے، دوسری شادی ہمارے معاشرے کے مخصوص مزاج کی وجہ سے پہلی بیوی اور بچوں کے لیے بڑے غم کا سبب بن جاتی ہے، آپ تجزیہ کریں کہ کیا واقعتا آپ کے لیے دوسری شادی اتنی ضروری ہے کہ اس کے لیے پہلی بیوی اور بچوں کو اس غم میں مبتلا کیا جائے.

 

محض اپنے تجسس کو مٹانے کے شوق میں دوسری شادی مت کیجیے، شوقیہ شادی کے کامیاب ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے، آپ تو اپنا شوق پورا کرکے فارغ ہوجائیں گے لیکن اس عورت کاسوچیے جس کی زندگی آپ نے اپنے شوق کی تکمیل میں تباہ کرڈالی ہے ، آپ کو یہ حق نہیں کہ آپ اپنا شوق پورا کرنے کے لیے ایک عورت کا جینا حرام کردیں،اس کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کریں، اس کا دل چھلنی کردیں، اس کی روح زخمی کردیں، اس کو ذہنی مریض بناکر چھوڑ دیں۔ ممکن ہےکہ آپ اتنے طاقتور ہوں کہ دنیا کی کسی انسانی طاقت کا آپ کو خوف نہ ہو، لیکن اللہ کی پکڑسے بچ کر کہاں جائیں گے، اللہ کی پکڑ بہت سخت اور اس کا عذاب بہت دردناک ہے اور ظالموں کو تو وہ آخرت سے پہلےدنیا ہی میں عذاب کا مزہ چکھا دیتا ہے۔

 

یہ بات بھی یاد رکھیے! دوسری بیوی کا معیاری ہونا پہلی بیوی کے معیاری ہونے سے زیادہ اہم ہے لہذا دوسرا نکاح کرنا ہی ہے تو ڈھونڈ کراس عورت سے کیجیے جو آپ کی آئیڈیل ہو، آپ کی پسند ہو ، آپ کی ضرورت ہو، ایسی عورت جس کی محبت آپ کے اندر اُن مصیبتوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کرسکے جو دوسری شادی کے بعد آپ کے خلاف محاذ آراء ہونے والی ہیں، جس کو دیکھ کر زندگی کے وہ غم بھول سکیں جو دوسری شادی کے نتیجے میں آپ پر ٹوٹ پڑنے والے ہیں، جس کے آغوش میں آکر سکون کی سانس لے سکیں، دنیا کی فکر وغم سے بے نیاز ہوسکیں ،ایسی عورت جس کے لیے آپ قربانی دے سکیں ، ایسی عورت جس کے لیے آپ قربان ہوسکیں ۔

دوسری شادی کی کامیابی کا انحصار آپ کی پہلی بیوی کے ساتھ آپ کے تعلقات کی کیفیت پر بھی بہت زیادہ ہے، اپنی پہلی بیوی سے بہت زیادہ محبت کرنے والوں یا بہت زیادہ ڈرنے والوں کی بھی دوسری شادی کے کامیاب ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے، اکثر پہلی بیوی کی محبت یا خوف اُس کے اور دوسری بیوی کے درمیان حائل ہوجاتا ہے، لہذا پہلی بیوی سے بہت زیادہ محبت کرنے والوں یا ڈرنے والوں کو بھی دوسری شادی سے گریز کرنا چاہیے.

 

دوسری شادی کی کامیابی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دوسری بیوی اس کو کامیاب کرنے میں آپ کا حتی الامکان تعاون کرے ، اور اس تعاون کے لیے ضروری ہے کہ اس کو شادی کے بعد کے اندیشوں اور ممکنہ پریشانیوں سے پہلے ہی متنبہ کردیں تاکہ وہ سوچ سمجھ کر دوسری بیوی بننے کا فیصلہ لے ، بہت سارے مرد شادی سے پہلے تو بیوی کو حسین خواب اور ہرے باغ دکھا کر شادی کے لیے آمادہ کرلیتے ہیں لیکن شادی ہوتے ہی ان کا مزاج بدل جاتا ہے ، وہ وعدے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں جن کا جھانسہ دے کر عورت کو شادی کے جال میں پھنسایا تھا، ایسے میں دوسری بیوی کو خود ٹھگا ہوا محسوس کرتی ہے ، اگر بہت مجبور ہوتو کسی طرح زندگی کاٹ لیتی ہے ، لیکن مجبور نہ ہو تو اس کے عدم تعاون کی صورت میں مرد کے پاس طلاق کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا۔

 

دوسری شادی کے لیے اپنا ذہن بنانے کے ساتھ گھر والوں کاذہن بنانا بھی ضروری ہے ، لہذا دوسری شادی کرنے سے پہلے گھر میں دوسری شادی کا ماحول بھی بنائیے اور دوسری شادی کے بعد پیدا ہونے والے ماحول کا اندازہ بھی لگائیے، بہت ضروری ہے کہ دوسری شادی سے پہلےآپ کو دوسری شادی کے بعد اٹھنے والے طوفان کی شدت کا اندازہ ہو، آپ کو پتہ ہو کہ آپ بیوی، بچے، گھر اور سسرال والے دوسری کی مخالفت میں کس حد تک جاسکتے ہیں ،تاکہ آپ نکاح ثانی کےاقدام سے پہلے اطمینان کرسکیں کہ آپ میں اس طوفان کا مقابلہ کی ہمت ہے اور اگر ہمت نہیں ہے تو دوسری شادی کا سودا دماغ سے نکال دیں۔

 

ماحول کا اندازہ لگانے کےلیے ایک عمدہ تجویز میں نے کچھ سالوں پہلے تحریر کی تھی ، اس مختصر تحریر پر اس مضمون کا اختتام کرتا ہوں ۔

’’دوسری شادی کرنے کا سب سے کم رسک والا طریقہ یہ ہے کہ نکاح کرنے سے دو مہینے پہلے یہ افواہ پھیلا دیں کہ آپ نے نکاح کرلیا، اس کے بعد بیوی، بچّے، میکے، سسرال، امی، ابّا، ساس ، سسر، سالے ، سالیوں وغیرہ کا ری ایکشن دیکھیں، اگر ردّ عمل ایسا ہے کہ آپ ہینڈل کرلے جائیں گے تو اللہ کا نام لے کر قدم آگے بڑھائیں، اللہ برکت دینے والا ہے۔

اور اگر ردّ عمل کی شدّت آپ کی قوّت برداشت سے باہر ہے اور حالات اتنے بے قابو ہوجائیں کہ آپ کے لیےسنبھالنا نا ممکن ہوتو صبر کریں۔ روزے نماز کی پابندی کریں۔ اور یہ سوچنا شروع کردیں کہ دنیا میں دوسری بیوی نہیں مل سکی تو کیا ہوا، جنّت میں حور ملے گی۔ ان شاء اللہ‘‘ ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*