ڈاکٹرظفرالاسلام خان کو راحت،گرفتاری پر 22 جون تک کی روک

نئی دہلی:دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی پیشگی ضمانت عرضی پردہلی ہائی کورٹ نے راحت دے دی ہے۔کورٹ نے کہاہے کہ غداری کے معاملے میں چیئرمین پر جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے، فی الحال 22 جون تک اس میں ان کی گرفتاری نہ کی جائے۔ دہلی ہائی کورٹ ان کی پیشگی ضمانت عرضی پر 22 جون کو دوبارہ سماعت کرے گا۔کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ فی الحال دہلی پولیس ان کے خلاف کوئی سخت قدم نہ اٹھائے۔ چیئرمین کے طور پرڈاکٹر ظفر الاسلام کی مدت 14 جولائی کوختم ہورہی ہے۔ عہدے سے ہٹانے کے لیے بھی دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست ان کے خلاف داخل کی گئی تھی جس پرعدالت نے نوٹس جاری کرنے سے انکار کر دیاتھا۔مرکزی حکومت کے وکیل کی جانب سے عدالت کوبتایاگیاتھاکہ ایل جی کی طرف سے وجہ بتاؤ نوٹس 8 مئی کو ظفرالاسلام کو جاری کیا جا چکا ہے۔سوشل میڈیا پر ان کے بیان کے بعد 8 مئی کو ایل جی کی طرف سے نوٹس جاری ہونے کے بعد ہائی کورٹ نے اس معاملے میں پیر کو مداخلت سے انکار کر دیاتھا۔ظفر الاسلام خان کی جانب سے کورٹ پیش ہوئی وکیل ورندا گروور نے کہاہے کہ خان پر غداری کیس میں ریکارڈ ایف آئی آر ہی غلط ہے۔جوالزام ایف آئی آر میں لگائے گئے ہیں، وہ مکمل طور پر بے بنیادہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں ایف آئی آر میں اب تک ہوئی جانچ کو لے کر دہلی پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔ساتھ ہی ظفر الاسلام خان کوپولیس کی تحقیقات میں تعاون کرنے کے بھی احکامات دیئے ہیں۔